Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
نئے سال کا جشن۔۔۔ہنگامہ ہے کیوں برپا ؟۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... نئے سال کے جشن اور اس کے منفی مضمرات پر میں نے اپنی سابقہ قسط میں بات ختم کی تھی۔اوراس بار گریگورین کیلنڈر اور نئے سال کی حقیقت کے تعلق سے کچھ تفصیلات پیش کرنا چاہتا تھا۔مگر مجھے با ت پھر جشن سالِ نو کے ہنگامے سے ہی شروع کرنی پڑ رہی ہے ۔کیونکہ مضمون پوسٹ ہونے کے بعد اسی سلسلے کی مزید کچھ باتیں ایسی سامنے آئی ہیں کہ اس سے دامن بچا کر نکل جانا میرے لئے ممکن نہیں تھا۔ملک اور دنیا کی خبروں پر نظر رکھنے والا ہر شخص اس بات سے واقف ہے کہ جشن سال نو کے موقع پرہم
بوتلوں کے جن مودی کے قابو سے باہر
از:حفیظ نعمانی موجودہ پارلیمنٹ میں جتنے بھی ایسے یا ایسی ہیں جنھیں مودی جی نے صرف اس لیے ٹکٹ دئے یا دلائے تھے کہ وہ اپنے مذہبی کردار کی وجہ سے جیت سکتے ہیں وہ اور تو کچھ کر نہیں سکتے ملک میں فتنہ کھڑا کرتے رہتے ہیں اور بی جے پی کی اتنی ہمت نہیں کہ انہیں پارٹی سے نکال دے۔ وہ صرف یہ کہتی ہے کہ یہ ان کا ذاتی بیان ہے۔ بی جے پی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ صرف بی جے پی یا کانگریس جانتی ہوں گی کہ ذاتی اور غیر ذاتی تعلق میں کیا فرق ہے؟ بیان تو نریندر بھائی مودی دیں یا ساکشی مہاراج، مرلی منوہر جوشی دی
‘It’s easy to brand any Muslim a terrorist’: Exonerated ‘terrorist’ Irshad Ali
It does not take much to brand any suspect as a terrorist. But it can take years to ascertain the veracity of the allegations. The media, as well as society, don’t wait for any trial to pass their verdict. However, there is hardly a whimper if the accused if finally proved innocent after years of judicial struggle. Few can recount the horror of facing false charges of terrorism as well as Irshad Ali. A driver by profession, Irshad is lucky to have survived the ordeal he faced for years. Hi
روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت کب ختم ہوگی؟ ۔۔۔۔۔از:سہیل انجم
دل دہلا دینے والا ایک اور منظر پہلا منظر: تین سالہ شامی رفیوجی ایلان کردی کی تصویر جب ترکی کے ساحل پر پائی گئی تو پوری دنیا لرز اٹھی تھی۔ ایلان نے اپنے والدین کے ساتھ شام کو خیرباد کہا تھا۔ اس کا پورا خاندان دوسرے بہت سے لوگوں کے ساتھ ایک کشتی میں سوار ہوکر ترکی جاکر پناہ گزیں ہونا چاہتا تھا۔ کشتی سمندر میں غرق ہو گئی اور ایلان کی لاش تیرتے تیرتے ساحل سمندر پر آلگی۔ وہ ساحل پر منہ کے بل پڑا ہوا تھا۔ وہ ایک فوجی کے ہاتھ لگا۔ جب ایک فوٹوگرافر نے اس کی تصویر کھینچی تو پوری دنیا میں جیسے ہنگامہ ب
Indian Muslims and forthcoming elections: “Hindustan ka Mussalman kisi kay baap ya daada ki jaaidaad nahin hai”
By Kaleem Kawaja, The Milli Gazette Online | Jan 08, 2017 The basis of an equitable democracy is that various communities, ethnic and religious, get representation in the political decision-making process. In a non-equitable democracy like India, where intimidation and influence peddling on the basis of religious and ethnic origin often happens and is compounded by the fact that there are over a dozen major linguistic and ethnic communities, a multiplicity of castes and over half a dozen r
