Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
سفر حجاز ۔۔۔(۱۶)۔۔ آثار مدینہ۔۔۔ از: ،مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
مدینہ و حوالی مدینہ میں مقامات زیارت کی کیا کمی، ذرہ ذرہ مقدس اور چپہ چپہ زیارت گاہ ، مزوروں کے ہاتھ میں آپ کو دیدیجئے، تو خدا معلوم کتنے مقامات کی زیارت کرادیں، مقبرے ، مسجدیں، پہاڑیاں، کنویں، ولادت گاہیں، اور کتنے ہی اور مقد س آثار و مشاہد یا زیادہ مشہور زیارت گاہوں کے نام یہ ہیں، مسجد قبا، مسجد ذو القبلتیں، جبل احد، بئر اریس ، بیررومہ، مقتل شہدائے احد، ان میں سے کوئی مقام بہت زیادہ فاصلہ پرنہیں عموما دو دو چار چار میل کے اندر ہیں، اگر پیدل چلنے کی عادت و ہمت ہو اور وقت کافی ہو تو پاپیادہ ہی
جبریہ تبدیلی مذہب اور لو جہاد کے نظریے کو مسترد کرنے والی قابل ذکر رپورٹ... سہیل انجم
گزشتہ دنوں سروے کرنے والی ایک بین الاقوامی امریکی ایجنسی ’’پیو ریسرچ سینٹر‘‘ نے ہندوستان میں مذہبی صورت حال اور بین المذاہب شادیوں کے سلسلے میں ایک سروے رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ رپورٹ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کی اکثریت دوسرے مذاہب کا بہت احترام کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ اپنے مذہب پر چلنے اور دوسروں کو بھی اپنے مذہب کی پیروی کرنے کی آزادی دینے کے حق میں ہے۔ البتہ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسرے مذاہب میں شادیاں نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ اس سے سماجی مسائ
غضب دبا ہے تو بغض ابھرا ہے۔۔۔ تحریر : ابو نثر
ہفتہ بھر ہونے کو آتا ہے، رحیم یار خان، پاکستان سے مجاہد عباس تبسم کا سوال آیا:۔ ’’لفظ مبغوض کا کیا مطلب ہے؟کیا یہ بغض سے نکلا ہے؟‘‘ مجاہد میاں کو فوری کمک تو اُسی وقت پہنچا دی گئی، تاکہ اُن کا جہاد جاری، عَلَم اونچا اورمُسکراہٹ برقرار رہے۔ مگرجب انھوں نے ایک حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلّم کا حوالہ دیا، جس کی رُو سے جھگڑالو آدمی سب سے زیادہ مبغوض ہوتا ہے اور بتایا کہ دراصل انھوں نے اس حدیث کی تفہیم کے لیے یہ سوال اُٹھایا تھا، تودل میں ایک درد سا اُٹھنے لگا۔ ہمارے بچوں کو پیدا ہوتے ہی انگریز
سفر حجاز۔۔۔(۱۵) ۔۔۔ انوار مدینہ۔۔۔از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
انوار مدینہ مسجد نبوی کی زیارت ہو چکی،آستانۂ نبوت پر سلام عرض کیا جاچکا،صدیق ؓ اور فاروق ؓ کے دربار میں حاضری کے آداب بجا لائے جاچکے،گھڑیاں اور گھنٹے گزر چکے،راتیں آئیں اور جا چکیں،دن طلوع ہوئے اور ختم ہو چکے لیکن ابھی وہاں حاضر ہونا باقی ہے جہاں آدھی رات کو،خواب اور آرام چھوڑ کر تشریف لے جانا،اور اپنے مولیٰ سے راز و نیاز میں مصروف ہوجانا،خود محبوب رب العالمین کو محبوب تھا،اس مقام کا نام کون مسلمان ہے جس کو معلوم نہیں؟ اس جگہ کی حاضری کونسا دل ہے جس میں ا
سفر حجاز۔۔۔ (۱۴) ۔۔۔ مسجد نبویﷺ۔۔۔ از: ،مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
