Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
حج کا سفر۔۔۔حضوری مدینہ منوره ۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
جس راہ پر پہلے کبھی گزر نہ ہوا ہو اس کے مناظر خواہ دلکش ہوں یا نہ ہوں بہرحال اپنی طرف توجہ کھینچتے رہتے ہیں اور جسں منزل پر اس سے پہلے کبھی سائبان مسافرت نہ اتارا ہوا س کی اجنبیت کا تصور کسی نہ کسی عنوان سے جاری رہتا ہے ۔ لیکن جس نئی راہ پر اس وقت ہم گامزن تھے۔ مدینہ الرسول کی راہ-اس سے پہلی دفعہ گزرنے کے باوجود یہ محسوس ہو رہا تھا کہ یہ جانی بوجھی راہ اور ایسی جانی بوجھی شخصیت کی گزر گاہ سے جس کے جلو میں ہزاروں بار تصور ہی تصور میں ادھر سے گزر ہو چکا ہے ۔اور وہ منزل جہاں اب تک رسائی نہیں ہوئی ت
غلطی ہائے مضامین۔۔۔تھا جو ’ناخوب‘ بتدریج وہی ’خوب‘ ہوا۔۔۔ تحریر: احمد حاطب صدیقی
نظر کمزور ہوگئی ہے۔ قریب کی نظر بھی اور دور کی نظر بھی۔ سو، کڑے وقت میں قریب کے رشتے دار آس پاس نظر آتے ہیں نہ دُور کے۔ بس ایک خلائے بے کراں ہے کہ ہر سُو نظر آتا ہے۔ ’کراں‘ کہتے ہیں کنارے کو، حد کو اور انتہا کو۔ ’بحرِ بے کراں‘ اور ’بے کراں آسمان‘ کی تراکیب اکثر پڑھنے اور سننے میں آتی رہتی ہیں۔ ’خلائے بے کراں‘ کو بھی انھیں میں سے ایک جانیے۔ لگے ہاتھوں ایک بات اور جان لیجے۔ لاکھ سمجھانے پر بھی کوئی بات کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو اُس کی ’سم
حج کا سفر۔۔۔ کوچ کی تیاریاں۔۔۔ تحریر: مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
تمام ملکوں کے سفارت خانے جن میں ہمارا سفارت خانہ بھی شامل ہے ، جدّے ہی میں ہیں اگر چہ عام دستور یہ ہے کہ ملک کی راجدھانی میں سفارتی نمائندے ہوتے ہیں ، مگر سعودی حکومت کی راجدھانی ریاض میں نہیں، بلکہ ساحلی مقام جدّےمیں تمام ملکوں کے سفرا ءقیام رکھتے ہیں ۔ زمانۂ حج میں سفارت خانوں کے عارضی دفاتر مکۂ معظمہ اور مدینہ منورہ میں بھی کھل جاتے ہیں ،چوں کہ ہر ملک اپنے حاجیوں کے لیے خصوصاً اور عام حاجیوں کے لیے عموماً، مکۂ معظمہ ، منیٰ اور مدینہ منورہ میں شفا خانے بھی کھولتا ہے ۔ اور
حج کا سفر۔۔۔موتمر عالم اسلامی۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
ہمارے قیام مکہ معظمہ کے دوران وہاں رابطہ عالم اسلامی کی دوسری موتمر اسلامی کا انعقاد ہوا، ایک شاہی محل تھا جسے معزول شاہ سعود نے رابطہ عالم اسلامی کو دے دیا تھا، وہیں رابطے کا سکریٹریٹ ہے، وہیں موتمر اسلامی ہوئی، مؤتمر کے مندوبین تمام اسلامی آبادیوں سے آئے تھے اور وہی مؤتمر میں شریک ہو سکتے تھے، رابطہ عالم اسلامی کے نائب صدر مولانا سید ابوالحسن علی صاحب ندوی نے ہمارے لئے بھی مندوب کا ٹکٹ داخلہ بغیر ہمارے کہے منگا کر دیا جس میں ہمیں "صحیفۂ صوت الشعب" (اخبار قومی آواز) کا مندوب کہا گیا تھا، موتمر
حج کا سفر۔۔۔حج کے بعد مکہ معظمہ میں۔۔۔ تحریر: مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
