Search results

Search results for ''


عید الاضحیٰ اور گوشت کی تقسیم۔۔۔از:فیصل فاروق

Bhatkallys Other

اگر عید الاضحٰی سے قربانی کا تصور اور فلسفہ نکال دیا جائے تو پھر عید الاضحٰی کا مفہوم باقی نہیں رہے گا۔ قربانی مسلمانوں کا اہم مذہبی فریضہ ہے۔ عید قرباں کا پیغام ہی دراصل ایثار و قربانی ہے۔ فلسفۂ قربانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ تو قربانی کے جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اللہ تعالیٰ کو مسلمانوں کا تقویٰ مطلوب ہے اور اِسی تقوے کے حصول کیلئے قربانی کی سنت ادا کرنے کا حکم ہے۔ عید الاضحٰی حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی اُسی عظیم اور بے مثال قربانی کی یاد تازہ کرنے کیلئے تمام عالم

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ گشت، مذکر یا مونث۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی

Bhatkallys Other

۔27 جولائی کے ایک اخبار کے اداریے میں ”معمول کی گشت“ پڑھا۔ یعنی اداریہ نویس کے خیال میں ’گشت‘ مونث ہے۔ ہم تو اسے مذکر ہی کہتے اور لکھتے رہے ہیں۔ مونث تو گشتی ہوتی ہے جو اچھی نہیں سمجھی جاتی، اور پنجاب میں بطور گالی استعمال ہوتی ہے۔ دوسری طرف ’گشتی مراسلہ‘ اور ’گشتی سفیر‘ بھی عام ہے۔ اداریہ نویس نے ’گشت‘ کو مونث لکھا ہے تو خیال آیا کہ شاید یہی صحیح ہو، چنانچہ لغات سے رجوع کیا۔ یہ فارسی کا لفظ ہے اور ’فیروزاللغات‘ نے اسے مطلق مونث لکھا ہے۔ تاہم ’نوراللغات‘ نے وضاحت سے کام لیا ہے اور مونث، مذکر دو

کیا ’نئی قومی تعلیمی پالیسی‘ ہندوستان میں تبدیلی لا سکے گی؟۔۔۔۔۔از: محمد علم اللہ

Bhatkallys Other

ایک ایسے وقت میں جب کہ پورا ہندوستان ایک خطرناک وبائی مرض سے جوجھ رہا ہے، کئی ریاستوں میں سیلاب کی وجہ سے زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، مرکزی کابینہ نے آنا فانامیں نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی۔جب کہ سول سوسائٹی اور اہل علم نے پہلے ہی اس پر سوالیہ نشان کھڑے کئے تھے اوراسے ایک مخصوص نظریہ کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔ بتاتے چلیں کہ آزاد ہند میں یہ تیسری تعلیمی پالیسی ہے، اس سے قبل یہاں دو قومی تعلیمی پالیسیاں بالترتیب 1968 ء اور 1986 میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے عہد میں بنائی گئی تھیں، تاہم

جب حضور آئے۔۔۔(۱۷)۔۔۔ نور کی چادر ہر سمت پھیل گئی۔۔۔ علامہ راشد الخیریؒ

Mohammed Mateen Khalid Seeratun Nabi

" رات کا دورہ ختم ہو چکا، آسمان نے کروٹ بدلی، ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے ریگستان عرب کو سرد کر دیا، طائران خوش الحان یتیم عبداللہ کی تشریف آوری کا مژده چہک چہک کر گانے لگے، صبح صادق نے رات کی سیاہی دور کی اور نور کی چادر ہر سمت پھیلا دی، روشنی اندھیرے پر غالب آئی، صبا اٹھکیلیوں میں مصروف ہوئی اور سرسبز درختوں کی ہری بھری شاخیں فرط مسرت سے جھوم جھوم کر آپس میں گلے ملنے لگیں، آمنہ کے لال ( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) پر زمینی کائنات نثار ہونے کو آگے بڑھی، نسیم نے ہزار جان سے قربان ہو کر بساط ارض

عید الاضحی۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

Bhatkallys Other

عیدالاضحیٰ (۱۰فروری ۱۹۶۸ءکولکھنو ریڈیو اسٹیشن کی فرمائش پر عیدالاضحیٰ کے موقعہ پر یہ نشریہ نشر کیا  گیا۔ اس میں مولانا دریا بادی  نے اپنے منفرد لب ولہجہ مںض سنت ابراہیمی پر روشنی ڈالی ہے اور بڑے دلچسپ انداز سے اس کے مختلف پہلوﺅں کو پیش کیا ہے۔  ڈاکٹر زبیر  احمد  صدیقی) --------------------------------------------------------- تہوار کے معنی دوسرے مذہبوں اورتمدنوں میں جوکچھ بھی ہوں، اسلام میں تو بہر حال اس کے معنی کھلی چھٹی اور بھر پور آزادی کے نہیں، اورسو بار نہیں ۔ اور نہ ان کا کوئی تعلق موسم

