Search results

Search results for ''


Saifullah Master By Abdul Mateen Muniri

Abdul Mateen Muniri Yadaun Kay Chiragh

آج بروز جمعرات مورخہ 11 / دسمبر بعد نماز ظہر جناب سیف اللہ سرگرو صاحب  کو جو سیف اللہ ماسٹر کے نام سے بھٹکل میں مشہور تھے، نوائط کالونی بھٹکل کے قبرستان میں ہزاروں اشک بار آنکھوں اور دکھے دلوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا، بعد نماز ظہر تنظیم ملیہ مسجد میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی گئی تھی، جو مصلیان کے جمگھٹے میں  نماز جمعہ اور عیدین کا منظر پیش کررہی تھی، یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ اپنے جاننے والوں کے دلوں میں بستے تھے، اور ان کے محبوب اور چہیتے تھے، کیا بعید کہ جس آخری منزل پر وہ رواں

Shuhrat aur Maqbuliat Ka miyar

Abdul Majid Daryabadi Sachchi Batain

’’عمومی اور اکثری حیثیت سے تو یونان کی تاریخ، باعصمت خواتین کے ناموں سے، کہنا چاہئے کہ خالی ہی ہے……جن عورتوں کو شہرت ومقبولیت نصیب تھی، وہ تمامتر عصمت فروش طبقہ ہی سے تعلق رکھتی تھیں‘‘۔ (لیکیؔ، ہسٹری آف یوروپین مارلس‘‘ جلد 2، ص: 122) یہ خلاصۂ تحقیق ہے قدیم یورپ ، یعنی یونان ورومہ کے مؤرخ ِ اخلاق ومعاشرت کا۔ آگے چل کر صراحتیں ہیں، کہ مقدس مندروں اور معبدوں کے اندر جو دیویوں کے بُت رکھے جاتے تھے، اُن کے لئے نمونہ (ماڈل) کا کام اسی طبقہ کی عورت

Riyazur Rahaman Akrami Nadwi Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" سلطانی محلہ—بھٹکل کی علمی و دینی تاریخ کا وہ روشن گوشہ جہاں ماضی کی عظمت آج بھی سانس لیتی دکھائی دیتی ہے۔  اسی سرزمین پر قائم گورنمنٹ اردو زنانہ اسکول اور جامعاتُ الصالحات جیسے ادارے اس حقیقت کی زندہ مثال ہیں کہ جب اخلاص، قربانی اور روشن فکر یکجا ہوجائیں تو دیوار و در دوبارہ زندگی پاتے ہیں اور تاریخ نئی جہتوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ سلطانی مسجد کے ایک جانب واقع لڑکیوں کا اردو گورنمنٹ زنانہ اسکول بھٹکل کی علمی و تعلیمی تاریخ کا روشن باب ہے۔ 2

Aziz Belguami

Abdul Mateen Muniri Yadaun Kay Chiragh

   آج علی الصبح بنگلور سے عزیز بلگامی کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے اطلاع نے دل ودماغ کوبہت مغموم کردیا، آپ نے اس جہان فانی میں (71) سال گذارے۔ آپ کی پیدائش کرناٹک کے ضلع بلگام کے گاؤں کڑچی میں یکم مئی 1954 کو ہوئی تھی، آپ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس نے آج سے سوا دو سو سال قبل  سلطنت خداداد کے دور میں  مقامی حکمران کی حیثیت سے سلطان ٹیپو شہیدؒ کا ساتھ دیا تھا، لہذا آپ کے خانوادے کے ساتھ جمعدار لقب لگتا تھا۔ اس لئے آپ کے والد ماجد محمد اسحاق مرحوم جمعدار کہ

