Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
شیر میسور ٹیپو سلطان: ہم نے بھی کی ہے اک دن گلشن کی آبیاری...یومِ پیدائش پر خاص۔۔۔از: آفتاب احمد
ہندوستان کی تاریخ آزادی کا ایک عظیم کردار، جنھیں دنیا بین المذاہب ہم آہنگی کے نقیب اور جذبۂ حریت کے پیکر شیر میسور ٹیپو سلطان کے نام سے جانتی ہے۔ سلطان ٹیپو کا شمار ان مظلوم مجاہدین آزادی میں ہوتا ہے جنھیں آج کی فرقہ وارانہ سیاست ایک مخصوص عینک سے دیکھتی ہے اور اپنے سیاسی مفادات کی خاطر انھیں ہندو دشمن قرار دے کر ان تمام قربانیوں پر نفرت کی سیاہی پوت دیتی ہے۔ ایسے میں عدل اور انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ مادر وطن کے اس عظیم فرزند کی جدوجہد آزادی کا تذکرہ بار بار کیا جائے تاکہ ہماری آ
سچی باتیں۔۔۔ راہ خداوندی میں خرچ۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
1927-11-04 الشیطان یعدکم الفقر ویأمرکم بالفحشاء واللہ یعدکم مغفرۃ منہ وفضلا، واللہ واسع علیم۔ شیطان تمہیں تنگدستی سے ڈراتاہے، اور تمہیں بخل کا حکم دتیاہے، اور اللہ تمہیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل کا وعدہ دیتاہے، اور اللہ کشائش والا علم والاہے۔ آیۂ بالا سورۂ بقرہ رکوع ۷ ۳ میں واقع ہوئی ہے۔ اوپر سے مضمون یہ چلا آرہاہے، کہ مسلمانوں کو رسم ورواج کی مد میں، ریا ونمائش ، جاہ و نفس کی راہ میں، خرچ کرنے سے بچنا چاہئے، اور اپنی دولت، اللہ کی رضاجوئی کے لئے، نیک کاموں میں خرچ کرنا چاہئے، اوراس خرچ
سچی باتیں۔۔۔ روز قیامت کون کام آئے گا؟۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
اگرآپ سرکاری عہدہ دار ہیں، توآپ کو سب سے زیادہ فکرکاہے کہ رہتی ہے؟ اسی کی، کہ آپ کے افسر آپ کی بابت بہترسے بہتر رائے قائم کریں۔ اگرآپ قومی کارکُن ہیں، تودھُن اس کی سوار رہتی ہے، کہ آپ کا استقبال ہر جگہ دھوم دھام سے کیاجائے، اور آپ کہ ہر تقریر کی داد میں تالیوں کا شوربلند ہو۔ اگر آپ کسی اخبار کے ایڈیٹر ہیں، توآپ کی نظر ہر لمحہ اسی پر رہتی ہے، کہ آپ کہ ہر رائے کی تائید سے مُلک گونج اُٹھے، اور جو لفظ آپ کے قلم سے نکلے، اُسے قوم وحی والہام سے بھی بڑھ کر قرار دے۔ اگرآپ کتابوں کے مصنف ہیں،
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد۔۔۔ ابو نثر
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ جس مال کے تاجر تھے، وہی مال ندارد ابو نثر Http://www.bhatkallys.com/ur/author/abunasr/ میاں چنوں سے میاں امجد محمود چشتی نے سوال اُٹھایا ہے: ’’ایک لفظ ہے’مَغوی‘۔ ہم تو پیدا ہوتے ہی سننے لگے تھے کہ یہ لفظ مفعول کے طور پر استعمال ہوتا ہے، یعنی وہ شخص جو اغوا ہوجاتا ہے۔ مگر جب لغت سے رجوع کرتے ہیں تو وہاں یہ لفظ اغوا کار کا مطلب دے رہا ہوتا ہے، اغوا کرنے والا۔ یہ تو بالکل ہی اُلٹ ہوگیا۔ اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیے‘‘۔ ارے صاحب! اِغوا کا تو مطلب ہی گمراہ کرنا ہے، اس سلسلے
نقوش پا کی تلاش میں ۔ گجرات کا ایک مختصر سفر(۱۱) ۔ ۔۔ بروڈا
