Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
Naya Sal
ء 1962عیسوی شروع ہوئے ہی ابھی کے دن ہوئے تھے کہ جیسے پلک مارتے ہی گزر گیا۔ جیسا کہ ہر سال گزر جاتاہے۔ اور 63ء شروع ہوئے بھی کئی دن ہوگئے! نیاسال دیکھتے ہی دیکھتے کس برق رفتاری سے پُرانا سال بن گیا !کیسے کیسے منصوبے نئے سال سے متعلق بندھ رہے تھے اور کیا کیا نقشے تیار ہورہے تھے ! کچھ پورے اور کامیاب۔ کچھ ناکام وناتمام۔ بہرحال سب کے سب آنًا فانًا باسی اور فرسودہ ہوکر رہ گئے!……مدّت عمر بہ قدر ایک سال کے اور کم ہوگئی۔ مہلت عمر ایک سال کی اور گھٹ گئی! سوچئے اور صرف یہ سوچئے، کہ اس عزیز
Suhail Anjum Article
ایک طرف حکومت ہند یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتی کہ ہندوستان عالمی قائد یا وشو گرو بن چکا ہے اور گزشتہ کچھ برسوں میں ملک میں بے پناہ ترقی ہوئی ہے، وہ تیزی سے ابھرنے والی معیشت بن گئی ہے اور ادھر دوسری طرف انہی برسوں کے دوران لاکھوں افراد ہندوستانی شہریت ترک کرکے دوسرے ملکوں میں مستقل طور پر آباد ہو چکے ہیں۔ حکومت ہی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 14 برسوں میں 20 لاکھ سے زائد ہندوستانی اپنی شہریت چھوڑ کر غیر ملکوں میں جا چکے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف اسی دوران لوگ اپنی شہریت چھوڑتے رہے ہیں بلکہ پہلے بھی
Rajab Ki Rusumat
اسلامی دنیا میں یہ مہینہ رجب کے نام سے موسوم ہے ، ایک ضعیف روایت یہ پھیلی ہوئی ہے کہ رسول خدا ﷺ کی معراج مبارک اسی مہینہ میں ہوئی تھی۔ بہت سے مسلمان اس روایت کو مان کر ، اس مہینہ میں طرح طرح کی خوشی کرتے ، اور بہت سی رسمیں بجا لاتے ہیں۔ اول تو یہ روایت ہی ثبوت کو نہیں پہنچی ہے، لیکن جو لوگ اس کے ماننے ہی پر زور دے رہے ہیں ، ذرا وہ اپنے دل میں سوچیں، کہ اس کے ماننے کے بعد خوشی منانے کا کیا طریقہ ہونا چاہئے۔ آیا وہی جس کے وہ عادی ہیں ، یا کچھ اور ! ایسا نہ ہو کہ ہم خوشی منانے کا کوئی ای
Riyazur Rahman Akrami Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" سلطانی مسجد کا صحن علم و عرفان، بیداری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ایک زمانہ تھا جب یہاں سے اصلاحی تحریکیں اور فکری مجالس کا آغاز ہوتاتھا اور قوم کو نئی سمت ملتی تھی۔ صحنِ سلطانی میں وہ مناظر بھی دیکھے گئے ہیں جب برصغیر کے بڑے بڑے علماء کرام اور اولیاء اللہ نے اپنی جاندار تقاریر سے عوام کے دلوں کو منور کیا۔ انہی میں ایک نام وہ بھی ہے جو دارالعلوم دیوبند کی نصف صدی تک امامت و قیادت کرنے والے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللہ(1897ء تا 1
Suhail Anjum Article
کیرالہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے ہیں اگر وہ مستقبل کی سیاست کا کوئی اشارہ ہیں تو اس کا مفہوم یہی ہے کہ اب وہاں بائیں بازو کی اجارہ داری ختم ہو رہی ہے اور کانگریس کی قیادت والے متحدہ محاذ (یو ڈی ایف) کے برسراقتدار آنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ کیرالہ کے مقامی انتخابات کے نتائج کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا۔ ان کی بڑی اہمیت ہے اور یہ اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہاں اگلے سال مارچ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس وقت جو نتائج سامنے آئے ہیں اگر یہی رجحان جاری رہا
Riyazur Rahman Akrami Article on Master Saifullah
ماسٹر سیف اللہ صاحب کے انتقال کی غمناک خبر سن کر دل ٹوٹ سا گیا کہ ہم سب کے مشفق، ہر دلعزیز، حسن اخلاق اور اخلاص و وفا کے پیکر، سینکڑوں دلوں کی دھڑکن استادِ محترم جناب ماسٹر سیفُ اللہ صاحب اس فانی دنیا کو چھوڑ کر اپنے ربّ کے حضور حاضر ہوگئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔ ماسٹر صاحب نے اعلیٰ عصری تعلیم حاصل کی تھی ٬لیکن اس کے باوجود آپ نے بڑے خلوص اور قربانی کے ساتھ جامعہ اسلامیہ میں تدریسی خدمات کو منتخب کیا ۔ آپ گوا کے ایک اسکول میں تدریسی خدم
