Search results

Search results for ''


خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ ہمی سوگئے،اچھا کیا۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

سنڈے میگزین میں ایک شاہین صفت مضمون نگار نے بہت معروف اور دلکش شعر کو داغ دار کردیا ہے۔ شعر یوں چھپا ہے:۔ زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے یہ ۔ہمی۔ کیا ہوتا ہے؟ شاعر زندہ ہوتا تو پھڑک کر رہ جاتا۔ لیکن یہ غلطی عام ہورہی ہے۔ آزاد کشمیر کے بہت اچھے شاعر احمد عطا اللہ نے بھی یہی غلطی کی ہے۔ اُن کا شعر ہے۔ جب غزل پھر رہی تھی سر کھولے یہ ہمی تھے جنہوں نے در کھولے شعر اچھا ہے لیکن لغت میں ’’ہمی‘‘ کا وجود نہیں۔ یہ ’ہم ہی‘ کا مخفف ہے، لیکن اس کی جگہ ’ہمیں‘ لکھنے میں کیا پریش

سچی باتیں۔۔۔ محبت کا ثبوت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

Bhatkallys Other

محبت کا ثبوت آپ کو واقفیت ہے ، کہ امام حسین علیہ السلام نے کیوں دشتِ کربلا میں اپنی شہادت گوارافرمائی؟ کیا اس معرکہ سے اُنھیں ملک گیری مقصود تھی؟ کیا طمع دنیوی سے اُن کا دامن آلودہ تھا؟ کیا (نعوذ باللہ) وہ شہرت وناموری کے بھوکے تھے؟ دوست دشمن سب کو معلوم ہے، کہ ان میں سے کوئی شے امام موصوف کے پیش نظر نہ تھی۔ ایک فاسق حکمراں نے اُن سے بیعت لینا چاہی، انھوں نے انکار فرمایا، اوراُس انکار پر قائم رہے، یہاں تک کہ اس انکار کی قیمت اپنے سرمبارک سے دی، لیکن ایک بدکار وظالم حکمراں کی حکومت نہ تسلیم کی

بات سے بات: مولانا محمود حسن خان ٹونکی اور آپ عظیم علمی کارنامہ معجم المصنفین.۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Bhatkallys Other

گزشتہ دنوں مظہر محمو د شیرانی اللہ کو پیارے ہوئے،  وہ رومانی شاعر اختر شیرانی کے  فرزند تھے،  لیکن ان کے بیٹے کو اپنے نامور دادا محمود خان شیرانی کی نسبت سے پہچان ملی،  آخری دنوں میں ان کے خاکوں کو بڑی شہرت ملی، اپنے والد ماجد پر لکھا ان کا خاکہ بھاوجی اردو کے بہترین خاکوں میں شمار ہوا، لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ تحقیق وجستجو کا جو میدان ان کی حقیقی پہچان بننا چاہئے تھا، اس کا کم ہی لوگوں کو علم ہوسکا، حالانکہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں فرہنگ دہخدا کے ترجمہ و تلخیص کا جو کام  انہوں نے شروع کیا

جب حضور آئے۔۔۔(۱۳) ۔۔۔ سب سے بڑی عید کا دین۔۔۔۔ تحریر: مولانا کوثر نیازی

Mohammed Mateen Khalid Seeratun Nabi

سب سے بڑی عید کا دن مولانا کوثر نیازی ۔۔۔۔۔۔۔۔ " ربیع الاول کا مہینہ پوری تاریخ انسانی میں ایک غیر فانی اہمیت کا حامل مہینہ ہے ۔ اس مہینے میں وہ ذات بابرکات پہلوئے آمنہ میں ہویدا ہوئی جس نے تاریخ انسانی کے دھارے کا رخ پلٹ دیا ۔ جس نے انسانیت کو پستی سے نکال کر عظمت و رفعت کے آسمان پر پہنچایا ۔ جس نے دکھی دنیا کو پیغام امن و راحت دیا ۔ اسے دکھوں اور آلام کا مداوا بخشا ۔ اس کی ان بیڑیوں کو کاٹا جس میں وہ صدیوں سے جکڑی چلی آرہی تھی ۔ اس کی پشت پر سے وہ بوجھ اتارے جس کے نیچے وہ قرن ہا قرن سے

