Search results

Search results for ''


بجنور میں پانچ مسلمانوں کا قتل: اترپردیش کو فساد میں جھونکنے کی تیاری۔۔۔۔۔۔۔۔از:عابد انور

Bhatkallys Other

ہندوستان میں کہیں بھی لڑکی کے ساتھ چھیڑ خانی کی جاتی ہے اور اس کا تعلق اعلی ذات کے ہندو سے ہوتا ہے تو ہندوستان قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔ وزیر اعظم لیکر چپراسی تک بے چین ہوجاتا ہے اور میڈیا تو پھانسی دینے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ اگر خدا نہ خواستہ چھیڑنے والوں کا تعلق مسلمان سے ہوتا ہے تو پھر کہنا ہی کیا۔ ہندوستانی جمہوریت کے چاروں ستون کو قانون کی یاد آنے لگتی ہے۔یہ چاروں ستون اتنے بے چین ہوجاتے ہیں جیسے کہ اس طرح کا ملک میں پہلا واقعہ پیش آیا ہو۔ زمین آسمان ایک کردیتے ہیں۔ ہائی کورٹ اور عدالت عظمی از خود

پرشانت کشور کی صلاحیت تسلیم!۔

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی ہم نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ اگر ہمارے قلم سے کوئی بات کسی کے خلاف نکلے تو ہم اپنی غلطی مان کر معافی مانگتے ہیں۔ ہم نے پرشانت کشورکے بارے میں جب بھی لکھا صرف یہ لکھا کہ انھوں نے اگر ۲۰۱۴ء میں مودی جی کی سرکار بنوائی تو ان کا کمال نہیں تھا بلکہ وہ تو کانگریس کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہر آدمی ان سے ناراض تھا اور وہ کانگریس کو ہرانا چاہتا تھا۔ اسی طرح جب کہا گیا کہ بہار میں نتیش لالو محاذ کی کامیابی پرشانت کشور صاحب کی وجہ سے ہوئی تب بھی ہم نے کہا کہ اگر لالو یادو پر الیکشن لڑنے کی پا

A strategic vision for transformation

Bhatkallys Other

SAUDI ARABIA celebrates its 86th National Day on Sept. 23, 2016 with a strategic vision at hand that would take the Kingdom to new heights of progress and prosperity under the wise leadership of Custodian of the Two Holy Mosques King Salman, who has given top priority for the welfare and well-being of his citizens across the country. The Vision 2030, which was unveiled by Deputy Crown Prince Muhammad Bin Salman, chairman of the Council of Economic and Development Affairs on April 25, 2016, is

کیا پاکستان کے معنی چین ہیں؟

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی ۳۱؍جولائی 1965ء کی رات کو ۱۰ بجے 15افسروں اور 300پولیس کے جوان ہمیں گرفتار کرنے اور ندائے ملت کے مسلم یونیورسٹی نمبر کی جتنی بھی کاپیاں ملیں، ضبط کرنے اور میرے مکان ’’اخبار کے ادارتی دفتر‘‘ میرے پریس اور ڈاکٹر آصف قدوائی کے مکان کی تلاشی میں رات کے ۳ بجے تک مصروف رہے۔اس کے بعد گرفتاری کی رسم ادا کی گئی۔ یکم اگست اتوار تھا۔ عدالتیں بند تھیں اس لیے وہ پورا دن ہر قلم اور ہر سطح کے افسروں سے سوال و جواب میں گذرا اور شام کو ایک مجسٹریٹ کے گھر پر حاضری ہوئی اور جیل روانگی کا پروانہ

وزیر دفاع بتائیں کہ شہیدکو کیا کیا دیتے ہیں؟

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی این ڈی ٹی وی انڈیا میں ہفتے میں چار دن رات کو 9 بجے سے ایک گھنٹہ کا پروگرام پرائم ٹائم آتا ہے جسے رویش کمار ایڈٹ کرتے ہیں، کل پروگرام شروع ہوا تو مخدوم محی الدین کے کہے ہوئے ایک گیت ’’تو کہاں جارہا ہے سپاہی‘‘ بجنا شروع ہوا اور فلیش بیک میں فوجیوں کی نقل و حرکت ، گاڑیوں کے اتار چڑھائو، اسلحہ کی نمائش اور اُڑی کے حادثہ میں قربان ہونے والے فوجیوں کی آخری رسوم کی تیاری کے مناظر دکھائے گئے۔ اس کے بعد رویش کمار خود سامنے آئے اور انھوں نے نمدیدہ آنکھوں سے اور غم میں ڈوبی ہوئی آو

بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے!۔

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ نہ سوچیں کہ میں جو کہہ رہا ہوں اس سے اسی(۸۰) فیصد لوگ ناراض ہوجائیں گے اور صرف ۲۰ فیصدی خوش ہوں گے لیکن اس کی پرواہ نہ کریں اور جسے حق سمجھیں وہ کہہ دیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج مسٹر مارکنڈے کاٹجو بھی ان میں سے ایک ہیں جو کبھی اس کا خیال نہیں کرتے کہ کون خوش ہوگا اور کون ناراض۔ وہ اس بات کو کہہ دیتے ہیں جسے سمجھتے ہیں۔ ۲۰۰۲ء میں گجرات میں جو ہوا وہ اب آخری مرحلہ میں ہے اور جسے سزا دینا تھی دے دی گئی اور جسے رہا کرنا تھا رہا کردیا گیا، صرف دو

حملہ کا جواب مذمت نہیں،حملہ ہے

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی فوج کے 17جوانوں کی قربانی اور 25جوانوں کے زخمی ہونے کا واقعہ حادثہ نہیں، حملہ ہے۔ جیش محمد ہو، لشکر طیبہ ہو یا جماعت الدعوہ، جنھوں نے بھی چار بدبختوں کو جہاد اور شہادت کے فضائل سنا سنا کر جنت کا یقین دلا کر ہندوستان کی سرحد میں داخل ہو کر اندھا دھند گولیاں برسانے کے لیے اور جواب میں شہادت کی موت حاصل کرنے کے لیے تباہی کے سامان لاد کر بھیجا تھا انھوں نے میلوں پاکستا ن کی سرحد پر سفر کیا ہوگا اور ہندوستانی تجربہ کاروں کے نزدیک چار گھنٹے ہندوستان کی سرحد کے اندر سفر کیا ہوگا۔ ان

اچھے دن آ گئے!..........مگر کس کے؟!(دوسری قسط)۔۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... ّ آج سے تقریباً بارہ سال قبل گجرات کے ہولناک مسلم کش فسادات کے پس منظر میں بنگلورکے ایک ریسارٹ میں ملک گیر سطح کی ایک میڈیا کانفرنس ہوئی تھی۔ جس میں تیستا ستیلواد، کلدیپ نیر ، مکل سکند، عزیز برنی، پرواز رحمانی، سید شہاب الدین وغیرہ جیسی سیکولرازم اور امن و سلامتی کے لیے جدو جہد کرنے والی ہندوستان کی نامورغیر سیاسی شخصیات اور صحافت کے ستون موجود تھے۔ آنے والے دور کی تصویر: اس وقت میں نے اوپن سیشن میں اسٹیج پر موجود ان شخصیات سے ایک سوال کیا تھا کہ مجھے یہ محسوس

حکومت کسی کی ہو جان مسلمان کی جائے گی

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی بجنور وہ شہر ہے جو کبھی حافظ ابراہیم کی وجہ سے ہندو مسلم اتحاد کا نمونہ ہوا کرتا تھا۔ حافظ صاحب کے بعد ان کے بڑے بیٹے عتیق صاحب بجنور کی نمائندگی کرتے رہے اور ان کے بعد ان کے چھوٹے بھائی عزیز صاحب بجنور کی نمائندگی کرتے رہے، لیکن یاد نہیں کہ کبھی بجنور میں ہندو مسلم مسئلہ پیدا ہوا ہو اور نوبت وہ آگئی ہو جو ۱۶ ستمبر کو پیش آئی کہ ذرا سی بات پر ۴ مار دئے اور ۱۲ زخمی ہوگئے۔ اگر اس کی جڑ تلاش کی جائے تو وہی نکلے گی کہ ملک کے پہلے وزیرداخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کو حکم دیا گیا

