Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
مولانا محمد اقبال ملا ندویؒ، جامعہ کے گل سرسبد(۲)۔۔تحریر: عبد المتیبن منیری۔بھٹکل
عثمان حسن ہیڈ ماسٹر کی نظر کرم مولانا اقبال صاحب فرماتے ہیں (( سچی بات تو یہ ہے کہ میں ہائی اسکول میں ٹاپ پر تھا، اور میر ا ارادہ ایک ڈاکٹر بننے کا تھا، اس زمانے میں گاؤں میں ڈاکٹر نہیں تھے، اورجو تھے وہ نیک نام نہیں تھے، عثمان ماسٹر صاحب کی نظر کرم مجھ پر تھی،ابھی جامعہ کے قیام کی تحریک شروع نہیں ہوئی تھی، اس زمانے میں ساتویں جماعت کے طالب علم کی صلاحیت نویں جماعت کے برابر ہوا کرتی تھی، میں نے اختیاری مضمون سائنس لیا تھا، عثمان ماسٹر صاحب تک منیری صاحب کی یہ بات پہنچی کہ وہ مجھے اعلی دینی تعلی
مولانا محمد ملا اقبال ندوی رحمۃ اللہ علیہ۔ جامعہ کے گل سرسبد ( ۱)۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری
یہ گزشتہ جنوری ۲۰۲۰ء کی بات ہے، میری دبی واپسی کا دن تھا، ظہر کی نماز میں نے جامعہ آباد مسجد میں اداکی، نماز کے بعد مولانا اقبال صاحب مسجد کے دروازے پر بائیں جانب بیٹھے میرا انتظار کررہے تھے، جاتے جاتے مولانا نے دریافت کیا کہ کیا اس مرتبہ آپ نے تخصص اور عالیہ درجات کے سامنے کچھ لکچر دئے؟، مولانا کو جب بھی ہماری وطن آمد ہوتی تو اس کی فکر رہتی تھی کہ طلبہ کو استفادہ کا موقعہ دیں، اور انہیں نئے، مفید اور اہم علمی موضوعات سے آگاہ کریں، وطن پہنچنے پر وہ ہم سے طلبہ کو مستفید کرنے کو کہ
صورت گر کچھ خوابوں کے۔۔۔ممتاز مفتی کا انٹرویو(1)۔۔۔ ڈاکٹر طاہر مسعود
’’ہم نے سوچا کہ نفسیات کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنانا چاہیے تو ہم نے دیکھا کہ دو فرد آپس میں لڑتے بھرتے رہتے ہیں لیکن اندر اصل محبت کا جذبہ ہے۔ اب ہمیں (اپنی کہانی میں) لوگوں کو بتانا ہے کہ بھائیو! یہ لڑائی نہیں ہے بلکہ اندر سے انہیں محبت کا روگ لگا ہوا ہے‘‘۔ ممتاز مفتی کا افسانے کا فن انوکھا اور کچھ کھردرا سا ہے۔ وہ الگ سے ہیں، ان کی زبان، بات کہنے کا ڈھنگ بھی مختلف ہے، منفرد ہے۔ جو کچھ وہ دیکھتے اور مشاہدہ کرتے ہیں اس کے اندر گہرائی میں اُتر کر دیکھنا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔ آنکھوں پر انہیں ا
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ اس عمر میں بھی سمجھ میں نہ آئی تو کب آئے گی؟.. ابو نثر
چند روز پہلے کی بات ہے، ایک دانا و بینا دانشور نہایت سنجیدگی سے برسرِ ٹیلی وژن یہ اعتراف کرتے نظر آئے کہ:۔ ’’مجھے سمجھ نہیں آئی‘‘۔ ہم تو دنگ ہی رہ گئے۔ ہمارا تجربہ اور مشاہدہ تو یہ ہے (آپ کا بھی ہوگا) کہ ناسمجھ بچہ جب اپنے بچپن سے لڑکپن کی طرف پیش قدمی کرنے لگتا ہے تب ہی سے ’’سمجھ آنا‘‘ شروع ہوجاتی ہے۔ ہوتے ہوتے لڑکا اچھا خاصا سمجھ دار ہوجاتا ہے۔ پھر ایک دن ماں باپ کو اس کے بیاہ کی فکر لاحق ہوجاتی ہے کہ مُنڈا سمجھ دار ہوگیا ہے، اب اس کو کسی کھونٹے سے باندھ دینا چاہیے۔ ہم حیران تھے کہ
سچی باتیں: یاد الہی ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریا بادیؒ
