Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
خبر لیجے زباں بگڑی ۔ پول کھل گئی۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی
وزارتِ عظمیٰ بہت عام لفظ ہے۔ اعظم سے عظمیٰ۔ لیکن جانے کیوں ہم لوگ وزیراعلیٰ کی نسبت سے وزارتِ عُلیا نہیں لکھتے۔ عُلیا اعلیٰ کی مونث ہے۔ وزارتِ عظمیٰ ہے تو وزارتِ عُلیا بھی ہوسکتی ہے۔ شاید عُلیا لکھتے ہوئے تکلف ہوتا ہے۔ اب عظمیٰ تو نام بھی ہوتا ہے۔ ممکن ہے کوئی پوچھ لے کہ یہ عُلیا کیا ہے؟ اگر وزارتِ اعظم لکھنا صحیح نہیں تو وزارتِ اعلیٰ بھی درست نہیں ہے۔ ہمیں ایک واقعہ یاد آیا۔ ایک صاحب جو نئے نئے وزیراعظم بنے تھے، نام ان کا ہم نہیں لیں گے، کسی دوست نے پوچھ لیا ’’اور سنائیے، وزارتِ عظمیٰ کیسی لگی
سچی باتیں: حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی تعلیمات ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
1925-10-23 ربیع الاول کے بعد قدرۃً ربیع الثانی کا طلوع ہوتاہے ۔ اس مہینہ کو ایک ایسے بزرگ کے ساتھ نسبت حاصل ہے ، جس کا نام دنیائے اسلام کے بڑے حصہ میں بڑی ہی عزت وتعظیم کے ساتھ لیاجاتاہے۔ حضرت شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اس پایہ کے بزرگ گذرے ہیں، جن کی ذات پر خود تاریخ اسلام کو ناز ہے۔ اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم ، بہت بڑے درویش، بہت بڑے ولی تھے۔ فتوح الغیبؔ، غنیۃ الطالبینؔ، وغیرہ کئی مشہور وبلند پایہ علمی تصنیفات یادگارہیں۔ سلسلۂ ارشاد وہدایت ابتک جاری ہے، بیشمار بندگان خدا
بات سے بات: شیخ محمد ناصر الدین البانی ؒ کے بارے میں ایک موقف... از:عبد المتین منیری،بھٹکل
ہمارے دوست مولانا محمد یاسر عبد اللہ صاحب نے ڈاکٹر الشریف حاتم العونی صاحب کے شیخ محمد ناصر الدین الالبانی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں جو تاثرات نقل کئے ہیں ان سے اختلاف کی گنجائش موجود نہیں ہے، اصولی طور پر ان کی سبھی باتیں قابل غور ہیں، طلبہ و علماء کو شیخ البانیؒ کی کتابوں سے استفادہ کرنا چاہئے، اور ان کے طریقہ کار کو جاننے کی کوشش کرنی چاہئے،لیکن دور سلف کے ائمہ کرام کی جگہ پر سہولت پسندی سے کام لیتے ہوئے کسی بھی صورت میں صرف شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ احکامات کو حجت نہیں بنانا چاہئے، شیخ البا
پھولوں کا گلدستہ ۔۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
’سِوا‘ اور ’علاوہ‘ کے استعمال کے حوالے سے ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں لیکن یہ غلطی عام ہوتی جارہی ہے۔ یعنی جہاں ’سِوا‘ لکھنا چاہیے وہاں ’علاوہ‘ لکھا جارہا ہے جس سے مفہوم بدل جاتا ہے۔ مثلاً آج کل اخبارات میں کلونجی کے حوالے سے ایک اشتہار چھپ رہا ہے۔ اس میں ایک حدیثِ رسولؐ کا ترجمہ بھی دیا جارہا ہے کہ ’’کلونجی موت کے علاوہ ہر مرض کا علاج ہے‘‘۔ حدیث اور اس کے ترجمے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہاں ’علاوہ‘ کے استعمال سے یہ مفہوم نکل رہا ہے کہ کلونجی موت کا علاج بھی ہے۔ جب کہ یہاں ’سِوا‘ کا محل تھا۔ بات
