Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
Obituary: Mukhtar Masood, an eminent Alig famous for his contributions to Urdu literature
News has been received from across the border about the passing away of one of the prominent figures of Urdu literature, distinguished civil servant and a second generation Alig, Mukhtar Masood in Lahore on April 15, aged 90. Mukhtar Masood was born in Aligarh on 7th June 1927. His father, Shaikh Ataullah of the Department of Economics was an expert on Iqbal (during his student days in Lahore, he was quite close to the philosopher-poet). Masood had his entire education in Aligarh, starting with
“Judiciary cannot create new crimes”: Prof Faizan Mustafa on ‘banning’ Triple Talaq
TCN News | April 17,2017 Aligarh : Professor Faizan Mustafa, Vice-Chancellor of NALSAR University of Law, Hyderabad today delivered a special talk on the topic, ‘Freedom of Religion and Solidarity’ during the Valedictory Function of All India Sir Syed Memorial Debate, 2017, organised by Aligarh Muslim University Students Union (AMUSU) and University Debating and Literary Club at the Assembly Hall, University Polytechnic (Boys). During the lecture, Mustafa pointed out that a country cannot
بجائے خود اور بذات خود تحریر : اطہر ہاشمی
پچھلے شمارے میں ہم نے ماہرینِ لسانیات کے لیے ایک سوال چھوڑا تھا کہ ’’خاکساری ہوسکتا ہے تو انکساری کیوں نہیں؟‘‘ اس پر سب سے پہلے تو میرپور آزاد کشمیر کے اہلِ علم پروفیسر غازی علم الدین کا ٹیلی فون آیا اور انہوں نے بڑی وضاحت سے بتایا کہ انکساری کیوں غلط ہے۔ ان کی پوری گفتگو علمی تھی، اور علمی باتیں ہمیں یاد رہ جاتیں تو آج ہم خود پروفیسر علم الدین ہوتے۔ چنانچہ ان سے گزارش کی کہ یہ باتیں لکھ بھیجیں تو ان کی اشاعت سے دوسروں کا بھی بھلا ہوگا۔ اگلے ہی دن دبئی کے عبدالمتین منیری کی ’’گزرگاہِ خیال‘‘ سے گ
مستحکم سرکار کے لیے مضبوط اپوزیشن۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
اترپردیش الیکشن کے بالکل خلاف توقع نتائج کے آنے کے بعد تین مخالف پارٹیاں ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس میں صرف بی ایس پی کی سربراہ مس مایاوتی نے تو ضرور پوری آواز سے پہلے دن ہی مشینوں پر اس ہار کی ذمہ داری ڈالی۔ لیکن اکھلیش یادو ایک ذمہ دار لیڈر کی طرح خاموش رہے۔ بس انھوں نے اتنا کہا کہ مس مایاوتی جب ا تنا سنگین الزام لگا رہی ہیں تو اس کی جانچ ہونا چاہیے۔ حالاں کہ وہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ الیکشن میں صرف ووٹ نہیں پڑے بلکہ شرارت بھی ہوئی ہے۔ اور وہ اس لیے سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے اکیلے دم پر الیکشن
ہر مسلمان سے پہلے ہر ہندو کو گائے پرست بنائیے۔۔۔از: حفیظ نعمانی