1925-12-18 آپ کو معلوم ہے ، کہ آپ کے رسول برحق (علیہ الصلاۃ والسلام) کا سب سے بڑا مشغلہ کیاتھا؟ کس شغل میں آپ زیادہ لگے رہتے تھے؟ کون سا کام آپ کو دل سے پیاراتھا؟ کیا تصنیف وتالیف؟ کیا لکھنا پڑھنا؟ کیا بحث ومناظرہ؟ کیا مطق وفلسفہ؟ کیا ریاضی وہیئت؟ کیا تاریخ وجغرافیہ؟ کیا ملازمت ووکالت؟ کیا سیروسیاحت؟ کیا تفریح وشکار؟ کیا نذرونیازلینا؟ کیا قبروں کی مجاوری؟ کیا کھانے اور کپڑے کا اہتمام؟ کیا مکان وجائداد کی فکر؟ کیا روپیہ جمع کرنا؟ کیا بیمہ اور بینک کا حساب کتاب؟ کیا آلات اور کلیں بنانا؟ کیا
صورت گر کچھ خوابوں کے۔۔۔ فیض احمد فیض کا انٹرویو۔ آخری قسط۔۔۔ ڈاکٹر طاہر مسعود
آخری قسط طاہر مسعود: راول پنڈی سازش کیس تو خیر اب پرانی بات ہوگئی لیکن میں جس نسل کا نمائندہ ہوں، کم از کم اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی ہے کہ آپ کی شخصیت اور شاعری جتنی دل آویز ہے اس کے پیش نظر یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ بھلا آپ کا کسی سازش، بغاوت یا حکومت کا تختہ الٹنے سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ اب جب کہ اس واقعہ کو بھی برسوں بیت چکے ہیں۔ آپ اس بارے میں کچھ ارشاد فر مانا پسند کریں گے؟ فیض: بھئی قصہ یہ ہے کہ سارا پنڈی سازش کیس جو ہے وہ جسے بات کا بتنگڑ بنانا کہتے ہیں، وہ ہے۔ چوں ک
سچی باتیں۔۔۔ خود احتسابی۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
1925-12-04 اگرآپ خود صاحب اولاد ہیں، یا آپ کے خاندان میں کوئی کمسن بچہ موجود ہے، توآپ نے بارہا اس بچہ کو نصیحت کی ہوگی، کبھی بیجا شرارتوں پر ڈانٹاہوگا، کبھی لکھنے پڑھنے کی تاکید کی ہوگی، کبھی تعلیمی بدشوقی پر ملامت کی ہوگی، کبھی سردی میں گرم کپڑے نہ پہننے پر ٹوکا ہوگا، کبھی حالت بیماری میں بدپرہیزی کرنے پر روک ٹوک کی ہوگی، کبھی بُری صحبتوں سے بچنے کی ہدایت کی ہوگی، غرض اسی طرح سیکڑوں موقعوں پر آپ نے کم عمر بچوں کو اُن کی نادانی ، ناعاقبت اندیشی، اور بے راہ روی پر نصیحتیں اور ملامتیں کی ہوں
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ اقدام اٹھانا۔۔۔ تحریر: ابو نثر
یادش بخیر، جناب محمد خان جونیجو جب پاکستان کے وزیراعظم بنے، یا بنائے گئے، تو یہ عہدہ سنبھالتے ہی اُنھوں نے’’اِقدام اُٹھانا‘‘ شروع کردیا۔ اپنی تقریروں میں یہ دو لفظی ترکیب وہ خوب خوب استعمال کیا کرتے تھے:۔ ’’ہم نے مارشل لا اُٹھانے کے لیے اقدام اُٹھالیا ہے‘‘۔ ’’سیاسی جماعتوں کی بحالی کے لیے اِقدام اُٹھانا ہمارا کارنامہ ہے‘‘۔ ’’ہم آئندہ بھی ایسا اِقدام اُٹھاتے رہیں گے‘‘۔(کرلو جو کرنا ہے)۔ جونیجو صاحب بھی اہلِ زبان تھے، مگر سندھی زبان کے۔ سو، اُن کے اُردو میں ’’اِقدام اُٹھانے‘‘ سے تو صر
(مولانا ہمارے تابوت میں آخری کیل ٹھونک گئے۔۔۔ تحریر: احمد حاطب صدیقی ( ابو نثر
یہ 11دسمبر 2003ء کا ذکر ہے۔ سہ پہر کے تین بج رہے تھے۔ تھکے ماندے گلی میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ سب سے چھوٹی بیٹی یمنیٰ گھر کے دروازے پر اپنی تین پہیوں والی سائیکل پر بیٹھی گویا انتظار کر رہی تھی۔ ہمیں دیکھتے ہی اُس نے گیٹ سے گھر کے اندر کی طرف منہ ڈالا اور ایک زوردار نعرہ مارا:۔ ’’ابو آگئے!‘‘ اُس کا یہ نعرہ سن کر عمار اور شمامہ بھی گھر سے نکل آئے۔ عمار میاں نے (جن کی عمر اُس وقت بارہ برس ہو چکی تھی) اپنے مخصوص سنسنی خیز انداز میں خبر دی:۔ ’’ابو! جنھوں نے آپ کا نکاح پڑھایا تھا، اُن کو ہارٹ ا
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ سرپھٹول یا پھٹول۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی
ہم کئی دن سے ایک لفظ سے سر پھٹول کر رہے تھے ،کہ آیا اس میں سر کے ساتھ جو پھٹول آیا ہے اس کا تلفظ بروزن ٹٹول ہے یا یہ ’’مکمل‘‘کے وزن پر پھٹوّل ہے۔ہم تو اسے پھٹوّل ہی پڑھتے اور کہتے رہے مگر گزشتہ دنوں ایک محفل میں ایک معتبر شاعر اقبال پیر زادہ کی زبان سے پھٹول ،بغیر کسی تشدید کے سنا تو مخمصے میں پڑ گئے۔ایک ماہر لسانیات سے پوچھا تو وہ بھی تسلی بخش جواب نہ دے سکے ،یا یوں کہیے کہ ہماری تائید نہیں کی۔ فرہنگ آصفیہ اور فیروزاللغات بھی
بات سے بات: جہری اور سری مطالعہ۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
دریافت کیا گیا ہے کہ جہرا یا سرا کونسا طریقہ مطالعہ مفید ہے؟ تو عرض ہے کہ ، حافظہ کے کے دو مقاصد ہوتے ہیں، ایک ازبر کرنا، اور دوسرا سمجھ کرمطلب ومفہوم یاد کرنا۔ زبان دانی کے لئے ازبر کی ضرورت پڑتی ہے، جس میں نصوص جیسے قرآن پاک، احادیث شریفہ، اور اشعار اور ادبی نثر کو ازبر کرنا شامل ہے، اس کے لئے جہری مطالعہ بہت مفید ہے، اور اگرمطالعہ اجتماعی ہو تو کیا کہنے!، اس کا فائدہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، اس میں محنت بھی کم لگتی ہے، آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب چھوٹے بھائی بہن جن کی عمریں تین چار یا پا
صورت گر کچھ خوابوں کے۔۔۔ فیض احمد فیض کا انٹرویو(۱)۔۔۔ ڈاکٹر طاہر مسعود
ہماری تمنا تھی کہ ہم شاعری میں درجہ کمال کو پہنچتے قسط نمبر 1۔ فیض احمد فیض ہمارے عہد میں شاعری کی ایک ایسی شمع ہیں جس کی روشنی اقبال جیسے عظیم شاعر کی انقلابی، مجاہدانہ اور مومنانہ شاعری کے بعد پھیلی اور سچی بات یہ ہے کہ اس شاعری نے جوش کی شاعری کا چراغ تو ان کی زندگی ہی میں گل کردیا لیکن چوں کہ فیض کے خیالات اور احساسات و جذبات جو تھے وہ مصور پاکستان کے دیکھے ہوئے خواب یعنی یہ خواب جب حقیقت بنا تو عام پڑھے لکھے اردوداں طبقے کے اندرونی احساسات و کیفیات کی ترجمانی کرتے تھے اس لئے کیا شبہ ہ
شبِ برات۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
۔(۱۵منٹ کی یہ تقریر لکھنؤ ریڈیواسٹیشن سے ۱۴ستمبر۱۹۴۰ءکوشب برات کے موقعہ پر نشرہوئی، اس میں مولانا مرحوم نے بڑے لطیف اوربلیغ انداز میں اس کی جزئیات بیان کی ہیں، اورصحیح اسلامی نقطۂ نظرکوپیش کیاہے۔ ڈاکٹر زبیر احمد صدیقی)۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات آج کی نہیں کوئی۳۵۔۳۶ سال ادھرکی ۔ جاڑوں کا زمانہ اورچاند کا مہینہ، یہی راتیں اور تاریخ ۔۱۰۔۱۱سال کا ایک لڑکا شب برات منا رہا ہے ۔ اردگرد حالی موالی جمع۔ آتش بازی ٹوکری میں جمع ہوئی۔ کچھ چھُٹ رہی ہے کچھ رکھی ہے، ادھر چھچھوندر اور انار ادھرمہ
سچی باتیں۔۔۔ اسلام اور ایمان کی اصل بنیاد۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
13-11-1925 آپ نے کبھی سوچاہے ، کہ آپ کے اسلام وایمان کی اصلی بنیاد کس شے پرہے؟ آپ کے پاس قطعی ومکمل ہدایت نامہ کون ساہے؟ کیا کسی فقیہ کے اقوال؟ کسی صوفی کے ملفوظات، کسی شاعر کا کلام، کسی واعظ کا مجموعہ مواعظ؟ کسی عالم کے فتاوی؟ کسی بڑے انسان کے ارشادات؟ اس قسم کی کوئی شے ، یا ان سب سے الگ، اور ان سب سے ماوراء قرآن مجید؟ اگرآپ اپنے تمام عقیدوں کی بنیادی دستاویز قرآن کو قرار دیتے ہیں، اگرآپ ان تمام شاخوں کی اصل اسی کو سمجھتے ہیں، تواب یہ سوچئے، کہ آپ کے آپس کے اختلافات کی بنا کس شے پر ہے
