Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
Sachchi Batain 1932-07-08
سچی باتیں (۸؍جولائی ۱۹۳۲ء)۔۔۔۔ وقت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ میر اکبر حسین ؒ الہ آبادی نرے شاعر نہ تھے، مصلح، معلّم، اور مربّی بھی تھے۔ ان کے ایک نہایت ہونہار صاحبزادے ہاشم نامی تھے، لڑکپن ہی میں انتقال کرگئے۔ حضرت اکبرؔ ان سے نہایت درجہ مانوس تھے، اور بہت زائد چاہتے تھے۔ ایک روز ان سے پوچھا، میاں یہ تو بتاؤ، کہ یہ وقت جو چلاجاتاہے، آخر کہاں جاتاہے؟ روز کہاکرتے ہوکہ وقت گزرگیا، چلاگیا، وہ زمانہ رخصت ہوگیا، دُنیا میں جو چیز جاتی ہے، آخر کہیں نہ کہیں ہی جات
Abdul Mateen Muniri- John Eliya
کل جون ایلیا کے یوم پیدائش کی مناسبت سے محترم معصوم مرادآبادی کے کالم کے بعد جون کی شاعری اور شخصیت پر جناب محمود دریابادی اور دیگر احباب کے کئی ایک مضامین اور پیغامات پر نظر پڑی، احباب کی دلچسپی کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ جون چاہے نہ چاہے ان سب کے محبوب شاعر ہیں۔ جون کا نام ہم نے پہلے پہل غالبا ۱۹۷۸ء میں سنا تھا، جب وہ ہندوستان تشریف لائے تھے، اور اس وقت کے مقبول عام ادبی مجلے بیسویں صدی دہلی نے مشاعروں میں پیش کردہ آپکے کلام کو اپنے ایک شمارے میں پیش کیا تھا، پھر آپ سے دبی میں مشاعرہ بہ یاد
Ahmed Hatib
غلطی ہائے مضامین۔۔۔وہ مست ہو ہو کے مجلس میں بھنڈ کرتےہیں۔۔۔ احمد حاطب صدیقی ہمیں خوشی ہے کہ اس صفحے پر ہم جو دو چار سطریں گھسیٹ لیتے ہیں ان پر لسانیات کے جید اہلِ علم بھی نظر عنایت فرماتے ہیں۔ اس عنایت سے ہمارے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور لاعلمی میں کمی۔ ہرنئی بات جان کر نئی خوشی ہوتی ہے۔ جی خوش ہوجائے تو مارے خوشی کے جی چاہنے لگتا ہے کہ اپنے کالموں کے قارئین کو بھی ان علمی خوشیوں میں شریک کیا جائے۔ پچھلے کالم میں ہم نے اپنا ہی بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔ ہماری یہ خو
sachchi Batain
فرانسؔ کی ایک مشہور بحری کمپنی کا مشہور ترین تجارتی جہاز جارج فلپرؔ، خوشنمائی وصناعی کا ایک نمونہ ہے۔ آسائش اور آرائش کے تازہ سے تازہ او ربہتر سے بہتر لوازم سے آراستہ۔ ۱۷ہزار ٹن کا وزن ہے۔ احتیاط کی اعلیٰ سے اعلیٰ تدبیروں، اور حفاظت کے اعلیٰ سے اعلیٰ آلات سے مسلح۔بنے ہوئے بھی ابھی کچھ دن نہیں ہوئے، ایک ہی آدھ سال ہواہے۔ کہنا چاہئے کہ بالکل نیا ہے۔ اور چلے ہوئے تو چند مہینے بھی مشکل سے ہوئے ہیں۔ پہلی باراسی فروری میں چلتاہے۔ جاپان تک جاتاہے، واپسی میں پانچ چھہ مسافر سوار ہیں۔ سفر قریب ختم ہے
Ahmed Hatib