سچی باتیں، رحمت عالم کی پیروی۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
1925-10-16 ربیع الاول کا مہینہ ختم ہوگیا۔ جس مہینہ میں دنیا کے لئے آخری اور انتہائی پیام لانے والا دنیا میں آیاتھا، اُس کی آخری تاریخ آگئی۔ اب گیارہ مہینے تک پھراسی بابرکت مہینہ کی آمد کا انتظار دیکھنا ہوگا، اور اس درمیان میں خد امعلوم کتنی زندگیاں ختم ہوچکیں گی، قبل اس کے کہ دوسروں کو حساب دنیا پڑے ، ذرا آئیے، ہم اور آپ مل کرخود اپنا اپنا حساب لیں۔ ہمارے سرور وسردارؐ نمازیں بہت کثرت سے پڑھتے تھے، ہم نے اس مہینہ میں کوئی نماز ترک تو نہیں کی؟ فرض نمازوں کے علاوہ، وہ نماز تہجد پابن
بات سے بات: شیخ جمال الدین افغانی اور ان کے روابط۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
شیخ جمال الدین الافغانی اور فری میسن سے ان کے روابط کے سلسلے میں ایک استفسار موصول ہوا ہے۔ اس سلسلے میں ہماری چند معروضات ہیں:۔ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ آج کےزمانے میں معلومات کے جو وسائل میسر ہیں ان کا عشر عشیر بھی اس سے پہلے بیسویں صدی کے آغاز میں میسر نہیں تھے، لہذا اس زمانے میں جو معلومات میسر ہوئیں ان پر ہمارے بہت سے مخلص قائدین اور داعیان نے اعتماد کیا، لہذا ہمیں کسی کے سسلسلے میں رائے قائم کرنی ہو، تو یہ اصول ذہن میں رہنا چاہئے کہ معلوما
بات سے بات: دنیا بھر میں واحد مخطوطے کے دعوے کی حقیقت۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
علم وکتاب گروپ کے ایک وقیع رکن مولانا عبید اختر رحمانی صاحب نے تنقیدات شیخ ابو غدہ کے سلسلے میں دنیا بھر میں واحد مخطوطے کے دعوی کی حقیقت کے عنوان کے تحت شیخ ابو غدہ کی شیخ محمد لطفی صباغ کی تحقیق کردہ کتاب ( امام ابو داؤود کے رسالۃ الامام ابی دائود السجستانی الی اھل مکۃ فی وصف سننہ) میں اس کے واحد قلمی نسخے سے اسے نقل کرنے کے دعوی پر تنقید کی ہے۔ شیخ ابوغدہ اور شیخ محمد لطفی صباغ دونوں عالم فاضل تھے، اور ان کی علمی خدمات بھی قابل قدر ہیں، لیکن ان میں شیخ ابو غدہ کا مقام زیادہ بلن
سچی باتیں۔۔۔ ہمارا دورخا پن۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
1928-06-06 ۔’’نبوت سے پہلے آپؐ کے جن لوگوں سے تاجرانہ تعلقات تھے، انھوں نے ہمیشہ آپ کی دیانت وحسن معاملہ کا اعتراف کیاہے۔ اسی لئے قریش نے متفقًا آپ کو امینؔ کا خطاب دیاتھا۔ نبوت کے بعد بھی گوقریش بغض وکینہ کے جوش سے لبریز تھے، تاہم ان کی دولت کے لئے مامون مقام آپ ہی کا کاشانہ تھا‘‘۔ (سیرۃ النبی، مولانا شبلی، جلد ۲ ، ص: ۲۳۹) آپ کی دیانت، امانت اور راستبازی مکہ میں زباں زد خلائق ہوچکی تھی۔ یہاں تک کہ آپ عام طور پر امینؔ کے نام سے مشہور ہوچکے تھے۔ امین سے مراد صرف یہ نہ تھی ، کہ آپ روپیہ کی
محمد علی کے خطوط۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