مکہ معظمہ واپس آگئے اب یہاں صرف قیام کرنا تھا، حج کی تکمیل ہو چکی تھی، حاجیوں کی بڑی تعداد جن میں سعودی باشندے اور وہ حاجی شامل تھے جن کے ملکوں اور سعودی مملکت کے درمیان ویزا پاسپورٹ کا کوئی جھگڑا نہ تھا، واپس ہونا شروع ہوگئی تھی، کوئی دس لاکھ حاجی دیکھتے دیکھتے مکہ معظمہ سے رخصت ہو گئے۔ یا وہ چہل پہل تھی کہ حرم شریف کے اندر کیا حرم کے آس پاس جگہ ملنے میں زحمت ہوتی تھی، یا اب کتنی ہی تاخیر سے کوئی پہونچے حرم ہی میں اسے صف بستہ ہونے کی سعادت نصیب ہو جاتی تھی ۔ تین دن کے اندر مقامی باشندے یہاں س
ایک بہترین مربی ومعلم۔۔۔ مولانا محمد اسلام قاسمیؒ۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری
مولانا محمد اسلام قاسمیؒ۔ سابق استاد حدیث وقف دارالعلوم دیوبند ایک بہترین مربی ومعلم *تحریر: عبد المتین منیری ( بھٹکل)* یہ نظام قدرت ہے کہ اس دنیا میں جو بھی آیا، جانے ہی کے لئے آیا، کل ہمیں بھی یہاں سے لوٹ جانا ہے، اللہ تعالی نے اس دنیا کے مسافر خانے میں رہنے کے لئے ہر ایک کے لئے ایک میعاد مقرر کررکھی ہے، اب کسی کے ٹہرنے کی میعاد مختصر ہے تو کسی کی زیادہ،لیکن بہر حال یہاں سے جانا ہے، وہ حکیم اور برتر ذات ہے،جس نے آسمان وزمین بنائے، گزشتہ تین چار سالوں سے جس طرح لوگ اس دنیا سے
حج کا سفر۔۔۔منی وعرفات میں (6) ۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
مكہٴ معظمہ پہونچتے ہی ہم پانچوں ، امی ، پھوپھو جان ، ممانی ، متین میاں اور ہم سیدھے حرم شریف حاضر ہوئے كہ پہلے طواف اور صفا و مروہ كے درمیان سعی كرلیں ، پھر اپنی قیام گاہ ، بوہرہ رباط جاكر كھانا كھائیں گے ۔ ٹھیك دوپہر كا وقت تھا ، مطاف میں بچھے ہوئے سنگِ مرمر سیاہ و سفید خوب تپ رہے تھے اور طواف كرنے والوں كا مجمع بھی خوب تھا ، ننگے پاؤں طواف كرنا اس وقت كارے دارد تھا ؛ لیكن كرنا تھا، ہم نے امی كا ہاتھ پكڑا انہوں نے پھوپھوجان كا ، پھوپھوجان نے ممانی كا آخر میں متین میاں ہوئے ، اس دفعہ
حج کا سفر۔۔۔منی وعرفات میں (5) ۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
حضور انور ﷺ نے آج یہاں زبردست خطبہ دیا تھا حاضرین سے دریافت فرمایا : یہ كون سامہینہ ہے ؟ صحابہ جواب میں كہ سكتے تھے : ذی الحجہ كا مہینہ ، مگر ایك طرف پاس ادب كہ حضور كے سامنے اپنی واقفیت جو آپ كے علم و واقفیت كے سامنے كوئی حقیقت نہیں ركھتی ظاہر كركے اپنے كو واقف كار جتانا مناسب نہیں ، دوسری طرف ایك بدیہی امر كے بارے میں حضور كا سوال ہے جس كا جواب سب پر عیاں ہے ، یقیناً یہ استفسار جواب كے لیے نہ ہوگا بلكہ اس میں كوئی حكمت ہوگی ۔ بہرحال صحابہ نے ادب و حكمت كا خیال كرتے ہوئے وہی جواب دیا جو عم
حج کا سفر۔۔۔منی وعرفات میں (4 ) ۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
منٰی میں آج دسویں ذی الحجہ كو پہلا كام یہ كرنا تھا كہ آخری شیطان (جمرہ عقبہ ) كو سات كنكریاں ماریں اس كے لیے مسنون وقت قبل زوال ہے اور مباح وقت تامغرب ہے اور بعدمغرب بھی آخری شیطان كو كنكریاں ماریں گے اگر پہلے موقع نہیں ملا ہے مگر مغرب كے بعد كا وقت فقہاء نے مكروہ وقت بتایا ہے ۔ فقہاء كا كہنا ٹھیك ہی ہے لیكن اگر وہ چودہ لاكھ جاجیوں كے درمیان ہوتے تو انہیں كراہت واستحباب كے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی كرنا پڑتی ۔ ہم تو دن چڑھے منٰی پہونچ گئے تھے جی چاہتا ہے كہ اپنے ڈرائیوركا جس سے عرفات جاتے ہوئے س
