Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
سفرحجاز۔۔۔(۳۵)۔۔۔ مکہ مکرمہ۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
مکہ مکہ کی آبادی شروع ہونے کے ساتھ ہجوم میں بھی اور اضافہ شروع ہوا یہاں تک کہ چلتے ہوئے اونٹوں کی رفتار رک گئی، اب قطار کی قطار رکی ہوئی کھڑی ہے اور ہر شخص طوعاً نہ سہی کرہاً رضا بہ قضا کی تصویر بنا ہوا! اور یہ ساری ”خوش انتظامی“ عین بیت الحکومت کے سامنے اور اردگرد، یعنی ولی عہد حجاز اور گورنر مکہ کے محل کے سایہ دیوار کے نیچے! گویا سعودی حکومت نے اپن
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ گنتی میں بے شمار تھے کم کردیے گئے۔ از: ابو نثر
صاحبو!۔ یہ ذکرہے پچھلی صدی کی ساتویں دہائی کا۔ اور اے عزیزو! یہ نہ جانو کہ اِس دنیا میں بس ایک ہم ہی ’دقیانوس‘ رہ گئے ہیں۔ اب کے برس اکیس برس کی عمر کو پہنچ جانے والے یا اس سِن سے سِوا عمر جتنے لوگ ہیں، سب کے سب پچھلی صدی کے لوگ ہیں۔ پچھلی صدی کے ساتویں دَہے تک کا تو ہمیں ذاتی تجربہ ہے۔ ہمارے سرکاری مدارس میں ابتدائی جماعتوں سے ثانوی جماعتوں تک ذریعۂ تعلیم قومی زبان تھی۔ تمام مضامین اُردو میں پڑھائے جاتے تھے۔ علمِ ریاضی کا ریاض بھی ہم اردو ہی میں کرتے تھے۔ ریاضی کی تعلیم کا آغاز گنتی سکھانے
سفرحجاز۔۔۔(۳۴)۔۔۔منی بعد حج۔۰۳۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
حطیم کا ذکر پہلے آچکا ہے، خانہ کعبہ سے ملا ہوا وہ نیم مدور صحن جو مطاف کے اندر ہے اور جو حکماً خانہ کعبہ ہی کا ایک جزو ہے، اس میں نماز پڑھنا گویا خانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنا ہے۔طواف کرنے اور ملتزم سے لپٹ کر دعائیں مانگ چکنے کے بعد آج اطمینان سے حطیم کے اندر بھی حاضری کا موقع ملا جس کا جتنی دیر تک جی چاہا نمازیں پڑھیں اور دیوار کعبہ سے لگ لگ کر اور لپٹ لپٹ کر دعائیں مانگیں، کسی کسی نے دیوار و فرش کی خاک اٹھاکر بطور تبرک ساتھ لے لی۔ کہتے ہیں کہ مطاف میں اولیاء و قطاب و ابدال ہمیشہ حاضر رہتے ہیں،
سفر حجاز۔۔۔(۳۳) منی بعد حج ۔۰۲۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
کلام مجید میں ایک مقام پر جہاں مناسک حج کا ذکر ہے، ایک حکم یہ بھی ہے کہ:۔ ۔″ولیطوفوا بالبیت العتیق (سورہ حج)″۔ لوگ خانہ کعبہ کا طواف کریں۔ حج کے اصلی رکن یعنی فرائض، احرام پوشی کے بعد صرف دو ہیں۔وقوف عرفات اور طواف کعبہ مفسرین اور فقہاء کا اجماع ہے کہ جو طواف فرض ہے، وہ یہی طواف ہے جو وقوف عرفات کے بعد یوم عید (۱۰/ ذی الحجہ) کو یا اس کے بعد کیا جائے، اس سے قبل جو پہلا طواف کیا تھا وہ عمرہ کا طواف تھا، حج کا طواف نہ تھا درمیان میں اور جتنے طواف کیے تھے سب نفل طواف تھے، طواف فرض کا وقت اب آیا،
سفر حجاز۔۔۔(۳۲)۔۔۔ منی بعد حج۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