شری موہن بھاگوت آر ایس ایس کے چیف ہیں اور اس وقت ملک کے بڑے حصہ پر بی جے پی یعنی آر ایس ایس کی حکومت ہے، اس اعتبار سے وہ ملک کے سب سے بااختیار آدمی ہیں۔ کسی رسمی عہدہ پر نہ رہتے ہوئے بھی ان کی بات رسمی وزیر اعظم سے زیادہ اہم ہے۔ اس لیے کہ صرف وہی ایسے بڑے ہیں جن کے دربار میں مرکزی وزیر اور خود وزیر اعظم اپنی کارکردگی کی رپورٹ لے کر حاضر ہوتے ہیں اور ان سے آگے کے لیے ہدایات لیتے ہیں۔ اب انھوں نے ایک تقریب میں کہا ہے کہ پورے ملک میں گؤ کشی پر پابندی کا قانون ہونا چاہیے۔ آگے انھوں نے شمالی مشرقی ر
شکوۂ وقت ہے مجھے وقت سے ہیں شکایتیں۔۔۔از: حفیظ نعمانی
شاید 80 اور 75 سال پہلے کی بات ہے کہ ہمیں160پڑھایا گیا تھا۔ رب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہماری گائے بنائی جس شاعر کی یہ نظم تھی وہ مسلمان تھا اور اس کے زمانہ میں بھی بھینس زیادہ دودھ دیتی تھی اور گائے کم، اور دوسرے شعر میں اس نظم میں کہا گیا تھا کہ ع جس نے پلائیں دودھ کی دھاریں۔ اور زیادہ دودھ دینے کی وجہ سے وہ گائے کے بجائے بھینس بھی کہہ سکتا تھا لیکن اس نے گائے اس لئے ضروری سمجھا کہ اس زمانہ میں ہندو بچے بھی اردو پڑھتے تھے اور گائے سب کے لئے پیاری رہی ہے۔ مسلمانوں میں بھی گائے بے زبانی، فر
دنوں کے نام اور مشرکانہ عقائد۔۔۔ کیلنڈر کی کہانی۔(ساتویں اور آخری قسط)
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... مہینوں کے ناموں کے بعد دنوں کے نام جو انگریزی میں رائج ہیں ان کی وجہ تسمیہ کیا ہے اور اس کے پیچھے کیا مشرکانہ عقائد ہیں اس کی معلومات اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ بالکل اسی سے ملتی جلتی کیفیت دنوں کے ہندی ناموں کی ہے جو ہم عام زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ نام ہندوؤں کے یہاں نہ صرف دیوتاؤں سے وابستہ ہیں بلکہ آج بھی ان کی زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ عربی، عبرانی اور فارسی کے نام : عربی میں دنوں کے نام نمبر شمار کے اعتبار سے ہوتے ہیں سوائے جمعہ اور سبت کے۔ ہفتہ
ہر طرف نقش قدم نقش قدم نقش قدم
راجستھان میں اگر کوئی اپنے کو گائے کا محافظ کہتا ہے تووہ جھوٹا ہے اور بے ایمان ہے۔ جے پور میں صوبہ کا سب سے بڑا گؤشالہ بنا ہوا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ سیکڑوں گائیں ہیں۔ ٹی وی چینل پر بار بار دکھایا جاچکا ہے کہ وہاں اپنے ہی گوبر پیشاب اور کیچڑ میں درجنوں گائیں اس حال میں پڑی ہیں کہ وہ کمزوری کی وجہ سے بیٹھ بھی نہیں سکتیں اور جو بیٹھی ہیں وہ کھڑی نہیں ہوسکتیں اور جو کھڑی ہیں وہ چل نہیں سکتیں۔ ایک دفعہ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ان کے کھانے پینے کا بجٹ چار کروڑہے(ماہانہ یا سالانہ) اور اس بے رحم وزیر
خاکساری ہے تو انکساری کیوں نہیں
گزشتہ شمارے میں لکھا تھا کہ ’’اگر کسی کو بتاؤ کہ یہ ’سرور‘ نہیں ’’سرود‘‘ ہے تو حیران ہوکر پوچھتا ہے یہ کیا ہوتا ہے! لیکن ہمارے لاہوری دوست جناب افتخار مجاز کو اس کا پتا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے ’’یہ سرود دراصل موسیقی کا آلہ نہیں ہوتا؟‘‘ اب یہ اطلاع ہے یا سوال؟ جواب تو خود اُن کے سوال میں موجود ہے، اب ہم کیا کہیں۔ تاہم اپنی قابلیت کے اظہار کے لیے عرض کریں کہ سُرود میں اگر حرفِ اوّل بالضم ہے یعنی ’س‘ پر پیش ہے تو اس کا مطلب ہے گیت، نغمہ، راگ۔ اور اگر پہلا حرف بالفتح ہے یعنی سَرود، تو یہ ایک قسم کا باج
