Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
دہلی فسادات کے سلسلے میں اقلیتی کمیشن کی چشم کشا رپورٹ... سہیل انجم
شمال مشرقی دہلی میں فروری کے مہینے میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے تعلق سے شروع سے ہی ایسی رپورٹیں آرہی تھیں کہ یہ فرقہ وارانہ فساد نہیں تھا بلکہ سی اے اے کی مخالفت کرنے کی سزا تھی جو مسلمانوں کو دی گئی۔ یہ اپنے آپ پھوٹ پڑنے والا فساد نہیں تھا بلکہ منظم اور منصوبہ بند تھا۔ بی جے پی کے بعض رہنماؤں کے مبینہ اشتعال انگیز بیانات نے فساد کی آگ بھڑکائی تھی۔ تین روز تک مسلسل کشت و خون کا بازار گرم رہا اور حکومت اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ فساد کے دوران پولیس کا رول بھی سوالوں کے گھیرے می
جب حضور آئے۔۔(۱۶)۔۔۔ نور کی چادر پھیل گئی۔۔۔ تحریر: پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد
چاند چمک رہا ہے، ستارے کھل رہے ہیں ، نور کی پھوار پڑ رہی ہے ۔۔۔۔ اچانک غلغلہ بپا ہوا، ایک ندا دینے والا دے رہا تھا ۔۔۔ لوگو ! صدیوں سے جس ستارے کا انتظار تھا ، دیکھو دیکھو آج وہ طلوع ہو گیا ---- آج وہ آنے والا آ گیا --- وادی مکہ کے سناٹے میں یہ آواز گونج گئی ۔ سب حیران یہ ماجرا کیا ہے ؟ ---- کس کا انتظار تھا ، کون آ رہا ہے ؟ ------ ہاں سونے والو ! جاگ اٹھو ! آنے والا آگیا ۔۔۔ نور کی چادر پھیل گئی ، میلوں کی مسافتیں سمٹ گئیں ، بصرائے شام کے محلات نظر آنے لگے ۔ سارے عالم میں چاندنا ہو گیا ، ہاں یہ
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ معیاد یا میعاد؟۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
آج پہلے خود اپنا جائزہ لیتے ہیں۔ 13 جولائی کے جسارت میں ایک خبر کی ذیلی سرخی ہے ”صوبوں سے دغا کیا جارہا ہے“۔ جسارت میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ کام کررہے ہیں۔ ہوسکتا ہے سرخی نکالنے والے صاحب کے نزدیک ”دغا“ مذکر ہو۔ ’دغا‘ فارسی کا لفظ ہے اور بالاتفاق مونث ہے۔ مومن خان مومن کا شعر ہے:۔ دیا علم و ہنر، حسرت کسی کو فلک نے مجھ سے یہ کیسی دغا کی ممکن ہے شمالی علاقوں میں ’دغا‘ مذکر ہو جیسا کہ ’قوم‘ ان علاقوں میں جاکر مذکر ہوجاتا ہے۔ ۔’میعاد‘ بھی ’عوام‘ کی طرح اُن الفاظ کی فہرست میں شامل ہوگیا ج
سچی باتیں۔۔۔ تباہی کے ذمہ دار کون؟۔۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
11-06-1926 کتابی مسیحیت کی اشاعت کے لئے ایک بہت بڑی انجمن برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی کے نام سے ، سوسوا سو برس سے قائم ہے۔ حال میں اُس نے اپنا ایک سو بائیسواں سالانہ جلسہ کیاتھا۔ اس کی روداد جواس نے شائع کرائی ہے، اُس سے معلوم ہوتاہے، کہ انجیل اور اس کے مختلف حصوں کے جتنے نسخے پچھلے سال اس نے شائع کئے، اُن کی مجموعی تعداد ۱۰۴۵۲۷۳۳ تقریبًا ایک کرور پانچ لکھا تک پہونچی! گویا پچیس سال قبل جتنی تعداد تھی ، اب اُس کے دوگنے سے زائد ہوگئی ہے، اور ایک سال قبل جو تعداد تھی، اُس کے مقابلہ میں ابکی ۴۱۲۱۵
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ ساکہیں جسے(آہ!استادالاساتذہ حضرت مولانا اقبال ملاندوی،رحمۃاللہ علیہ)۔۔از: عبدالحفیظ ندوی