عبد المتین منیری۔ بھٹکل 00971555636151 آج ۱۷ ستمبر اور جمعہ کا دن تھا اوریہ ہمارے گجرات کے سفر کا آخری دن ، ہمارا قافلہ احمد آباد سے بروڈا کی طرف روانہ ہوا، اب اس شہر کا نام بدل کر مقامی لہجہ میں بروڈرا کیا گیا ہے۔ اٹھارویں صدی میں مراٹھا خاندان گائیکواڈ کی گجرات کے ایک حصہ پر حکمرانی رہی تھی۔ اور ۱۷۳۲ ء میں یہ اس سلطنت کی راجدھانی بنا تھا۔ بروڈا ہم دوپہر دوبجے کے آس پاس پہنچے، جہاںہمارے گروپ ممبر مولانا عطاء الرحمن بروڈوی صاحب آنکھیں بچھائ
مدارس کے نصاب میں تبدیلی نہیں اضافہ کی ضرورت!۔۔۔از:نقی احمد ندوی
مدراس کے نصاب میں تبدیلی کی آوازیں ہمیشہ اٹھتی رہی ہیں، اس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں اور بہت ساری کانفرنسیں اور ورکشاپ منعقد ہوتے رہے ہیں، مگر میرے خیال میں تبدیلی سے زیادہ کچھ اضافہ کی ضرورت ہے، اگر تین نقاط پر عمل کیا جائے تو ہمیں اپنے نصاب میں بغیر کوئی تبدیلی کئے بہت مفید نتائج حاصل ہوسکتے ہیں، مدارس کے ذمہ داران اگر ان تینوں امور پر تھوڑی سی پیش قدمی کریں تو صرف چند سالوں میں اس کے خوشگوار اثرات نظر آنے شروع ہوجائیں گے۔ پہلی بات یہ کہ مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء کی اسی فیصد ت
سچی باتیں۔۔۔سب کے حصے میں دو گز زمین۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
21-10-1927 آج مدت کے بعد اپنے ہاں کے قبرستان میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ سامنے کس کا ڈھیر ہے؟ یہ چمیلی لونڈی کی قبر ہے۔ ساری عمر خدمتگزاری میں تمام کردی۔ پیداکرنے والے نے اسے بھی دل دیاتھا، دماغ دیاتھا، ہاتھ پَیر دئیے تھے، آنکھ کان دیئے تھے، ناک نقشہ، صورت شکل میں کوئی عیب نہ تھا۔ پہلو میں دل تھا، اور دل میں حوصلے تھے اور ولولے، ارمان تھے اور امنگیں۔ پر پیدا باندی کے پیٹ سے ہوئی تھی، ساری عمر باندی ہی بنی رہی۔ صحن، دالان، کمرہ، کوٹھری، کوٹھا، ہر جگہ جھاڑو دینا، برتن مانجنا، کھانا پکانا، پنکھا ج
نقوش پا کی تلاش میں ۔ گجرات کا ایک مختصر سفر(10) احمد آباد (03)
تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل 00971555636151 خواہش تو یہ تھی کہ جمعرات کی شام احمد آباد دیکھ کر جمعہ کی صبح بروڈہ روانگی ہو، لیکن وہ خواہش ہی کیا جو پوری ہو؟ پروفیسر سید محی الدین ممبئی والا کی باتوں نے اتنا مگن کردیا کہ عشاء کا وقت آگیا، اور ہم نماز عشاء کی ادائیگی کے لئے احمد آباد کے مدرسۃ الفضل پہنچ گئے، یہاں پر احمد آباد کی اہم دینی شخصیت مفتی یحیی صاحب سے ملاقات ہوئی، عشائیہ کے بعد مہمان مقررہ نظم کے مطابق اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے چلے گئے، یہاں
سچی باتیں۔۔۔ دوسروں سے عبرت۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
۔1927-10-14 آپ کے خاندان میں، برادری میں، محلہ میں، کوئی بیکس ولاوارث، مفلس ومحتاج بوڑھی بیوہ رہتی ہیں؟ اگر ہیں، تو کبھی آپ کو اُن کے غربتکدہ پر قدم رنجہ فرمانے کا اتفاق ہوتاہے؟ اگر اب تک نہ ہواہو، تو اب کسی روز، اپنی ’’اہم‘‘ مشغولیتوں سے اپنی ’’دلچسپ‘‘ صحبتوں سے، فرصت نکال کر ، ذرا اس زندہ گورستان کی بھی سَیر فرمالیجئے۔ یہاں گرمیوں کے موسم میں برف وشربت سے آپ کی خاطرداری نہیں کی جائے گی، سردی میں چائے کی پیالیاں آپ کے آگے نہیں پیش کی جائیں گی، پان اور حُقے سے آپ کی پیشوائی نہیں ہوگی، عطر
