Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
Suhail Anjum Article
تعلیم کو ترقی کا زینہ قرار دیا گیا ہے۔ جو قومیں تعلیم میں پیچھے ہیں وہ تمام شعبہ ہائے حیات میں پیچھے ہیں۔ تعلیم ایک ایسا زیور ہے جو ایک انسان کو مہذب بناتا اور دنیاوی مقابلے اور چیلنجز کا سامنا کرنے کا اہل بناتا ہے۔ اگر آپ دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جن ملکوں میں تعلیمی مواقع کم ہیں یا حصول تعلیم کی سہولتیں ناپید ہیں وہ ملک پسماندہ ہیں۔ وہاں روزگار کی کمی ہے۔ وہاں کے عوام تہذیب و شائستگی سے دور ہیں۔ ان کا بیشتر وقت جرائم میں گزرتا ہے۔ لیکن جو ممالک تعلیم یافتہ ہیں وہاں کے لوگ ترقی یافتہ ہیں۔ یہ
Abdul Mateen muniri Article
مورخہ ۷ / جولائی ملیہ مسجد میں ابھی نماز مغرب کے لئے صف بند ھ رہی تھی کہ اطلاع آئی کہ حافظ محمد اشفاق محمد حسینا صاحب نے داعی اجل کو لبیک کہا،اللہ تعالی نے انہیں رحم مادر ہی سے بینائی سے محروم اس دنیا میں بھیجا تھا، لیکن انہوں نے بینائی سے آنکھ کی محرومی کو دل کے بصیرت سے بدل دیا۔ یہ جناب الحاج محی الدین منیری کا دور نظامت تھا، ان کے والد ماجد نے اپنے نونہال کو جو بینائی سے مکمل محروم تھا، اور کسی شخص کے سہارے کے بغیرایک قدم چلنا بھی مشکل تھا، جامعہ آباد لے آئے تھے، انہ
Suhail Anjum Article
رام مندر میں چندہ چوری یا چڑھاوے میں بڑے پیمانے پر خردبرد کی خبر سے پوری دنیا کا میڈیا بھرا پڑا ہے۔ اس سنسنی خیز انکشاف کے نتیجے میں کئی پہلو سامنے آئے ہیں جن پر گفتگو ہو رہی ہے۔ ایودھیا میں جو بات بہت واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے اور جس پر مقامی باشندوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے وہ ہے شردھالوؤں کی آمد میں کمی اور مقامی روزگار کا ٹھپ پڑ جانا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رام مندر کے افتتاح کے بعد یہاں کاروبار میں بہت تیز اچھال آیا تھا۔ بالکل صبح سے ہی شردھالو درشن کرنے کے لیے قطار اندر قطار جمع ہ
Riyazur Rahman Akrami Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" صحنِ سلطانی کے قریب عوامی سہولیات کے پیشِ نظر شہر کی میونسپلٹی کی جانب سے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک ٹنکی قائم کی گئی تھی۔ محلے اور اطراف کی آبادی کے لوگ اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے۔ بعد ازاں وقت کے ساتھ ساتھ گھروں کے اندر الگ الگ پانی کی فراہمی کا نظام قائم ہوگیا، جس کے نتیجے میں اس عوامی ٹنکی کی ضرورت کم ہوتی گئی۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر میونسپلٹی نے عوامی سہولیات کے لیے اس مقام کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ ک
Suhail Anjum Article
’’بیشتر مغربی عوام جو کہ عالمی خبروں سے باخبر رہتے ہیں، سات ماہ کے فلسطینی بچے سیم فہد ابو ہیکل کے بارے میں شاید ہی کچھ جانتے ہوں جسے اسی ماہ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی علاقے میں چہرے پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ ان کو اس علاقے میں اسرائیلی افواج کی مسلسل بربریت کے بارے میں بھی شاید کچھ نہیں معلوم۔ مغربی عوام سنجیل جیسے فلسطینی مواضعات کے بارے میں شاید ہی کچھ جانتے ہوں جہاں خاردار تاروں کی باڑ لگی ہوئی ہے۔ لوگوں کو اپنی ہی زمینوں پر جانے سے روک دیا گیا ہے۔ خبروں میں ان
Riyazur Rahman Akrami Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" سلطانی محلے میں واقع معروف لیپڑی ہاؤس جناب سید محمد صاحب کی یاد گار ہے جو مقامی طور پر "وڑلے سیدا گھرے" کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ آپ اپنے خاندان کی ایک معزز اور باوقار شخصیت تھے اور علاقے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ جناب سید محمد صاحب کے چھوٹے بھائی جناب عبدالصمد بن سید عبدالقادر بن سید عبدالصمد سید محی الدینا (لیپڑی) تھے۔ ان کا رہائشی مکان کار اسٹریٹ میں واقع "صمد منزل" میں تھا، ج