مسئلہ گوشت کھانے کا کم بے روزگاری کا زیادہ ہے۔۔۔از: حفیظ نعمانی
اترپردیش کی نئی حکومت نے کابینہ کی پہلی میٹنگ میں وعدہ کے مطابق کسانوں کا ایک لاکھ تک کا قرض معاف کردیا۔ کسی کایہ کہنا کہ جتنا کہا تھا اتنا نہیں کیا یا تفریق برتی، یہ باتیں بے معنی ہیں۔ اس لیے کہ یہ کہا جارہا تھا کہ صوبائی حکومت اس لیے قرض معاف نہیں کرسکتی کہ قرض بینکوں سے لیا گیا ہے اور بینک مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ خود کشی پر مجبور ہوجانے والے کسانوں کے لیے بلا شبہ یہ تحفہ ہے۔ کابینہ کی میٹنگ میں مذبح کے با رے میں سخت رُخ برقرار رہا ، کہا گیا ہے کہ ریاست میں غیر قانونی مذبح کہیں بھ
مہینوں کے مشرکانہ نام ۔۔۔کیلنڈر کی کہانی (چھٹی قسط)
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے........... گزشتہ قسط میں سال کے ابتدائی چھ مہینوں کے نام او ر ان سے وابستہ مشرکانہ عقائد کی نشاندہی کردی گئی تھی، جس کے بعد کسی نے ایک سوال پوچھا کہ کیا جن اقوام میں یہ نام مستعمل ہیں وہ ان مشرکانہ نظریات سے واقف ہیں اور ان پر یقین رکھتے ہیں۔ یا محض نام کی حد تک ان سے واقف ہیں؟اس سلسلے میں اتنا کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے بس یہ کوشش کی ہے کہ ان مہینوں کی وجہ تسمیہ کیا ہے اس کی نشاندہی کردیں تاکہ اس کو بولتے ہوئے اس کے پس پردہ مشرکانہ عقائد جو رہے ہیں وہ ہمارے ذہن میں وا
Have Stomach Troubles? It Might Be This Common Problem
Gastritis is becoming more common and ruining everything from happy hour to holiday parties, according to Fix.com. It is essentially inflammation of the stomach lining and causes stomach cramps, nausea and gas - not exactly conducive to social situations. Fix says there are two types of Gastritis. The first is caused by taking nonsteroidal anti-inflammatories like ibuprofen, while the second is an infection caused by the Helicobacter Pylori bacteria. Our stomach lining produces acid and
امڈنا یا امنڈنا
’’صحیفہ‘‘ کا مکاتیب نمبر، حصہ اول، ادب شناس ملک نواز احمد اعوان کی مہر کے ساتھ سامنے ہے۔ ’’صحیفہ‘‘ مجلسِ ترقئ ادب لاہور کا علمی و ادبی مجلہ ہے۔ اس میں بڑے بڑے مشاہیر کے مکتوبات ہیں۔ اور بات صرف مکتوب کی نہیں بلکہ ان سے اردو زبان و ادب کے بارے میں بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ کئی الفاظ کی تصحیح بھی کی جاسکتی ہے۔ مثلاً رشید احمد صدیقی نے ایک خط میں لکھا ہے ’’لال قلعہ میں ساڑھے تین بجے شب تک ہائے وہو ہوتا رہا‘‘۔ ہم اب تک اسے ہاؤ ہو کہتے اور لکھتے رہے ہیں۔ جامعہ دہلی کے شعبۂ اردو کے استاد ضیاء احمد
مودی کے سپنوں کا اترپردیش۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی
ہر قوم کا ایک مزاج ہوتا ہے۔ ہندوستانی قوم وہ ہندو ہوں ، مسلمان ہوں یا سکھ ہوں قانون ضابطوں اور قاعدوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور اسی کو صحیح سمجھتے ہیں جو وہ کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ جن ہاتھوں میں قانون نافذ کرنا ہوتا ہے ان کا دھرم یہ ہے کہ ہم جتنی تنخواہ پاتے ہیں وہ صرف اتنے وقت کی ہے جو ہم دفتر میں گذارتے ہیں۔ رہا کام تو اس کے لیے پیسے لاؤ اور کام کراؤ۔ پرمٹ یا لائسنس دینے والے یہ سمجھتے ہیں کہ جسے لائسنس دیں گے وہ کمائے گا اور عیش کرے گا۔ اس لیے اپنے عیش کا حصہ لینا غلط نہیں ہے۔ بغیر لائسن