آؤ جیٹلی آندولن آندولن کھیلیں
آؤ جیٹلی آندولن آندولن کھیلیں از: حفیظ نعمانی اللہ غفور رحیم کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے عابد سہیل کو کہ برسوں پہلے انھوں نے ایک افسانہ لکھا تھا جس میں کہا کہ ہم اپنی بیگم کے ساتھ خریداری کے لیے جارہے تھے۔ گھر میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی۔ ان کو سمجھا دیا کہ آپ لوگ پڑھتے رہیں ہم ایک گھنٹہ میں آجائیں گے۔ جانا اپنے اختیار میں ہوتا ہے اور آنا دوسروں کے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دو گھنٹے لگ گئے۔ واپس آئے اور دروازہ کی گھنٹی بجائی تو بیٹے نے دروازہ کھولا۔ اندر قدم رکھا تو سامنے صوفے پر بیٹی لیٹی تھی اور جگہ ج
پنچوں کا حکم سرآنکھوں پر نالہ وہیں گرے گا
پنچوں کا حکم سرآنکھوں پر نالہ وہیں گرے گا از: حفیظ نعمانی سپریم کورٹ کا یہ حکم کہ مذہب، ذات اور زبان کے نام پر ووٹ مانگنا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ ایسا حکم ہے جس پر ملک کو فخر کرنا چاہیے لیکن ہندوستان میں جب ان کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہ ہو تو پھر الیکشن سے کسے دلچسپی ہوگی؟ آج نہیں برسوں سے ایک نعرۂ وکاس نریندر مودی نے عام کردیا۔ وہ ہر الیکشن میں وکاس کے نام پر لڑنے کا اعلان کرتے ہیں اور وکاس کے علاوہ سب کچھ کرتے ہیں صرف وکاس نہیں کرتے۔ 2014میں انھوں نے لوک سبھا کا الیکشن اپنے لیے لڑا۔سب کا
انتشاری کیفیت سے نکلنے کے لیے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمدمنظور عالم
گزشتہ کئی دہائی سے دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص عالم اسلام میں جس طرح افتراق وتفریق، بے چینی اور عدم اطمینان کی کیفیت پائی جارہی ہے اس نے ان ملکوں کا سکون اور امن وامان غارت کر رکھا ہے جس کی وجہ سے مسلم ممالک آپس میں برسرپیکار ہیں اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں، ظلم وستم کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ ایک اللہ ایک قرآن کے حاملین کے ذریعہ انجام دیا جا رہا ہے جس کی وہ رات دن دہائی دیتے ہیں۔ یہ صورتحال جہاں دہشت گرد تنظیموں کے ذریعہ دیکھنے کو مل رہی ہے جن کی سفاکی اور سنگدلی نے مسلمانوں کو کٹہر
نیا زمانہ ہے نئے صبح و شام پیدا کر۔۔۔۔۔ از: ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
گذشتہ تقریباً ایک سال سے اترپریش کے تعلق سے میرا یہ ماننا رہا ہے کہ وہاں اس سال ہونے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی خود سے حکومت سازی کرے نہ کرے لیکن حکمت عملی اسی کی کامیاب ہو گی ۔میرے نزدیک اتر پردیش میں آر ایس ایس اوربی جے پی حکمت عملی یہ ہو گی کہ وہ خود جیتنے کے بجائے وہاں کی طاقت ور دلت سیاسی قوت کو شکست دیدی جائے ۔ کیونکہ اس مرتبہ اگربی ایس پی اتر پردیش کی حکومت سازی میں ایک بار پھر ناکام ہوگئی تو اس پارٹی کیڈرووٹ بکھرجانے کا بھرپور خدشہ ہے۔ ایسی صورت میں یہ ووٹ بڑی تعداد میں بی جے پی کی طر