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ کچھ باتیں ’’خور و نوش‘‘ کی۔۔۔ تحریر: ابو نثر
’’دنیا نیوز‘‘ پر خبریں سنتے اور دیکھتے ہوئے اُس وقت خوش گوار حیرت ہوئی جب خبر خواں خاتون نے ’’اشیائے خور و نوش‘‘ کے مزید گراں ہوجانے کی خبرسنائی۔ خوشی یا حیرت گرانی بڑھنے پر نہیں ہوئی۔ اس میں بھلا حیرت کی کیا بات ہے؟ ہمارے بچپن سے لے کر اب بڑھاپا آجانے تک گرانی بڑھتی ہی گئی ہے۔ کم تو کبھی نہیں ہوئی۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ خاتون نے ایک غلط العوام ترکیب ’’خورد-و- نوش‘‘ کی جگہ بالکل درست ترکیب استعمال کی۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ غلطیوں اور کوتاہیوں پر گرفت کے ساتھ ساتھ صحتِ تلفُّظ کا خیال رکھنے کی ک
ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی۔۔۔۔۔ از: ارشد حسن کاڑلی۔
کل سعودی عربیہ کی موقر یونیورسٹی جامعہ الامام عبدالرحمان ابن فیصل دمام نے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ جس کے مطابق مذکورہ یونیورسٹی کے جملہ 14 اساتذہ کو امریکہ میں واقع دنیا کی معروف ترین تعلیمی اداروں میں شمار کی جانے والی اسٹانفورڈ یونیورسٹی نے اپنے سالانہ جاری ہونے والی بین الاقوامی سطح پر معروف 2 فی صد عظیم سائنسدانوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اسٹانفورڈ یونیورسٹی کی یہ تصدیق کسی بھی یونیورسٹی کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ ہمارے لئے یہ انتہائی سعادت کا مقام ہے کے ان میں سے ایک فرد ہمارے اپنے ڈاکٹر عبدا
خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ دل دھک سے بیٹھ گیا۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی
ہمارے ایک قاری نے انتباہ کیا ہے کہ آپ کی زبان بھی فلاں صاحب کی طرح بوجھل اور ثقیل ہوتی جا رہی ہے جب کہ پہلے بات آسانی سے سمجھ آجاتی تھی ،اب تو آپ لغات میں الجھ جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو معذرت ۔کیونکہ یہ سلسلہ تو ہم نے اس لیے شروع کیا ہے کہ اردو میں،خاص طور پر اخبارات میں،جو غلطیاں عام ہورہی ہیں ان کی نشاندھی کر دی جائے۔اب جیسے ہم نے پچھلے کالم میں’’کان۔کن‘‘کا حوالہ دیا تھا لیکن بلو چستان کے علاقے دکی میں کان کے اندر جو حادثہ پیش آ یا ا
چند صورت گر خوابوں کے۔۔۔ ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کا انٹرویو۔۔۔ ڈاکٹر طاہر مسعود
ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری جون 1912ء کو رائے پور میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن پٹنہ (صوبہ بہار) تھا۔ والد صاحب بہ سلسلہ ملازمت رائے پور مقیم تھے۔ چناں چہ ڈاکٹر رائے پوری نے وہیں سے میٹرک کیا اور 1928ء میں کلکتہ چلےگئےجہاں سے انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد علی گڑھ کا سفر اختیار کیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کی سند لے کر وہ پیرس گئے اور پیرس یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کیا۔ 1930ء میں مولوی عبدالحق انہیں اپنے ساتھ حیدر آباد دکن لے گئے اور یوں وہ انجمن ترقی اردو میں مولوی صاحب کے ادبی معاون کے طور پر کام