غ خیبر پختون خوا کے تاریخی شہر چارسدّہ سے عزیزم ابوبکر صدیقی نے سوال ارسال کیا ہے کہ ’’بھانڈا کسے کہتے ہیں؟ بھانڈا پھوٹنا یا بھانڈا پھوڑنا کے لفظی معنی کیا ہوں گے‘‘۔ خط پڑھ کر خوشی ہوئی کہ چارسدّہ سمیت چارسُو صدیقی پھیلے ہوئے ہیں۔گویا چارسدّہ میں صرف چپلیں ہی نہیں بنائی جاتیں، ہمارے صدیقی صاحبان بھی وہاں چپلیں چٹخاتے پھرتے ہیں۔ یہ شہر ہمارے صوبے خیبر پختون خوا کا ایک اہم تاریخی شہر ہے۔ ملک کی بہت سی مشہور سیاسی شخصیات کا تعلق اسی شہر سے تھا۔ ک
Mohammad Miran Sada - ek Mukhlis Dai Wa Karkun
مورخہ ۱۱ اکتوبر کی صبح ویلفیر اسپتال میں جناب محمد میراں سعدا سے ملنا ہوا تھا،اس وقت وہ مکمل طور پر ہوش وحواس میں تھے، وہ ہمیں بتارہے تھے کہ ڈینگو بخار آکر چلا گیا ہے، اب بخار کے بعد کی کچھ کمزوری باقی رہ گئی ہے، ان شاء اللہ وہ ٹھیک ہوجائے گی، ان کی باتوں سے کہیں سے بھی معلوم نہیں ہورہا تھا کہ موت ان کے اتنے قریب آگئی ہے، اور وہ ہم سے اتنی جلد ہمیشہ کے لئے رخصت ہونے والے ہیں،اس دوران ہمارا چار پانچ روز دہلی واطراف کا سفر ہوا، واپسی پر معلوم ہوا کہ منگلور اسپتال میں داخل کئے گئے ہیں،
Shashdar Sa Rah Gaya. Ahmed Hatib Siddqui
احمد حاطب صدیقی قیامت نامے داغؔ ہی کے نام نہیں آتے تھے، اِس داغ دار کے نام بھی آتے ہیں۔ نہیں، رنجش کے نہیں … خط میں لکھے ہوئے ’بخشش‘ کے کلام آتے ہیں۔ بخشش کو شاید انگریزی میں ‘Tip’ کہتے ہیں اور ’ٹپ‘ وہ رقم ہے جو خدمت گاروں (مثلاً کالم نگاروں) کو انعام کے طور پر دی یا ’بخش دی‘ جاتی ہے۔ کچھ لوگ اسے ’بخشیش‘ بھی لکھتے یا کہتے ہیں ’لو یہ بخشیش‘۔ اس اِملا اور تلفظ کی مدد سے شاید کم رقم بخش کر زیادہ احسان دھر
Dr F Abdur Raheem
گزشتہ ماہ رمضان المبارک میں عمرہ جانا ہوا تو خیال تھا کہ ڈاکٹر ف عبد الرحیم صاحب سے مدینہ منورہ میں ایک بار پھر شرف ملاقات حاصل ہوگا،لیکن فون پر آپ کا پیغام آیا کہ وہ اپنے آبائی قصبے وانمباڑی میں برادر خورد احمد اقبال صاحب کے یہاں ٹہرے ہوئے ہیں، غالبا اس وقت وہ علاج معالجہ کے لئے ہندوستان آئے تھے، اور آج مورخہ ۱۹ اکتوبر رات گئے خبر آگئی کہ ڈاکٹر صاحب مدینہ منورہ میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے، انا للہ وانا الیہ راجعوں۔ ڈاکٹر صاحب نے امام نوویؒ اور امام ابن تیمیہؒ کی طرح
Uski Beti Nay Utha Rakhkhi Hai Dunya sar par- Ahmed Hatib
ہفتۂ رفتہ کے کالم کی آخری سطور میں ہم لکھ بیٹھے تھے:۔ ’’مُغ کیا ہوتا ہے؟ اس کی تفصیل پھر سہی‘‘۔ نہیں معلوم تھا کہ ٹالم ٹول کی نیت سے لکھا ہوایہ ننھا سا فقرہ پیچھے پڑ جائے گا۔ ٹالے نہیں ٹلے گا۔ امریکہ، کینیڈا، بھارت اور خود وطنِ عزیز پاکستان کے مختلف شہروں سے متعدد خواتین و حضرات نے اصرارکیا کہ ’’مُغ کے متعلق ضرور بتائیے اور فی الفور بتائیے‘‘۔ فرداً فرداً اور تفصیل سے سب کو بتانا محنت طلب کام تھا
Moulana Syed Muhammad Shahid Hasani