کیا دفعہ 324کی تلوار چلے گی؟

Bhatkallys Other

از:  حفیظ نعمانی یہ بات آج کی نہیں کہ اترپردیش کانگریس کے صدر مسٹر راج ببر نے کہہ دیا کہ اگر ہماری حکومت بنی تو کسانوں کے تمام قرض معاف کردئے جائیںگے اور بجلی کا بل آدھا کردیا جائے گا۔ اگر الیکشن کمیشن کانگریس کے ہر الیکشن کے انتخابی منشور اور اس کی پانچ سال کی کارکردگی کو دیکھے گا تو اسے ایک گھنٹہ نہیں لگے گا کہ وہ اس کا رجسٹریشن کینسل کردے گا۔ اترپردیش کی حکومت کو ساڑھے چارسال سے زیادہ اور مرکزی حکومت کو دو سال سے زیادہ ہوچکے ہیں، اگر الیکشن کمیشن دونوں کا جائزہ لے تو آئین کی دفع

شام: فائر بندی کا سمجھوتہ،تقسیم کا پیش خیمہ؟

Bhatkallys Other

از: آصف جیلانی شام میں صلح کی خاطر، امریکا اور روس کے درمیان ، فائر بندی کے سمجھوتہ پر بہت غلغلہ ہے ، لیکن گذشتہ پانچ سال سے جاری تباہ کن اور خونریز خانہ جنگی پر گہری نظر رکھنے والوں کے نزدیک یہ سمجھوتہ در اصل ، عراق کی طرح شام کو ، شیعہ، سنی اور کرد علاقوں میں تقسیم کرنے کا پیش خیمہ ہے۔ جنیوا میں گذشتہ سنیچر کو ۱۳ گھنٹوں کے طویل مذاکرات کے بعد ، امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے اعلان کیا ہے کہ شام میں فائر بندی کے بارے میں سمجھوتہ طے پاگیا ہے۔ پیر کو عید ا

اچھے دن آ گئے!..........مگر کس کے؟! ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Bhatkallys Other

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... گزشتہ لوک سبھاالیکشن سے پہلے ، الیکشن کے دوران اور الیکشن کے فوری بعد جیسے بھی مناظر رہے ہوں اور یار لوگوں نے مودی مہاراج کے ’’اچھے دن آنے والے ہیں ‘‘ جیسے شلوگن سے جس قسم کی بھی خوش گمانیاں پال رکھی ہوں، لیکن دل کی آنکھیں اور دماغ کی کھڑکیاں کھلی رکھنے والوں کے لیے کبھی بھی یہ کوئی معمہ نہیں رہا کہ ’’اچھے دن‘‘ کس کے آنے والے ہیں۔ یہ آر ایس ایس کی سرکار ہے ! : اور جب اب کی بار مودی سرکار کا نعرہ عملی طور پر سچ ثابت ہوگیاتواسی وقت ہوشمندوں نے کے ذہن و دل پرمست

یہ فیضانِ نظر تھایاکہ مکتب کی کرامت تھی

Bhatkallys Other

از: محمد الیاس ندوی بھٹکلی (عالم اسلام کے موجودہ حالات کے پس منظر میں دینی مدارس کی ضرورت) پانچ سال قبل راقم الحروف کو مشرق و سطی کے متعدد ممالک فلسطین ،شام ،اردن اور مصر وغیرہ کے تاریخی دورہ کی سعادت حاصل ہوئی تھی عالم اسلام کے لیے دل کی دھڑکنوں کی حیثیت رکھنے والے ان روحانی خطوں کی زیارت کا شوق فطری طور پر ہرمسلمان کے دل میں ہوتاہے مجھ پر تاریخ وجغرافیہ سے فطری دلچسپی وذوق رکھنے والے ایک طالب علم کی حیثیت سے بچپن اور زمانہ طالب علمی ہی سے ان ممالک کی سیاحت اور وہاں کی زیارت کا غلبہ کچھ ز

کانگریس مسلمان سے ووٹ نہ مانگے ، اتحاد کرے

Bhatkallys Other

از: حفیظ نعمانی سیاسی پارٹیوں میں ممبر بنانے کا رواج برسوں سے ختم ہوگیا ہے، جس وقت ابتدائی ممبر بنائے جاتے تھے تو ان کے ممبروں سے کریاشیل ممبر بنتے تھے وہ صوبہ کی کمیٹی کا ممبر بناتے تھے، پھر وہ صدر سکریٹری کے الیکشن لڑتے تھے اور ان کی کوئی حیثیت ہوتی تھی۔ جب کانگریس نے یہ سانچہ توڑ دیا، تو پھر ہر پارٹی نے توڑ دیا۔ اب کچھ لوگ ہیں جن کے تعلقات ہیں وہ اپنے ملنے والوں اور دوستوں کو پارٹی میں مختلف عہدوں پر قبضہ کردیتے ہیں پھر ٹکٹ لیتے اور دیتے ہیں اور وزیر بنتے بناتے ہیں اور حکومت چلاتے ہیں۔

شاہی داماد کے لیے تلوار کے بجائے پھولوں کی چھڑی!!

