Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
متروکات سخن
تحریر: اطہر ہاشمی اردو کے کچھ الفاظ ایسے ہیں جو متروک تو نہیں ہوئے لیکن ان کا استعمال محدود ہوگیا ہے۔ کوئی استعمال کر بیٹھے تو مطلب پوچھنا پڑتا ہے۔ حالانکہ یہی الفاظ کبھی عام بول چال میں شامل تھے۔ گزشتہ دنوں بارش رک جانے کے بعد بھی چھجے سے پانی ٹپک رہا تھا تو ہمارے ایک ساتھی نے کہا ’’اولتی‘‘ ٹپک رہی ہے۔ عرصے بعد یہ لفظ سنا تھا، خوشی ہوئی کہ ابھی اس کا استعمال ہے۔ اولتی ہندی سے اردو میں آئی ہے اور مونث ہے۔ مطلب اس کا واضح ہے کہ سائبان یا چھت کا وہ کنارہ جہاں سے بارش کا پانی نیچے گرتا ہے۔ ا
کیا عزیز برنی کی طبیعت اتنی خراب ہے؟
از: حفیظ نعمانی ہمیں نہیں معلوم کہ ۱۴؍ جولائی 2016کو عزیز برنی صاحب کہاں تھے اوران کی طبیعت کیسی تھی؟ انھوں نے اس دن چھپی ہوئی ڈاکٹر ایوب صاحب کی پریس کانفرنس پڑھی تھی یا نہیں جو انھوں نے ہردوئی میں کی تھی۔ اور اس میں کہا تھا کہ ’’یوپی اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سماج کے کمزور طبقات جن میں مسلم، دلت ، پسماندہ اور بے حد پسماندہ طبقات کے مختلف مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک عظیم اتحاد قائم کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔ ہم بی جے پی کو چھوڑکر بی ایس پی، سماج وادی پارٹی اور کانگریس سمیت آل انڈیا مجلس ا
سات مہینے میں بھی اویسی الزام نہ دھو سکے
از: حفیظ نعمانی ۱۳؍ جولائی2016کا انقلاب ہمارے سامنے ہے۔ اس میں 2015میں بہار میں ہونیوالے انتخاب کے موقع کا ایک واقعہ درج ہے کہ عام آدمی پارٹی کے قومی ترجمان آسوتوش نے گجرات میں ایک میٹنگ میں کہا ہے کہ بہار میں الیکشن کے موقع پر ۱۵؍ ستمبر 2015کی صبح تین بجے امت شاہ کے پاس اسد الدین اویسی اور ان کے بھائی اکبر الدین اویسی کو یاتن اوجھا نے بات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ یاتن اوجھا بی جے پی کا ورکر تھا اور اب وہ عام آدمی پارٹی میں شامل ہوگیا ہے۔ یاتن اوجھا نے تین صفحات کے خط میں پورا واقعہ نقل کیا ہے۔ ج
مسلم مجاہدین آزادی کا شہر ہے سنبھل
از: حفیظ نعمانی ۱۱؍ فروری کو جب پہلے راؤنڈ کی پولنگ ہورہی تھی تو ٹی وی کے نمائندے ہر سیٹ پر جارہے تھے اور دکھا رہے تھے کہ پولنگ کیسی ہورہی ہے؟ مظفر نگر ضلع کی تحصیل کیرانہ میں این ڈی ٹی وی کے رپورٹر نے لائن میں لگے ایک خوش لباس اور خوش شکل نوجوان سے معلوم کیا کہ کیرانہ میں جو ہندوؤں کی فرار کا موضوع تھا اس کا کیا اثر ہے؟ اتنا سننا تھا کہ وہ تعلیم یافتہ نوجوان پھٹ پڑا اور اس نے سارا الزام ٹی وی والوں پر رکھتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے پروپیگنڈے کی وجہ سے ہی ہماری یہ حالت ہوگئی ہے کہ ہم اپنے کو کیرا
ابھی سے ذہن میں سب زاویے زوال کے رکھ! ۔۔۔از:نایاب حسن