Riyazur Rahman Nadwi Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" جناب حاجی احمد باپو بن حسن صاحب کوبٹے، بھٹکل کے نامور تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نہایت دین دار، با اخلاق اور اجتماعی خدمات کا جذبہ رکھنے والے انسان تھے۔ ان سے منسوب "کوبٹے ہاؤس" جو سلطانی مسجد کے سامنے واقع ایک تاریخی اور یادگار مکان تھا ؛ نہ صرف ان کی شخصیت کی عظمت کا آئینہ دار تھا، بلکہ بھٹکل کی قدیم تہذیبی وراثت کی بھی ایک خوبصورت جھلک پیش کرتا تھا۔ مرحوم عبدالحمید ابن حاجی احمد ابن حسن صاحب کوبٹے (مولانا مقبول احمد
Abdul Haleem Mansoor Article
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے سیاست میں بعض شخصیات محض حکومتیں نہیں چلاتی بلکہ امیدوں، توقعات اور نظریاتی دعوؤں کی علامت بن جاتی ہیں۔ ان کے فیصلوں کے اثرات صرف انتظامی ڈھانچے تک محدود نہیں رہتے بلکہ مختلف طبقات کے سیاسی اعتماد، سماجی احساسات اور مستقبل کی توقعات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ کرناٹک کی سیاست میں سدارامیا ایسی ہی ایک اہم اور بااثر شخصیت رہے ہیں۔ ایک ایسے رہنما جنہوں نے خود کو پسماندہ طبقات، کمزور طبقات اور اقلیتوں کے حقوق
Moulana Riyazur Rahman Akrami Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نماز کے لیے عیدگاہ میں مناسب انتظام اور آپس میں مشورہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عیدگاہ کمیٹی کی نشستیں باقاعدہ منعقد کی جاتی ہیں، اور یہ اعزاز سلطانی مسجد کو حاصل ہے یہ سلسلہ کافی عرصے سے منظم انداز سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ اسی طرح عید کے دنوں میں بچوں کا جوش و خروش بھی دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ جیسے ہی مسجد کے میناروں سے عیدین کی تکبیر کی آواز بلند ہوتی ہے، بچے خوشی خوشی مسجد کی طرف دوڑ پڑتے ہیں او
Riyazur Rahman Akrami Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" سلطانی محلے میں واقع محمد باپو ہاؤس (رکن الدین محمد صاحب محمد باپو)صدیوں سے علم و دین کا چراغ روشن کرتا آیا ہے۔ یہ گھر بھٹکل کی متعدد اہم شخصیات، اہلِ علم اور بزرگانِ دین کا مسکن رہا۔ ایک طویل عرصے تک قرآنِ مجید کی تعلیم اور دینی نصاب کی تدریس اسی گھر میں جاری رہی۔ اسی خاندان کی بزرگ خاتون بی بی عائشہ بنت احمد کبیر محمد باپو (عرف مامداپو خلفین) نہایت وجیہہ شخصیت کی مالک تھیں اور اپنے تقویٰ، وقار اور خاندانی عظمت کی وجہ سے پورے علاقے میں معروف
Riyazur Rahman Akrami Article
کچھ شخصیات اجداد کے ورثے سے ملی شہرت کے بجائے اپنے کام کے جنون سے پہچانی جاتی ہیں۔ جناب فاروق سید صاحب بھی ایسی ہی ایک باوقار اور باعمل شخصیت تھی جن کے انتقال کی خبر نے دنیائے ادب کو غم زدہ کر دیا۔ وہ بظاہر خاموش مزاج تھے، مگر ان کی زندگی کا ہر لمحہ بچوں کے ادب اور اردو زبان کی خدمت کی ایک روشن مثال تھا۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس مقصد کے لیے وقف کر دیا کہ نئی نسل کو ایسا ادب فراہم کیا جائے جو ان کے دل و دماغ کو سنوارے۔ ماہنامہ “گل بوٹے” اسی فکر اور جذبے کی نمائندگی کرتا ہے
Riyazur Rahman Akrami Nadwi Article - Part 15
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" سلطانی محلہ کی تاریخ میں حاجی محی الدین بن علی رکن الدین ایک نہایت ممتاز اور باوقار شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ اپنے عہد کے بڑے اور نامور تاجروں میں شمار ہوتے تھے اور کالیکٹ میں آپ کی تجارت نہایت وسیع اور مستحکم تھی۔ اس کے ساتھ آپ ایک سرکاری عہدے پر بھی فائز رہے، جس سے آپ کی دیانت، اہلیت اور سماجی وقار کا اندازہ ہوتا ہے۔ روحانی اعتبار سے آپ شیخِ وقت حضرت شیخ محمد جعفری حضرمی سے قریبی مراسم رک
