Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
سچی باتیں۔۔۔ شیطان شیطان ہے۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
1928-04-13 اُسے اقرار اغوا ہے یہ اغوا کو چھپاتے ہیں علیہ الطعن ہے شیطان، لیکن اِن سے اچھا ہے بہت مبہم تمہارا مصرعۂ ثانی ہے اے اکبرؔ اشارہ ہے کدھر؟ شیطان آخر کن سے اچھاہے؟ کیا آپ کے نزدیک بھی پہلے شعر کا مصرعۂ ثانی مبہم ہے؟ کیاآپ کو بھی اس کے اشارۂ قریب کے متعین کرنے میں کچھ دشواری پیش آرہی ہے؟ کیاآپ کی سمجھ میں ا ب تک نہیں آیا، کہ زہر کا نام تریاق رکھ کر، جنون کو عقل کا لقب دے کر، جھوٹ کو سچ کی صورت بناکر کون آپ کے سامنے، دنیا کے سامنے، اور خود اپنے سامنے پیش کررہاہے؟ کلوں کی کثر
’وہ مجھ کو تنہا کر گیا‘۔۔!مظہر محی الدین:متاعِ نطق کو ترجمانِ حق بنانے والا شاعر ۔۔۔۔ از: برماور سید احمد سالک ندوی بھٹکلی
نحیف و لاغر جسم، پچکے ہوئے گال، موٹی سی ناک پر ڈٹے ہوئے پرانے چشمے سے نئی چیزیں دیکھنے والی آنکھیں، سادہ لباس زیب تن کیے ہوئے بغل میں جھولا دبائے ایک عمر رسیدہ شخص کو دور سے دیکھ کر پہچان لیا جاسکتا تھا کہ یہ مظہر محی الدین صاحب ہوں گے۔ ادب، خالص ادب اور اسلامی رنگ میں رنگا ہوا ادب ان کے نزدیک متاع جاں کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ قرآن مجید کی تفاسیر کا مطالعہ کرتے تو اس میں قرآن کی بلاغت اور ادبی اعجاز کے نکتے تلاش کرتے۔ کوئی چیز انہیں مل جاتی تو اسے محفوظ کرتے۔ اپنی شاعری میں اس کا خوبصورتی سے
سچی باتیں۔۔۔ بدگمانی۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
11928-04-06 وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (نور۔۴) جو لوگ پاک دامن عورتوں پر عیب لگاتے ہیں، اور پھر چار گواہ اس پر نہ لاسکے، تو مارواُن کے اسی کوڑے، اور کبھی ان کی گواہی نہ قبول کرو، اور وہی لوگ نافرمان ہیں۔ إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْ
غلطی ہائے مضامین ۔ سماجی فاصلہ یا جسمانی فاصلہ؟۔ ۔۔ ابو نثر
آج کل دنیا بھر میں آج کی دنیا بھر میں سوشل ڈسٹنسنگ کی اصطلاح کا بڑا چرچا ہے۔. جب سے کورونائی وبا کی تیسری لہر آئی ہے، یہ اصطلاح کچھ زیادہ ہی لہرا رہی ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ ’سماجی فاصلہ‘ کیا گیا ہے۔ لفظی ترجمہ تو ٹھیک ہی ہے، مگرشاید اس کا درست ترجمہ ’تفاصُل‘ ہونا چاہیے تھا۔ شاید اس لیے نہیں ہوا کہ اگر لوگوں سے کہہ دیا جاتا کہ ’سماجی تفاصُل‘ اختیارکیجیے، تو لوگ بدک جاتے ۔’’کورونا کی وبا ہی کیا کم تھی کہ یہ ایک نئی بلا بھی آگئی… سماجی تفاصُل‘‘۔ اہل ِ خبر بھی اِدھر اُدھر بھاگتے پھرتے کہ ’
یوگی حکومت میں کرپشن کا بول بالا... سہیل انجم
جب 2014 کا پارلیمانی الیکشن ہونے والا تھا تو بی جے پی برسراقتدار آنے کے لیے بری طرح بے چین تھی۔ مرکز میں کانگریس کی قیادت میں حکومت چل رہی تھی۔ کانگریس کو مسلسل دو پارلیمانی انتخابات میں کامیابی ملی تھی۔ دونوں مدتوں میں ڈاکٹر من موہن سنگھ وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے۔ کانگریس کی اس شاندار کامیابی کا کریڈٹ کانگریس صدر اور یو پی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کو گیا تھا۔ کیونکہ انھوں نے انتھک محنت کرکے پارٹی کو کامیابی دلائی تھی۔ وہ ایک مخلوط حکومت تھی۔ اس میں کانگریس کے علاوہ دیگر پارٹیاں