Suhail Anjum Article

Suhail Anjum Other

آجکل ایک ایسی خبر میڈیا میں گردش کر رہی ہے جس کو پڑھ کر بے شمار زخموں کے بند کھل گئے ہیں۔ وہ زخم جو ماب لنچنگ سے ملے اور جن کے متاثرین آج تک انصاف سے محروم ہیں۔ خبر یہ ہے کہ اترپردیش میں دادری کے بساہڑہ گاوں کے محمد اخلاق کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے والوں کے خلاف قائم مقدمات واپس لینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اترپردیش کی حکومت نے اس سلسلے میں عدالت میں ایک درخواست داخل کی ہے۔ ریاست کے اسپیشل سکریٹری مکیش کمار نے گوتم بدھ نگر کے ڈی ایم کو خط لکھ کر مقدمہ واپس لینے کی منظوری دی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ایڈووک

Insani ijadat Ki Bay Basi

Abdul Majid Daryabadi Sachchi Batain

طیّارہ، یا عوامی زبان میں، ہوائی جہاز بھی اب کوئی نئی یا نامانوس چیز رہے ہیں؟ جیسے ریل، جیسے موٹر، جیسے لاری، جیسے ٹرام، جیسے موٹر سائکل، جیسے اسٹیمر، جیسے جہاز، ویسے یہ ہوائی جہاز۔ ہرروز، ہروقت اِدھر سے اُدھر اُڑتے پھرتے ہی رہتے ہیں۔ اور ہندوستان اور انگلستان کے درمیان تو ڈاک اورمسافر جہازوں کا ، ’’بادِ ہوائی ‘‘ نہیں، باضابطہ ہوائی سلسلہ مدت سے قائم ہے۔ یکم مارچ کو ایک طاقتور سرکاری ہوائی جہاز ، ہینی بال نام، ایک نہیں، چارچار پُرقوت انجن رکھنے والا، کراچی سے لندن کے لئے

Abdul Haleem Mansoor Article

Abdul Haleem Mansoor Other

؎ تو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول لیلیٰ بھی ہو نصیب تو محمل نہ کر قبول   ٹیپو سلطان شہیدؒ کا نام ہندوستان کی تاریخ میں صرف ایک حکمران کے طور پر نہیں آتا بلکہ بہادری، عزتِ نفس، عدل و انصاف اور آزادی کی علامت کے طور پر جگمگاتا ہے۔ وہ برصغیر کے پہلے ایسے حکمران تھے جنہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو للکارا، اپنی سلطنت کے وسائل جدید خطوط پر استوار کیے، اور آزادی کی وہ شمع روشن کی جس کی روشنی آج تک مدھم نہیں ہوئی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سیاست نے اس عظیم شخصیت کو بھی اپنے

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"   عیدالفطر کے دن عصر کی نماز کے بعد خاندانِ فقی احمدا (عرف جاکٹی) کے تمام افراد اپنی قدیم و تاریخی رہائش گاہ، *"جاکٹی ہاؤس"* (سلطان محلہ میں جناب جاکٹی عصمت صاحب کی رہائش گاہ ان کے فرزندوں میں جناب سرفراز ،مزمل ،سعود مولوی ابوبکر سیان فقی احمدا ندوی ) میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ ایک دل کش اور روح پرور منظر ہوتا ہے جہاں محبت، عقیدت اور خاندانی اتحاد کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں۔ بڑے ہوں یا بچے، سب ایک دوسرے کو گرم جوشی سے عید کی مبارک بادیاں ب

Riyazur Rahman Nadwi Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"   پرانے زمانے میں جب مائیک یا لاؤڈ اسپیکر نہیں ہوتے تھے، اذان دینے کے لیے مساجد میں ایک مخصوص بلند جگہ بنائی جاتی تھی۔ مؤذن وہاں چڑھ کر پورے جذبۂ ایمان کے ساتھ اذان دیتے، جس کی آواز گلی کوچوں میں گونجتی اور لوگ اپنے کام چھوڑ کر مسجد کی طرف روانہ ہو جاتے۔ نماز کے اوقات میں محلہ عبادت کی روشنی سے جگمگا اُٹھتا۔ اسی طرح سلطانی مسجد میں بھی اذان کے لیے ایک بلند مقام موجود تھا جہاں سے مؤذن کی پرجوش آواز پورے علاقے میں گونجتی، اور لوگ جوق در جوق نما