حج کا سفر۔۔۔منی وعرفات میں (3) ۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
مغرب كا وقت ہوگیا ، مگر نماز مغرب سے آج چھٹی تھی ، روانگی میں ڈرائیور نے جو ٹیكسی لیے كھڑا تھا تاخیر كی كہ ٹریفك كارش نكل جائے ، غروب كے ڈیڑھ ، دو گھنٹے كے بعد ہماری روانگی ہوئی ، ہمارے سامنے خیمے ڈیرے اُكھڑے اور منٰی كے لیے روانہ ہوگئے ۔ میدان میں چاند كی ہلكی روشنی میں اپنی روانگی كا انتظاركرتے رہے ، مغرب سے پہلے جبلِ رحمت كی آڑسے ابركا ایك ٹكڑا نمودار ہوا اور رحمت كا سایہ ڈالتا ہوا گزرگیا ، برسا نہیں ، البتہ ایك دن منٰی میں چند ہی منٹ زور كی بوندیں پڑیں كہ خیمہ ٹپكنے لگا تھا۔ روانہ
حج کا سفر۔۔۔منی وعرفات میں (2) ۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
حج كا دن یہی وقوفِ عرفات كا دن ہے اگر آج كوئی حاجی كسی وجہ سے عرفات میں وقوف نہ كرسكا ، تو اس كا حج فوت ہوگیا ، اب آئندہ سال ہی اس كی قضا كرسكے گا اورتمام مناسك كی قضا ، یا تلافی اس سال كرسكتا ہے مگر وقوفِ عرفہ كا موقعہ ہاتھ نہ آیا ، تو اس كی تلافی نہ دم سے ہوسكتی ہے ، نہ صدقے سےنہ كسی اور دن وقوفِ عرفہ سے ، اب آئندہ سال جب نویں ذی الحجہ كو پھر وقوفِ عرفات ہوگا ،تو اس وقت وقوف كركے اس ركن ركین كی قضا ممكن ہوگی ۔ سنت تو دن بھر قیام كرنا ہے ، مگر وقوف كا حق صرف ایك لمحے كے قیام سے بلكہ ب
حج کا سفر۔۔۔منی وعرفات میں (۱ ) ۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
مكہ معظمہ سے تقریباً چارمیل دور منٰی میں 8/ذی الحجہ كو اپنی گھڑی سے 9/ بجے دن میں پہونچ گئے تھے اور ایك خیمہ میں فروكش ہوگئے تھے ، اپریل كی 10/تاریخ تھی ، ہمارے حساب سے ایسی گرمی كے دن نہ تھے كہ خیمےتپنے لگیں ، یا سایہ میں بھی گرمی كی شدت پریشان كرے ؛ لیكن جہاں ہم تھے وہ پہاڑی علاقہ چٹانوں اور پتھروں كی سرزمین تھا ، صبح ہی سے اس كا تپنا برحق تھا ، پھر ریگستان اور پہاڑی علاقے میں جہاں تك دن كا تعلق ہے اپریل كا مہینہ ہمارے یہاں كے مئی كے مہینے سے بھی زیادہ گرم ہوتا ہے ۔ خیمے بھی بس اكہرے كپڑ
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ وزیرِتوانائی کی بامحاورہ ناتوانی۔۔۔ تحریر: احمد حاطب صدیقی
گزشتہ دنوں موجودہ وزیر توانائی، سرکاری ناتوانی کا برسرِ محفل اعتراف کربیٹھے۔ ہوا یوں کہ اُس روز ہمارے وفاقی وزیر توانائی نمائندگانِ ابلاغ سے ’توانائی‘ کے موضوع پرمخاطِب تھے۔ خطاب کا خاتمہ بالخیر ہوا تو انھوں نے صحافیوں کو سوالات کی دعوت دے ڈالی کہ’آبیل مجھے مار‘۔ ایک صحافی نے اُٹھ کر افرادِ قوم کی شدید ترین معاشی بدحالی اور بجلی کی قیمتوں کی جدید ترین ’بِل- بِلاتی‘ خوش حالی پر قوم کی مزید بے حالی سے متعلق سوال کرڈالا۔ وزیر موصوف جرأت مندانہ سوال سن کر سنّاٹے میں آگئے۔ انتہائی بے چارگی سے جواب
حج کا سفر۔۔۔حج کے دنوں میں (۰۲)۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