ای وی ایم پر احتجاج نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔۔۔از: حفیظ نعمانی
کل کے اخبارمیں برار عزیز سجادنعمانی کا ایک مضمون سب نے پڑھا ہوگا۔ انھوں نے سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے اس مشورہ کہ بابری مسجد رام مندر کا مسئلہ ہندو اور مسلمان عدالت سے باہر بیٹھ کر ہی سلجھالیں تو اچھا ہے، کے تار 1949میں گاندھی جی کے قتل اور اس کے ا ثرات کوبابری مسجد میں مورتیاں رکھ کر کم کرنے سے لے کر اب تک ہونے والی آر ایس ایس کی شاطرانہ چالوں سے ملادئے ہیں۔ اور جو کچھ انھوں نے کہا ہے وہ حرف بہ حرف درست ہے۔ ہم بھی ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے برسبیل تذکرہ یہ لکھا ہے کہ ای وی ایم ووٹنگ مشینوں کے س
پولیس ٹھیک نہیں ہوئی تو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔از: حفیظ نعمانی
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے حلف لینے کے بعد سے ہی وہ رویہ اپنایا جس کا کوئی تجربہ نہ افسروں کو تھا اور نہ عوام کو۔1952سے اب تک جتنے بھی وزیر اعلیٰ آئے ان میں سخت بھی تھے اور نرم بھی۔ لیکن جو رویہ نئے وزیر اعلیٰ نے اپنایا ہے وہ صرف ایمرجنسی میں تو نظر آیا تھاورنہ 70برس میں کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ ایک طریقہ اصلاح کا یہ ہے جو یوگی جی نے اپنایا ہے اور ایک یہ ہوسکتا تھا کہ وہ ا پنی پہلی ہی پریس کانفرنس میں صاف صاف کہہ دیتے کہ ایک ہفتہ میں ہر وہ کام جو غلط ہے اسے ٹھیک کرلو ورنہ وہ سلوک کیا جائے گا جس کا
میاں ہم آپ کو جاہل سمجھتے ہیں
از: ندیم صدیقی ’’ میاں ! آپ ہم کو جاہل سمجھتے ہیں ‘‘ دُوسری زبانوں کے بارے میں تو نہیں مگراُردو کے لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس زبان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنےکے بعد بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہم زبان جانتے ہیں۔ واضح رہے کہ زبان جاننے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ حروف تہجی سے واقف ہیں ، جاننے سے مراد ،زبان کا بر محل استعمال ہے۔ اس میں اچھے اچھےاصحاب چٗوک جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک لفظ بہت عام ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے می
کسانوں کے قرض معاف کرنے کا کیا ہوا؟۔۔۔از: حفیظ نعمانی
سلاٹر ہاؤس مذبح پر پورے صوبہ میں تالے لگانے اور اس کی خبر سے مسلمانوں کو اس لیے تکلیف ہوئی ہوگی کہ ہزاروں ہزار مسلمان بے روزگار ہوجائیں گے۔ ہم بہت زیادہ تو نہیں لیکن ضرورت کی حد تک جانتے ہیں کہ قانون کے سا تھ غیر قانونی کا مزاج عام ہے۔ دو دن سے جو خبریں آئیں تو معلوم کیا کہ اتنے غیر قانونی سلاٹر ہاؤس کیسے بن گئے کہ دو سو میں تو تالے لگ گئے اور ابھی مزید پر کاروائی کی تیاری ہے۔ تب معلوم ہوا کہ ہمارے قریشی بھائی کچھ زیادہ ہی غیر قانونی کام کرتے ہیں جیسے گوشت کی دوکان کے جتنے لائسنس ہیں اس سے دس گن