Azadi Niswan ka Namuna

Abdul Majid Daryabadi Sachchi Batain

آج سے قبل، بہت قبل، دوہزار سال سے بھی قبل، کہتے ہیں، کہ خطّۂ حکمت ودانش، یونان تمدن نشاں کے مضافات ہیں، علاقہ کیپڈوسیاؔ یا ایشیائے کوچک میں، بحراسود کے قریب، دریائے تھرموڈانؔ کے کنارے کنارے، ایک جنگجو قوم آباد تھی۔ کام ہی لڑنا بھڑنا، مارنا اور مرناتھا۔ ایک ایک فنون سپہ گری میں طاق، تیراندازی میں مشّاق، نیزہ بازی میں شہرۂ آفاق، ہمت ومردانگی کی دھاک دُور دور بیٹھی ہوئی، نزدیک ودُور کی ہرقوم اس کے نام سے لرزتی ہوئی……مرداِس ’’جواں مرد‘‘ قوم میں ایک نہ تھا ج

Abdur Rahman Akrami Nadwi Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار و در"   سلطانی محلہ شہر بھٹکل کا ایک تاریخی محلہ ہے۔ وہ محلہ جہاں ایک زمانے میں علم و ادب کی روشنی پھیلی، بڑے بڑے ادباء شعراء  اور دین و ملت کے خدمت گزار پیدا ہوئے اور قوم کے وقار کو دنیا بھر میں عام کیا۔ چند سال قبل تک یہاں کی گلیاں رونق افزا تھیں، ہر گھر میں زندگی کی حرارت تھی اور سلطانی مسجد کی عظمت نے پورے علاقے کو ایمان و تقویٰ کی خوشبو سے معطر کر رکھا تھا۔ بھٹکل کی قدیم عیدگاہ پر شہیدِ ملت حضرت ٹیپو سلطان نے اپنے دورِ حکومت میں ایک شاند

Shukran Bhatka (03)

Nizamuddin Nadwi Yadaun Kay Chiragh

 تحریر: مولانا نظام الدین ندوی۔ رانچی۔ جھارکنڈ    *جامعہ کے تحت چلنے والے مدارس و مکاتب*           جامعہ کے کئی ذیلی ادارے اور مکاتب بھی ہیں جن کو جامعہ ہی سے فارغ نوجوان چلا رہے ہیں انہوں نے ان مدارس و مکاتب کے لیے خود اپنا نصاب تعلیم بھی تیار کیا ہے ان میں سے بعض مکاتب میں ہائی ٹیک(Hightec)  سہولتوں سے آراستہ کلاس روم ہیں، ایک بڑی خوش آئند بات یہ ہے کہ کئی ندوی فضلاء اپنے ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ٹیم کی شکل میں

Shiran Bhatkal (02)

Nizamuddin Nadwi Yadaun Kay Chiragh

 تحریر: مولانا نظام الدین ندوی۔ رانچی۔ جھارکنڈ    *جنت نشاں شہربھٹکل *!           اہل بھٹکل کے درمیان میں تقریبا نصف صدی سے کسی نہ کسی شکل میں رہ رہا ہوں، ندوۃ  میں طالب علمی کا زمانہ ہو کہ دبی میں بغرض ملازمت چالیس سال سے زائد قیام،  دوست اور احباب برابر بھٹکل آنے کی دعوت دیتے اور اصرار کرتے مگر اب تک یہ سعادت حاصل نہ ہوسکی تھی۔ اتنے سالوں بعد آج پہلی بار سر زمین بھٹکل میں قدم رکھا ہے۔     &