محسن کتابیں۔۔۔ ۱۶۔۔۔ تحریر: خواجہ غلام السیدین

Bhatkallys Other

خواجہ غلام السیدین             ۔ولادت:پانی پت،۵ /شعبان ۱۳۲۲ھ،/۱۶ اکتوبر  ۱۹۰۴ء۔             ۔۱۹۰۴ وطن پانی  پت نسلاً ایوبی انصاری، مولانا الطاف حسین حالی کے پر نواسے تھے۔ ان کے والد خواجہ غلام الثقلین اردو کے ممتاز لوگوں میں تھے۔ میٹرک تک حالی مسلم ہائی سکول پانی پت میں تعلیم حاصل کی ۔۱۹۱۹ء ۔ میں پنجاب یونیورسٹی سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا، پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لے کر ۱۹۲۳ء میں بی اے کیا، اور حکومت ہند کے وظیفے پر انگلستان جاکر لیڈز یونیورسٹی سے ایجوکیشن میں ڈپلومہ کیا، اور۱۹۲۵ء

سی اے اے مخالف مظاہرین اور اقوام متحدہ کے ماہرین... سہیل انجم

Bhatkallys Other

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کا سلسلہ اگرچہ اب اس طرح سے نہیں چل رہا ہے جیسا کہ پہلے چلتا تھا تاہم سوشل میڈیا پر اس کے خلاف آوازیں تو اٹھ ہی رہی ہیں۔ نہ صرف سی اے اے کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں بلکہ احتجاج کرنے والوں کی گرفتاریوں کے خلاف بھی بلند ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے بلند آواز جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ریسرچ اسکالر اور جامعہ کوآرڈینیٹشن کمیٹی کی رکن صفورہ زرگر کی گرفتاری کے خلاف اٹھی۔ نہ صرف ہندوستان کے اندر ان کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور انھیں رہا

سچی باتیں ۔۔۔ محرم کی بدعتیں۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریاباد

Bhatkallys Other

1925-06-13 محرّم کا زمانہ قریب آتاجاتاہے، اور آپ دیکھیں گے کہ عشرۂ محرّم کے آتے ہی مسلمان کیا سے کیا ہوجائیں گے۔ وہی مسلمان جو نماز میں سُست وکاہل تھے، تعزیہ داری میں چست ومستعد نظر آئیں گے۔ وہی مسلمان جو جماعت کی پابندی اپنے لئے بار سمجھتے تھے، تعزیوں کے غول قائم کرنا خوشگوار محسوس کریں گے۔وہی مسلمان جو مسجد کی مسافت طے کرنا اپنی قوت سے باہر سمجھتے تھے ، تعزیوں کے ساتھ گشت کرنا اپنی عین سعادت تصور کریں گے۔ وہی مسلمان جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری کے لئے ہر روز پانچ مرتبہ پکار کو سنت

بات سے بات: ،مولانا لطف اللہ مظہر رشادی ۔۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Bhatkallys Other

بنگلور سے مولانا لطف اللہ صاحب مظہر رشادی صاحب کے انتقال کی خبر موصول ہوئی ہے، اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ آپ حضرت امیر شریعت کرناٹک مولانا ابو السعود احمد باقوی رحمۃ اللہ علیہ کے چوتھے اور سب سے چھوٹے فرزند تھے۔ مولانا مفتی محمد اشرف علی باقوی، مولانا ولی اللہ رشادی، اور قاری امداد اللہ رشادی آپ سے بڑے تھے۔مفتی اشرفعلی صاحب نے جانشین کی حیثیت سے اپنے والد ماجد کے مشن کو آگے بڑھایا، مولانا ولی اللہ مرحوم وانمباڑی کے تاریخی دینی تعلیمی ادارے معدن العلوم کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔قاری

بات سے بات : سید منور حسن کی یاد میں۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری

Bhatkallys Other

آج کراچی سے جناب سید منور حسن صاحب کی رحلت کی خبرآئی ہے۔ آپ کی جدائی کے ساتھ پاکستان جماعت اسلامی کی تاریخ کا ایک باب بند ہوگیا ہے، مرحوم قاضی حسین احمد کے بعد جماعت کے چوتھے امیر منتخب ہوئے تھے، وہ اپنے من کی بات سیاسی  اور وقتی مصلحتوں  سے بلند ہوکر کہتے  والے انسان تھے،شاید اس لئے   دوسری بار امیر منتخب نہ ہوسکے، وہ بانی تحریک کے بعد پہلے امیر تھے جو علمی وتحقیقی کا پس منظر رکھتے تھے، اور امید تھی کہ جو جماعت کتاب اور لٹریچر سے تعلق کی ایک شناخت رکھتی تھی، بجھتی ہوئی اپنی اس  شناخت کو اجاگ

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ زبان کی نزاکتیں۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