حج کے سلسلہ اعمال میں عرفات اور مزدلفہ کی حاضری تو کہنا چاہیے کہ بس کھڑی سواری سی ہوتی ہے۔عرفات میں جاتے ہوئے منیٰ میں بھی کچھ ایسا طویل قیام نہیں ہوتا، البتہ عرفات و مزدلفہ سے واپس آکر منیٰ میں ایک خاصا طویل قیام ہوتا ہے یعنی ۱۰/کی صبح سے لےکر کم سے کم ۱۲/کی شام تک اس تین، چار دن کے عرصہ میں مختلف واجبات و سنن ادا کرنے ہوتے ہیں۔ مثلاً شیطان کے کنکریاں مارنا، قربانی کرنا، سر منڈانا وغیرہ اور اسی درمیان میں مکہ جاکر خانہ کعبہ کا فرض طواف بھی ادا کرنا ضروری ہے، اس سے پہلے جتنے طواف کیے تھے، وہ کوئ
تجربات ومشاہدت (۱۷)۔۔۔ ڈاکٹر بدر الحسن القاسمی۔ کویت
تلخ وشیریں:۔ دار العلوم سے عربی کا سہ ماہی مجلہ ’’دعوة الحق‘‘ نکلتا تھا، جس کے ایڈیٹراستاد محترم مولانا وحید الزماں کیرانوی صاحبؒ تھے، دوسرا مجلہ اردوکا ماہنامہ ’’دار العلوم‘‘ تھا، جس کے ایڈیٹر نامور صاحب قلم سید ازھر شاہ قیصرؒ تھے، بچپنے میں اردو مضمون نگاری کاشوق ہوا تو ازھر شاہ قیصر صاحبؒ کو’’شاہراہ اعتدال‘‘کے عنوان سے عورتوں کے پردے سے متعلق ایک مضمون لکھ کر دے آیا، وہ بڑے اچھے ادیب اور ممتاز صحافی تھے، لیکن خود لکھنے کا سلسلہ بڑی حدتک موقوف کر چکے تھے،اداریے مولانا ظفیر الدین مفتاحی صاحب
عید الاضحیٰ اور گوشت کی تقسیم۔۔از: فیصل فاروق
اگر عید الاضحٰی سے قربانی کا تصور اور فلسفہ نکال دیا جائے تو پھر عید الاضحٰی کا مفہوم باقی نہیں رہے گا۔ قربانی مسلمانوں کا اہم مذہبی فریضہ ہے۔ عید قرباں کا پیغام ہی دراصل ایثار و قربانی ہے۔ فلسفۂ قربانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ تو قربانی کے جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اللہ تعالیٰ کو مسلمانوں کا تقویٰ مطلوب ہے اور اِسی تقوے کے حصول کیلئے قربانی کی سنت ادا کرنے کا حکم ہے۔ عید الاضحٰی حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی اُسی عظیم اور بے مثال قربانی کی یاد تازہ کرنے کیلئے تمام عالم
سفر حجاز۔۔۔(۳۱)۔۔۔مزدلفہ۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
حج کا رکن اعظم بحمداللہ ختم ہوچکا، اس وقت دل کی مسرتوں کا کیا پوچھنا، بات کہنے کی نہیں تجربہ کرنے کی ہے، ہر چہرہ کھلا جارہا ہے۔ ہر طرف مسرت و انبساط، عرفات کے بعد ہی حاجیوں کو مزدلفہ میں قیام کرنا ہوتا ہے، یہ ایک وسیع میدان کا مشہور نام ہے جو منیٰ و عرفات کے درمیان واقع ہے، منیٰ سے عرفات کے دو راستے ہیں، ایک سیدھا اور ایک کسی قدر چکر کے ساتھ، منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے سیدھے راستے سے جانا مسنون ہے، ادھر مزدلفہ نہیں پڑتا۔ عرفات سے واپسی دوسرے راستے سے مسنون ہے جو ذرا چکر کھا کر ہے، مزدلفہ اسی راستہ
سفر حجاز۔۔۔(۳۰)عرفات ۰۲۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
سفر حجاز۔۔۔(۳۰)عرفات ۰۲۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیـؒ اس سلسلے کی تمام قسطیں یکجا پڑھنے کے لئے کلک کریں http://www.bhatkallys.com/ur/author/abdulmajid/ لکھو کھاکے مجمع میں لوگ سب ہی طرح کے ہیں، ہر مزاج، ہر مذاق، ہر مرتبہ کے نمونے موجود ہیں، ہزاروں ایسے ہیں، جو عرفات کی حاضری کو ایک طرح کی تفریحی تقریب سمجھے ہوئے ہیں اور چائے پینے پلانے کی دعوتوں میں مصروف ہیں، سینکڑوں ہزاروں ایسے ہیں جو سو سو کر اپنا وقت کاٹ رہے ہیں، کہیں کہیں دیگیں چڑھی ہوئی ہیں، اور اعلیٰ درجہ کی بریانی اور پلاؤ ک