غلطی ہائے مضامین۔۔۔مرزا غالبؔ کے اندر کفن کے پاؤں۔ ۔۔ ابو نثر
پچھلے ہفتے ہم صاحبِ فراش رہے۔ ملک بھر میں اور بھی بہت سے لوگ یہی رہے، مگر اکثر لوگوں کو پتا ہی نہیں چلا کہ وہ صاحبِ فراش ہوگئے ہیں۔ پتا چلے بھی تو کیسے چلے؟ اب ہم کسی کو پتا چلنے ہی نہیں دیتے کہ ’ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں‘۔ ہر وقت زبانِ غیر ہی سے شرحِ آرزو کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ یوں اب ہم کسی زبان کے نہ رہے۔ خاصی حد تک بے زبان بھی ہوگئے ہیں۔ صاحبِ فراش ہونے کی وجہ وہ بخار تھا جو ہمارے ملک ہی میں نہیں اس پورے خطے میں پھیلا ہوا ہے۔ بخار اتر جائے تب بھی ’بُخاری‘ بستر سے نہیں اُترتا۔ نقاہ
نقوش پا کی تلاش میں ۔ گجرات کا ایک مختصر سفر(۹) ۔ ۔۔ اے اہل ادب آؤ یہ جاگیر سنبھالو۔۔۔ از: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
پروفیسر بمبئی والا صاحب نے بتایا کہ ان کا واحد مقصد یہ ہے کہ لائبریری کو کسی طرح آگے بڑھایا جائے،علمی ورثہ جس قدر اور جہاں سے بھی مل جائے اسے جمع کیا جائے، جستجو کبھی ختم نہیں ہوتی، جو ہاتھ آئے ہمارا ہے،اور یہ کہ ہر کتاب کو اس کا قاری مل جائے، اور ہر قاری کو اس کی مطلوبہ کتاب ۔ لہذا ان حضرات کی انتھک کوششوں سے کتب خانے میں چالیس ہزار مطبوعات، پانچ ہزار نایاب رسائل، انسائیکلو پیڈیا اور ریفرنس قسم کی اتنی ریفرنس کتابیں جو کسی اور
نقوش پا کی تلاش میں ۔ گجرات کا ایک مختصر سفر(۸) ۔ ۔۔ اے اہل ادب آؤ یہ جاگیر سنبھالو
سورت کے بعد ہماری اگلی منزل احمد آباد تھی،سیدھے چلتے تو راستہ پانچ گھنٹے کا تھا ، لیکن راستے میں کھروڈ اور بھروچ آگیا، اور دونوں جگہوں میں اتنی دلچسپیوں کے سامان پیدا ہوگئے کہ ان کے لئے وقت دینے سے مفر نہیں رہا، اور ہم احمد آباد شام کے پانچ بجے کے قریب پہنچ گئے، احمد آباد گجرات کا دل ہے، یہ اسلامی تہذیب وثقافت کا ایک گہوارہ رہا ہے۔ اس کے امتیاز کے لئے یہی کہنا کافی ہے کہ یونیسکو نے اس شہر کو قومی ورثہ کا درجہ دے کر یہاں پر مسلم تہذیب کے بہت سے نشانات کو مٹ
سچی باتیں۔۔۔ لو اسی سے لگاؤ۔۔۔ از مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
1927-10-07 ابو طالب اپنی ضعیفی کے زمانہ میں بیمار پڑتے ہیں، اور بیماری بہت طول کھینچ جاتی ہے۔ابو جہلؔ، ولید بن مغیرہؔ، عاص بن وایلؔ اور ریاست مکہ کے دوسرے رئیس اور سردار آپس میں مشورہ کرتے ہیں، کہ اگر ابو طالب کا انتقال ہوگیا، اور اس کے بعد ہم نے محمد سے انتقام لینا چاہا، تو لوگ کہیں گے ، کہ ابو طالب کی زندگی میں کچھ نہ بول سکے، اور اُن کی آنکھ بند ہوتے ہی یہ بے مروتی اور بدسلوکی شروع کردی، اس لئے بہتر یہ ہے کہ ابو طالب کی زندگی ہی میں ان کو اُن کے بھتیجے کی تکلیف وروش کی بابت خبرکردی جائے، ا
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ سند نائب قاصدوں اور خاکروبوں کی۔۔۔ ابونثر