باب (۱۴) مسجد نبوی ﷺ مسجد پاک کے کن کن حصوں کی پاکیاں اور کن کن گوشوں کی بڑائیاں گنائی جائیں اور جو ہمہ خوبی ہمہ محبوبی ہے اس سے کس کس جزو کے حسن و جمال کا نقشہ کھینچا جائے، سوائے اس کے کہ ایک ہی بار۔ گلچیں بہار تو زدامان گلہ
سفر حجاز ۔۔۔(13)۔۔۔ روضہ جنت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
باب (۱۳) روضہ جنت اللہ ٹھنڈا رکھے۔اگلوں کی ترتبوں کو، تربت مبارک کی حفاظت اور لوگوں کی نظر سے مخفی رکھنے کا کیسا کیسا انتظام کرگئے ہیں۔دین کے بادشاہ کا جسد مبارک جہاں مع دونوں وزیروں صدیق و فاروق کے آرام فرما ہے۔وہ ام المومنین عائشہؓ صدیقہ کا حجرہ تھا۔ستر اسی سال تک یہ حجرہ اپنی اصلی حالت میں زیارت گاہ خلائق بنارہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جمال دیکھنے والے اور ان دیکھنے والوں کے دیکھنے والے ایک ایک کرکے اٹھتے جارہے تھے، ہجرت کی پہلی صدی ابھی ختم بھی ہونے پائی تھی کہ خلیفہ ولید کے ح
حاجی جمال محمد (۴)۔۔۔ ڈاکٹر عبد الحق کرنولی
حاجی جمال محمد(۴) ۔(جنوبی ہند کے عظیم سپوت اور معمار قوم ، جنہوں نے علامہ سید سلیمان ندویؒ، علامہ پکتھال، اور علامہ اقبال کے خطبات دنیا کو عطا کئے) ڈاکٹر عبد الحق کرنولی، افضل العلماء ، یم اے ، ڈی فل (آکسفورڈ) کی یاد گار تحریر۔ جمال محمد صاحب کی سادہ زندگی کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ وہ رسم ورواج کے بندھنوں سے آزاد تھے۔ شادی بیاہ کے معاملے میں جس سادہ طریقے کو انہوں نے اپنے خاندان کے لیے اختیار فرمایاتھا، اس کی مثال مشکل ہی سے ملتی ہے۔ ان کے لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کی اطلاع خاص خاص احباب تک
سفر حجاز۔۔۔(12)۔۔۔ زیارت اور آداب زیارت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
باب (۱۲) زیارت اور آداب زیارت توحید کا مسئلہ ایک صاف اور سیدھا مسئلہ ہے لیکن دہریوں اور ملحدوں ہی نے نہیں بلکہ خدا پرستی کے دعویداروں نے بھی عجیب عجیب شگوفہ کاریاں کر رکھی ہیں اسی طرح بارگاہ رسالت کے ادائے حقوق کے معاملہ میں انکار کرنے والوں ہی کے نہیں اقرار کرنے والوں کے دماغوں نے بھی عجیب عجیب مغالطے کھائے ہیں لوگوں کے کانوں میں کہیں ایک لفظ محبت پڑ گیا بس پھر کیا تھا اس کی آڑ میں ہر حرام حلال تھا اور ہر عیب ہنر بن کر رہا۔ ذرا نہیں سوچتے اور دیکھتے کہ محبت اپنی کتنی بیشمار مختلف صورتوں او
حاجی جمال محمد (۳)۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر عبد الحق کرنولی
حاجی جمال محمد(۳) جنوبی ہند کے عظیم سپوت اور معمار قوم ، جنہوں نے علامہ سید سلیمان ندویؒ، علامہ پکتھال، اور علامہ اقبال کے خطبات دنیا کو عطا کئے۔ ڈاکٹر عبد الحق کرنولی، افضل العلماء ، یم اے ، ڈی فل (آکسفورڈ) کی یاد گار تحریر۔ سنہ ۱۹۲۰ کے بعد راقم الحروف کا بھی مدراس میں پہلے طالب علم کی حیثیت سے، اور اس کے بعد پروفیسر کی حیثیت سے قیام رہا۔میری۔۔ ملاقاتیں۱۹۲۴ء سے شروع ہوئیں جب میں نے گورنمنٹ محمڈن کالج مدراس میں عربی کے پروفیسر کی حیثیت سے چارج لیا تھا۔ دو ایک ملاقاتوں کے بعد حاجی جمال
بی جے پی کی ریاستی شاخوں میں بغاوت جیسے آثار... سہیل انجم