سفرحجاز۔۔۔(۲۹) عرفات نمبر(۱)۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
حج کسی مفرد عمل کا نام نہیں، ایک طویل و مسلسل مجموعۂ اعمال کا نام ہے، جن میں کچھ فرائض ہیں اور کچھ واجبات، کچھ سنن ہیں اور کچھ مستحبات، اس مجموعہ کا سب سے اہم جزو یہی ۹/ ذی الحجہ کو عرفات کی حاضری ہے۔ جسے اصطلاح میں ”وقوفِ عرفات“ کہتے ہیں (وقوف کے لفظی معنی ٹھہرنے کے ہیں) کسی شخص نے اگر اور سارے اعمال و مناسک ادا کر لیے اور آج کی تاریخ میں عرفات کی حاضری خدانخواستہ کسی سبب سے رہ گئی تو سرے سے حج ہی رہ گیا۔ دوسرے سال حج کرکے اس قضا کو ادا کرنا ہوگا، آج کی تاریخ دنیا کی تاریخ میں وہ اہم تاریخ ہے ا
سفرحجاز۔۔۔(۲۸)۔۔۔ منی قبل حج۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
۔″لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَشَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَیْکَ وَالخَیْرَ بِیَدَیْکَ″۔ ۸ ؍ذی الحجہ جمعہ سہ پہر ہم لوگوں کو چلنے میں اس قدر تاخیر ہوئی کہ وقت مستحب نکل چکا۔ ہزار ہا قافلے آگے جا چکے پھر بھی بہت سے باقی بھی رہ گئے اور ساتھ ہی ساتھ چل بھی رہے ہیں۔ ہزاروں انسان پیدل چل رہے ہیں، ہزار ہا اونٹوں پر سوار ہیں اور ہزار ہا خچروں اور گدھوں پر۔ ہر شخص احرام پوش، لبیک لبیک کی صدا ہر طرف سے
سفر حجاز۔۔۔(۲۷)۔۔۔ آغاز حج۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادی
۷ ذی الحجہ پنجشبہ آج کے دن کی کوئی مخصوص مشغولیت نہ تھی، عمرہ بفضلہ ادا ہی ہو چکا تھا، اب ارکانِ حج کے آغاز کا انتظار تھا، آج ہی کے دن حرم شریف میں باضابطہ اعلان ہوتا ہے کہ پرسوں ۹ ذی الحجہ کو عرفات میں حاجیوں کا اجتماع ہوگا اور آج ظہر کے بعد حرم شریف میں امام خطبہ پڑھتے ہیں جس میں مسائلِ حج کی تشریح ہوتی ہے۔ دوپہر کی شدید گرمی میں شوق کے ساتھ اس خطبہ کے سننے کی ہمت کس کو اور پھر اتنے بڑے مجمع میں خطیب کے قریب خطبہ کے الفاظ سننے کے لیے جگہ ملنے کہاں نصیب اور جگہ گھس پل کر مل بھی جائے تو خطبہ کی
سفر حجاز۔۔۔ (۱۹)۔۔۔ احرام پوشی ۔۔۔۔ از: مولاناعبد الماجد دریابادیؒ
مدینہ میں ذی الحجہ کی تیسری تاریخ یکشنبہ کا دن تھا۔صبح کے آٹھ بج چکے تھے کہ مزور کے یہاں سے اطلاع ملی کہ مکہ معظمہ کے لیے سواری کا انتظام ہوگیا ہے، فوراﹰ روانہ ہوجاؤ۔کیا بیان ہو کہ اس وقت دل کی حالت کیا تھی! ایک طرف یہ احساس کہ مدینہ سے جدا ہونے کی، آستان رسول سے دور ہونےکی گھڑی آگئی، دوسری طرف یہ فکر کہ اب چلنے میں اگر کچھ بھی تاخیر کی! تو حج فوت ہوجانے کا اندیشہ، ٹھہرنے کی تو اب کوئی صورت ممکن نہیں، لیکن چلنے پر دل کو ذوق و شوق کے ساتھ کیونکر آمادہ کرلیا جائے۔پھر مزور کی طرف سے بار بار جلدی کی
سفر حجاز۔۔۔(۱۸)۔۔۔ چل چلاؤ ۔۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
