Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
سچی باتیں۔۔۔مسلم قیادت اور غیر مسلم قیادت کا فرق۔۔۔مولانا عبد الماجد دریابادی
1930.12-05 کانگرس کے اجلاسِ لاہورؔ کو کچھ ایسا بہت زمانہ نہیں گزرا۔ ایک سال کے اندر ہی کی بات ہے۔ صدر جلسہ جواہرلال نہروؔ تھے، جو آج تک کانگرس کے صدر چلے آرہے ہیں۔ یہ یادرہے، کہ اِن کی صدارت کیونکر عمل میں آئی تھی؟ انھوں نے خود اپنا نام پیش کیاتھا، یا اپنے دوستوں سے پیش کرایاتھا؟ یاد نہ رہاہو، تو ذرا حافظہ کو تازہ کرلیجئے۔ یہ اجلاس ۲۹ء کا تھا، جواہر لالؔ کا نام اس سے بھی ایک سال قبل ۲۸ء کی کانگریس کی صدارت کے لئے مختلف صوبوں کی کانگرس کمیٹیوں کی طرف سے پیش ہونا شروع ہوگیاتھا ، اور قریب تھا
غلطی ہائے مضامین ۔۔۔ اِسلام آباد میں اُردو۔۔۔ احمد حاطب صدیقی
بہت دلچسپ محفل تھی۔ عنوان تھا ’محفلِ اُردو فہمی‘۔ یہ محفل اسلام آباد کی ایک مشہور جامعہ میں اُس کے شعبۂ علومِ ابلاغیات کے طلبہ و طالبات نے سجائی تھی۔ ممکن ہے کہ آج کے کالم میں اس محفل کی رُوداد پڑھ کر آپ بے مزہ ہوں، مگر ہمیں تو بہت مزہ آیا۔ سربراہِ شعبہ نے خیر مقدمی کلمات کے بعد کہا: ’’وادیِ پوٹھوہار کے یہ طلبہ و طالبات اسلام آباد سے متعلق آپ کے تاثرات اور آپ سے اچھی اُردو سننا چاہتے ہیں۔ اس محفل کے آداب میں ایک بے ادبی شامل کی گئی ہے۔ آپ کی گفتگو میں جہاں کوئی ایسا لفظ آیا جو طلبہ و
حج کاسفر۔۔۔ جہاز کی روانگی ( 2)۔۔۔مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
جہاز ساحل پہ کھڑا تھا، اس لئے گرمی بھی ہورہی تھی بیشتر افراد تہ خانوں کی نشتیں چھوڑ کر کھلی چھت پر ہی گھوم پھر رہے تھے۔ ہم نے اپنے ہال کی نشستوں کا جائزہ لیا، جن میں کم وبیش سو مسافر ہوں گے، تو صرف ایک شناسا صورت مولانا عید الحفیظ بلیاوی (مدرس دار العلوم ندوۃ العلماء) کی نظر پڑی، نیچے کے تہ خانوں میں واقف کار صورتیں تلاش کرنے کے بجائے جہاز کی بالائی نشتوں کے درمیان اس جستجو کو ہم نے کچھ زیادہ موزوں سمجھا۔ 11بجے جہاز چھوٹنے والا تھا، ایک بج گیا، ابھی کچھ آثار نظر نہیں آرہے تھے، اس کے برعکس کسٹم
حج کا سفر۔۔۔ جہاز کی روانگی (۱ )۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
پورے ایک ہفتے بمبئی میں قیام کا موقعہ مل گیا، ۲۱ مارچ کی صبح کو پہنچے تھے اور پر دگرام کے مطابق ۲۵ مارچ کو ساحل بمبئی سے ہمارے حصے میں پڑنے والاجہاز لنگر اٹھانے والا تھا، اسی حساب سے بمبئی میں ان ضروریات کی تکمیل کی جو حج کے سلسلے میں بمبئی ہی میں پوری ہوا کرتی ہیں، احرام کی خریداری، ڈونگے بالٹی کی فراہمی،چکر،متلی کی روک تھام والی دوائیں اور دوران قیام حجاز کے لیے راشن___ پھر جہاز کی تبدیلی کی وجہ سے ہماری روانگی ٢٨ تاریخ تک ملتوی ہو گئی۔ راشن کے علاوہ باقی اور چیزیں گھر سے بھی ساتھ لی جا سکتی
رہنمائے کتب۔۔۔ فن خطابت پر ایک نادر مقدمہ۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری
کتاب: انداز بیان مصنف: کوثر نیازی ناشر : شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلیشرز، لاہور اشاعت اول: اگست ۱۹۷۵ صفحات: ۶۹۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا کوثر نیازی مرحوم نے سابق وزیر اعظم پاکستان ذو الفقار علی بھٹو کی کیبینٹ میں وزیر اطلاعات کی حیثیت سے شہرت پائی، وہ بھٹو مرحوم کے معتمد علیہ رہے، لیکن آپ کی پھانسی کے بعد آپ کی بیوہ نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر کے زمانے سے فراموش کئے جاتے رہے، اب تو کہیں آپ کا تذکرہ سننے میں نہیں آتا۔ لیکن آپ کی شخصیت ا
بھٹکل کا گوہر گراں مایہ، حاجیوں کی خدمت جس کا سرمایہ امتیاز تھا۔۔۔تحریر: عبد المتین منیری
مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی مرحوم کے ۱۹۶۵ء میں ہوئے سفر حج کی روداد (حج کا سفر ) پر اسی زمانے میں نظر پڑی تھی، اس بھولےبسرے علمی وادبی سرمایہ کو اہل علم ودانش کی یاد داشت میں از سر نو واپس لانے کی غرض سے اس کی سلسلہ وار اشاعت بھٹکلیس ڈاٹ کام اور علم وکتاب واٹس اپ گروپ پر چند دنوں سے جاری ہے،مفتی صاحب کو تین سال لگاتار ناکامی کے بعد حج کا ٹکٹ ملا تھا، سفر حجاز میں مولانا دریابادی نے ۱۹۲۸ء میں سفر حج میں درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی ہے، اور مفتی صاحب نے ۱۹۶۵ء کے حالات کی عکاسی
حج کا سفر۔۔۔ کچھ حج کمیٹی کےطریقہ کار کے بارے میں (4) ۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلیؒ
سال بہ سال دی جانے والی درخواست بھی نئی درخواست سمجھی جاتی ہے اور اس سے وہی سلوک کیا جاتاہے جو پہلی بار درخواست دینے والے کی درخواست کے ساتھ کیاجاتا ہے اور کبھی یہ اطمینان نہیں ہوسکتا کہ اس سال نہیں تو آئندہ سال یا اس کے بعد ہمیں حج کا موقعہ ضرور مل جائے گا۔ ہمارے دوست ڈاکٹر ایم ایم ایس سدھو جو پارلیمنٹ کے ممبر ہیں اور اس حیثیت سے ہمارے حلف نامے اور امراض سے محفوظ ہونے کے صداقت نامے پر دستخط کرتے رہے ہیں، کئی بار ہماری ناکامی کاحال معلوم کر کے کہنے لگے "آخر حج کمیٹی یہ کیوں نہیں کرتی کہ اس سال
حج کا سفر۔۔۔ کچھ کمیٹی کےطریقہ کار کے بارے میں ( 3 )۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلیؒ
عرفی! اگر بگریہ میسر شدے وصال صد سال می توان به تمنا گریستن اگر چہ سو سال کی عمر ابھی سائینس دانوں کی کوشش سے انساں کی طبعی عمر قرار نہیں پائی ہے۔ مان لیجئے کہ آئندہ چل کر یہی عمرطبعی ہو جائے، تب بھی موجودہ بے لوچ طریقہ کا ر کے تحت اس کی ضمانت نہیں کی جاسکتی کہ نام نکل ہی آئے گا۔ اپنی ناکامیوں کے سلسلے میں جو اتنی تفصیل پیش کرتے چلے جارہے ہیں تواس کا منشاء یہی ہے کہ عازمین حج کی درخواستوں کے ساتھ لاٹری کاسا بے رحمانہ سلوک تو نہ ہونا چاہیئے ۔ ہم اپنی تیسری ناکامی کے بعد آئندہ سال کے پ
حج کا سفر۔۔۔ کچھ حج کمیٹی کے طریقہ کار کے بارے میں (۲ )۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلیؒ
اس زمانے میں ریاستی حج کمیٹی کے صدر مرحوم سید صدیق حسن صاحب آئی سی ایس، تھے جن کا دروازہ ہرقسم کے حاجت مند کے لئے ہمہ وقت کھلا رہتا تھا۔ اجنبی بیگانے تک بغیر کسی وسیلے اور سفارش کے ان کی حاجت روائی کی ہمہ گیر خصلت محمود سے بے تکلف مستفید ہوتے رہتے تھے، یہاں تو شناسائی اور تعلقات کا ایک حق بھی تھا ان ہی کے دروازہ پر دستک دی ۔ یہ جانتے تھے کہ وقت گزرچکا ہے گنجایش بالکل نہ ہوگی، لیکن یہ بھی جانتے تھے کہ صدیق حسن صاحب کے یہاں دوسروں کے کام آنے کے سلسلے میں کسی مانع یا رکاوٹ کا کبھی خیال نہیں کیا ج