Shaikh Faisal Malvi ( Death 08-05-2011)
*شیخ فیصل مولوی (وفات آج مورخہ ۸/ مئی شیخ فیصل مولوی کی یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات سنہ ۲۰۱۱ء بیروت لبنان میں ہوئی تھی۔ فیصل مولوی ایک فقیہ ، قاضی اور مفکر تھے، آپ کی زندگی تحریک اور دعوت میں گذری. لبنان دور عثمانی تک بنیادی طور پر ملک شام ہی کا حصہ تھا، لیکن اس پر فرانسیسی سامراج نے قبضہ کرکے جاتے جاتے اس پر عیسائی مارونی فرقہ کو حاوی کردیا، اور اختیارات مذہب اور فرقوں کی بنیاد پر بانٹ دئے، اس وقت سے یہاں دستوری طور پر صدر مارونی، وزیر اعظم سنی اور اسپیکر
Qurani Qanun Ka Nifaz By Abdul Majid Daryabadi
فلا تُطع الکافرین وجاھدھم بہ جھادًا کبیرًا۔ (فرقان، آیت 44) ایسا نہ ہو کہ کافروں کے کہنے میں آجاؤ، اُن کی بات مان لو، اُن کے آگے جھک جاؤ، بلکہ ان سے تو پُرزور مقابلہ کرو، ان کے مقابلہ میں اس قرآن کے ذریعہ سے جہاد اختیار کرو، اُنھیں اسی قرآن کی راہ پر قوت وراہِ ثبات کے ساتھ لاؤ، اور بُلاؤ۔ جاہدہم بہ میں ضمیر ہ قرآن کی جانب ہے، یعنی قرآن کے ذریعہ سے جہاد کرو، مقصود اورمطمح نظر قرآن ہی کے قانون کو رکھو۔ قرآن ہی کو ہاتھ میں لے کر اُٹھو، قرآن ہی کی راہ کا سب کو بُلاوادو، اور قرآن
Riyazur Rahman Akrami Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" سلطانی محلہ میں ایک پرانا تاریخی گھر تھا جسے سوداگر ہاؤس کہا جاتا ہے۔ یہ گھر ایک نیک دل اور محنتی شخص (سوداگر محمد صاحب محمد صدیقہ۔ 1830ء) کی یادگار تھا اور یہ مثل مشہور ہے ان کے گھر میں سفید ہاتھی بھی تھا ،اب یہ گھر زمین بوس کردیا گیا ہے (نزد دعوت سنیٹر) جوانی میں محمد صاحب کالی کٹ کے تاجر حاجی رکن الدین محی الدین کا مال لے کر آس پاس کے قصبوں اور بستیوں میں فروخت کرتے تھے۔ وہ بازار، لوگ اور تجارت کو اچھی طرح جانتے تھے۔ ہر دن ایک نئی
Ilm Basjari Ki Babasi
امریکی اور یورپی، بیسیوں فضلائے عصر اور ماہرین فن کی لکھی ہوئی ، اور سرجان ہیمرٹن کی مرتب کی ہوئی ، ضخیم ’یونیورسل ہسٹری آف دی ورلڈ‘‘ علوم وفنون پر گویا تحقیق جدید کا آخر ی لفظ ہے۔ آخری جلد میں ختم کلام کے قریب ایک مستقل باب ہے ’’جدید فلسفۂ سائنس‘‘ (نیو فلاسفی آف سائنس) ، ایک مادّیت نواز کے قلم سے۔ اول سے آخرتک پڑھنے کے قابل۔ سوچنے سمجھنے کے قابل۔ اس کے آخر میں ارشاد ہوتاہے:- ’’موجودہ علوم فلسفیہ نے اگرچہ بہت سے قدیم مابعد الطبیعاتی م
Moulana Qazi Shabbir Manki
آج مورخۃ ۲۱ / اپریل علی الصبح بھٹکل کے مضافاتی قصبے منکی سے مولانا قاضی محمد شبیر صاحب کے انتقال کی خبر نے دل کو ملول کردیا۔ گزشتہ کافی عرصے سے پیرانہ سالی کے امراض نے انہیں صاحب فراش کردیا تھا، گذشتہ ۱۸ رمضان المبارک کو آپ کی عیادت کے لئے احباب کے ساتھ جانا ہوا تھا، جسم میں اٹھنے بیٹھنے کی سکت نہیں تھی، جسم ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن گیا تھا، لیکن ہوش وحواس ابھی باقی تھے، ایک طویل عرصہ بعد انہوں نے ہمیں دیکھا تھا، پر بھی محسوس نہیں ہوا کہ ہمیں پہچاننے میں انہیں کوئی دشواری ہوئی ہو۔ آواز دھ
Aimmah Mudarrsin aur tijarat
دو روز قبل ایک گروپ پر علماء و اہل علم کی تجارت سے وابستگی اور ان کی خوشحالی سے متعلق ایک بحث چلی تھی، جس میں مولانا نور الحسن کاندھلوی دامت برکاتھم جیسے بزرگوں نے بھی اظہار خیال کیا تھا، اور ہمارے کئی ایک اکابر کے اسوہ پر روشنی ڈالی تھی۔ برسبیل تذکرہ اس تعلق سے چند باتیں ہمارے ذہن میں یاد آرہی ہیں۔ ۱۹۷۹ء میں جب اس ناچیز کا تلاش معاش میں دبی جانا ہوا تھا، تو ابتدا ہی میں جن بزرگوں کی شفقت نصیب ہوئی تھی ،ان میں ایک مصری بزرگ تھے شیخ عبد البدیع صقر رحمۃ اللہ علیہ ، جنہیں(12) سال تک مکتب