Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
مرتضی ساحل تسلیمی کا انتقال... ادبِ اطفال کا ایک روشن چراغ بجھ گیا۔۔۔از: سراج عظیم
نئی دہلی: ادبِ اطفال کی مایۂ ناز شخصیت مرتضی ساحل تسلیمی کا ۲۱/اگست کی شب گیارہ بجے نئی دہلی، لاجپت نگر کے میٹرو اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ مرتضی ساحل کو ۱۷/اگست کو رامپور کے سائی اسپتال سے دہلی کے میٹرو اسپتال بہت تشویشناک حالت میں داخل کرایا گیا تھا۔ جہاں اُن کا کووِڈ کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ جس کے بعد اُن کو انتہائی نگہداشت والے قرنطینہ وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ اُس سے پہلے مرتضی ساحل پچھلے ایک سال سے سروائیکل کی تکلیف میں مبتلا تھے اور زیرِ علاج تھے لیکن بقرعید کے دوسرے دن سے اُن کی حالت بگڑنے لگی
یاد مجاز۔۔۔۔ تحریر: محمد رضا انصاری فرنگی محلی
یاد ’مجاز‘ محمد رضا انصاری [ یہ مضمون مارچ اننیس سو چھپپن کے ’نقوش ‘لاہور میں شآئیع ہوا تھا ،’مجاز ‘ کے اچانک انتقال کے تین ماہ بعد ] ’مجاز ‘ کی آخری زیارت ،اسکے مرنے سے تقریبا ً پچیس گھنٹے قبل اور بیہوش ہونے سے چند گھنٹے پہلے اس طرح ہوئیی کہ میں بس سے اتر کر ،تیزی کے ساتھ اپنے دفتر جا رہا تھا ، رات کے پونے نو بجے تھے ،’مجاز ‘ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ’سینٹرل ہوٹل [امین آباد ] کے نیچے سڑک پر کھڑا ،حسب م
مرتضی ساحل تسلیمی۔۔۔ بچوں کے ادب کا اہم ستون۔۔۔ تحریر:عبد المتین منیری ۔ بھٹکل
ایسا لگتا ہے کہ شان خداوندی جلال میں آگئی ہے، مختصر وقفے سے کسی نہ کسی قریبی یا قیمیتی شخصیت کے اس دنیا سے اٹھ جانے کی خبریں آرہی ہیں، خبریں بھی اس تیزی سے مل رہی ہیں کہ ہم ماتم کرنا بھی بھولتے جارہے ہیں، کتنی قمیتی شخصیات تھیں کہ جن کی خدمات اور رہنمائی کی امت شدید ضرورت محسوس کرتی تھی آنا فانا اس دنیا سے رخصت ہوگئیں، کورونا کا قہر کچھ ایسا ٹوٹا ہے کہ زیادہ تر بڑے بڑے اسپتالوں میں مریضوں کے داخل ہونے کے بعد ان کی میتیں ہی واپس آرہی ہیں، مریضوں کو اسپتال لے جاتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ مع
سچی باتیں۔۔۔ محرم کی بدعات۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
سچی باتیں محرم کی بدعات محرّم کا چاند طلوع ہوچکا۔ مسلمانوں کے گھرگھر میں ایک نئی چہل پہل پیدا ہوگئی۔ گویا عید اور عید قرباں کی طرح، بلکہ اُن سے بھی بڑھ کر مُحرم بھی کسی مذہبی جشن وتقریب کا نام ہے! عید صرف ایک دن کے لئے آتی ہے، محرّم کی تقریب پورے دس دن تک قائم رہتی ہے! عید کے دن سوئیاں پکتی ہیں، محرم میں اس سے کہیں زیادہ لذیذ وپُرتکلف حلوے، شیرمال، ملیدہ، شربت، اور بجائے پان کے خوشبودار مصالحہ کا اہتمام ہوتاہے! عید میں صرف صبح کے وقت دوگانہ پڑھنا ہوتاہے، محرّم میں عشرہ بھر برابر مجلسوں کا سلس
تبصرات ماجدی۔۔۔163۔۔۔ اپنی موج میں۔۔۔ از: آوارہ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
