Search results

Search results for ''


Abdul Haleem Mansoor

Abdul Haleem Mansoor Other

مکان اپنا وہیں تھا، اب تو ویرانی ہے میرؔ  کیا خبر تھی کہ یوں انجامِ مکاں ہوگا   شہرِ گلستان بنگلورو میں بلڈوزر کی گونج اب محض تعمیراتی کارروائی کی آواز نہیں رہی، بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا اعلان بن چکی ہے کہ کمزور طبقات کیلئے شہری زندگی دن بہ دن زیادہ غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔ کوگیلو لے آؤٹ کی انہدامی کارروائی کے زخم ابھی مندمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ ایک اور مسلم اکثریتی علاقہ تھنی سندرا میں ایک اور بلڈوزر کارروائی نے درجنوں خاندانوں کو یکلخت بے گھر کر دیا۔ یہ کارروائی محض زمین کی

Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" بھٹکل میں ایک زمانے تک فطرہ کی تقسیم کا کوئی نظام نہیں تھا٬ عیدالفطر کی رات مستحقین فطرہ لینے کے لیے گھر گھر جاتے اور کئی لوگ شرم اور عزتِ نفس کی وجہ سے اپنے گھروں سے نہیں نکلتے تھے اور ان تک صدقہ فطر نہیں پہنچ پاتا تھا۔  لہذا یہ صورتِ حال  نوجوانوں کے لیے فکر کا باعث بنی کہ اس کام کو  بہتر، باعزت اور منظم طریقے سے کیا جانا چاہئے۔ اسی سوچ  کے ساتھ سب سے پہلے علوا محلہ میں شوال المکرم 1405ھ مطابق جون 1985ء میں فطرہ جمع کرنے کا آ

Abdul Haleem Mansoor Article

Abdul Haleem Mansoor Other

؀ یہی تو وقت ہے، جو ہم نہ سمجھ سکے کہ ایک عمر لگ جاتی ہے، عمر کو بچاتے ہوئے اکیسویں صدی میں سوشل میڈیا محض ایک سہولت یا تفریحی ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ انسانی زندگی کا ایسا طاقتور جزو بن چکا ہے جو سوچنے کے انداز، سماجی رویّوں، تعلقات کی نوعیت اور اقدار کے پیمانوں تک کو متاثر کر رہا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ایکس، اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے جہاں اظہارِ رائے کو نئی وسعت دی، وہیں انسانی وجود کو ایک ایسی ڈیجیٹل گردش میں مبتلا کر دیا جہاں رفتار بڑھتی جا رہی ہے مگر فہم، ٹھہراؤ اور گہرائی بتدریج کمزو

Suhail Anjum Article

Suhail Anjum Other

2025 عالمی سطح پر صحافیوں کے لیے تاریخ کے بدترین سال کی حیثیت سے گزرا ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ سال صحافیوں کے لیے سب سے خونیں سال ثابت ہوا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ اس سال کے اختتام تک آتے آتے صحافیوں کی متعدد عالمی تنظیموں نے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں وہ تشویش ناک ہیں۔ ان کے مطابق صرف اسی ایک سال میں دنیا بھر میں 128صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ مزید افسوسناک اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مغربی ایشیا سب سے خطرناک ثابت ہوا ہے اور اس میں بھی فلسطینی صحافی

Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

 "دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"   بھٹکل اور اطراف  واکناف میں دینی، دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں کو منظم انداز میں انجام دینے کے لیے اسلامک مشن آف کرناٹک (دعوت سینٹر، سلطانی محلہ، بالمقابل محتشم روڈا ہاؤس) کا افتتاح 27 ذی الحجہ 1418ھ مطابق 24 اپریل 1998ء، بروز جمعہ بعد نمازِ عصر حضرت مولانا سراج الحسن صاحب (امیر جماعت اسلامی ہند) کے دستِ مبارک سے عمل میں آیا۔ یہ دعوت سینٹر دینی خدمات کے ساتھ ساتھ رفاہی اور سماجی سہولیات کا بھی مرکز ہے، جہاں جماعت اسلامی کا آفس، سیو