امریکہ میں ٹرمپ کے برسرِ اقتدارآنے اور ان کی حکومت پر چندایام گزرنے کے دوران ہی عالمی سطح پر جوصورتِ حال ابھرکر سامنے آرہی ہے،اس سے تقریباً ساری دنیا میں تشویش پیداہوگئی ہے،ایساگمان کیاجارہاتھاکہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جوکچھ بھی کہاتھا،وہ محض لوگوں کورجھانے اور ان کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہاتھااور جب وہ پاورمیں ہوں گے،توایسے اقدامات کرنے سے گریزکریں گے،جن سے عالمی منظرنامے پرامریکہ کی لچک دار پالیسی ،داخلی سطح پرپائے جانے والے تہذیبی تنوع ، مذہبی رنگارنگی اوربقاے باہمی کے عمومی رجحان
راجیہ سبھا کو سنگھ سے بچانا مسلمانوں پر فرض ہے
از: حفیظ نعمانی مسلم ماہر تعلیم کمال قادری صاحب نے پریس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مایاوتی بی جے پی سے سمجھوتہ نہیں کرے گی‘‘ یہ بات انھوں نے اس بنیاد پر کہی ہے کہ مایاوتی نے ان سے کہا ہے۔ مایاوتی نے اس سے پہلے دوبا ر بی جے پی سے مل کر حکومت بنائی ہے اور ایک بار ملائم سنگھ کے ساتھ مل کربھی حکومت بنائی لیکن ہر بار ان کی شرط یہ رہی کہ دونوں پارٹیوں کا وزیر اعلیٰ چھ چھ مہینے رہے گا۔ اور تینوں بار مایاوتی پہلے وزیر اعلیٰ بنیں اور پھر دوسرے کو موقع نہیں دیا۔ اگر اب ان کے سامنے ایسی صورت آتی ہے تو ا
اُردو صرف زبان نہیں ایک تہذیب بھی ہے
روزنامہ ’’ ممبئی اردو نیوز‘‘ کا تازہ کالم۔۔۔۔۔شب و روز از: ندیم صدیقی اوپرسرخی میں جو جملہ ہے اسے ہم برسوں سے سُن رہے ہیں ہمارے سینئر ہی نہیں ہمارے ساتھی بھی اس جملے کو دُہراتے ہیں مگر اس کی عملی تجسیم ہم جیسوں کو کم کم ہی نظر آتی ہے۔ گزشتہ بدھ کو ہمارے کرم فرما شکیل صبرحدی کی بیٹی کا عقد تھا موصوف نے اپنی اس خوشی میں کئی اہلِ ادب کو بھی مدعو کیا جس سے ان کی ادب و ادیب دوستی مترشح تھی۔ شادی سے ایک دن قبل جو رسم ہوتی ہے اس میں انہوں ایک پرتکلف عشائیے میں اپنے چند شاعر دوستوں کو بھی
نسیم الدین صدیقی دلالوں کے چکر میں پھنس گئے
از: حفیظ نعمانی کل ہر اردو اخبار نے یہ خبر بڑے اہتمام سے چھاپی کہ راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر مولوی عامر رشادی نے اپنے ۸۴ امیدوار مایاوتی کی حمایت میں واپس لے لیے، اب وہ سب خود لڑنے کے بجائے بی ایس پی کے ہاتھی کو ووٹ دیں گے۔ مولوی رشادی نے الیکشن کے ا علان سے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ سو امیدوار کھڑے کریں گے جن میں ۸۴ کا فیصلہ ہی ہوا تھا کہ ان کے سامنے دانہ ڈال دیا گیا اور وہ اس پر تیار ہوگئے کہ اب وہ اس بی ایس پی کی حمایت کریں گے جس نے اسے بنایا تھا اور جس کے طفیل میں مایاوتی کی حکومت میں
فسانہ رزق حرام اور بانو قدسیہ از: ڈاکٹر طاہر مسعود
سن اسّی کی دہائی میں اپنی انٹرویو کی کتاب کو اور دلچسپ اور متنوع بنانے اور مزید ادیبوں سے ملاقات اور ان سے بات چیت کو محفوظ کرنے کے لیے لاہور جانا ہوا تھا۔ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے اشفاق احمد کو فون کیا۔ تب وہ اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر تھے۔ ان کی کہانیوں اور ٹیلی وژن ڈراموں نے یوں سمجھیے کہ مجھے پہلے ہی مجروح کررکھا تھا۔ ٹیلی وژن ایوارڈ کی کسی تقریب میں انہیں اور آپا بانو قدسیہ کو بھی ساتھ ساتھ دیکھا تھا۔ بانو آپا ٹھیٹھ دیہاتی عورتوں کا تاثر دیتی تھیں۔ اپنے کپڑوں سے، چہرے مہرے سے، بات چیت سے اد