*تبصراتِ ماجدی* *(163) اپنی موج میں* از "آوارہ" 120 صفحہ، مجلد مع گرد پوش، قیمت دو روپیہ آٹھ آنے، ادراۂ فروغ اردو، امیں آباد پارک لکھنؤ۔ پاکستان میں: مبارک بک ڈپو، بندر روڈ، مقابل ڈینسو ہال، کراچی ۔ 2 ۔ آل انڈیا ریڈیو کے دہلی اسٹیشن کے ایک کارکن آوارہ مار ہروی مدت سے اپنی مزاحیہ تقریریں سناتے رہتے ہیں۔ زبان خصوصا دہلی کے محاورات کے گویا بادشاہ ہیں اور مزاح کے لفافہ میں پند لطیف بھی، یہ انکے 26 مزہ دار نشریوں کا مجموعہ ہے۔ عنوانات بگڑے رئیس، بیٹر باز، چابک سوار، کرخندار، بان
شعب ابی طالب کی گھاٹی ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
بعض لکھنے والے ’’بذاتِ خود‘‘ اور ’’بجائے خود‘‘ میں فرق نہیں کرتے۔ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ جب ذات کا ذکر ہو یا زندہ وجود کا تذکرہ، تو وہاں ’’بذاتِ خود‘‘ استعمال کرنا چاہیے، اورجہاں بے جان چیز کا ذکر ہو تو وہاں ’’بجائے خود‘‘ استعمال کیا جائے۔ ایک ادبی پرچے میں ’’نقدِ سفر: ایک مختصر جائزہ‘‘ کے عنوان سے مضمون کا پہلا جملہ ہے ’’زندگی بذاتِ خود سفر ہے‘‘۔ ہمارے خیال میں یہاں ’’بجائے خود‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ مزید وضاحت جناب منظر عباسی کردیں گے۔ ’’اصلاحِ تلفظ و املا‘‘ میں طالب الہاشمی نے ایک عمومی غلطی کی نش
تبصرات ماجدی۔۔۔162۔۔۔بزم بے تکلف۔۔۔ از: ڈاکٹر سید عابد حسین۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
(162) بزم بے تکلف از ڈاکٹر سید عابد حسین قیمت ڈھائی روپیہ - سنگم کتاب گھر، دہلی ۔ جامعہ ملیہ کے ڈاکٹر سید عابد حسین اردو کے پرانے لکھنے والوں میں ہیں، گاندھی جی کی "تلاش حق" "تاریخ فلسفۂ اسلام" قسم کے ترجموں کے علاوہ ان کی اپنی لکھی ہوئی چیزیں بھی متعدد ہیں۔ ایک ٹھوس قلم کے اہل قلم وہ ہمیشہ سے ہیں اور بدگمانی یہ تھی کہ ٹھوس ہی نہیں ذرا " ٹھس " قسم کے بھی ہیں۔ان کی ذہانت، ذکاوت اور زندہ دلی کے جوہر تو کہنا چاہئیے کہ حال ہی میں یعنی 1946 کے بعد کھلے ______ ان کی قلم کی شوخی ج
تبصرات ماجدی۔۔۔ 161۔۔۔ شوکتیات۔از:شوکت تھانوی۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
ّ(161) تبصراتِ ماجدی شوکتیات از شوکت تھانوی صفحات۲۴۰، مجلد مع گرد پوش، قیمت درج نہیں،اردو بک اسٹال، لاہور.پاکستان اردو کے مشہور مزاحیہ نویس شوکت تھانوی مدت ہوئی اس منزل سے گزر چکے ہیں، کہ ان کا تعارف ہما ہمی سے کرایا جائے۔ یا ان کے مزاح و شوخ نگاری کے ذکر کے لیے کوئی تمہید لمبی سی اٹھائی جائے ! بہ قول شخصے "آفتاب آمد دلیل آمد"۔ وہ خود ایک ادارہ بن چکے ہیں اور تازہ تاریخ ادب اردو کا ایک مستقل باب۔ مزاح کے ڈانڈے تمسخر سے اور ظرافت کے حدود تضحیک سے کچھ ایسے ملے جلے ہوئے ہیں کہ
تبصرات ماجدی۔۔( 4)۔۔۔ خلاصہ فسانہ آزاد۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
(4) خلاصہ فسانہ آزاد از ابوتمیم فرید آبادی کتب خانہ انجمن ترقی اردو، جامع مسجد دہلی ۔ قیمت 3 روپے۔ سرشار کی فسانہ آزاد اردو ادب و افسانہ کی ایک مشہور کتاب ہے، لکھنؤ کی بیگماتی زبان کا مرقع۔ اب ذرا پرانی البتہ ہوگئی ہے۔ 75 سال کا فاصلہ بڑا ہوا۔ اور پھر ضخیم اتنی کہ بیسویں صدی کے وسط میں آدمی کو اس دفتر کو ختم کرنے کی فرصت کہاں سے لائے۔ سید ابوتمیم فرید آبادی بھی کمال کے مردِ ظریف و صاحبِ ذوقِ لطیف نکلے کہ اس زمانے میں اس دریا کو کوزے میں بند کرنے بیٹھے اور جو سوچتے تھے، اسے کر کے دکھا دیا یعن
سچی باتیں۔۔۔ اسلامی جنتری کا آغاز۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