*حج کا سفر۔۔۔حج کے دنوں میں (۰۲)۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی* ہمارے مولانا عتیق صاحب بھی اس سال حج کو گئے تھے، ان کو۷،ذی الحجہ کو جعہ کی نماز کے بعد حرم شریف میں دیکھ کر ہمیں ذراتعجب ہوا، بہت تعجب اس لئے نہیں ہوا کہ ممبئی میں سن گن مل گئی تھی کہ ان کو بھی بذریعہ ہوائی جہاز جانے کی اجازت مل گئی ہے، جب انھوں نے بتایا کہ ان کی بیوی ،ہماری چچی صاحبہ بھی ساتھ آئی ہیں،تو واقعی حیرت سے ان کا منھ دیکھنے لگے، اگر حرم شریف میں نہ ہوتے یاا ن کی بذلہ سنجی کا کوئی سابقہ تجربہ ہمیں ہوتا تو ہم سمجھتے
حج کا سفر۔۔۔حج کے دنوں میں ( ۰۱)۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی
تین چار روز جو ہمارے لئے فرصت کے تھے، ان ہی میں مناسک حج کی ادائیگی کے انتظامات کرنا تھے،حج کے زیادہ تر مناسک(ارکان)مکہ معظمہ سے دور آٹھ دس میل کی مسافت پر ادا ہوتے ہیں ۔ حج کا دن نویں ذی الحجہ (یومِ عرفہ )ہے ، اس سے ایک دن قبل مکہ معظمہ سے اس طرح روانہ ہو کر منی،جو چار میل دور ہے، جانا چاہئے کہ پانچ وقت کی نمازیں وہاں پڑھ کر دوسرے دن کوئی دس میل دور اور آگے عرفات روانہ ہواجائے۔ جانے کے لئے سواریوں کا انتظام ہے،بسیں ٹیکسیاں(اور آج سے پہلے اونٹ اورگدھا گاڑیاں تھیں) حاجیوں کو منی اور عرفات پہنچا
سچی باتیں (۲۹؍جنوری ۱۹۳۲ء)۔۔۔ دین نہیں تخریب دین۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
پولیس کا سب انسپکٹر اپنے تھانہ میں لاکھ بااختیار سہی، لیکن صوبہ کے گورنر کو اگر آپ ’’داروغہ جی‘‘ کہہ کر مخاطب کریں، تو یہ اس کی تعظیم ہوئی یا توہین؟ ڈپٹی مجسٹریٹی بجائے خود ایک معزز عہدہ ہے، لیکن وائسرائے بہادر کو ’’ڈپٹی صاحب‘‘ کہہ کر دیکھئے تو! سپہ سالار (کمانڈر انچیف) افواجِ ہند کو کبھی ’’اجی جمعدار صاحب‘‘ کہہ کر آواز دینے کی ہمت آپ کی پڑے گی؟ کسی بادشاہ کے وسعتِ اختیارات کے بیان میں یہ کہہ ڈالنا، کہ اُسے ہر کانسٹبل، ہر
حج کا سفر۔۔۔ حرم کعبہ میں (4)۔۔۔ مفتی رضا انصاری فرنگی محلی
ہمیں مكہ معظمہ میں دو ہی چار ہندوستانیوں سے ملاقات كا موقع ملا ، ان میں سے ایك تو ہمارے لكھنؤ كے سید نیاز علی ساویكار تھے جو یہاں معلوم ہوا كہ ہمارے شاگرد ہیں جب ہم مدرسہ نظامیہ (فرنگی محل)میں معلمی كرتے تھے ، تو وہ ابتدائی درجوں میں وہاں پڑھتے تھے اور ہم سے بھی پڑھا تھا ، بلكہ ان ہی كے بیان كے مطابق ہمارے ہاتھ ماربھی كھائی تھی ، انہوں نے خوب یاد ركھا اور ہمیں اس وقت یہ بات انہوں نے یاد دلائی جب ہم ایك پر تكلف دعوت ان كے یہاں سے كھاكر رخصت ہورہے تھے ۔ مرزا غالب كے ایك شاگرد تھے سید صاحب انہ
حج کا سفر ۔۔۔ حرم کعبہ میں(3)۔۔۔ مفتی رضا انصاری فرنگی محلی
ہمارے ملك كے حاجیوں كی تو غالب اكثریت ان پڑھ اور نچلے طبقے كے دیہی افراد پر مشمل ہوتی ہے ، شوقِ حج و زیارت انہیں كشاں ، كشاں پہونچادیتا ہے مكہ معظمہ اور مدینہ منورہ ! جو بركتیں ان مقدس مقامات كی حاضری سے حاصل ہوناچاہیئں وہ حاصل بھی ضرور ہوجاتی ہیں ، ان سب حاضری دینے والوں كو خواہ وہ ان پڑھ ہوں یا گنوار ، عالم ہوں ، یا جاہل ، مگر ‘‘ یشہدوا منافع لہم ’’ میں جو حقیقت پوشیدہ ہے وہ منكشف ہوجانے سے بلاشبہ رہ جاتی ہے ۔ جوخالص اسلامی ملك ہیں ان كے عوام نہیں خواص بلكہ حكومتوں كے اسلامی سربراہ تك م