"گجرات فائلس :پسِ پردہ حقائق کا انکشاف" اردو میں منظر عام پر
مشہور صحافی رعنا ایوب کی کتاب "گجرات فائلس :پسِ پردہ حقائق کا انکشاف" اب اردو میں بھی دستیاب ہے۔ اس کتاب میں ان معاملات کے سنسنی خیز انکشافات ہیں جو نریندر مودی اور امت شاہ کے عروج اور ان کے گجرات سے دہلی تک کے اقتدار کے سفر کے متوازی چلتے ہیں۔ ریاست کے پس پردہ سچ کو ان لوگوں کی زبانی بے نقاب کیا گیا ہے جن پر تفتیشی کمیشنوں کو بیان دیتے وقت نسیان طاری ہوگیا تھا۔ یہ باتیں اسٹنگ آپریشن کے دوران خفیہ طور پر ٹیپ کی گئیں ویڈیوز میں میں محفوظ ہیں جو بہت سے راز افشا کرتے ہیں۔ کتاب کی مصنفہ تہلکہ میں
پاؤں تو رگڑئیے، چشمہ ضرور پھوٹے گا۔۔۔۔از: قاسم سید
سیاست میں کچھ جملے ایسے ہیں جوہرقسم کے سیاستداں کی زبان پر رہتے ہیں اور ضرورت کے مطابق ان کااستعمال ہوتاہے مثلاً سیاست میں دوستی اور دشمنی مستقل نہیں ہوتی۔ ’قومی تقاضوں‘ کوذہن میں رکھ کر ان کی تشریح کی جاتی رہی ہے جیسے ’قومی تقاضوں‘ کی مانگ پر ملائم سنگھ نےساکشی مہاراج کو ممبر پارلیمنٹ بنایااور بابری مسجد شہادت کے بعدسپریم کورٹ کے فیصلے کی بےحرمتی میںایک دن جیل کی سزابھگت چکے کلیان سنگھ کی پارٹی سے اتحاد کیااور ان کے بیٹے کو کابینہ میں لیا۔ کانگریس نے نظریاتی حریف لیفٹ سے عوام کی خواہش کےاحترام
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں از: حفیظ نعمانی سماج وادی پارٹی کے بانی اور یوپی کے یادو لیڈر ملائم سنگھ یادو نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سائیکل سے کیا تھا۔ شیو پال یادو کے بیان کے مطابق وہ سائیکل سے ہی گاؤں گاؤں گھومتے تھے اور اسکول میں پڑھاتے بھی تھے۔ ایم ایل اے بن جانے کے کافی دنوں کے بعد انھوں نے ایک پرانی موٹر سائیکل خریدی تھی اور کئی برس کے بعد ایک جیپ پرانی لے لی تھی جس کے پٹرول کے لیے اکثر جلسہ کے بعد چندہ کیا جاتا تھا اور بعد میں وہ دوسرے جلسہ کے لیے روانہ ہوجاتے تھے۔ بیشک یہ
Tariye Poli
Bhatkallys.com Media Services Tariye Poli( Sweet Semolina Pie) A fine blend of sweet semolina, coconut milk and eggs baked to golden perfection. This Bhatkalli delicacy is a super easy recipe and can be easily made at home. In a bowl, add water and soak rice with nuts for 3 to 4 hoursDrain the mix and blend the rice and nuts to a fine blendStart adding the eggs one by one to this mix and blend continuouslyNow add sugar, cardamom pods, coconut milk, and blend
دوہزار سترا۔۔۔۔ نیے سال کا منظوم استقبال۔۔۔از: عزیز بلگامی
میں کیسے بچ کے نکل آگیا نیے سن میں کہاں سے جان پڑی پھر سے دِل کی دھڑکن میں یہ کس نے لایا مجھے ’’دو ہزار سترا‘‘ میں میں جیسے ڈُوبا ہوا تھا لہو کے دریا میں تھی سر پہ موت،تو ہاتھوں میں تھے مرے کاسے بچا لیا مجھے کس نے لہو کے دریا سے یہ کس نے شہرِ حلَب سے اُٹھا کے لایا مجھے بموں کے بیچ سے کس نے بچا کے لایا مجھے بموں کے بیچ تو بچنا محال تھا میرا میں زندہ رہ گیا کیا یہ کمال تھا میرا؟ میں بچ کے آگیا ’’برما‘‘ کی قتل گاہوں سے مجھے اماں ملی کیوں کر جہاں پناہوں سے کھڑا ہے پھر سے، اک اور،سالِ ن
اے ستم پیشہ تری بات میں کون آتاہے؟!