Maghrib Ki Islam Dushmani

Abdul Majid Daryabadi Sachchi Batain

بات کچھ ایسی بہت زمانہ کی نہیں، ابھی 1924ء ہی کی توہے، کہ ٹرکی میں ’’اسلامی‘‘ حکومت تھی، غیروں کی زبان پر نہیں، خود اپنی نظر میں۔ ’خلافت‘ مِٹی تو مِٹی، یہ کچھ کم تھا کہ ترکیہ اپنے کو ’’اسلامی‘ ‘ حکومت کہہ رہی تھی۔ 24؍اپریل 24ء کو مجلس ملّی نے جودستور اساسی منظور کیا۔ اُس کی دفعہ 2تھی:- ’’حکومتِ ترکیہ کا مذہب اسلام ہے‘‘۔ اسی قانون کی دفعہ 26تھی:- ’’مجلسِ ملّی ذمّہ دار ہے قانونِ شریعت کے نفاذ ک

Shukran Bhatkal (01)

Nizamuddin Nadwi Yadaun Kay Chiragh

 تحریر: مولانا نظام الدین ندوی۔ رانچی۔ جھارکنڈ            اپریل کے دوسرے ہفتے میں دبی سے وطن واپسی لکھنو کے راستے ہوئی، حسن اتفاق ان ہی دنوں میرے دیرینہ رفیق و ہمدم آفاق منظر ندوی رانچوی مہاجر گیاوی کا بھی لکھنؤ آمد کا پروگرام بن گیا ان ہی دنوں ہم سب کے محبوب عمیر بھائی یعنی عمیر الصدیق دریا بادی ندوی رفیق دارالمصنفین کئی مؤقر اداروں اور انجمنوں کے ممبروعہدیدار،علمی و ادبی جرائد و مجلات کے ایڈیٹر اور کالم نگار بھی تشریف فرما ہوئے، 

Nay Dour Ka Hasraria

Abdul Majid Daryabadi Sachchi Batain

سچی باتیں (18؍نومبر 1940ء)۔۔ نئے دور کا ہسٹیریا تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ   بھوت ، پریت، خبیث، آسیب، چڑیل، کے آپ قائل ہوں یا نہ ہوں، واقف توبہرحال ان کے ناموں سے اور کارناموں سے ہوں گے۔ فلاں پر ’’شیخ سدّو‘‘ آگئے، اور وہ کھیلنے لگا۔ فلاں پر ’’لونا چماری‘‘ کا اثر ہوگیا۔ فلاں کو’’ کلوابیر‘‘ نے دبالیا۔ فلاں کو آسیبی خلل ہوگیا۔ فلاں پر جنّات آگئے، فلاں پر پریوں کا سایہ ہوگیا۔ یہ چیزیں کس کے علم میں نہی

Roshan Khayali

Abdul Majid Daryabadi Sachchi Batain

 ’’اگر بروقت روک تھام نہ ہوئی، تو اس صدی کے ختم ہوتے ہوتے دُنیا پھر دَور غارنشینی کی طرف لوٹ جائے گی، اور لوگ پھر غاروں اور کھوہوں کے اندر رہنا شروع کردیں گے‘‘۔ تہذیب وتمدن کے مستقبل کی یہ نقشہ کشی قدامت پرست مُدیر صدق کے قلم سے نہیں، جدت نواز وتجدد دوست مسٹر ایڈن کی زبان سے ہے، جو ابھی کل تک برطانیہ کے وزیرِ خارجہ تھے، اور آج بھی ان کا شمار ’’عقلاء‘‘ فرنگ میں ہے!……ایک اکیلے مسٹر ایڈن؟ چھوڑئیے اُنھیں۔ دیکھئے ، مشہور مفکر برطانی

Suhail Anjum Article

Suhail Anjum Other

ایسا لگتا ہے جیسے بی جے پی کسی بھی قیمت پر مرکزی اقتدار سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کچھ بھی کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ خواہ اس کے لیے آئینی و جمہوری اقدار پر حملہ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ حکومت نے ابھی حال ہی میں انسداد بدعنوانی کے نام پر جو بل پیش کیا ہے وہ قانونی ماہرین کے مطابق آئینی و جمہوری اقدار کے منافی ہے اور اس کا مقصد اپوزیشن کے وزرائے اعلیٰ اور وزرا کو اقتدار سے باہر کرنا ہے۔ اس بل کا نام ’کرپٹ نیتا ریموول بل&lsquo