Naya Sal

Abdul Majid Daryabadi Sachchi Batain

ء 1962عیسوی شروع ہوئے ہی ابھی کے دن ہوئے تھے کہ جیسے پلک مارتے ہی گزر گیا۔ جیسا کہ ہر سال گزر جاتاہے۔ اور 63ء شروع ہوئے بھی کئی دن ہوگئے! نیاسال دیکھتے ہی دیکھتے کس برق رفتاری سے پُرانا سال بن گیا !کیسے کیسے منصوبے نئے سال سے متعلق بندھ رہے تھے اور کیا کیا نقشے تیار ہورہے تھے ! کچھ پورے اور کامیاب۔ کچھ ناکام وناتمام۔ بہرحال سب کے سب آنًا فانًا باسی اور فرسودہ ہوکر رہ گئے!……مدّت عمر بہ قدر ایک سال کے اور کم ہوگئی۔ مہلت عمر ایک سال کی اور گھٹ گئی! سوچئے اور صرف یہ سوچئے، کہ اس عزیز

Suhail Anjum Article

Suhail Anjum Other

ایک طرف حکومت ہند یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتی کہ ہندوستان عالمی قائد یا وشو گرو بن چکا ہے اور گزشتہ کچھ برسوں میں ملک میں بے پناہ ترقی ہوئی ہے، وہ تیزی سے ابھرنے والی معیشت بن گئی ہے اور ادھر دوسری طرف انہی برسوں کے دوران لاکھوں افراد ہندوستانی شہریت ترک کرکے دوسرے ملکوں میں مستقل طور پر آباد ہو چکے ہیں۔ حکومت ہی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 14 برسوں میں 20 لاکھ سے زائد ہندوستانی اپنی شہریت چھوڑ کر غیر ملکوں میں جا چکے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف اسی دوران لوگ اپنی شہریت چھوڑتے رہے ہیں بلکہ پہلے بھی

Rajab Ki Rusumat

Abdul Majid Daryabadi Sachchi Batain

  اسلامی دنیا میں یہ مہینہ رجب کے نام سے موسوم ہے ، ایک ضعیف روایت یہ پھیلی ہوئی ہے کہ رسول خدا ﷺ کی معراج مبارک اسی مہینہ میں ہوئی تھی۔ بہت سے مسلمان اس روایت کو مان کر ، اس مہینہ میں طرح طرح کی خوشی کرتے ، اور بہت سی رسمیں بجا لاتے ہیں۔ اول تو یہ روایت ہی ثبوت کو نہیں پہنچی ہے، لیکن جو لوگ اس کے ماننے ہی پر زور دے رہے ہیں ، ذرا وہ اپنے دل میں سوچیں، کہ اس کے ماننے کے بعد خوشی منانے کا کیا طریقہ ہونا چاہئے۔ آیا وہی جس کے وہ عادی ہیں ، یا کچھ اور ! ایسا نہ ہو کہ ہم خوشی منانے کا کوئی ای

Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"  سلطانی مسجد کا صحن علم و عرفان، بیداری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ایک زمانہ تھا جب یہاں سے اصلاحی تحریکیں اور فکری مجالس کا آغاز ہوتاتھا اور قوم کو نئی سمت ملتی تھی۔ صحنِ سلطانی میں وہ مناظر بھی دیکھے گئے ہیں جب برصغیر کے بڑے بڑے علماء کرام اور اولیاء اللہ نے اپنی جاندار تقاریر سے عوام کے دلوں کو منور کیا۔ انہی میں ایک نام وہ بھی ہے جو دارالعلوم دیوبند کی نصف صدی تک امامت و قیادت کرنے والے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللہ(1897ء تا 1