انسان سوچتا کچھ ہے، اور ہوتا کچھ اور،ہے، اگرانسان کا ہر سوچاہوا پورا ہونے لگے، اور اس کا ہر منصوبہ کامیابی سے ہم کنار ہو، تواس کے خدائی کا دعوی کرنے میں کونسی کسر باقی رہ جائے گی؟۔ ماہ رواں کے آغاز میں مفتی ساجد کھجناوری صاحب کے مشورے سے ۱۳/ اکتوبر کو منگلو رسے دہلی ہوتے ہوئے سہارنپور جانے کا ارادہ بن گیا تھا، اور ٹکٹ بھی لے لی تھی، جہاں حضرت مولانا سید محمد شاہد حسنی صاحب سے بھی ملاقات کرنے کی خواہش تھی، ابھی ۷/ اکتوبر کو بھٹکل کے لئے رخت سفر باندھ ہی &nb
Sachchi Batain 27 May 1932
تحریر: مولانا عبدا لماجد دریابادیؒ سورۂ مائدہ کے شروع میں ایک بڑی سی آیت ہے۔ اس کے پہلے ٹکڑے میں مسلمانوں کو شعائر اللہ کی تعظیم پر توجہ دلائی ہے، دوسرے جزء میں یہ ارشاد ہوتاہے، کہ:- ﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَنْ صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ تَعْتَدُوا ﴾ اور یہ نہ ہو کہ کسی قوم کی دشمنی اس بناپر کہ اُس نے تمہیں مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا، تمہیں اس پر آمادہ کردے کہ تم اُس کے ساتھ زیادتی کرنے لگو۔ یعنی دشمن کے بھی، اور پھر ایسے شدید د
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ غلام حاضر ہے۔۔۔ احمد حاطب صدیقی
غلطی ہائے مضامین۔۔۔غلام حاضر ہے تحریر: احمد حاطب صدیقی ایک پُرمزاح فقرہ بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ آپ نے بھی سنا ہوگا۔ فقرہ کسنے والے کو ہمیشہ ہنستے دیکھا اور فقرہ سننے والے کو بھی ہنس ہنس کر ہی سنتے دیکھا۔ مگر اب بڑھاپے میں یہ تماشا دیکھا کہ فقرہ تو وہی تھا مگر سننے والا کسنے والے پر غضب ناک ہوگیا۔ ہوا یوں کہ ایک روز احباب کی محفل سجی ہوئی تھی۔ خوش گپیاں چل رہی تھیں۔ اتنے میں ایک صاحب تشریف لائے اور بہ آوازِ بلند فرمایا: ’’السلامُ علیکم‘‘۔ محفل می
سچی باتیں (۲۰؍مئی ۱۹۳۲ء)۔۔۔ ہمارے اندر کے عیب۔۔۔مولانا عبد الماجد دریابادی
مثنوی میں مولاناؒ ایک حکایت لکھتے ہیں، کہ ایک جنگل میں ایک زبردست وخونخوار شیر آبسا۔ اور روز وہاں کے جانوروں کو اُس نے چَٹ کرنا شروع کردیا۔ جانوروں نے آپس میں مشورہ کرکے یہ طے کیا، کہ قرعہ ڈال کر ہر روز ایک جانور شیر کی نذر کردیاجائے، تاکہ اُس روز دوسرے جانور محفوظ رہیں۔ ہوتے ہوتے ایک دن خرگوش کی باری آئی، اُس نے کہا، کہ آپ ہی اپنے کو مَوت کے منہ میں دے دینا کون سی عقلمندی ہے، کوئی چال ایسی سوچئے، کہ اپنی جان بھی بچ جائے، اور ساتھ ہی ہمیشہ کے لئے یہ خطرہ دُور ہوجائے۔ تجوی
رہنمائے کتب: دشمنان صحابہؓ کے منہ پر خوبصورت طمانچہ ۔۔ عبد المتین منیری
کتاب: البرھان في تبرئۃ ابی ھریرۃ من البھتان مصنف: عبداللہ بن عبدالعزیز بن علی الناصر اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم تک خدا کا دین اپنی اصلی شکل میں جو پہنچا ہے یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا احسان ہے۔ انہوں نے اس دین کو حضور اکرم ﷺسے بالمشافہ حاصل کیا اور من و عن اسے آئندہ نسلوں کو منتقل کیا۔ دین اسلام کی مستند ہونے کی واحد کڑی یہی صحابہ کرامؓ ہیں، اگر انہیں درمیان سے نکال دیا جائے، ان کی ذات میں مین میخ نکالی جائے تو پھر ہمارے پاس دین کا ایسا کوئی حصہ نہیں بچتا جس کی سچائی