بدھ کے دن (15,جولائی2020)بعد نمازعصر اپنے محلے کی مسجد(مسجد امام شافعی)کے مرمتی کاموں کا جائزہ لے رہا تھاکہ اسی دوارن ایک صاحب خیرنے یہ غمناک خبردی کہ حضرت مولانااقبال ملاندوی(قاضی جماعت المسلمین،بھٹکل) ہم سب کو داغ مفارقت دیتے ہو ئے اس دارفانی سے کوچ کرگئےاس خبرکوسنتے ہی میں اور میرے ساتھیوں نے انالله وانااليه راجعون پڑ ھا. گذشتہ چنددنوں سے مولاناکی طبیعت کی ناسازی کی بناء پر ایڈمیٹ کیاگیاتھااسی وقت سے مولانا مرحوم کے نواسوں سےمسلسل ربط میں تھا جو میرے شاگردوں میں ہیں ،انکے واھل خانہ کے ذر
حضرت مولانا محمد اقبال ملا ندوی ۔ چیف قاضی جماعت المسلمیں کی رحلت۔۔۔ تحریر:عبد المتین منیری۔ بھٹکل
تدبر، تفکر ، تفقہ ،زہد وتقشف کی نادر مثال ۔ایک سورج ، جس نے کئی چاند روشن کئے تحریر: عبد المتین منیری۔بھٹکل آج مورخہ 23 ذی قعدہ 1441ھ مطابق 15؍ جولائی 2020ء بوقت چاشت منگلور کے اسپتال میں حضرت مولانا محمداقبال ملا ندوی صاحب چیف قاضی جماعت المسلمین بھٹکل و صدر جامعہ اسلامیہ بھٹکل نے زندگی کی آخری سانس لی، وہ گزشتہ 16 دنوں سے شدید بیماری کی وجہ سے وینٹیلیٹر پر تھے۔ انہیں سانس میں تکلیف محسوس ہورہی تھی، اس کے علاوہ بھی انہیں کئی ایک عوارض تھے جن کاخاطر خواہ علاج لاک ڈون کے تین مہینوں میں نہ
بات سے بات: پی ڈی یف کتابوں سے استفادہ کیوں کر؟۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل
بات سے بات: پی ڈی یف کتابوں سے استفادہ کیوں کر ہو؟ عبد المتین منیری۔ بھٹکل اس وقت پی ڈیف پر اسکین شدہ کتابوں کی ایک باڑھ سی لگی ہوئی ہے۔ سینکڑوں ویب سائٹس، واٹس اپ گروپ ، ٹیلگرام چینل مفت الکٹرونک کتابیں بانٹنے میں لگے ہوئے ہیں،(اس کا اخلاقی جواز کہاں تک ہے؟ اس وقت یہ ہمارےموضوع سے خارج ہے)۔ چونکہ ان کے چینلوں، گروپوں کی تعداد بے حد وحساب ہے لہذا کتابوں کے شوقین افراد کا سارا وقت اب ان کتابوں کو ڈون لوڈ کرنے، ان کا نام لکھنے اور انہیں مرتب کرنے میں گزر جانے لگا ہے۔ جو ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔
حکومت کی بوکھلاہٹ کا ایک اور نمونہ... سہیل انجم
چینی جارحیت پر سینئر کانگریسی رہنما راہل گاندھی کے تیکھے سوالوں کا بی جے پی یا حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اسی لیے براہ راست گفتگو کرنے کے بجائے دائیں بائیں بھاگنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح ڈرا دھمکا کر کانگریس صدر سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو خاموش کرایا جا سکے۔ چونکہ حکومت بہت سے مخالفین کو انتقامی کارروائی کے تحت چپ کرا چکی ہے اس لیے وہ چاہتی ہے کہ کانگریس بھی چپ ہو جائے اور ا س کی ناکامیوں کے سلسلے میں کوئی سوال نہ پوچھے۔ ان پر پردہ
ایا صوفیۃ: مسلمانوں کے آخری فتح عظیم کی علامت۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
ایاصوفیہ کی مسجد کی حیثیت بحال کرنے کی خبر شوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہے، کون مسلمان ہوگا جو اللہ کی بنائی ہوئی اس زمین پر اس نام بلند ہونے پر خوش نہ ہو، یہ بحث کہ پہلے یہ کلیسا تھا، پھرمحمد الفاتح نے قسطنطنیۃ کی فتح کے بعد ۱۴۵۳ء میں اسے خرید کر مسجد میں تبدیل کیا، پھر ۱۹۳۵ء میں کمال اتاترک نے خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد اسے میوزیم میں تبدیل کیا، اور یہاں پر نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کی گئی، یہاں کے مسلمانوں کی دیرینہ خواہش اسے مسجد قرار دینے کی تھی، جو پچاسی سال بعد اب پوری ہوئی۔ عیسائی ک