ایک ٹی وی چینل پر ’جرگہ‘ کے عنوان سے پروگرام ہوتا ہے لیکن اس کا تلفظ جِرگہ ۔(ج کے نیچے زیر)۔ کیا جاتا ہے۔ انگریزی میں بھی اسے  لکھا جاتا ہے، جب کہ یہ فارسی کا لفظ ہے اور ’ج‘ پر زبر ہے ۔(جَرگہ)۔ آدمیوں کا مجمع، گروہ، جماعت، پنچایت وغیرہ… سرحدی قبائلی علاقوں میں وہ جماعت جو سنگین یا اہم معاملات کے بارے میں فیصلہ دیتی ہے۔ سرحدی علاقوں کے علاوہ جہاں جہاں پٹھان آباد ہیں، جَرگہ وہاں بھی ہوتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ پروگرام کرنے والے بھی پٹھان ہیں، اور پٹھانوں سے ہمیشہ جَرگہ ہی سنا ہے۔ لغات کے مطابق

امراؤ جان ادا۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

Bhatkallys Other

امراﺅ جان ادا ۔(یہ تقریر لکھنؤ کے مشہور ادیب اور ناول نویس مرزامحمدہادی رسوا کی مایہ ناز کتاب امراﺅ جان ادا پرلکھنؤ ریڈیو اسٹیشن سے 28دسمبر 1950ءکونشر ہوئی، اس میں مولاناؒ نے اپنے مخصوص شگفتہ اندازمیں ناول اورناول نویس دونوں پرجامع ومانع تبصرہ کیاہے۔ دریابادی اس کتاب کی اخلاقی افادیت کے قائل تھے ، اس کتاب کےاولین  پارکھ تھے اورانھوں نے اس کاتعارف ادبی وعلمی حلقوں میں باربار داد وتحسین کے ساتھ کرایاہے۔اس ناول سے متعلق دریابادی کی پیشن گوئی  آج حرف بہ حرف صادق نظر آتی ہے۔   ڈاکٹر زبیر احمد صدیقی)

بات سے بات۔۔۔ مولانا ابو الکلام آزاد اور مصر۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری

Bhatkallys Other

مولانا ابو الکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کا جادو کچھ ایسا ہے کہ انہیں چاہنے والوں نے ٹوٹ کر چاہا،تو  ناپسند کرنے والوں نے بھی تمام حدیں پار کردیں، آپ میں انہیں خامیاں ہی خامیاں نظر آئیں۔ ان میں وہ  دانشور بھی ہیں جن کی تحریریں دیکھ کر ابکائی آتی ہے،  جیسے گٹر کھل گیا ہو، ایسی اخلاق سے گری ہوئی باتیں کسی کے خلاف شاید ہی کہی گئی ہوں۔ لیکن مولانا تھے بلند وبالا ہاتھی کے مانند تھے، جس پر بونے جتنا چاہیں چلائیں اور گالیاں بکیں تو ااس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وہ جھولتے آگے بڑھتا جاتا ہے۔ مول

محسن کتابیں۔۔۔۱۵۔۔۔ تحریر : مولانا عبد السلام ندوی

Bhatkallys Other

مولانا عبدالسلام ندوی              ۔ولادت: علاء الدین پٹی (ضلع اعظم گڑھ، یوپی)۔              ۔۸ربیع الثانی ۱۳۰۰ھ، مطابق، /۱۶فروری۱۸۸۳ء۔              اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے، ابتدائی فارسی کی تعلیم وطن میں پائی، عربی کی تعلیم متوسطات تک کانپور،آگرہ اور غازی پور میں حاصل کی، پھر بعض اسباب سے تعلیم کا سلسلہ دو برس تک منقطع رہا۔ اس کے بعد۱۹۰۶ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں درجہ پنجم میں داخلہ لیا۔۱۹۰۹ء میں فراغت کے بعد دارالعلوم کے شعبہ تکمیل ادب میں داخل ہوئے، اور۱۹۱۰ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔

جب حضور آئے (۱۲)۔۔۔ خالق کا اپنے حسن تخلیق پر ناز۔۔۔ تحریر: قمر یزدانی

Mohammed Mateen Khalid Seeratun Nabi

خالق کا اپنے حسن تخلیق پر ناز قمر یزدانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ چمن زار فصل میں بہار آتی ہے تو دلفریب رعنائیوں اور کیف زالطافتوں، روح پرور نزہتوں اور دلکش رنگینیوں کو اپنے جلو میں لے کر جب اس شان و وقار سے بہار کا ورود ہوتا ہے تو گلشن میں گلہائے رنگا رنگ کھلتے ہیں، غنچے مہکتے ہیں، کلیاں مسکراتی ہیں، عندلیب زار بہاروں کی اس بوقلمونی پر نثار ہوتی ہے اور اپنے کیف آفرین اور دلنشیں نغمات ، حسن چمن پر نچھاور کرتی ہے۔ تمام کائنات، قدرت کے ان روح پرور مظاہر اور حسن ازل کی دل فریبیوں کی داد دیتی ہے۔ اس کے ساتھ دل آ