Suhail Anjum Article

Suhail Anjum Other

کیرالہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے ہیں اگر وہ مستقبل کی سیاست کا کوئی اشارہ ہیں تو اس کا مفہوم یہی ہے کہ اب وہاں بائیں بازو کی اجارہ داری ختم ہو رہی ہے اور کانگریس کی قیادت والے متحدہ محاذ (یو ڈی ایف) کے برسراقتدار آنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ کیرالہ کے مقامی انتخابات کے نتائج کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا۔ ان کی بڑی اہمیت ہے اور یہ اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہاں اگلے سال مارچ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس وقت جو نتائج سامنے آئے ہیں اگر یہی رجحان جاری رہا

Riyazur Rahman Akrami Article on Master Saifullah

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

           ماسٹر سیف اللہ صاحب کے انتقال کی غمناک خبر سن کر دل ٹوٹ سا گیا کہ ہم سب کے مشفق، ہر دلعزیز، حسن اخلاق اور اخلاص و وفا کے پیکر، سینکڑوں دلوں کی دھڑکن استادِ محترم جناب ماسٹر سیفُ اللہ صاحب اس فانی دنیا کو چھوڑ کر اپنے ربّ کے حضور حاضر ہوگئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔   ماسٹر صاحب نے اعلیٰ عصری تعلیم حاصل کی تھی ٬لیکن اس کے باوجود آپ نے بڑے خلوص اور قربانی کے ساتھ جامعہ اسلامیہ میں تدریسی خدمات کو منتخب کیا ۔ آپ گوا کے ایک اسکول میں تدریسی خدم

Saifullah Master By Abdul Mateen Muniri

Abdul Mateen Muniri Yadaun Kay Chiragh

آج بروز جمعرات مورخہ 11 / دسمبر بعد نماز ظہر جناب سیف اللہ سرگرو صاحب  کو جو سیف اللہ ماسٹر کے نام سے بھٹکل میں مشہور تھے، نوائط کالونی بھٹکل کے قبرستان میں ہزاروں اشک بار آنکھوں اور دکھے دلوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا، بعد نماز ظہر تنظیم ملیہ مسجد میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی گئی تھی، جو مصلیان کے جمگھٹے میں  نماز جمعہ اور عیدین کا منظر پیش کررہی تھی، یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ اپنے جاننے والوں کے دلوں میں بستے تھے، اور ان کے محبوب اور چہیتے تھے، کیا بعید کہ جس آخری منزل پر وہ رواں

Shuhrat aur Maqbuliat Ka miyar

Abdul Majid Daryabadi Sachchi Batain

’’عمومی اور اکثری حیثیت سے تو یونان کی تاریخ، باعصمت خواتین کے ناموں سے، کہنا چاہئے کہ خالی ہی ہے……جن عورتوں کو شہرت ومقبولیت نصیب تھی، وہ تمامتر عصمت فروش طبقہ ہی سے تعلق رکھتی تھیں‘‘۔ (لیکیؔ، ہسٹری آف یوروپین مارلس‘‘ جلد 2، ص: 122) یہ خلاصۂ تحقیق ہے قدیم یورپ ، یعنی یونان ورومہ کے مؤرخ ِ اخلاق ومعاشرت کا۔ آگے چل کر صراحتیں ہیں، کہ مقدس مندروں اور معبدوں کے اندر جو دیویوں کے بُت رکھے جاتے تھے، اُن کے لئے نمونہ (ماڈل) کا کام اسی طبقہ کی عورت

Riyazur Rahaman Akrami Nadwi Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" سلطانی محلہ—بھٹکل کی علمی و دینی تاریخ کا وہ روشن گوشہ جہاں ماضی کی عظمت آج بھی سانس لیتی دکھائی دیتی ہے۔  اسی سرزمین پر قائم گورنمنٹ اردو زنانہ اسکول اور جامعاتُ الصالحات جیسے ادارے اس حقیقت کی زندہ مثال ہیں کہ جب اخلاص، قربانی اور روشن فکر یکجا ہوجائیں تو دیوار و در دوبارہ زندگی پاتے ہیں اور تاریخ نئی جہتوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ سلطانی مسجد کے ایک جانب واقع لڑکیوں کا اردو گورنمنٹ زنانہ اسکول بھٹکل کی علمی و تعلیمی تاریخ کا روشن باب ہے۔ 2