عید قرباں۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
عیدقرباں یہ تقریر لکھنو ریڈیو اسٹیشن سے فروری ۱۹۴۰ء میں عیدالاضحی کی شام کو نشر ہوئی تھی۔ ۱۵ منٹ کے مختصر وقفہ میں مولانا عبدالماجد دریابادی علیہ الرحمہ نے بقرعید کی خصوصیات، اس کے پیام اور دیگر جزئیات کی تصویر کمالِ بلاغت سے، بڑے دلچسپ انداز میں، کھینچی ہے۔ یہ نشریہ آج بھی اپنی لطافت اورمعنویت کے لحاظ سے تازہ اور تابندہ ہے۔ ڈاکٹرزبیراحمد صدیقی اللہ اللہ دو مہینے دس دن کی مدّت بھی کوئی مدّت ہے۔ بات کہتے کٹ گئی اورشوّال کی پہلی کی یاد ابھی مٹنے نہ پائی تھی کہ ذی الحجّہ کی دسویں آگئی۔ وہ مسلمان
جب حضور آئے۔۔۔ (۱۵)۔۔۔ خواب کی تعبیر مل گئی۔۔۔ تحریر: صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی
۔۔۔۱۲ربیع الاول کو صرف ظہور قدسی نہیں ہوا بلکہ عالم نو طلوع ہوا۔ اس تاریخ کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جہان خاکی میں قدم رکھا اور تاریخ عالم نے نئے سفر کا آغاز کیا۔ اس روز ایک ماں نے سعادت مند بیٹے ہی کو جنم نہیں دیا؛ بلکہ مادر گیتی نے ایک انقلاب کو جنم دیا۔ اس دن محض آمنہ کا گھر منور نہیں ہوا؛ بلکہ تیرہ و تار خاکدان ہستی روشن ہوا، جس کے قدم رنجا فرمانے سے زندگی پر شباب آگیا اور صدیوں سے دیکھے جانے والے خواب کو تعبیر مل گئی۔ اس کی تاب رو سے شش جہت کائنات کو روشنی ملی اور اس کے حلقہ
پہلا مغربی سامراج اور جنوبی ہند(قسط ۰۱)۔ ۔۔ تحریر: عبد المتین منیری ۔ بھٹکل
نشات ثانیہ کے اپنے ابتدائی دنوں میں یورپی ملکوں میں دوائی کی شیشیوں میں لکھی یہ عبارت ۔(( ہندوستان سے درآمد کی ہوئی یا دیار عرب سے درآمد کی ہوئی))۔ بہت سے مہم جویوں او ر دولت کے متلاشیوں کے جذبہ کو ابھارتی تھی اور انہیں مشرق سے آنے والی طبیعی اشیاء مصالحہ جات اور عطریات جیسی دولت کے سرچشموں کی تلاش اور وہاں کے سفر پر اکساتی تھی۔ اس دور کے جغرافیائی انکشافات پر تحقیق کرنے والے ایک محقق پانیکار نے مصالحہ جات میں ایک اہم عنصر کالی مرچ کی اس زمانے میں قدر وقیمت کے بارے میں درس
چارٹرڈ فلائٹ قومی تاریخ چو ایک سنہرا باب۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری
اللہ تعالی جیتا کوناچے بھلا چاہتا ترین تیکا نیکے کاما چی توفیق دیتا، کال ۷ ؍ جولائی راس الخیمہ ایرپورٹ ٹیکون( ۱۷۸ )گاوین مانساک گھینون روانہ زالی، انی ہیچان فوڑے ۱۲ ؍جون کوں اشی کچ (۱۸۴) مانساک گھینوں اڑلی وھتی، اشی چار شیں قریب قومی بھاوڑے ، بہنیو انی چڑویں گانوانت اپلے گھرے خیر وعافیت سرین پاولے۔ *ہی مانسات چند مانشے تین چار ماس ٹیکون بے کار زالے ہوتے، کورونا چی مار بھیتر تیں انی تینچے اہل وعیال ذریعہ معاش پاسون محروم زاؤن ہوتے، ایک مدت باہر خوش حال زندگی کاڑون ایتا تیں قلاش حالتیت پاؤن وھت
سچی باتیں۔۔۔ ندامت کی گھڑی۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