محمدعلیؒ کے خطوط ۔(یہ تقریر دہلی ریڈیو اسٹیشن نے اپریل 1941ءمیں نشر کی ۔ مولانا محمدعلی جوہر مرحوم سے مولانا دریا بادی ؒ کا خصوصی ربط و تعلق تھا، سیاسی وملّی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ مولانا محمدعلی ایک اچھے انشا پرداز تھے اور ان کے خطوط ادبی قدر و قیمت رکھتے ہیں۔ اس نشریے میں ان کے چندخطوط جو انھوں نے سمندرپار سے لکھے تھے، ان پرتبصرہ کیاگیاہے۔ ڈاکٹر زبیر احمد صدیقی)۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "نوجوانی سے اپنے قبل از وقت بڑھاپے تک محمدعلی یورپ سمندر پار چھ بارگئے، اور خطوط ہر دفعہ وہاں س
بات سے بات: مکتبہ جامعہ میں سناٹا۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
معصوم مرادآبادی منجھے ہوئے صحافی ہیں، ان کی تحریریں ملک وملت اور انکی ثقافت سے وابستہ امور سے آگاہی کا اہم ذریعہ ہیں، لیکن زیادہ تر جب ان کی تحریریں نظر سے گذرتی ہیں تو دل دکھی ہوجاتا ہے، آج آپ کے کالم جامعہ میں جشن مکتبہ جامعہ میں سناٹا نے ان دکھوں میں اور اضافہ کردیا۔ اردو کا کونسا قاری ہے جس کی یادیں مکتبہ جامعہ کی کتابوں سے وابستہ نہیں ہیں؟۔ ہماری نسل نے اس ادارے کی معیاری مطبوعات سے خوب خوب فائدہ اٹھایا ہے، ایک زمانہ تھا کہ بچپن میں جب اردو زبان سے کچھ شدھ بدھ ہوئی تو پیام تعلیم نظر
دنیا جب جوانوں کو سونپ رہی قیادت، امریکہ منتخب کرے گا سب سے بزرگ صدر: از۔۔۔سید خرم رضا
واشنگٹن: امریکہ میں آج شام سے (امریکہ میں تین نومبر کی صبح ہوگی) اگلے چار سال کے لئے نئے صدر کے انتخاب کے لئے ووٹنگ شروع ہوگی۔ امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ان انتخابات کی خاص بات یہ ہے کہ جس وقت پوری دنیا میں ملک کی قیادت نو عمر لوگوں کے ہاتھوں میں منتقل ہو رہی ہے، اسی وقت دنیا کے ترقی یافتہ اور طاقتور ترین ملک امریکہ کے عوام جن دو امیدواروں میں سے ایک کا صدر کے طور پر انتخاب کریں گے وہ امریکہ کا اب تک کا سب سے بزرگ صدر ہوگا! واضح رہے ڈونالڈ ٹرمپ کی عمر جہاں 74 سال ہے
سچی باتیں۔۔۔ بیوی کی گواہی۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
1926-09-13 کلّا ، واللہ لا یخزیک اللہ ابدًا، انک لتصل الرحم وتحمل الکلّ وتکسب المعدوم وتقری الضیف وتعین علی نوائب الحق۔ (صحیح بخاری، باب کیف کان بدأ الوحی)۔ خدا کی قسم ، خدا آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ آپ قرابت والوں کے حقوق ادا کرتے ہیں، ناتوانوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں، بینواؤں کو آپ کماکر دیتے ہیں مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں اور حادثوں میں حق کی مدد کرتے ہیں۔ (بعض دوسری روایات کے لحاظ سے، آپ سچ بولتے ہیں، اور آپ امانتوں کو ادا کرتے ہیں۔)۔ یہ الفاظ کس نے کہے ہیں؟ کس سے کہے ہیں؟ کس موقع پر کہ
بات سے بات: علامہ شبلی اور علامہ سید سلیمان ندوی۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
*بات سے بات: علامہ شبلی نعمانیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کا کچھ تذکرہ* *تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل* محترم مولانا خلیل الرحمن چشتی صاحب نے علامہ شبلی نعمانیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کی مرتب کردہ سیرت النبیﷺ اور ان کے بارے میں جو بات کہی ہے اس سے اختلاف کی گنجائش کم ہی ہے۔ علامہ شبلیؒ سے تعارف ہماری عمر شعور کا ساتھ رہا ہے، ابھی دس گیارہ سال کی عمر تھی، ٹھیک سے اردو پڑھنی نہیں آتی تھی، اجلاس جامعہ ۱۹۶۷ء کے تقریری مقابلے کے لئے ہماری استاد مولانا اکبر علی ند