تبصرات ماجدی۔۔ ۱۲۲۔ لہو ترنگ۔۔۔۱۲۳۔ نقش امرورز۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
*(122) لہو ترنگ* از سکندر علی وجد عبد الحق اکیڈمی، حیدر آباد (دکن)۔ وجد صاحب حیدر آبادی جامعہ عثمانیہ کے بہترین فرزندوں میں سے ہیں اور خود تو پرانے نہیں لیکن ان کی شاعری کی عمر خاصی پرانی ہوچکی ہے، کلام ان کا عرصہ سے دیکھنے میں آرہا ہے ------ شاعری کی فطرت لے کر آئے ہیں، وجد خود ہیں تو کلام وجد آفریں۔ ‘‘لہو ترنگ’’ کا لفظ اقبال کے ایک شعر سے لیا گیا ہے اور خود اقبال کا رنگ ہے کہ کتاب کے صفحے صفحے سے پھوٹا نکلتا ہے ------ کتاب کلیات وجد ہے یعنی ان کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ہے، نظمیں صفحہ 12
سچی باتیں۔۔۔زیردستوں کے ساتھ ہمارا رویہ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
1928-03-30 اعلیٰ حضرت جب ’’اقصر‘‘ میں مصری فراعنہ کے مقبروں کا معائنہ کررہے تھے توآپ کے جوتے پر گرد بہت جم گئی تھی۔ ایک مصری خادم بُرش لے کر حاضر ہوا، کہ جوتا صاف کردے۔ مگر بادشاہ نے اُسے منع کردیا اورکہا ’’استغفر اللہ یہ ناممکن ہے!‘‘ مسجد محمد علی پاشا میں جب داخل ہونے لگے تو مسجد کا ایک دربان چرمی موزے لے کر آگے بڑھا، تاکہ بادشاہ کے جوتوں پر چڑھادے، مگر بادشا ہ نے خادم کا ہاتھ پکڑلیا۔ موزے خود اپنے ہاتھ سے پہنے اور کہا’’میں کسی انسان کے لئے بھی گوارا نہیں کرسکتا کہ میرا جوتا چھوئے۔ مجھے اپ
غلطی ہائے مضامیں۔ گُل افشانیِ گُفتار۔۔۔ از: ابو نثر
کل ہم ایک گھر میں مہمان گئے۔ خاتونِ خانہ نے خوش ہوکر اپنے بچے سے ملوایا۔ ملتے ہوئے عادتاً منہ سے نکل گیا:۔ ’’السلامُ علیکم۔ کہیے جناب! مزاجِ گرامی بخیر؟‘‘ خاتون ہنس پڑیں۔ کہنے لگیں: ’’آپ بہت ثقیل اردو بولتے ہیں‘‘۔ عرض کیا: ’’آپ بھی تو کچھ کم نہیں۔ ’ثقیل‘ کون سا ہلکا لفظ ہے‘‘۔ فرمایا: ’’ثقیل توآسان لفظ ہے۔ سلیس کی ضد ہے نا؟ مشکل کو کہتے ہیں نا؟‘‘ سوال سُن کر ہم خود مشکل میں پڑ گئے۔ ہر جگہ تو کالم نگاری یا ’کالم گوئی‘ کرنے سے رہے۔ ’’جی ہاں‘‘ کہہ کر جان چھڑائی۔ بہت سے الفاظ ہیں، جن کے استع
تبصرات ماجدی۔۔ کیفیہ۔۔۔ ذکر جمیل۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
(120) کیفیہ از: پنڈت برج موہن ناتھ کیفی انجمن ترقی اردو، دہلی۔ کیفی صاحب دہلوی اردو کے کہنہ مشق لکھنے والے اور استادانہ معلومات رکھنے والے اہل قلم ہیں۔ یہ مجموعہ ان کی ایک عمر کی ادبی، انشائی اور نحوی تحقیق کا گویا نچوڑ ہے اور کتاب کی حیثیت ایک لسانی کشکول کی سی ہے، جس میں صرف، نحو، عروض، قافیہ، معانی، بیان، املا اور تاریخ اردو سے متعلق سیکڑوں مسائل کا بیان آگیا ہے۔ کتاب متفرق معلومات کے لحاظ سے اچھی ہے اور تاریخ اردو سے متعلق سیکڑوں مسائل کا بیان آگیا ہے، اردو کے ہر طالب علم کے مطالعہ
بات سے بات: امام غزالیؒ اور مولانا گیلانی کی رائے۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری
مولانا عزیر فلاحی صاحب نے مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ کی یہ رائے پیش کی ہے کہ ((امام غزالیؒ کے بعد ہونے والے تمام دینی انقلابات کے پیچھے غزالیؒ ہی کا ہاتھ ہے))، جہاں تک اس سلسلے میں ناقدانہ رائے کا تعلق ہے تو ہمارے اکابر ہی کچھ بتائیں گے، لیکن امام غزالیؒ کے تعلق سے چند باتیں ہمارے ذہن میں بھی پھدکنے لگیں، تو انہیں پیش کرنا ہم نے مناسب سمجھا، واضح رہے کہ امام غزالیؒ جن علوم وفنون کے امام تھے، ا ن میداںوں میں اس ناچیز کو کوئی مہارت حاصل نہیں ان ٹوٹی پھوٹی چند سطور کا مقصد صرف ایک تحر
ایک قیمتی تاریخی دستاویز۔۔۔ ماہنامہ البلاغ بمبئی کا تعلیمی نمبر ۱۹۵۵۔۔ عبد المتین منیری
تقسیم ہند کا طوفان گزرنے کے فورا بعد جمعیت علمائے ہند نے مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کی قیادت میں ہندوستان میں دینی تعلیمی اداروں کی نشات ثانیہ کے لئے ۱۹۵۵ء میں دہلی اور ممبئی میں دو دینی تعلیمی کانفرنسیں منعقد کی تھیں،ممبئی کانفرنس کے کنوینرجناب الحاج احمد غریب سیٹھ مرحوم تھے، اور ان کے خصوصی معاون جناب الحاج محی الین منیری مرحوم۔ اس مناسبت سے انجمن خدام النبی ممبئی کے ترجمان ماہنامہ البلاغ کا ایک خصوصی نمبر نکلا تھا، یہ نمبر ایک تاریخی دستاویز ہے، کیونکہ اس وقت کے تقریبا جملہ دینی تع
بات سے بات: امام جصاص اور بعض کتابوں کا ذکر۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری
آج بزم میں نورالانوار کا تذکرہ آیا ہے، یہ کتاب ہمارے استاد مولانا محمد حسین بنگلوری مرحوم نے ہمیں پڑھائی تھی۔ مولانا باقیات الصالحات ویلور کے فارغ التحصیل اور افضل العلماء کے سند یافتہ، اور برطانوی دور میں مدراس کی کے باوقار پریزیڈنسی کالج سے قانون میں یل یل یم پاس تھے، ان کی زندگی زیادہ تر حیدرآباد دکن، بنگلور اور کرنول کے کالجوں کی پروفیسری اور پرنسپلی میں گذری تھی۔ ۔۱۹۷۲ء میں جب آپ ہمارے دارالعلوم میں آئے تو پہلے درس میں فرمایا کہ آپ مولوی حضرات فقہ کی درسیات سے فروع یاد کرتے ہو، اور
سچی باتیں۔ محبت میں شراکت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
1928-03-16 حضرت سمنون محبؒؔ، حضرت جنیدؓؔ کے معاصر، ایک ولی کامل گزر ے ہیں،جن کی بزرگی اور فضیلت پر مشائخ قدیم کا اتفاق ہے۔ حضرت شیخ فرید الدین عطارؓؔ ان کے تذکرے میں لکھتے ہیں، کہ ایک عمر کے مجاہدہ وریاضت کے بعد بوڑھاپے میں ،سنتِ نبویؐ کی پیروی میں ، عقد کیا۔ اور کچھ روز کے بعد ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ جب تین برس کی ہوچکی، اور باپ کی آنکھوں کا تارابن چکی، توایک شب کو خواب آیا دیکھتے ہیں، کہ قیامت برپاہے، اور ہرہر گروہ ایک ایک جھنڈے کے نیچے ہے، اور ایک جھنڈا اس قدر منوّر ہے، کہ اُس کی نورانیت سے سا
غلطی ہائے مضامیں۔۔۔ خطائے بزرگان۔۔۔ تحریر: ابو نثر
حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن مدّظلہٗ العالی تفقّہ فی الدین ہی نہیں رکھتے، تفقّہ فی اللسان بھی رکھتے ہیں۔ اصلاحِ زبان پر ان کے مضامین ہم بہت اشتیاق و احترام سے پڑھتے ہیں۔ آپ نہ صرف عالمِ دین اور فقیہ ہیں، بلکہ اردو، عربی اور فارسی زبانوں کے شناور بھی۔ مفتی صاحب بھی اکثر لوگوں کی طرح اس بات کے قائل نظر آتے ہیں کہ مشہور محاورے ’خطائے بزرگاں گرفتن خطاست‘ کا مفہوم یہ ہے کہ بزرگوں کی غلطی پکڑنا بھی غلطی ہے۔ اس خیال کا استدلال محترم مفتی منیب صاحب نے اپنی ایک تحریر میں شیخ سعدیؒ کے مشہور شعر سے کیا
تبصرات ماجدی۔۔۔(۱۱۸۔۱۱۹)۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
*(118) دیوان نظیر آبادی* مرتبہ مرزا فرحت اللہ بیگ صاحب انجمن ترقی اردو، دہلی۔ میاں نظیر اکبر آبادی اردو کے دو رسوم کے شعراء میں شہرت رکھتے تھے، اپنے دور کے عوام میں تو جیسی مقبولیت ان کو نصیب ہوئی شاید ہی کسی کو ہوئی ہو، ان کی کلیات جو اب تک موجود و معروف تھی، بیشتر نظموں ہی پر مشتمل تھی، غزلیات اس میں گنتی کی چند تھیں۔ حال میں ملک کے نامور ادیب مرزا فرحت اللہ بیگ صاحب دہلوی کی ہمت نے تلاش کر کے ان کے ایک چھوڑو دو دو دیوان پردۂ خفا سے ڈھونڈھ نکلے، تلاش سے بھی بڑھ کر قابل داد ان کی وہ محنت
علامہ محمد حسین بہاری۔۔۔ ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی۔ الکویت
استاد گرامی حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی نے متعدد اساتذہ دارالعلوم کے بارے میں ايك ايك ظریفانہ شعر كها تھا مولانا محمد حسین بہاری کے بارے میں شعر تھا در بغل دارد بہاری صد بہار بےخزا ں از سجستانی ستاند فقہ شاہ انس و جاں وہ اساتذہ جن سے پڑھ کر اور ان سے شرف تلمذ حاصل کرکے آدمی فخر محسوس کرے اور شاگردی کی نسبت کا برملا اظہار کرسکے کم ہی میسر آتے ہیں گوکہ جس سے بھی دوحرف سیکھے احترام تو ساری زندگی کیلئے اس کا لازم ہوجاتا ہے۔ مولانا محمد حسین بہاری یا علامہ بہاری کا دار العلوم کے ان مایہ ناز
تبصرات ماجدی۔۔۔ ۱۱۶۔۔۔ رنگ محل ۔۔ از : مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
*تبصرات ماجدي* *(116) رنگ محل از ساغر نظامی* ادرہ اشاعت اردو، حیدر آباد۔ حسب تشریح سرورق یہ ساغر نظامی ادارہ اشاعت اردو حیدر آبادی رومانی نظموں، گیتوں اور غزلوں کا مجموعہ ہے، ساغر صاحب کا ایک خاص رنگ ہے اور وہ رنگ خوب جانا ہوا پہچانا ہو ہے، نازک اتنا کہ مفصل تحلیل اور مبسوط تنقید کا بار شاید اٹھا نہ سکے۔ ساغر کو غالباً اپنے تغزل کی قدر نہیں لیکن جو شاعر اس قسم کے شعر کہہ سکتا ہے: پھر میری عرض شوق میں پیدا ہیں جرأتیں جھک کر یہ کیا کہا نگہ شرمسار نے تم جو چھیڑو مسکرا کر ساز ہے
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ لو!خطیب شہر کی تقریر کا جوہر کھلا۔۔۔ تحریر: ابو نثر
غلطی ہائے مضامین پر جمعے کے جمعے وعظ کرنے سے ہماری عادت ایسی بگڑی کہ ہم جمعے کے وعظ کی غلطیاں بھی پکڑنے لگے۔ پچھلے جمعے کو بیرونِ شہر جانا پڑا۔ جمعے کی نماز کا وقت ہوا تو بھاگم بھاگ قریبی مسجد پہنچے۔ وعظ جاری تھا۔ سفید رِیش واعظِ محترم اپنے سر پر سفید صافہ باندھے ایک بار، دو بار یا تین بار نہیں، باربار سامعین کا ’’سَرے تسلیمے خم‘‘ کروائے جارہے تھے۔ ہم سے ہو نہیں پارہا تھا۔ وطنِ عزیز کی دانش گاہوں میں اگر کہیں کچھ اردو باقی رہ گئی ہے تو صرف اُن تعلیمی اداروں میں جو ’’دینی مدارس‘‘ کہے جات