اسلامی جنتری کاآغاز چاند کی سالانہ گردش ایک بار پھر اپنا دورہ تمام کرچکی۔ اسلامی جنتری میں ’’قربانی‘‘ کا مبارک مہینہ اور مبارک دن گذر چکا، اور ’’شہادت‘‘ کا مبارک مہینہ اور مبارک دن آپہونچا۔ عبد قربان کا مہینہ اگر اس لئے تھا، کہ آپ اپنا سب کچھ حق کی راہ میں لُٹادیں، تو محرم کا مہینہ یہ پیام لاتاہے، کہ آپ خود اپنے کو شہادت کے لئے پیش کردیں۔ پچھلا مہینہ ’’آپ سے‘‘ مانگ رہاتھا، اگلا مہینہ ’’آپ کو‘‘ مانگ رہاہے۔ دنیا کی ایک نہایت زبردست، متمدن وظالم حکومت کی کشتیِ حیات اسی مہینہ کی ۱۰؍تاریخ کو د
چند مظلوم و مرحوم شخصیتیں۔۔۔(۲)۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
چند مظلوم و مرحوم شخصیتیں تحریر:مولانا عبدالماجد دریابادیؒ (دوسری/آخری قسط) ملازم یا خدمت گار اتنی زندگی میں میرے پاس کئی ایک رہے، زیادہ تر گھر ہی کے پروردہ ۔ زمانہ لڑکپن اور جوانی کا میں نے وہ پایا، جہاں بچاروں کے کوئی انسانی حقوق تھے ہی نہیں اور ان کا شمار بس ایک طرح کے معزز جانوروں میں تھا، آنکھ کھول کربرادری بھر میں یہی منظر دیکھا اور پھر میں تو گرم مزاج و تندخو بھی تھا قدرۃً اس سارے طبقہ کے ساتھ برتاؤ ناگفتہ ہی رہا ۔ کس کس سے معافی کیا کہہ کہہ کر مانگوں؟ سب سے زیادہ مدت رفاقت حاجی محب
ایک فقیہ کی وفات کا سانحہ۔۔۔ ڈاکٹر عبد السلام العبادی۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر بد رالحسن القاسمی
ڈاکٹر عبد السلام العبادی اردن کے نامور عالم اور فقیہ تھے کئی سالوں سے بین الاقوامی فقہ اکیڈمی یامجمع الفقہ الاسلامی الدولی کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے جدہ میں مقیم تھے اور وفات بھی وہیں اور کرونا کی بیماری کا شکار ہوکر ھوئی اس طرح اس عجیب وغریب آفت اورعالمی طاعون یا طوفان کا نشانہ بننے والی تازہ قیمتی شخصیت ڈاکٹر عبد السلام العبادی کی ھے ڈاکٹر صاحب کی پیدائش ١٩٤٣کی تھی انھوں نے ١٩٧٢میں جامعہ ازھر کی کلیة الشريعه والقانون سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری فقہ مکارم میں نہایت ھی امتیاز کے ساتھ حاصل کی تھی الم
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے۔۔۔ معصوم مرادآبادی
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے معصوم مرادآبادی یہ گزشتہ یکم اگست کاواقعہ ہے۔ ملک بھر میں عید الاضحی کا تہوار جوش وخروش کے ساتھ منایا جارہا تھا۔لوگ جو ق در جوق سنت ابراہیمی کی پیروی میں مشغول تھے۔ اچانک ٹوئٹر پر ایک نوجوان کا دردانگیز پیغام ابھرتا ہے۔”سب کوعید مبارک۔یہ ہمارے لئے ایک مشکل گھڑی ہے۔ امّی اسپتال میں ہیں۔ اگر ممکن ہو تو برائے مہربانی ان کے علاج کے لئے دل کھول کر امدادکیجئے۔ شکریہ۔“ جس نوجوان کی طرف سے مدد طلب کی گئی تھی، وہ کسی معمولی خاندان کا چشم وچراغ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے خوشحال
ؒچند مظلوم ومرحوم شخصیتیں۔۔۔(۱) تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