Saifullah Master By Abdul Mateen Muniri
آج بروز جمعرات مورخہ 11 / دسمبر بعد نماز ظہر جناب سیف اللہ سرگرو صاحب کو جو سیف اللہ ماسٹر کے نام سے بھٹکل میں مشہور تھے، نوائط کالونی بھٹکل کے قبرستان میں ہزاروں اشک بار آنکھوں اور دکھے دلوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا، بعد نماز ظہر تنظیم ملیہ مسجد میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی گئی تھی، جو مصلیان کے جمگھٹے میں نماز جمعہ اور عیدین کا منظر پیش کررہی تھی، یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ اپنے جاننے والوں کے دلوں میں بستے تھے، اور ان کے محبوب اور چہیتے تھے، کیا بعید کہ جس آخری منزل پر وہ رواں
Shuhrat aur Maqbuliat Ka miyar
’’عمومی اور اکثری حیثیت سے تو یونان کی تاریخ، باعصمت خواتین کے ناموں سے، کہنا چاہئے کہ خالی ہی ہے……جن عورتوں کو شہرت ومقبولیت نصیب تھی، وہ تمامتر عصمت فروش طبقہ ہی سے تعلق رکھتی تھیں‘‘۔ (لیکیؔ، ہسٹری آف یوروپین مارلس‘‘ جلد 2، ص: 122) یہ خلاصۂ تحقیق ہے قدیم یورپ ، یعنی یونان ورومہ کے مؤرخ ِ اخلاق ومعاشرت کا۔ آگے چل کر صراحتیں ہیں، کہ مقدس مندروں اور معبدوں کے اندر جو دیویوں کے بُت رکھے جاتے تھے، اُن کے لئے نمونہ (ماڈل) کا کام اسی طبقہ کی عورت
Riyazur Rahaman Akrami Nadwi Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" سلطانی محلہ—بھٹکل کی علمی و دینی تاریخ کا وہ روشن گوشہ جہاں ماضی کی عظمت آج بھی سانس لیتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی سرزمین پر قائم گورنمنٹ اردو زنانہ اسکول اور جامعاتُ الصالحات جیسے ادارے اس حقیقت کی زندہ مثال ہیں کہ جب اخلاص، قربانی اور روشن فکر یکجا ہوجائیں تو دیوار و در دوبارہ زندگی پاتے ہیں اور تاریخ نئی جہتوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ سلطانی مسجد کے ایک جانب واقع لڑکیوں کا اردو گورنمنٹ زنانہ اسکول بھٹکل کی علمی و تعلیمی تاریخ کا روشن باب ہے۔ 2
Aziz Belguami
آج علی الصبح بنگلور سے عزیز بلگامی کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے اطلاع نے دل ودماغ کوبہت مغموم کردیا، آپ نے اس جہان فانی میں (71) سال گذارے۔ آپ کی پیدائش کرناٹک کے ضلع بلگام کے گاؤں کڑچی میں یکم مئی 1954 کو ہوئی تھی، آپ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس نے آج سے سوا دو سو سال قبل سلطنت خداداد کے دور میں مقامی حکمران کی حیثیت سے سلطان ٹیپو شہیدؒ کا ساتھ دیا تھا، لہذا آپ کے خانوادے کے ساتھ جمعدار لقب لگتا تھا۔ اس لئے آپ کے والد ماجد محمد اسحاق مرحوم جمعدار کہ
Suhail Anjum Article
آجکل ایک ایسی خبر میڈیا میں گردش کر رہی ہے جس کو پڑھ کر بے شمار زخموں کے بند کھل گئے ہیں۔ وہ زخم جو ماب لنچنگ سے ملے اور جن کے متاثرین آج تک انصاف سے محروم ہیں۔ خبر یہ ہے کہ اترپردیش میں دادری کے بساہڑہ گاوں کے محمد اخلاق کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے والوں کے خلاف قائم مقدمات واپس لینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اترپردیش کی حکومت نے اس سلسلے میں عدالت میں ایک درخواست داخل کی ہے۔ ریاست کے اسپیشل سکریٹری مکیش کمار نے گوتم بدھ نگر کے ڈی ایم کو خط لکھ کر مقدمہ واپس لینے کی منظوری دی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ایڈووک
Insani ijadat Ki Bay Basi
طیّارہ، یا عوامی زبان میں، ہوائی جہاز بھی اب کوئی نئی یا نامانوس چیز رہے ہیں؟ جیسے ریل، جیسے موٹر، جیسے لاری، جیسے ٹرام، جیسے موٹر سائکل، جیسے اسٹیمر، جیسے جہاز، ویسے یہ ہوائی جہاز۔ ہرروز، ہروقت اِدھر سے اُدھر اُڑتے پھرتے ہی رہتے ہیں۔ اور ہندوستان اور انگلستان کے درمیان تو ڈاک اورمسافر جہازوں کا ، ’’بادِ ہوائی ‘‘ نہیں، باضابطہ ہوائی سلسلہ مدت سے قائم ہے۔ یکم مارچ کو ایک طاقتور سرکاری ہوائی جہاز ، ہینی بال نام، ایک نہیں، چارچار پُرقوت انجن رکھنے والا، کراچی سے لندن کے لئے