Bhatkallys Other

تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا از: حفیظ نعمانی لوک سبھا کے الیکشن کے موقع پر وزیر اعظم کے امیدوار شری نریندر مودی نے نہ کہا ہوگا تب بھی پچاس جگہ کہا ہوگا کہ ہریانہ اور راجستھان میں سونیا جی کے داماد رابرٹ واڈرا نے کوڑیوں کے مول زمین خریدی اور سونے کے بھاؤ فروخت کردی، وہ اپنے خاص انداز میں کہا کرتے تھے کہ جادو گری کا اس سے اچھا نمونہ کیا ہوگا کہ رات کو جیب ۵۰لاکھ روپے ہیں اور دوسرے دن ایک شاہی داماد ہریانہ جاتے ہیں اور وہاں صرف دو دن میں وہ ۵کروڑ

شب و روز

Bhatkallys Other

از: ندیم صدیقی ذرا سوچیں توکیا واقعی ’’ہمیں مطالعے کی عادت نہیں رہی!‘‘ ’’۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی روڈ پر ایک پرانے بک اسٹور کے باہر یہ نوٹس سیاہ پینا فلیکس (بینر)پر لکھا پھٹپھٹا رہا ہے۔ ’ ہماری علمی پسماندگی نے ہمیں ترقی یافتہ قوموں کی سیاسی اور اقتصادی غلامی کی گرفت میں دے دیا ہے۔ ملکی وسائل کرپٹ مافیا کے توسط سے عالمی طاقتوں کے لیے استعمال کر کے غربت ، بے روزگاری و اقتصادی پسماندگی قبول کی جا رہی ہے۔ نتیجے میں پورا معاشرہ اخلاقی زوال ، اجتماعی بے حسی ،انتہا پسندی ، دہشت گردی اور خوف کی گرفت میں

والی ’آسی‘۔ ایک صوفی مزاج شاعر۔۔۔۔۔از: فرزانہ اعجاز

Bhatkallys Other

اخبار ’اودھنامہ ‘ میں ، خلاف معمول متواتر تین قسطوں میں جناب حفیظ نعمانی صاحب کا ایک مضمون شائع ہورہا ہے ، جس میں بار بار لکھنؤ کی نگینہ جڑی شاعری کے نمایندہ شاعر اور حفیظ نعمانی صاحب  کےعزیز دوست والی آسی مرحوم کا ذکر ہورہا ہے ،بیشک،    والی آسی مرحوم نے اپنی محنت اور خدا داد صلاحیت سے  ایک منفرد مقام حاصل کیا تھا ، اور لمبے عرصے تک مشاعروں میں لکھنؤ کی سچی نمائیندگی کرتے رہے اور آج بھی  باذوق سامعین کی نظریں عالمی مشاعروں کے اسٹیج پر انکی کمی محسوس کرتی ہیں ،وہ اپنے والد بزرگوار  استاد شاعرجنا

آوازِ پنجاب مگر بے سُری

Bhatkallys Other

از:حفیظ نعمانی سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو جنھیں ہم نے تھوڑے دن پہلے ہی چھکا سنگھ سدھو لکھا تھا وہ ایک جذباتی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگئے، انھوں نے راجیہ سبھا میں رہتے ہوئے پنجاب کی طرف سے آنے والی ہر خبروں میں سنا تھا کہ پنجاب کے تعلیم یافتہ، سنجیدہ اور نوجوان اروند کجریوال کو پنجاب لانا چاہتے ہیں اور وہ بھی شاید اس لیے آمادہ ہوتے جارہے ہیں کہ دہلی کی ریڑھ کی ہڈی پولیس ان کی ماتحت نہیں بلکہ ان کی دشمن ہے اور وہ سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ اب پنجاب کو اپنا آئیڈیل صوبہ بنایا جائے۔ ۲۰۱۴ء میں ج