ندامت کی گھڑی اگر آپ مسلمان، اور سُنّی مسلمان ہیں، تو حشرونشر اور روز قیامت پر ضرور آپ کو عقیدہ ہوگا۔ پھر اُس روز اگر شہید کربلا امام حسین علیہ السلام کا اور آپ کا سامنا ہوگیا، اور وہ مُحرّم کی بابت کچھ سوالات آپ سے کربیٹھے ، تو کیا آ پ اُن کا تشفی بخش اور معقول جواب دے سکیں گے؟ اگر امام مظلوم نے سوال کردیا، کہ تم محرّم میری توہین ورسوائی کے لئے مناتے تھے ، یا میری عزت و تعظیم کے لئے؟ میں نے دسویں محرم بھوک او رپیاس کی شدت کے ساتھ گزاری ، اور تم میرانام لے لے کر اُس روز خوب مزے مزے کے حلوے
جب حضور آئے۔۔۔ (۱۴) ۔۔۔ شرف انسانی کو معراج نصیب ہوئی۔۔۔ تحریر: صاحبزادہ طارق محمود
عربی میں ربیع بہار کو کہتے ہیں اور بہار جب آتی ہے تو غنچے چٹکتے ہیں، پھول کھل اٹھتے ہیں، کلیاں مسکراتی ہیں، سبزہ زار مہک اٹھتے ہیں، پرندے چہچہاتے ہیں، بہار کی آمد سے دل و دماغ معطر ہو جاتے ہیں اور ہر طرف ایک کیف و مستی اور سرور کا عالم ہوتا ہے۔ آج سے چودہ سو برس پہلے عرب کی ویران وادی میں بہار آئی تھی، بی بی آمنہ کے گھر کے آنگن میں ایک سدا بہار پھول کھلا تھا، جس کی مہک سے ساری کائنات معطر ہو گئی، دلوں کے خلوت کدے روشن ہو گئے، تھکی ماندی انسانیت کو شادمانی نصیب ہوئی، نسل آدم کا وقار بلند ہوا، شرف
میں میں میں ۔ ایک خطرناک بیماری....:۔ڈاکٹر علیم خان فلکی
میں یہ سمجھتا ہوں۔۔میں حق بات کہتا ہوں۔۔۔۔میں نے اتنے لوگوں کی مدد کی ہے۔۔۔یہ ”میں میں میں“کے وائرس سے ہر دس افراد میں سے نو افراد اس کے شکار ہیں۔ یہ قوم میں لیڈرشِپ کی کمی کا دوسرا سبب ہے۔ ہم نے پہلے کمانڈمنٹ میں یہ واضح کیا تھا کہ جب تک قوم ”چاہئے چاہئے“ کا پہاڑہ بند نہیں کرے گی یعنی ”حکومت کو یہ کرنا چاہئے، مسلمانوں کو وہ کرنا چاہئے“ قوم کسی بھی مثبت کا م کی طرف ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ دوسرا کمانڈمنٹ یہ ہے کہ اچھے لیڈر بننے کے لئے پہلے ایک اچھا والنٹئر بننا ضروری ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ ی
بات سے بات: مجلات کے اشاریوں کی قدر وقیمت۔۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
جناب محمد شاہد حنیف صاحب نے لاہور سے الفرقان لکھنو کی مطلوبہ فائلوں کے بارے میں علم وکتاب گروپ پر استفسار کیا ہے، شاہد حنیف صاحب کا شمار اردو مجلات کے چوٹی کے اشاریہ نگاروں میں ہوتا ہے، آپ نے بیسیوں قدیم مجلات کے اشارئے بڑی دیدہ ریزی سے مرتب کرکے ان مجلات کی افادیت کو عام کیا ہے۔ اس طرح علم وتحقیق کے وہ لاکھوں صفحات جو گزشتہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے ادھر ادھربکھرے پڑے تھے، ان سے استفاد کو آسان کردیا ہے، ان اشاریوں سے جہاں ان مجلات کی علمی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے، وہیں انٹرنٹ پر ان کی دستیابی
بات سے بات: یاجوج ماجوج مولانا دریابادی کی نظر میں... تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
آج کل کورونا اور قرنطینہ کا جگہ جگہ چرچا ہے۔ اسی مناسبت سے ہم نے علم وکتاب گرو پ پر مولانا عبد الماجد دریابادیؒ کے معرکۃ آراء سفر حجاز سے جزیرہ کامران میں عازمین حج کے قرنطینہ سے متعلق باب پوسٹ کیا تھا، اس میں مولانا دریابادی ؒ نے یاجوج ماجوج کی طرف جو اشارے اور تلمیحات کی ہیں اس سے بعض احباب نے اس خیال کر اظہار کیا ہے کہ(( شاید ایسا لگتا ہے کہ مولانا یوروپین اقوام کو ہی یاجوج کا مصداق مانتے ہیں))۔ چونکہ مولانا دریابادی کا یہ سفر ۱۹۲۹ء میں ہوا تھا، اور اس وقت یورپی سامراج کا دنیا پر مکمل غ