مرحوم جناب مظفر کولا صاحب۔۔۔۔از: ابو احمد یس یم

Bhatkallys Other

2/ذی الحجة الحرام 1441مطابق 23 جولائی 2020 رات تقریبا 10:30 مینگلور سے یہ خبر آئی کہ قوم نوائط کے قدیم ومشہور تاجر جناب مظفر کولا صاحب اس دارفانی سے رخصت ہوکر اللہ کے دربار میں حاضر ہوگئے ۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون محترم مظفر کولا صاحب قوم نوائط  کے قدیم و مشہورتاجر تھے۔ انہوں نے برصغیر (ہندوپاک) میں موجود سینکڑوں دینی اداروں کی اپنے ذاتی سرمایہ کے ذریعہ  امداد کی۔ اور برصغیر(ہندوپاک )  میں  سینکڑوں جگہوں پر  جہاں مدارس،مکاتب ومساجد  کی ضرورت تھی۔ مرحوم مظفر صاحب نے خود اپنے ذاتی سرمایہ 

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ محاوروں کی دلچسپ کتاب۔۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

پچھلے کالم کے حوالے سے ایک قاری عبدالحمید صاحب نے توجہ دلائی ہے کہ حضرت عزیر نبی نہیں بلکہ ایک بزرگ شخص تھے۔ ایسا ہی ہوگا، لیکن تفاسیر اور تراجم میں ان کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھا جاتا ہے اور یہ کلمہ عموماً انبیاءکرام کے نام کے ساتھ آتا ہے۔ ویسے تو اب غیر انبیاءکے ساتھ بھی علیہ السلام لکھا جارہا ہے۔ یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے، تاہم مفسرین اور علماءکرام نے کچھ کلمات مخصوص کررکھے ہیں۔ رسول اکرم کے لیے صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام کے لیے رضی اللہ عنہ، اور دیگر بزرگوں کے لیے رحمت اللہ علیہ۔ حضرت ع

سچی باتیں ۔۔۔ حج کا موسم۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

Bhatkallys Other

حج کا موسم آگیا۔ دیار حبیبؐ کی زیارت کی گھڑی آگئی۔ دیوانوں کے جوش جنون کے تازہ ہونے کا زمانہ آن لگا۔ بچھڑے ہوؤں کے ملنے کا وقت آ پہونچا۔ جن جن کے نصیب میں تھا، وہ باوجود ہرطرح کی بے سروسامانی کے، اپنے دوردراز وطن سے چل کر، سخت گرمی کے موسم میں طویل سفر کی کلفتیں اُٹھاکر، عرب کے تمتماتے ہوئے آفتاب، حجاز کی جھُلسا دینے والی لُو، ریگستان کی تپتی ہوئی زمین، کو برداشت کرتے، امیر وغریب ، لاکھوں کی تعداد میں، سب ایک ہی قسم کا لباس پہنے، سب ایک ہی چادر اوڑھے، اور ایک ہی تہمد باندھے، اپنے ایک ہی پی

جناب محمد مظفر کولاصاحب۔۔۔ ہمت وحوصلہ کا ایک نادر نموبہ۔۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Bhatkallys Other

 ایسا لگتا ہے کہ ذات باری تعالی اس وقت  جلال میں ہے، کیا عزیز؟کیا قریب ؟ کیا عالم کیا عامی؟ سفر آخرت پر روانہ ہونے والوں کی ایک قطار لگی ہوئی ہے۔ جاننے والے، محبت رکھنے والے اس دنیا سے اٹھ رہے کہ ابھی ایک کا کفن میلا نہیں ہوپاتا کہ دوسرے کی اس جہان فانی سے گزرنے کی خبر آجاتی ہے، اور جنازے ایسے اٹھ رہے ہیں جن پر گور غریباں کا گمان ہوتا ہے۔ ابھی مولانا اقبال ملا صاحب کے غم سے نکل نہیں پائے تھے، کہ جناب محمد مظفر کولا صاحب کے اس دنیا سے دائمی سفر پرروانگی کی خبر نے دل ودماغ پر غم کی چادر چڑھا دی