عمر کوش(شامی کالم نگار،تحلیل کار،محقق،مفکر) ترجمانی:نایاب حسن مشرقی حلب پر روسی،ایرانی و شامی افواج کے قبضہ و تسلط،مزاحمت کاروں کوباہرنکالنے اور باقی عوام کوشہربدرکرنے کے بعداب پھرسے مسئلۂ شام کے سیاسی حل کے لیے کوششوں کی ہواچلی ہے۔اس سلسلے میں ترکی ڈپلومیسی نے غیر معمولی جدوجہد کی،اسی کے نتیجے میں شام کے حکومت مخالف عسکری گروپس اور وس کے مابین مذاکرات کی راہ ہموا رہوئی اور ایک معاہدے کاانعقاد ممکن ہوسکا،جس کے ذریعے روسی لیڈرشپ سے بات چیت ہوئی اورحلب جیسے قدیم،تاریخی اور شہرۂ آفاق شہرکی تباہی
اے نئے سال بتا تجھ میں نیاپن کیاہے ؟! ۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... اس بارمیرا ارادہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی اخلاقی بے راہ روی اور منشیات کے استعمال پر کچھ لکھنے کا تھا۔ اس موضوع پر مواد جمع کرہی رہاتھا کہ دو باتیں ایسی ہوئیں جس سے مجھے اس کے بجائے 'نئے سال'کے موضوع کو ترجیح دینی پڑی۔ پہلی بات یہ تھی کہ نئے سال کا جشن منانے کے لئے شہر سے باہر جانے والے ہمارے نوجوانوں کو 31؍دسمبر کی شام ہی سے روکنے کا ذمہ بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے فعال لیڈروں اپنے سر لیا۔ مساجد میں علمائے کرام نے تذکیر کے ذریعے نوجوانوں کو اس طرح کے لہو
نادان دوستوں کی دوستی کا نتیجہ
نادان دوستوں کی دوستی کا نتیجہ از:حفیظ نعمانی سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا میں پارٹی کے ترجمان پروفیسر رام گوپال یادو نے روز روز کی ذلت کا دروازہ بند کرنے کے لیے پارٹی کے قومی صدر شری ملائم سنگھ یادو کو ایک خصوصی اجلاس بلا کر بے اثر کردیا۔ اب وہ قومی صدر کے بجائے صرف سرپرست اور خیر خواہ رہیں گے۔ ان کے ساتھ ہی ان کے دست راست ٹھاکر امر سنگھ کو بھی پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا اور یوپی کے صدر شیور پال سے ان کی صدارت واپس لے لی۔ ہم کئی مہینے سے لکھ رہے ہیں کہ ملائم سن
کیا پیاس بجھ گئی ہے؟۔۔۔۔از: زاہدہ حنا
2017ء کا پہلا سورج آج ایک ایسی سرزمین پر بھی طلوع ہورہا ہے جو ’شام‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ سرزمین کئی برس سے اپنے ہی بیٹوں اور بیٹیوں کے خون سے غسل کرتی رہی ہے۔ اس کی سرحدیں لبنان، اسرائیل، اردن، ترکی اور عراق کی سرحدوں سے متصل ہیں۔ ان سرحدوں کو بزرگ اور نوجوان شامی مصنوعی سمجھتے ہیں، یہ 20ء کی دہائی میں، فرانسیسی سیاست دانوں اور فوجی افسروں نے کھینچی تھیں۔ ملک شام کے رہنے والے اپنے ملک کو لبنان، اردن اور فلسطین کا مجموعہ قرار دیتے ہیں، لیکن دوسری جنگ عظیم نے مملکت شام کے ٹکڑے کردیے اور جو کچھ