رحمت للعالمین ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
(یہ تقریر دل پذیر حضرت محمد مصطفیﷺکی ولادت باسعادت کے موقع پر ۱۳جنوری ۱۹۴۹ء کو نشرہوئی۔اس میں دنیاکے کامل ترین انسان افضل البشر رحمۃ اللعالمین ﷺکی سیرت مبارکہ کی چندجھلکیاں بڑے دل آویزپیرایہ میں پیش کی گئی ہیں۔) ’’میں شہادت دیتاہوں کہ انسان انسان بھائی ہیں۔‘‘۱؎ جس کے منہ سے یہ سندر بول نکلے تھے آج اسی کی پیدائش کادن ہے۔ اُسی نے آکردنیاکویہ پیغام دیاتھابتایاتھاکہ نسل کی جلدکی رنگ کی یاوطنی تقسیم کی بناپرکسی سے جنگ کرنایاکسی کوحقیروذلیل سمجھنا حماقت ہے۔ یہ سا
جب حضور آئے۔۔ (۲۶ )تخلیق کی تکمیل کا لمحہ آخریں ۔۔۔ نادر جاجوی
حضور سرور کائناتﷺ کے جسم اطہر کے سبب تمام عالم تجسیم ہوئے، حضور نے جہاں جہاں قدم رکھا، محبت کی بارگاہیں معطر ہوگئیں۔ جن اشیا کو چھو لیا، ان کو عظمت بے پناہ نصیب ہوئی۔ آپﷺ کے تخیل نے جن چیزوں کو سمو لیا، وہ اوج مقدر پر جلوہ افروز ہوئیں اور جدھر جدھر چشم رحمت اُٹھی، ادھر ادھر عطائے الٰہی کے دفتر کھل گئے۔ انتخاب خداوندی کن کن مراحل سے گزر کر ایک نقطے پر مرکوز ہوا ہوگا، کتنے الفاظ نے طہارت کا سہارا لیا ہوگا، کتنے فلسفے دم بخود رہ گئے ہوں گے، کتنی تشبیہات نے دم توڑ دیا ہوگا، کتنے لطیف احساسات مجسم ہ
سچی باتیں (۱۳؍مئی ۱۹۳۲ء)۔۔۔ مسلمان اشرافیہ کا تنزل۔۔۔*تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
حال میں، جَوار میں ایک شادی میں شرکت کا اتفا ق ہوا۔ دولہا پھولوں سے لداہوا، عطر میں بساہوا۔ اور خیر نوشہ تو ’’نوشاہ‘‘ ہی تھا، باراتیوں کا ٹھاٹھ دیکھنے کے قابل تھا۔ ایک کا لباس ایک سے بڑھ کر، آراستہ، ہر شخص گویا آرائش کی تصویر۔ میراثیوں اور میراثنوں کی دھوم، موٹروں اور لاریوں، کاڑیوں اور تانگوں کا ہجوم۔ جَوار کے شرفاء ، برادری کے معززین، رئیس اور چودھری، زمینداراور تعلقدار، سب کے سب جمع، نوشہ والوں کی کوٹھی خود دولہن کی طرح جگمگاتی ہوئی، صحن اور بارہ دری، گیس کے ہنڈوں او
جب حضور آئے ( ۲۵) مطلع الفجر ہے ہر داغ جبیں آج کی رات۔۔۔ ابو السرور منظور احمد نوری
یہ کون آیا جس کے آنے سے فارس کا آتش کدہ ٹھنڈا ہوا، شاہان زمانہ لرزہ براندام ہوئے، شاہی محلات میں زلزلہ آگیا۔ دنیا کا ہر بت سرنگوں ہوا، سمندر ساوہ سراب میں بدل گیا، طاغوتی طاقتوں کا شیرازہ بکھرنے لگا۔ ابلیس سر پیٹنے لگا، ادھر اس کے نور سے سب جہاں جگمگانے لگا، ادھر کعبہ معظمہ پئے تعظیم ان کی طرف جھکا جانے لگا۔ آسمانی مخلوق میں ایک مسرت افزا شور سا برپا ہوا۔ روح الامیں اپنے علوی لشکر سمیت سلامی کے لیے آ رہا ہے، خلد کی بہار و زیبائش کو دوبالا کیا جا رہا ہے، حور و غلماں کو وج