طوطی عرب میں نہیں پایا جاتا
خبر لیجئے زباں بگڑی ۔ از : اطہر ہاشمی گزشتہ شمارے (27 جنوری تا 2 فروری) میں ہم نے ’’کلکاری‘‘ کا مطلب بچے کا خوش ہوکر آوازیں نکالنا لکھا تھا۔ اس پر اردو کے ایک ادیب، کئی کتابوں کے مصنف اور ایک مؤقر جریدے ’رابطہ‘ کے سابق مدیر جناب کلیم چغتائی نے گرفت کی ہے کہ کئی لغات کو کھنگالا (لغات کے نام بھی دیے ہیں) ان تمام نے کلکاری کو (انسان کے) بچے کے بجائے بندر کے چیخنے سے منسوب کیا ہے یا پھر اس سے مراد زور سے چیخنا لیا ہے۔ البتہ ان سب لغات نے ’’قلقاری‘‘ کا مطلب بے زبان بچوں کی آواز کے ساتھ ہنسی بیان کی
اترپردیش کا الیکشن تاریخ بنائے گا
از: حفیظ نعمانی پارلیمنٹ میں صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے آخر کار اپنی خاموشی توڑی اور عادت کے مطابق وہ سب کہہ دیا جو ان کے دل میں غبار کی طرح بھرا ہوا تھا۔ انھوں نے اپنی نوٹ بندی کی غلطی کو صحیح ٹھہرانے کے لیے وہ سب باتیں کہیں جو وہ ملک میں انتخابی جلسوں میں کہہ رہے ہیں اور پارلیمنٹ کے ممبروں کے مطابق وہ یہ بھول گئے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور تقریر کے درمیان میں بھائیو اور بہنو بھی کہہ دیا۔ وہ اعلان کرچکے تھے کہ اگر ۵۰ دن میں حالات اپنی جگہ پر نہ آئیں تو جس چ
زیادہ سے زیادہ ووٹنگ سیکولر امیدواروں کی فتح
از: ڈاکٹر محمد نجیب سنبھلی ۱۱ فروری سے ۸ مارچ تک سات مرحلوں میں ہندوستان کی سب سے زیادہ آبادی والے صوبہ میں ۱۷ ویں اسمبلی الیکشن کے لئے ہزاروں امیدوار اپنی جیت کے خواب کو حقیقت بنانے کے لئے عوامی جلسوں میں بڑے بڑے وعدے کرتے نظر آرہے ہیں۔ ان میں بیشتر ایسے ہیں جن کا گزشتہ پانچ سال میں اپنے انتخابی حلقوں کے عوام سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ہوگا۔ ۲۲ کروڑ کی آبادی والے اترپردیش صوبہ کے ۱۵ کروڑ ووٹرس بھی ووٹ ڈالنے کے لئے انتخابات کی تاریخ کا شدت سے انتظار کررہے ہیں۔ بی جے پی پارٹی کو چھوڑکر سماج وا
ویکسی نیشن یا ٹیکے لگانا کیوں ضروری ہے !(قسط نمبر ۱)
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... از: ڈاکٹر محمد حنیف شباب ویسے تو مجھے اس ہفتے کیلنڈر کی کہانی سیریز سے متعلقہ قسط پیش کرنی تھی اور مضمون تیار بھی تھا، مگرچونکہ ملک بھر میںآج کل خسرہ اور روبیلا MRکے خلاف ٹیکے لگانے کی مہم شروع ہوگئی ہے او ر اس کے خلاف خاص کر مسلمانوں میں غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں۔اور عجیب عجیب قسم کے منفی تبصروں والے پیغامات سوشیل میڈیا پر وائرل ہورہے ہیں۔ اس لئے سوچا کہ کیلنڈر کی کہانی والے مضمون کو مؤخر کرکے ویکسی نیشن یا ٹیکے لگانے کے مسئلہ پر کچھ بات کی جائے۔ عام
نورالنساعنایت خان
ٹیپو سلطان کے خاندان کی بیٹی، جس نے برطانیہ کے لئے جان دے دی۔ از: آصف جیلانی زمانے کی بھی کیا ستم ظریفی ہے کہ ٹیپو سلطان جو انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں شہید ہوئے تھے ، ان کے خاندان کی ایک بیٹی نے ٹیپو کی شہادت کے ایک سو پینتالیس سال بعد ، ٹیپو کو شہید کرنے والے انگریزوں کی آزادی کے تحفظ کے لئے اپنی جان قربان کردی۔ یہ داستان ، نور النساء عنایت خان کی ہے جو دوسری عالم گیر جنگ میں ’’نورا بیکر‘‘ ،’’میڈیلین‘‘ اور جینی میری رینیر‘‘کے ناموں سے ، برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی خفیہ ایجنٹ