سچی باتیں۔۔۔ مسدس حالی کے نعتیہ اشعار۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
1926-09-06 وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی بر لانے والا مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا فقیروں کا ملجا، ضعیفوں کا ماوی یتیموں کا والی، غلاموں کا مولیٰ مسدس حالیؔ کے یہ نعتیہ اشعار غالبًا آپ کی نظر سے گذر چکے ہوں۔ ان میں سرور کائنات ﷺ کی جو تصویر دکھائی گئی ہے، یہ آپ کے نزدیک محض شاعری ہے، حقیقت بیانی ہے؟ حدیث وسیرت کی معتبر کتابوں میں اس پاک زندگی کے یہی خط وخال درج ہیں، یااس کے برعکس؟ موافقین کو جانے دیجئے، آج جن لوگوں نے مخالفت وعداوت
جب حضور آئے (۲۴ )نور کا ظہور۔۔۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ
زبان تبدیل کرکے اردو سکیشن میں مضمون ملاحظہ فرمائیں۔
جب حضور آئے۔۔۔(23)۔۔۔۔ چاند طلوع ہوا۔۔۔ از: سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
چاند طلوع ہوا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " میں حیران ہوتا ہوں کہ خدا نے جس قوم کو آمنہ کا لعل دیا ہو، جسے امام الانبیاء، فخر رسل، باعث کل، پیغمبر آخر الزمان ملا ہو، اسے اور کیا چاہئے۔ پورا قرآن، اسلام ، احادیث، ائمہ کی محنت، یہ سجا دے، یہ تصوف، یہ بس حضور ہی حضور ہیں، بیچ میں اگر ختم نبوت پر بال آئے گا تو پوری عمارت نیچے آ گرے گی،خدا، خدا نہیں رہے گا، لوگ اور ہی بنائیں گے۔:۔ &nbs
بات سے بات: سندھی ہندو اور سکھ۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔۔۔ بھٹکل
ہمارے عزیز مولوی عتیق الرحمن خطیب نے سندھی ہندووں کے اسلامی تہذیب سے متاثر ہونے کا ذکر کیا ہے، اس پر عرض ہے کہ:۔ دعوتی نقطہ نظر سے پاکستان بننے سے چند بڑے نقصانات ہوئے، سندھی ہندو بنیادی طور پر مسلم صوفیاء کی عقیدت مند تھے اور تجارت پیشہ ہونے کے لحاظ سے متعصب نہیں تھی، ان کا مزاج بھی ہماری برادری کی طرح ساری زندگی ملکوں ملکوں گھوم کر آخر عمر میں اپنے وطن آنا اوراپنے جائے پیدائش میں رفاہی اور تعلیمی کام کرنا رہا ہے، سندھیوں نے تقسیم ہند سے قبل سندھ کے دیہی علاقوں میں جو تعلیمی او
سچی باتیں۔۔۔رسولﷺ کی نافرمانی اور محبت کیا یکجا ہوسکتے ہیں؟۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
1925-10-09 کیا آپ اپنے تئیں اُمتِ ’’احمد‘‘ میں کہتے ہیں؟ پھر آپ کو ’’حمدِ‘‘ الٰہی میں مصروف رہنے سے اس قدر گریز کیوں ہے؟کیا آپ ’’محمدؐ‘‘ کے نام کا کلمہ پڑھتے ہیں؟ پھر تو آپ کی حمد عرش وفرش دونوں جگہ ہونی چاہئے تھی، مگر یہ کیا ہے، کہ اس کے برعکس ہر جگہ آپ کے عیب ہی بیان ہورہے ہیں؟ کیا آپ رسولِ’’امین‘‘ کے پیروہی؟ مگر پھر آپ وصفِ امانت وجوہر دیانت سے اس قدر محروم کیسے رہ گئے ہیں؟ کیا آپ ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کے نام پر جان نثار کرنے والے ہیں؟ پھر یہ کیاہے کہ غیروں سے تو کیا، خود اپنوں کی طرف