قرآن کیا ہے؟۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

Bhatkallys Other

یہ نشریہ لکھنو ریڈیو اسٹیشن سے  18اپریل 1939ء کی شام کو نشرہوا ۔ اس میں مولانا عبدالماجد دریابادیؒ نے کلام مجیدکی خصوصیات ،تعلیمات اور افادیت کا ذکر بہت ہی جامع، اپنے خاص انداز، اور ۱۵ منٹ کے محدود وقفہ میں کیا ہے۔ تحریرکی شگفتگی، اسلوب کی ندرت اور چاشنی دل موہ لینے والی ہے۔ تحریر میں فنی خوبیاں؛ تشبیہ، استعارہ اور کنایہ کی بہترین مثالیں جا بہ جا بکھری ہوئی ہیں، لفظی اور معنوی صنعتوں کی ایسی کثیر خوبصورت ترکیبیں موجود ہیں کہ جنھیں پڑھ کر ان کی توصیف و خوبی کا حسن ذہن پر نقش ہو جاتا ہے ۔  ڈاکٹر ز

دہلی فسادات کے سلسلے میں اقلیتی کمیشن کی چشم کشا رپورٹ... سہیل انجم

Bhatkallys Other

شمال مشرقی دہلی میں فروری کے مہینے میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے تعلق سے شروع سے ہی ایسی رپورٹیں آرہی تھیں کہ یہ فرقہ وارانہ فساد نہیں تھا بلکہ سی اے اے کی مخالفت کرنے کی سزا تھی جو مسلمانوں کو دی گئی۔ یہ اپنے آپ پھوٹ پڑنے والا فساد نہیں تھا بلکہ منظم اور منصوبہ بند تھا۔ بی جے پی کے بعض رہنماؤں کے مبینہ اشتعال انگیز بیانات نے فساد کی آگ بھڑکائی تھی۔ تین روز تک مسلسل کشت و خون کا بازار گرم رہا اور حکومت اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ فساد کے دوران پولیس کا رول بھی سوالوں کے گھیرے می

جب حضور آئے۔۔(۱۶)۔۔۔ نور کی چادر پھیل گئی۔۔۔ تحریر: پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد

Mohammed Mateen Khalid Seeratun Nabi

چاند چمک رہا ہے، ستارے کھل رہے ہیں ، نور کی پھوار پڑ رہی ہے ۔۔۔۔ اچانک غلغلہ بپا ہوا، ایک ندا دینے والا دے رہا تھا ۔۔۔ لوگو ! صدیوں سے جس ستارے کا انتظار تھا ، دیکھو دیکھو آج وہ طلوع ہو گیا ---- آج وہ آنے والا آ گیا --- وادی مکہ کے سناٹے میں یہ آواز گونج گئی ۔ سب حیران یہ ماجرا کیا ہے ؟ ---- کس کا انتظار تھا ، کون آ رہا ہے ؟ ------ ہاں سونے والو ! جاگ اٹھو ! آنے والا آگیا ۔۔۔ نور کی چادر پھیل گئی ، میلوں کی مسافتیں سمٹ گئیں ، بصرائے شام کے محلات نظر آنے لگے ۔ سارے عالم میں چاندنا ہو گیا ، ہاں یہ

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ معیاد یا میعاد؟۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی

Bhatkallys Other

آج پہلے خود اپنا جائزہ لیتے ہیں۔ 13 جولائی کے جسارت میں ایک خبر کی ذیلی سرخی ہے ”صوبوں سے دغا کیا جارہا ہے“۔ جسارت میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ کام کررہے ہیں۔ ہوسکتا ہے سرخی نکالنے والے صاحب کے نزدیک ”دغا“ مذکر ہو۔ ’دغا‘ فارسی کا لفظ ہے اور بالاتفاق مونث ہے۔ مومن خان مومن کا شعر ہے:۔ دیا علم و ہنر، حسرت کسی کو فلک نے مجھ سے یہ کیسی دغا کی ممکن ہے شمالی علاقوں میں ’دغا‘ مذکر ہو جیسا کہ ’قوم‘ ان علاقوں میں جاکر مذکر ہوجاتا ہے۔ ۔’میعاد‘ بھی ’عوام‘ کی طرح اُن الفاظ کی فہرست میں شامل ہوگیا ج

سچی باتیں۔۔۔ تباہی کے ذمہ دار کون؟۔۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

Bhatkallys Other

11-06-1926 کتابی مسیحیت کی اشاعت کے لئے ایک بہت بڑی انجمن برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی کے نام سے ، سوسوا سو برس سے قائم ہے۔ حال میں اُس نے اپنا ایک سو بائیسواں سالانہ جلسہ کیاتھا۔ اس کی روداد جواس نے شائع کرائی ہے، اُس سے معلوم ہوتاہے، کہ انجیل اور اس کے مختلف حصوں کے جتنے نسخے پچھلے سال اس نے شائع کئے، اُن کی مجموعی تعداد ۱۰۴۵۲۷۳۳ تقریبًا ایک کرور پانچ لکھا تک پہونچی! گویا پچیس سال قبل جتنی تعداد تھی ، اب اُس کے دوگنے سے زائد ہوگئی ہے، اور ایک سال قبل جو تعداد تھی، اُس کے مقابلہ میں ابکی ۴۱۲۱۵