Aziz Belguami

Abdul Mateen Muniri Yadaun Kay Chiragh

   آج علی الصبح بنگلور سے عزیز بلگامی کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے اطلاع نے دل ودماغ کوبہت مغموم کردیا، آپ نے اس جہان فانی میں (71) سال گذارے۔ آپ کی پیدائش کرناٹک کے ضلع بلگام کے گاؤں کڑچی میں یکم مئی 1954 کو ہوئی تھی، آپ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس نے آج سے سوا دو سو سال قبل  سلطنت خداداد کے دور میں  مقامی حکمران کی حیثیت سے سلطان ٹیپو شہیدؒ کا ساتھ دیا تھا، لہذا آپ کے خانوادے کے ساتھ جمعدار لقب لگتا تھا۔ اس لئے آپ کے والد ماجد محمد اسحاق مرحوم جمعدار کہ

Suhail Anjum Article

Suhail Anjum Other

آجکل ایک ایسی خبر میڈیا میں گردش کر رہی ہے جس کو پڑھ کر بے شمار زخموں کے بند کھل گئے ہیں۔ وہ زخم جو ماب لنچنگ سے ملے اور جن کے متاثرین آج تک انصاف سے محروم ہیں۔ خبر یہ ہے کہ اترپردیش میں دادری کے بساہڑہ گاوں کے محمد اخلاق کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے والوں کے خلاف قائم مقدمات واپس لینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اترپردیش کی حکومت نے اس سلسلے میں عدالت میں ایک درخواست داخل کی ہے۔ ریاست کے اسپیشل سکریٹری مکیش کمار نے گوتم بدھ نگر کے ڈی ایم کو خط لکھ کر مقدمہ واپس لینے کی منظوری دی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ایڈووک

Insani ijadat Ki Bay Basi

Abdul Majid Daryabadi Sachchi Batain

طیّارہ، یا عوامی زبان میں، ہوائی جہاز بھی اب کوئی نئی یا نامانوس چیز رہے ہیں؟ جیسے ریل، جیسے موٹر، جیسے لاری، جیسے ٹرام، جیسے موٹر سائکل، جیسے اسٹیمر، جیسے جہاز، ویسے یہ ہوائی جہاز۔ ہرروز، ہروقت اِدھر سے اُدھر اُڑتے پھرتے ہی رہتے ہیں۔ اور ہندوستان اور انگلستان کے درمیان تو ڈاک اورمسافر جہازوں کا ، ’’بادِ ہوائی ‘‘ نہیں، باضابطہ ہوائی سلسلہ مدت سے قائم ہے۔ یکم مارچ کو ایک طاقتور سرکاری ہوائی جہاز ، ہینی بال نام، ایک نہیں، چارچار پُرقوت انجن رکھنے والا، کراچی سے لندن کے لئے

Abdul Haleem Mansoor Article

Abdul Haleem Mansoor Other

؎ تو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول لیلیٰ بھی ہو نصیب تو محمل نہ کر قبول   ٹیپو سلطان شہیدؒ کا نام ہندوستان کی تاریخ میں صرف ایک حکمران کے طور پر نہیں آتا بلکہ بہادری، عزتِ نفس، عدل و انصاف اور آزادی کی علامت کے طور پر جگمگاتا ہے۔ وہ برصغیر کے پہلے ایسے حکمران تھے جنہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو للکارا، اپنی سلطنت کے وسائل جدید خطوط پر استوار کیے، اور آزادی کی وہ شمع روشن کی جس کی روشنی آج تک مدھم نہیں ہوئی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سیاست نے اس عظیم شخصیت کو بھی اپنے