چند مظلوم و مرحوم شخصیتیں تحریر:مولانا عبدالماجد دریابادیؒ (پہلی قسط) زندگی بھر میں حق ادا کسی کے بھی کر پایا ہوں، بڑوں، چھوٹوں، برابر والوں میں شرمندگی نہیں کس سے ہے؟ صفات ستّاری وغفّاری اگر آڑے نہ آجائیں تو حشر میں آنکھیں چار کر کے سامنا کسی ایک بھی سابقہ والے کا نہیں کر سکتا، پھر بھی چند ہستیاں تو خصوصیت سے ایسی ہوئی ہیں، جن کے معاملہ میں حق تلفی اتنی نمایاں اور سنگین رہی ہے کہ جب ان کی یاد آجاتی ہے تو جسم میں جھر جھری سی آنے لگتی ہے، اور آنکھیں فرط ندامت سے زمین پر گڑ کر ر ہ جاتی ہی
تبصرات ماجدی۔۔۔ (160)۔۔۔ جزیرہ سخنوران۔۔ از:غلام عباس۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
(160) جزیرہ سخنوران از غلام عباس صاحب کتاب خانہ ہزار داستان نئ دہلی یہ ایک افسانہ ہے نئے اور البیلے رنگ کا، پلاٹ یورپ سے لیا ہوا لیکن قصہ اردو میں بالکل اپنایا ہوا ایک جزیرہ ہے "جزیرہ سخنوران " تمام تر شاعروں اور ان کے مداحوں سے آباد، اخلاق کی قیود سے آباد وہاں یہ سیاح صاحب اپنی ہم سفر ایک حسین خاتون کے ساتھ اتفاق سے جا پہنچتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں۔ باتوں باتوں میں مجلس شوری تک پہنچا دیے جاتے ہیں۔ مجلس کے تین ارکان ہیں ایک ادھیڑ سن کے بزرگ افصح الفصحاء شاعر بے ہمتا
تبصرات ماجدی۔۔۔(۲)۔۔۔ چند افسانے ۔۔۔ از: خواجہ شفیع دہلوی۔۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
تبصراتِ_ماجدی (2) چند افسانے از خواجہ شفیع دہلوی اردو مجلس مٹیا محل، دہلی دہلی کے سحر طراز انشاء پرداز اہلِ زبان خواجہ شفیع سلمہٗ اب اس منزل سے گزر چکے ہیں کہ ان کی نئی کتاب کے تفصیلی تعارف کی ضرورت ہو۔ ان کا نام خود ہی ایک مکمل تعارف ہے۔ مضمون کے پاکیزہ، شستہ ولطیف ہونے کی ضمانت، زبان کی صحت، سلاست، شیرینی کی دستاویز۔ مجموعہ…جی میں آتا ہے اسے گلدستہ کے نام سے پکاریئے…اس میں دو نظمیں ہیں اور کوئی دس بارہ ہلکے پھلکے افسانے، پر بہار جیسے موسم گل دلاویز جیسے نغمہ بلبل۔ افسانوں کے پلاٹ کسی مسجد
جب حضور آئے۔۔۔(۱۹)۔۔۔ صبح ہدایت نمودار ہوئی۔۔۔ تحریر: علامہ سید سلیمان ندویؒ
خوش خبری کہو کہ اس ماہ ربیع الاول کا چاند طلوع ہوا جو اسلام کی بہار کا مہینہ ہے، وہ مہینہ ہے جس میں ہدایت کی صبح نمودار ہوئی اورنیکی کے چشمے نکلے، وہ مہینہ جس میں وہ شخص ظاہر ہوا جو عرب کو تاریکی سے روشنی میں، جہالت سے علم میں، وحشت سے تہذیب، کفر سے توحید، ذلت و پستی سے عزت و فضائل کی طرف لایا، پس اس وقت مذہباً سب سے بڑی قوم کے نزدیک سب سے بڑا مہینہ ہے اورمذہب خدا کے نزدیک صرف اسلام ہے۔ وہ مہینہ ہے جس کے لئے ہم پر واجب ہے کہ اس کا مسرت، تبسم، خوشی کے ساتھ استقبال کریں کیونکہ اس مہینہ میں جب کہ ق
بات سے بات: سندھ میں پیر جھنڈا کا کتب خانہ۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
کتب خانہ پیر جھنڈا کا تذکرہ آیا ہے۔ آخری زمانے میں اس کتب خانے سے وابستہ دو بزرگان دین کی قلمی کتابوں کے نادر ذخیرے اور دینی واصلاحی خدمات کی وجہ سے بڑی شہرت رہی ، ان میں سے ایک مولانا محب اللہ شاہ راشدیؒ اور دوسرے مولانا بدیع الدین شاہ راشدیؒ تھے، آخر الذکر سے ہمیں ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے،سعودی علماء کو خاص طور پر ان کا بڑا احترام کرتے ہم نے پایا۔ یہ دراصل سندھ کے صوفی سلسلہ عالیہ راشدیہ قادریہ کی ایک شاخ کے سجادہ نشین تھے، یہ سلسہ امام الاحرار پیر سید محمد راشد شاہؒ کی طرف منسوب ہے، اور