ایک بہت بڑے کالم نگار نے، جو شاعر بھی ہیں، ایک سوال داغا ہے۔ اس ’دغے ہوئے‘ سوال میں وہ پوچھتے ہیں:۔ برخط بھی زبانِ غیر ہے اور آن لائن بھی زبانِ غیر۔ تو صرف برخط کیوں؟ آن لائن کیوں نہیں؟۔ شاید وہ آن لائن ہی رہنے پر مُصر ہیں برخط نہیں ہونا چاہتے۔ اُن کی دلیل یہ ہے کہ اداروں کے نائب قاصدوں اور خاکروبوں کو بھی پتا ہے کہ اس لفظ کا مطلب کیا ہے۔ بڑی دلچسپ دلیل ہے۔ اسی دلیل کو لے کر ذرا نائب قاصدوں اور خاکروبوں سے یہ پتا کیجیے کہ ’تلخ نوائی‘ کا کیا مطلب ہے؟کوئی پتا نہ دے سکیں تو مسترد کردیجیے اس
بات سے بات: مقامات حریری کا اسلوب۔۔۔ از: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
ادب کے ایک طالب علم کو دانشوروں، ادیبوں، اور صحافیوں کے درمیان ہونے والے علمی وادبی معرکوں کا مطالعہ کرتے رہنا چاہئے،اس ناچیز کو بھی ہمیشہ ایسے مواد سے دلچسپی رہی ہے، مقامات حریری کے اسلوب کے متروک ہونے کی بات ہم نے اسی مطالعہ کی بنیاد پر کہی تھی، اب کسی کا مطالعہ اس سے مختلف ہے، تو اپنے مطالعہ کے مطابق رائے رکھنے میں کا اسے حق ہے۔ البتہ نصاب تعلیم میں رائج ہونے کی وجہ سے کسی کتاب کی تائید یا مخالفت مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ نصاب تعلیم بنانے والوں کے سامنے صرف رائج اسلوب نہیں ہوتا بلکہ ان ک
سچی باتیں۔۔۔ درخت اس کے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
آپ کہتے ہیں، کہ آپ کے رسولؐ کی سیرت سب سے زیادہ پاک وپاکیزہ، ستھری اور روشن، بے لوث وبے داغ ہوئی ہے۔ اور راستی وراستبازی، امانت ودیانت، عِلم وعفو، صبروتحمل، فیاضی وہمدردی، نرمی ولینت، شفقت ورحمت، زہد وتقویٰ، پارسائی وپاکبازی، نیکی ونیک نفسی، ایثار وبے نفسی، ہرصنف اخلاق، ہرشعبۂ روحانیت کے جوہر، کمال اور انتہائے کمال پر رسول اسلام ﷺ کی مبارک زندگی میں مل جاتے ہیں۔ یہ آپ کا دعویٰ ہے اور اپنی جگہ پر حرف بہ حرف صحیح ہے۔ لیکن سوال یہ ہے ، کہ منکر سے اس کا اقرار کیونکر کرائیے گا؟ جس نے اب تک آپ ک
نقوش پا کی تلاش میں۔۔۔ گجرات کا ایک مختصر سفر (۰۷)۔کھرود اور بھڑوچ ۔۔ عبد المتین منیری
جمعرات کی صبح ہمارا قافلہ سورت سے روانہ ہوا، ہماری اگلی منزل جامعہ قاسمیہ کھروڈ تھی، یہاں کے اکابر مولانا محمد اسماعیل کاپودروی، مولانا محمد ایوب پانولوی مہتمم جامعہ اور مفتی محمد زبیر صاحب وغیرہ سے ملاقاتیں ہوئیں، انہی بزرگوں کی معیت میں پرتکلف ناشتہ ہوا، اور جامعہ کی زیارت ہوئی، جامعہ بڑی خوشنما جگہ پر قائم ہے، عمارتیں بھی صاف ستھری اور مرتب ہیں، یہاں پر اعلی علمی وتصنیفی ذوق کا احساس ہوا، قریبی دور میں گجرات کی عظیم علمی و فکری شخصیت حضرت مولانا مفتی عبد اللہ کاپودروی
عبد اللہ رفیق ۔ منصہ شہود سے گوشہ گمنامی تک۔۔۔از: سید احمد سالک برماور ندوی
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ تجربات اور حوادث کی شکل میں جو کچھ سامنے گزرتا ہے شاعر اپنا خون دل نچوڑ کر اسےغزلوں اور گیتوں میں ڈھال دیتا ہے ۔ ہندی فلموں کے ایک بااثر شاعر ساحرؔ لدھیانوی مرحوم نے کہا تھا کہ دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں یقیناً ایسا ہی ہوتا ہے ۔’ جو دل پر گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے ‘ کی طرح شعرا حضرات لکھتے رہتے ہیں ، کلیم عاجز نے کہا تھا کہ جب کوئی نیا گل کھلتا ہے ، شاعر کا کلیجہ ہلتا ہے دنیا کو غزل مل جاتی ہے اور دل پ