سچی باتیں۔۔۔ جواب دہی کا احساس۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

Bhatkallys Other

1925-06-05 جواب دہی کا احساس آپ کو علم ہے ، کہ آپ کی بستی میں مسلمانوں کی آبادی کس قدر ہے؟ اس علم کے حاصل کرنے کے بعد اب ذرا یہ دیکھئے، کہ ان میں سے کتنی تعداد ایسی ہے، جو روزانہ پانچ وقت پابندی کے ساتھ، اکٹھا ہوکر، اپنے ایک قبلہ کی طرف رخ کرکے، اپنی ایک کتاب آسمانی کی ہدایت کے موافق، اپنے ایک رسولؐ کی پیروری میں، اپنے ایک خدا کو یادکرتی ہے؟ کتنی تعداد ایسی ہے ، جو پابندی کے ساتھ ماہ رمضان میں روزہ رکھتے، اور اپنے امکان بھر روزہ کی شرائط کا لحاظ رکھتے ہیں؟ کتنے ایسے ہیں ، جن پر زکوٰۃ واجب

خبرلیجے زباں بگڑی۔۔۔ جس کا کام اسی کو سانجھے۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

ایک ٹی وی اینکر بتا رہے تھے کہ یہ پرانی کہاوت ہے ’’جس کا کام اسی کو سانجھے‘‘۔ یہ کہاوت تو ہے لیکن اس میں ’’سانجھے‘‘ نہیں ”ساجے“ ہے۔ ممکن ہے یہ سجنے سے ہو۔ سجنا ہندی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے موزوں ہونا، آراستہ ہونا، مرتب ہونا۔ بطور فعل متعدی موزوں کرنا، آراستہ کرنا، یعنی جس کا کام ہے وہ ہی اسے ٹھیک طرح کرسکتا ہے۔ اس کہاوت کا دوسرا ٹکڑا ہے ’’کوئی اور کرے تو ٹھینگا باجے“۔ اس سے ظاہر ہے کہ باجے کے قافیے میں ساجے آئے گا۔ جہاں تک ساجھے کا تعلق ہے تو اس کی اصل بھی ہندی ہے اور اس کے کئی معانی ہیں۔ معر

گلزار دہلوی: میں عجب ہوں امام اردو کا... معصوم مرادآبادی

Bhatkallys Other

گلزار دہلوی کے انتقال سے اردو دنیا سوگوار ہے۔وہ ہماری صدیوں پرانی گنگاجمنی تہذیب کا ایک جیتا جاگتا نمونہ تھے۔وہ خالص دہلی والے تھے اور ان کی زندگی کا بیشتر حصہ ان ہی گلی کوچوں میں گزرا تھا، جنھیں خدائے سخن میر تقی میر نے اوراق مصور سے تشبیہ دی تھی۔ وہ دہلی کی ایک توانا آوازتھے اور اس مٹتی ہوئی تہذیب کے امین تھے ، جس نے اس شہر کو وقار بخشا تھا۔گلزار دہلوی کے بغیر اس دہلی کی ادبی زندگی کا تصور کرتا ہوں تو مجھے بڑی ویرانی محسوس ہوتی ہے۔ وہ ہر شعری نشست کی آبرو تھے اور انھیں ان کی بزرگی کی وجہ

اردو کی گنگا جمنی تہذیب کا آخری پیکر بھی رخصت ہوا... معصوم مرادآبادی

Bhatkallys Other

اردو زبان وتہذیب کی آخری چلتی پھرتی نشانی گلزار دہلوی بھی چل بسے۔ انھوں نے ابھی چند روز پہلے ہی تو نوئیڈا کے ایک اسپتال میں کورونا جیسی موذی بیماری کوشکست دے کر زندگی کا پرچم بلند کیا تھا۔94برس کی عمر میں اپنی بے مثال قوت ارادی سے کورونا کو شکست دینے والے گلزار دہلوی جب اسپتال سے باہر نکلے تو کئی اخباری نمائندے ان کے منتظر تھے۔ان کی کہانی کئی بڑے اخباروں نے جلی عنوانات کے ساتھ شائع کی۔ مجھے یقین ہوچلا تھا کہ وہ ابھی اور جئیں گے اور جام وصبو سے اپنا رشتہ بحال رکھیں گے، لیکن یہ کیا ہوا کہ وہ کور