دن گزرتے دیر نہیں لگتی، دیکھتے دیکھتے روانگی کا زمانہ آن لگا۔اور یہ تو خیر چند ہفتوں کا زمانہ تھا، جلد کٹ جانے والا تھا ہی ساری کی ساری عمریں ایسی ہی تیزی اور روانی کے ساتھ گزر جاتی ہیں، اور پتہ بھی نہیں چلنے پاتا کہ بچپن کے کھیل کب کھیلے، جوانی کی نیند کب سوئےاور ضعیفی کے گوشہ تنہائی میں کب بیٹھنے پر مجبور ہوئے! ۔۔۔۔ایک دن وہ تھا کہ مدینہ آنے کی آرزوئیں تھیں!کیسے کیسے منصوبے باندھے جارہے تھے۔کیا کیا خیالی پلاؤ پک رہے تھے، ذوق و شوق کی کسی کیسی امنگیں دل میں اٹھ رہی تھیں۔لب پر کیا کیا دعائیں تھی
سفر حجاز۔۔۔(۱۷)۔۔۔ دیار حبیب ﷺ۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
مدینہ شہر کی موجودہ بستی کچھ ایسی بڑی نہیں،آبادی ہندوستان کے چھوٹے شہروں یا بعض بڑے قصبوں کے برابر ہوگی،سنتے ہیں کہ کسی زمانے میں آبادی کی وہ کثرت تھی کہ راستہ چلنا مشکل تھا،لیکن جس وقت سے ریل کے قدم آئے،جہاز ریلوے کا اسٹیشن کھلا اور شام سے ریل کی آمدورفت شروع ہوئی اسوقت پہلے تو اخلاق و قلوب کے عالم میں انقلاب آیا اور چھپ چھپا کر بھی نہ ہوتا تھا،وہ کھلے خزانے ہونے لگا،اور پھر وہ زبردست مادی جھٹکے لگے کہ ساری آبادی تباہ ہوکر رہ گئی ،ترکی حکومت کی بربادی ،شریفی دور، نجدی دور ہر سیاسی زحف کا پہلا ہ
غلطی ہائے مضامیں۔۔۔ تونے یہ کیا غضب کیا؟ ۔۔۔ ابو نثر
پچھلا کالم ’بغض‘ کے موضوع پرتھا۔ پورے کالم میں بغض ہی نکالتے رہتے تو شاید سب کو تسکین رہتی۔ مگر ’غضب‘ کا ذکر کرنا غضب ہوگیا۔ کئی احباب کالم پڑھتے ہی غضبناک ہوگئے کہ تم نے یہ کیاغضب ڈھایا؟ غضب خدا کا، غضب کا صرف ایک ہی مفہوم بتایا۔ ارے بھائی! غضب کا مطلب صرف قہر، غصہ، غیظ، ناراضی، آفت اور مصیبت ہی نہیں، اردو میں اسے کلمۂ حیرت اور کلمۂ مبالغہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بلکہ برادرِ بزرگوار خواجہ سید محمد ظفر عالم طلعت نے تو فی الفور حیرت اور مبالغہ کرکے بھی دکھا دیا۔ فرمایا: ’’بھئی واہ!
اجتماعی مطالعہ کی افادیت۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل
ادارہ ادب اطفال نے اجتماعی مطالعہ کے جو پروگرام شروع کئے ہیں اس پر مبارکباد کا مستحق ہے، کتابوں سے وابستگی کے سلسلے میں جو بھی کوشش ہو وہ قابل تحسین ہے،ادارہ ادب اطفال کی جانب سے اجتماعی مطالعہ کے انداز سے محسوس ہوتا ہے کہ ایک شخص پڑھتا ہے اور دوسرے حاضرین سنتے ہیں، یہ طریقہ بھی مفید ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اجتماعی مطالعہ کے دوسرے طریقے بھی مفید ہوسکتے ہیں: ۔ جب شرکاء فارغین مدارس ہوں، اور ان کا تعلیمی معیار بلند ہو تو پھر اس کے لئے ایک آدمی کے پڑھنے اور دوسروں کے سننے سے زیادہ من
بات سے بات: امام غزالی کا مرتبہ ومقام۔۔۔ از: عبد المتین منیری۔۔۔ بھٹکل
سوال کئی طرح کے ہوتے ہیں، جب ان میں طلب شامل ہوتی ہے،تو یہ باعث برکت ہوتا ہے، اور اس کا فائدہ مستفسر اورسامع دونوں کو ہوتا ہے، لیکن سوال کبھی خالی الذہن افراد کا ذہن پراگندہ کرنے کا باعث بنتا ہے اور کبھی کسی کی تشہیر کا۔ لہذا میڈیا میں میں ہم روز سنتے ہیں کہ فلان اینکر نے فلان انٹرویو میں فلان شخصیت سے فلان سوال پوچھنے کے لئے اتنے لاکھ روپئے لئے، اسی طرح بلا ضرورت معروضی انداز میں پیش ہونے والی بات بھی ذہنوں میں نئے اشکالات پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ آج گروپ میں امام غزالی رحمۃ اللہ عل