ملک بھی بد نصیب اور ملک والے بدقسمت
اس ملک سے زیادہ بد نصیب کون ہوگا جس کے وزیر اعظم یا صدر کی بات کا اس کے عوام کو بھروسہ نہ ہو؟ اب تک ملک میں دو باتیں اہم مانی جاتی تھیں کہ کوئی وزیر یا پارٹی لیڈر کوئی بات پارلیمنٹ سے باہر کہے تو اس پر اعتماد نہیں ہوتا اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ہاؤس کے اندر کہئے اور وزیر کوئی بات کہے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وزیر اعظم کہیں تب مانیں گے۔یعنی وزیر اعظم کہہ دیں گے تو وہ پتھر کی لگیر ہوگا اور اس کا پورا ہونا یقینی ہوجائے گا لیکن ۱۲۵ کروڑ انسانوں کی یہ کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ اس ملک کے وزیر اعظم کے منہ
الیکشن مرکزی اور صوبائی حکومت کے درمیان ہے
پنجاب اور گوا کے ا لیکشن کے متعلق جائزہ لینے والوں کا اندازہ ہے کہ دونوں جگہ غیرت مند عوام نے حکومت سے نوٹ بندی کا انتقام لیا ہے اور اکالی دل کو بھی اس کی سزا دے دی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ کیوں لگی رہی؟ اب اترپردیش اور اتراکھنڈ کے ان غریبوں اور غیرت مندوں کی آزمائش ہے جو تین مہینے اپنے ہی روپے نکالنے کے لیے بینکوں کے سامنے لائن لگا کر کھڑے کردئے گئے اور بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے شہروں اور قصبات و دیہاتی میں آج بھی لائن لگانے پر مجبور ہیں اور ملک کا ظالم حاکم کہہ رہا ہے کہ ابھی اپریل تک ایسے ہی حال
کانٹوں کا تاج ہے جانشینی
از: حفیظ نعمانی ہم جتنے قریب سے چودھری چرن سنگھ کو جانتے ہیں اس کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے اپنے اکلوتے بیٹے اجیت سنگھ کو جو ہندوستان کے بجائے پڑھنے کے لیے امریکہ بھیجا اور تعلیم کے بعد وہیں نوکری کرنے کی اجازت دی اور امریکہ میں ہی ان کی بیوی کو بھی بھیج دیا اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ ان کے سامنے اجیت سنگھ کو نہ جانشین بنانے کا مسئلہ تھا اور نہ اجیت سنگھ کو سیاست میں لانے کا۔ چودھری صاحب خود وکیل تھے، اسی لیے ان کی تقریریں بہت مدلل اور مربوط ہوا کرتی تھیں اور یہ ان کی تقریروں کا ہی اثر
بھارتی بجٹ کا تجزیہ
از: کلدیپ نیئر بھارتی بجٹ کو خواہ کتنے ہی محتاط انداز سے کیوں نہ بنایا گیا ہو یہ حقیقت بہرحال آشکار ہوتی ہے کہ اس میں ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ غالباً وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے پیش نظر یوپی کے انتخابات ہیں، لیکن بجٹ میں نئے ٹیکس کی کوئی تجویز نہیں دی گئی اور نہ ہی اس امر کی وضاحت ہے کہ ریونیو کس طرح اکٹھا کیا جائے گا۔ سارا انحصار بالواسطہ ٹیکسوں پر کیا گیا ہے جب کہ سبسڈیز کو روک لیا گیا ہے یا ان میں کمی کر دی گئی ہے۔ اس قسم کے اقدامات کرنے میں کوئی خرابی نہیں ا