Abdul Haleem Mansoor Article
؎ تو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول لیلیٰ بھی ہو نصیب تو محمل نہ کر قبول ٹیپو سلطان شہیدؒ کا نام ہندوستان کی تاریخ میں صرف ایک حکمران کے طور پر نہیں آتا بلکہ بہادری، عزتِ نفس، عدل و انصاف اور آزادی کی علامت کے طور پر جگمگاتا ہے۔ وہ برصغیر کے پہلے ایسے حکمران تھے جنہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو للکارا، اپنی سلطنت کے وسائل جدید خطوط پر استوار کیے، اور آزادی کی وہ شمع روشن کی جس کی روشنی آج تک مدھم نہیں ہوئی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سیاست نے اس عظیم شخصیت کو بھی اپنے
Riyazur Rahman Akrami Nadwi Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" عیدالفطر کے دن عصر کی نماز کے بعد خاندانِ فقی احمدا (عرف جاکٹی) کے تمام افراد اپنی قدیم و تاریخی رہائش گاہ، *"جاکٹی ہاؤس"* (سلطان محلہ میں جناب جاکٹی عصمت صاحب کی رہائش گاہ ان کے فرزندوں میں جناب سرفراز ،مزمل ،سعود مولوی ابوبکر سیان فقی احمدا ندوی ) میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ ایک دل کش اور روح پرور منظر ہوتا ہے جہاں محبت، عقیدت اور خاندانی اتحاد کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں۔ بڑے ہوں یا بچے، سب ایک دوسرے کو گرم جوشی سے عید کی مبارک بادیاں ب
Riyazur Rahman Nadwi Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" پرانے زمانے میں جب مائیک یا لاؤڈ اسپیکر نہیں ہوتے تھے، اذان دینے کے لیے مساجد میں ایک مخصوص بلند جگہ بنائی جاتی تھی۔ مؤذن وہاں چڑھ کر پورے جذبۂ ایمان کے ساتھ اذان دیتے، جس کی آواز گلی کوچوں میں گونجتی اور لوگ اپنے کام چھوڑ کر مسجد کی طرف روانہ ہو جاتے۔ نماز کے اوقات میں محلہ عبادت کی روشنی سے جگمگا اُٹھتا۔ اسی طرح سلطانی مسجد میں بھی اذان کے لیے ایک بلند مقام موجود تھا جہاں سے مؤذن کی پرجوش آواز پورے علاقے میں گونجتی، اور لوگ جوق در جوق نما
Azadi Niswan ka Namuna
آج سے قبل، بہت قبل، دوہزار سال سے بھی قبل، کہتے ہیں، کہ خطّۂ حکمت ودانش، یونان تمدن نشاں کے مضافات ہیں، علاقہ کیپڈوسیاؔ یا ایشیائے کوچک میں، بحراسود کے قریب، دریائے تھرموڈانؔ کے کنارے کنارے، ایک جنگجو قوم آباد تھی۔ کام ہی لڑنا بھڑنا، مارنا اور مرناتھا۔ ایک ایک فنون سپہ گری میں طاق، تیراندازی میں مشّاق، نیزہ بازی میں شہرۂ آفاق، ہمت ومردانگی کی دھاک دُور دور بیٹھی ہوئی، نزدیک ودُور کی ہرقوم اس کے نام سے لرزتی ہوئی……مرداِس ’’جواں مرد‘‘ قوم میں ایک نہ تھا ج
Abdur Rahman Akrami Nadwi Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار و در" سلطانی محلہ شہر بھٹکل کا ایک تاریخی محلہ ہے۔ وہ محلہ جہاں ایک زمانے میں علم و ادب کی روشنی پھیلی، بڑے بڑے ادباء شعراء اور دین و ملت کے خدمت گزار پیدا ہوئے اور قوم کے وقار کو دنیا بھر میں عام کیا۔ چند سال قبل تک یہاں کی گلیاں رونق افزا تھیں، ہر گھر میں زندگی کی حرارت تھی اور سلطانی مسجد کی عظمت نے پورے علاقے کو ایمان و تقویٰ کی خوشبو سے معطر کر رکھا تھا۔ بھٹکل کی قدیم عیدگاہ پر شہیدِ ملت حضرت ٹیپو سلطان نے اپنے دورِ حکومت میں ایک شاند
Shukran Bhatka (03)
تحریر: مولانا نظام الدین ندوی۔ رانچی۔ جھارکنڈ *جامعہ کے تحت چلنے والے مدارس و مکاتب* جامعہ کے کئی ذیلی ادارے اور مکاتب بھی ہیں جن کو جامعہ ہی سے فارغ نوجوان چلا رہے ہیں انہوں نے ان مدارس و مکاتب کے لیے خود اپنا نصاب تعلیم بھی تیار کیا ہے ان میں سے بعض مکاتب میں ہائی ٹیک(Hightec) سہولتوں سے آراستہ کلاس روم ہیں، ایک بڑی خوش آئند بات یہ ہے کہ کئی ندوی فضلاء اپنے ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ٹیم کی شکل میں