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ ساکہیں جسے(آہ!استادالاساتذہ حضرت مولانا اقبال ملاندوی،رحمۃاللہ علیہ)۔۔از: عبدالحفیظ ندوی

Bhatkallys Other

بدھ کے دن (15,جولائی2020)بعد نمازعصر اپنے محلے کی مسجد(مسجد امام شافعی)کے مرمتی کاموں کا جائزہ لے رہا تھاکہ اسی دوارن  ایک صاحب خیرنے یہ غمناک خبردی کہ حضرت مولانااقبال ملاندوی(قاضی جماعت المسلمین،بھٹکل) ہم سب کو داغ مفارقت  دیتے ہو ئے اس دارفانی سے کوچ کرگئےاس خبرکوسنتے ہی میں اور میرے ساتھیوں نے انالله وانااليه راجعون پڑ ھا. گذشتہ چنددنوں سے مولاناکی طبیعت کی ناسازی کی بناء پر ایڈمیٹ کیاگیاتھااسی وقت سے مولانا مرحوم کے نواسوں سےمسلسل ربط میں تھا جو میرے شاگردوں میں ہیں ،انکے واھل خانہ کے ذر

حضرت مولانا محمد اقبال ملا ندوی ۔ چیف قاضی جماعت المسلمیں کی رحلت۔۔۔ تحریر:عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Bhatkallys Other

تدبر، تفکر ، تفقہ ،زہد وتقشف کی نادر مثال ۔ایک سورج ، جس نے کئی چاند روشن کئے تحریر: عبد المتین منیری۔بھٹکل آج مورخہ 23 ذی قعدہ 1441ھ  مطابق 15؍ جولائی 2020ء بوقت چاشت منگلور کے اسپتال میں حضرت مولانا  محمداقبال ملا ندوی صاحب چیف قاضی جماعت المسلمین بھٹکل و صدر جامعہ اسلامیہ بھٹکل نے  زندگی کی آخری سانس لی، وہ گزشتہ 16 دنوں سے شدید بیماری کی وجہ سے وینٹیلیٹر پر تھے۔ انہیں سانس میں تکلیف محسوس ہورہی تھی، اس کے علاوہ بھی انہیں کئی ایک عوارض تھے جن کاخاطر خواہ علاج لاک ڈون کے تین مہینوں میں نہ

بات سے بات: پی ڈی یف کتابوں سے استفادہ کیوں کر؟۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Bhatkallys Other

بات سے بات: پی ڈی یف کتابوں سے استفادہ کیوں کر ہو؟ عبد المتین منیری۔ بھٹکل اس وقت پی ڈیف پر اسکین شدہ کتابوں کی ایک باڑھ سی لگی ہوئی ہے۔ سینکڑوں ویب سائٹس، واٹس اپ گروپ ، ٹیلگرام چینل مفت الکٹرونک کتابیں بانٹنے میں لگے ہوئے ہیں،(اس کا اخلاقی جواز کہاں تک ہے؟ اس وقت یہ ہمارےموضوع سے خارج ہے)۔ چونکہ ان کے چینلوں، گروپوں کی تعداد بے حد وحساب ہے لہذا کتابوں کے شوقین افراد کا سارا وقت اب ان کتابوں کو ڈون لوڈ کرنے، ان کا نام لکھنے اور انہیں مرتب کرنے میں گزر جانے لگا ہے۔ جو ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔

حکومت کی بوکھلاہٹ کا ایک اور نمونہ... سہیل انجم

Bhatkallys Other

چینی جارحیت پر سینئر کانگریسی رہنما راہل گاندھی کے تیکھے سوالوں کا بی جے پی یا حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اسی لیے براہ راست گفتگو کرنے کے بجائے دائیں بائیں بھاگنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح ڈرا دھمکا کر کانگریس صدر سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو خاموش کرایا جا سکے۔ چونکہ حکومت بہت سے مخالفین کو انتقامی کارروائی کے تحت چپ کرا چکی ہے اس لیے وہ چاہتی ہے کہ کانگریس بھی چپ ہو جائے اور ا س کی ناکامیوں کے سلسلے میں کوئی سوال نہ پوچھے۔ ان پر پردہ