سال 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد جب مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تھی تو اس کے بعد اس وقت کے بی جے پی صدر امت شاہ نے ایک بار بولتے ہوئے یہ ڈینگ ہانکی تھی کہ ہم بیس سال تک راج کرنے آئے ہیں۔ اس سے پہلے ہمیں کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس قسم کے خیالات و رجحانات جمہوریت کی روح کے منافی ہیں۔ کیونکہ جمہوریت میں جہاں حکومت عوام کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے کوئی ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ بیس سال تک راج کرنے کے لیے آیا ہے۔ راج کرنا اور ایک منت
سفر حجاز۔۔۔(11) ۔۔۔ گنبد خضراء۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
باب (۱۱) گنبد خضراء طور کی چوٹیاں جس وقت کسی تجلیات جمالی کی جلوہ گاہ بننے لگیں، تو پاکوں کے پاک اور دلیروں کے دلیر، موسیٰ کلیمؑ تک تاب نہ لاسکے اور اللہ کی کتاب گواہ ہے کہ کچھ دیر کے لیے ہوش و حواس رخصت ہوگئے، معراج کی شب جب کسی کا جمال بےنقاب ہونے لگا تو روایات میں آتا ہے کہ اس وقت وہ عہد کامل جو فرشتوں سے بڑھ کر مضبوط دل اور اور قوی ارادہ کا پیدا کیا گیا تھا، اپنی تنہائی کو محسوس کرنے لگا اور ضرورت ہوئی کہ "رفیق غار" رضی اللہ عنہ کا تمثل سامنے لاکر آب و گل کے بنے ہوئے پیکر نور کا سامان کیا
حاجی جمال محمد(۲)...ڈاکٹر عبد الحق کرنول
حاجی جمال محمد(۲) جنوبی ہند کے عظیم سپوت اور معمار قوم ، جنہوں نے علامہ سید سلیمان ندویؒ، علامہ پکتھال، اور علامہ اقبال کے خطبات دنیا کو عطا کئے ڈاکٹر عبد الحق کرنولی، افضل العلماء ، یم اے ، ڈی فل (آکسفورڈ) کی یاد گار تحریر۔ مایہ ناز ادیب مختار مسعود کی آخری کتاب حرف شوق آئی تو اس میں مدراس کے حاجی جمال محمد مرحوم کے بارے میں اس عبارت نے دل میں ہل چل سی پیدا کردی، اور آپ کے حالات زندگی کے تلاش میں دل میں بجھی ہوئی چنگاری دوبارہ بھڑک اٹھی، مختار مسعود نے لکھتے ہیں″علامہ اقبال سیٹھ جم
تجربات ومشاہدات(۱۶)۔۔ ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی۔ کویت
اظہار رائے کی آزادی (حرية التعبير) كے حدود کی نشاندہی بھی اس اہم ترین فکری كانفرنس کے مقاصد میں شامل تھی،اظہار رائے کی آزادی ، کلام اور تحریر کے ذریعہ ہو یا فنکاری اور آرٹ کے کسی اورطریقہ سے ہو اور کسی طرح کی پا بندی نہ لگائی جائے؛ بشرطیکہ اپنے افکار کوپیش کرنے میں عرف عام اور قوانین کی خلاف ورزی نہ کی گئی ہو؛ کیونکہ یہ ان انسانی حقوق میں سے ہے، جن کی حفاظت کا عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی ضابطوں میں ذکر کیا گیا ہے۔ اسلامی شریعت کے احکام مصالح کے حصول اور مفاسد کے ازالہ پر مبنی ہیں ، لہذ
سفر حجاز۔۔۔(10)۔۔۔ آستانہ نبوت۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
باب (۱۰) آستانہ نبوّت یہ کسی فقیہ کا اجتہاد نہیں جس پر رد و قدح کی گنجائش ہو۔کسی بزرگ کا کشف نہیں جس میں غلطی اور دھوکے کا احتمال ہو،کوئی روایت حدیث نہیں جس کے اسناد میں گفتگو ہوسکے،خدائے پاک کے کلام کی ایک آیت ہے۔ارشاد ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے جس وقت اپنے اوپر ظلم کیے تھے۔اے پیغمبر ! اگر تمہارے پاس آگئے ہوتے اور اللہ سے اپنے قصور کی معافی چاہتے اور رسول بھی ان کے حق میں معافی چاہتے تو پاتے اللہ کو معاف کرنے والا مہربان گویا گناہگاروں ور تباہ کاروں کو یہ حکم ملا ہے کہ اپنے پروردگار سے معافی طلب ک