حج کا سفر ۔۔۔ کچھ حج کمیٹی کے طریقہ کار کے بارے میں (۱ )۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
کچھ کمیٹی کےطریقہ کار کے بارے میں وہ بیچارہ جو سفر حج کی اجازت، حج کمیٹی یامغل لائن سے حاصل کرنے کے سلسلے میں ایک بار نہیں لگاتار کئی بارنا کام رہا ہو اگر ذرہ بے چین اور بیتاب ہوکر یہ فریاد کرتا نظر آئے دل کے ٹکڑے، میں بغل بیچ لئے پھرتا ہوں کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں! ہے کہ نہیں؟ اور اس کا یہ دلدوز نامہ اراکین کی کمیٹی کے ایوانوں یا مغل لائن کے عالی شان آہنی دفتر کے دیواروں سے ٹکرائے تو شاید برا ما ننے کی بات نہ ہو گی، نہ حج کمیٹی والوں کے لئے نہ مغل لائن کے ذمہ داروں کے لئے اور نہ ان
حج کا سفر۔۔۔ روانگی اور بمبئی میں(5)۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلیؒ
یہ ساری مصیبت محض اس وجہ سے ہے كہ ساری طاقت ایك مركز پر سمٹ كر آگئی ہے ، اگر اس كو ڈی سنسٹر لائز (لامركزیت سے ہم كنار ) كردیا جائے اور وہ حج ایكٹ میں ترمیم كیے بغیر ممكن نہیں ، تو بڑی راحت نصیب ہو ۔ ریاستوں كا كوٹہ مقرر ہی كیاجاچكا ہے اور ریاستوں میں حج كمیٹیاں موجود ہی ہیں ، اس میں كیاحرج ہے كہ ریاستی حج كمیٹیوں كو مجاز كردیا جائے كہ وہ اپنی ریاست كے عازمین حج كی درخواستیں وصول كریں ، جگہیں الاٹ كریں ، بكنگ بھی ریاست ہی میں ہو ، كرنسی (زرمبادلہ) كا مسئلہ بھی اپنی ہی ریاست میں طے ہوجائے
حج كا سفر۔۔۔ روانگی اور بمبئی میں (4 ) ۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
آغاز كار اس وقت سے ہوتا ہے جب جہازراں كمپنی ‘‘ مغل لائن’’ جہازوں كی روانگی كا پروگرام مشتہر كرتی ہے ، اس سے قبل حكومتِ ہند فیصلہ كرچكی ہوتی ہے كہ اس سال كتنے حاجیوں كے سفرحج كا وہ انتظام كرےگی ، مثلاً اس دفعہ سمندری جہازوں سے سولہ ہزار اور ہوائی جہازوں سے ایك ہزار عازمنینِ حج كو بھیجنے كا فیصلہ حكومت ہند نے كیا تھا ، اس فیصلے كی روشنی میں مغل لائن نے اپنا پروگرام بنایا اور گیارہ سمندری جہازوں كی روانگی طے پائی ، ہربحری جہاز میں تقریباً ڈیڑھ ہزار مسافروں كی گنجائش ركھی گئی تھی ، ادھر مغل لا
حج كا سفر۔۔۔ روانگی اور بمبئی میں (03 ) ، مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
اس حقیقت پر كہاں تك آنسو بہائیے گا كہ عازمین حج كی بڑی تعداد حج كے ابتدائیات ہی سے نابلد ہوتی ہے ، زیادہ صحیح لفظوں میں یوں كہنے كی جرأت كی جاسكتی ہے كہ ضروریات ِ دین ہی سے ناواقف اور نابلد ہوتی ہے ۔ كیا جانیے كیا ہوگیا ارباب جنوں كو جینے كی ادا یاد، نہ مرنے كی ادا یاد ہم لوگ صابو صدیق مسافرخانے كے اس حصے میں جو حج كمیٹی كے قبضے میں ہے كھڑے آپس میں باتیں كررہے تھے ، اچانك نظر پڑی كہ كئی ایك بوڑھے بنگالی كچھ كہ رہے ہیں اور رورہے ، سب ہی ادھر متوجہ ہوگئے ، مگر مشكل یہ تھی كہ ان بنگالیوں كی
حج كا سفر ۔۔۔ روانگی کا سفر اور بمببئی میں ( 2) ۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلیؒ
مسافرخانہ كے اس ناقبلِ منظر دید منظر كے درمیان كھڑے گھبرا بھی رہے تھے اور كبھی كبھی اپنے حال پر ہنسی بھی آجاتی تھی ، آخر یہ اتنے اللہ كے بندے بھی تو اسی گوشت ،پوست اور اسی فطرت و جبلت پر تخلیق ہوئے ہیں ، یہ كیوں نہیں گھبراتے ؟ خود اپنے ساتھی متین میاں ہیں مانا كہ وہ نوجوان ہیں اور برداشت زیادہ ہے ، مگر كہیں زیادہ آرام كی زندگی گزارنے كے عادی ہیں ، اچھا بوڑھی ماں اور ادھیڑ سے زیادہ عمروالی پھوپھو كیا یہ سب فولاد كے بنے ہیں كہ انہیں مصائبِ سفر سے كوئی وحشت نہیں ہورہی ہے ، آپ ہی اكیلے ہیں بڑے
سچی باتیں۔۔۔ اتفاق کی اصل تواضع۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
1930-11-21 ’’حضرت حاجی (امداد اللہ چشتی مہاجر مکّی) صاحبؒ فرمایا کرتے تھے، کہ لوگ اتفاق اتفاق پکارتے ہیں، مگر جو اصل ہے اتفا ق کی، اُس سے بہت دُور ہیں۔ تو اتفاق کی اصل تواضع ہے۔ جن دوشخصوں میں تواضع ہوگی، اُن میں نااتفاقی نہیں ہوسکتی، اور تواضع کی ضد تکبّر ہے۔ جہاں تکبّر ہوگا، وہاں اتفاق نہیں ہوسکتا۔ اب لوگ ہربات میں تکبّر کو اختیار کرتے ہیں، اور زبان سے اتفاق اتفاق پکارتے ہیں، تو اس سے کیاہوتاہے‘‘۔ (وعظ السوق، ص: ۲۸از حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی مد ظلہ) امت کے سب سے بڑے مرض کی تشخی
غلطی ہائے مضامین ۔۔۔ قربان جانے والے کے قربان جائیے۔۔۔ احمد حاطب صدیقی
جوں جوں عیدِ قرباں قریب آتی جارہی ہے، تُوں تُوں قربانی کے جانوروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دُور ہوتی جارہی ہیں۔ عام آدمی بھی عجیب آدمی ہے۔ ہر بجٹ میں اعلان کیا جاتا ہے کہ اس سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مگر شاید اس اعلان کے ساتھ ہی زیر لب یا قوسین میں یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ ’’آپ سمجھ تو گئے ہوں گے‘‘۔ مہنگائی کمر توڑ ہوگئی ہے۔ مگرمنہ زور اور کمر توڑ مہنگائی کی اس دوڑ میں بھی ملّتِ ابراہیمیؑ کا جذبۂ قربانی ہے کہ کسی طرح کم ہونے میں نہیں آتا۔ یہاں جذبۂ قربانی سے مراد عی
حج كا سفر ۔۔۔ روانگی اور بمبئی میں ( ۱) ۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری
قافلہ جو چار افراد پر مشتمل تھا : راقم الحروف ، اس كی والدہ ، مولانا متین میاں فرنگی محلی اور ان كی والدہ 19 مارچ كو جھانسی ایكسپریس كے ذریعہ شام كے سوا سات بجے لكھنؤ كے چار باغ اسٹیشن سے روانہ ہوا۔ اسٹیشن پررخصت كرنے والے اعزاء و احباب میں اپنے خورد سال بچے بھی تھے جن سے اتنی طویل جدائی كا احساس شاید عام حالات میں برداشت سے باہر ہوتا ، یہ محض توفیق ایزدی تھی كہ سب سے چھوٹے پانچ سالہ بچے (فائق میاں ) كو چمٹاتے وقت بھی بےقراری اور بےچینی كی كیفیت اپنے اندر پیدا نہیں ہوئی ، وہ تو چھوٹا تھا
بات سے بات: مولانا نیر ربانی کا ذکر خیر... عبد المتین منیری
مولانا خلیل الرحمن برنی نے آج علم وکتاب پر مولانا نیر ربانی مرحوم کا تذکرہ چھیڑا ہے، آج مرحوم کو کم ہی لوگ جانتے ہیں، لیکن مولانا جب زندہ تھے تو حضرت امیر شریعت کرناٹک مولانا ابو السعود احمد رحمۃ اللہ علیہ کے دست راست کی حیثیت سے دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور اور ریاست کرناٹک میں بڑی دینی خدمات انجام دیں تھیں، ریاست کرناٹک میں تبلیغی کام کو ابتدائی دنوں میں مستحکم کرنے والوں میں آپ کا بھی نام آتا ہے، بڑے ملنسار آدمی تھے، بھٹکل کئی بار آپ کا جماعتیں لے کر آنا ہوا، آخری مرتبہ ۱۹۸۹ء می