حاجی جمال محمد۔۔(۱) ۔۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر عبد الحق کرنولی ( افضل العلماء)
حاجی جمال محمد جنوبی ہند کے عظیم سپوت اور معمارِ قوم، جنہوں نے علامہ سیدسلیمان ندوی، علامہ پکتھال، اور علامہ اقبال کے خطبات دنیا کو عطاکیے تحریر: ڈاکٹر عبد الحق کرنولی (افضل العلماء) عظیم مؤرخ علامہ عبدالحئی حسنی ؒ نے اپنی کتاب ’’یادِ ایام۔ تاریخ گجرات‘‘ میں مہائم ممبئی میں مدفون، برصغیر میں شاہ معین الدین اجمیریؒ کے بعد دوسرے مقبول ترین بزرگ، مفسر و فقیہ شیخ علاء الدین علی المہایمی النایتی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں احساسات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:۔ ’’ایک ایسا شخص جس کو ابن عربی ثانی
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ ہم بولے گا، تو بولو کہ بولتا ہے۔۔۔ ابو نثر
کل ایک ٹیلی وژن چینل پر ایک صاحب مسلسل بول رہے تھے۔ چینل کا نام بھی غالباً فیضؔ صاحب کے اِس مصرعے سے ماخوذ ت:۔ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے مگر لب ہی نہیں، چینل کے چونچالوں نے بولتے بولتے اپنے دیگر اعضا بھی آزاد کرا لیے ہیں۔ آپ کہیں گے: ’’میاں تم نے یہ بھی خوب کہی کہ چینل والے صاحب مسلسل بول رہے تھے۔ ارے بھائی! چینل پر بولنے والوں کا تو کام ہی مسلسل بولنا ہے۔ مسلسل نہ بولیں تو انھیں بولنے پر ملازم رکھنے والے بَولا جائیں‘‘۔ مگرحضرت! بات یہ ہے کہ وہ حضرت بار بار اس قسم کے فقرے بول رہے تھے کہ ’’م
سچی باتیں۔۔۔ باقی کے ساتھ لگاؤ۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
1941-12-08 غالبؔ کوئی زاہد نہیں، شیخ وقت نہیں، ایک شاعر وادیب تھے ۔ اور وہ بھی رندانہ مزاج اور لااُبالی مذاق کے۔خطوط غالب (’’مولوی‘‘ مہیش پرشاد کی مرتب کی ہوئی تازہ کتاب) تصوف ومعرفت، اخلاق وموعظت کی نہیں، خالص ادب وانشا کی کتاب ہے۔ لیکن کیا مضائقہ ہے گر کوئی کام کی بات کسی رندِ لا اُبالی کی زبان سے سُن لی جائے، اور عبرت کا ٹکڑا کسی ادیب وانشاپرداز کے کلام میں نظرآجائے؟……غالب صاحب ۲۰؍جنوری ۱۸۶۱ ء کو اپنے ایک نہایت عزیز ہندو شاگرد مرزا تُفتہ ؔکو لکھتے ہیں:۔ ’’سنبلستان کا چھاپا خدا تم کو مبارک
تجربات ومشاہدات(۱۵)۔۔۔ ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی یاد۔۔۔ مولانا بدر الحسن القاسمی۔ الکویت
کئی دنوں سے یہ خبر آر ہی تھی کہ ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی حالت تشویشناک ہے اسکے بعد انکی رحلت کی افسوسناک اطلاع کے آنے کا ہی خدشہ تھا جو قدرت کے فیصلہ کے مطابق واقع ہوکر ہی رہا انالله وانا اليه راجعون ايتهاالنفس اجملي جزعا ان الذي تحذرين قد وقعا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر علامہ سید محمد یوسف بنوری کے مایہ ناز شاگرد تھےاور انکی قسمت میں انکی گدی کی وراثت بھی تھی خاص طور پر مولانا حبیب اللہ مختاروغیرہ کی شہادت کے بعد انکی شخصیت ہی جامعہ کے امور کی دیکھ بھال کیلئے تنہا رہ گئی تھی مولانا عبد الرز