Search results

Search results for ''


Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

   "دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"   سلطانی محلہ کے گھروں  میں امباری ہاؤس ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس گھر میں تقریباً بارہ خاندان (کوڑیو) ایک ساتھ رہتے تھے،اس گھر سے کئی معزز‌ شخصیات وابستہ رہیں،  ان میں جناب عبدالمجید شاہ بندری، جناب عبدالرحیم شاہ بندری اور جناب ابوالحسن نائیطے،(عبدالرؤف نائیطے کے والد جناب ناشط نائیطے دادا)  شامل ہیں۔ اسی طرح جناب سید خلیل الرحمٰن (سی اے) کی والدہ محترمہ، جناب شیکرے زین العابدین کی وال

Abdul Haleem Mansoor Article

Abdul Haleem Mansoor Other

ہندوستان کی خلائی کامیابیوں کا ذکر ہوتے ہی ذہن میں چندریان، منگلیان، آدتیہ-ایل ون اور آئندہ انسانی خلائی مشن "گگنیان" کی تصویریں ابھرتی ہیں۔ لیکن ان تمام کامیابیوں کی اصل بنیاد نہ راکٹ ہیں، نہ لانچ پیڈ اور نہ جدید تجربہ گاہیں، بلکہ وہ ہزاروں سائنس دان، انجینئر اور تکنیکی ماہرین ہیں جنہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصے میں محدود وسائل کے باوجود ہندوستان کو دنیا کی ممتاز خلائی طاقتوں میں شامل کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اِسرو (ISRO) سے تجربہ کار سائنس دانوں کے مسلسل استعفوں اور حکومت کی جانب سے ر

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" صحنِ سلطانی کے قریب  جہاں ہر صبح دور دور سے لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات خریدنے آتے ہیں۔ یہاں تازہ ترکاریاں، پھل اور دوسری کھانے پینے کی چیزیں مناسب قیمت پر ملتی ہیں۔ اسی صحن کے قریب ایک پرانی گوشت مارکیٹ بھی ہے، جو میونسپلٹی کی عمارت میں کرایہ پرچلتی ہے۔ یہاں بکرے اور بڑے کا تازہ گوشت مناسب داموں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا جب اس مارکیٹ میں گوشت کی بہت سی دکانیں تھیں، لیکن اب صرف چند دکانیں ہی رہ گئی ہیں۔ اس مارکیٹ کے مشہور گوشت فروشوں

Suhail Anjum article

Suhail Anjum Other

یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ گھر واپسی کا آر ایس ایس اور بی جے پی کا نظریہ اب بنگلہ دیش پہنچنے والا ہے۔ اسے یوں سمجھیے کہ بنگلہ دیش کی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کی جو کہ 1994 سے جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں، گھر واپسی ہونے والی ہے۔ اگرچہ یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی لیکن قیاس آرائی ضرور کی جا سکتی ہے اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ بنے گی مغربی بنگال میں قائم ہونے والی بی جے پی کی حکومت۔ ابھی سردست اس کا ریہرسل ہونے جا رہا ہے۔ یکم اگست کو کلکتہ کے رابندر سدن میں مبینہ مذہبی بنیاد پرستوں کے

Suhail Anjum Article

Suhail Anjum Other

تعلیم کو ترقی کا زینہ قرار دیا گیا ہے۔ جو قومیں تعلیم میں پیچھے ہیں وہ تمام شعبہ ہائے حیات میں پیچھے ہیں۔ تعلیم ایک ایسا زیور ہے جو ایک انسان کو مہذب بناتا اور دنیاوی مقابلے اور چیلنجز کا سامنا کرنے کا اہل بناتا ہے۔ اگر آپ دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جن ملکوں میں تعلیمی مواقع کم ہیں یا حصول تعلیم کی سہولتیں ناپید ہیں وہ ملک پسماندہ ہیں۔ وہاں روزگار کی کمی ہے۔ وہاں کے عوام تہذیب و شائستگی سے دور ہیں۔ ان کا بیشتر وقت جرائم میں گزرتا ہے۔ لیکن جو ممالک تعلیم یافتہ ہیں وہاں کے لوگ ترقی یافتہ ہیں۔ یہ

Abdul Mateen muniri Article

Abdul Mateen Muniri Personality

مورخہ ۷ / جولائی ملیہ مسجد میں ابھی نماز مغرب  کے لئے صف بند ھ رہی تھی کہ اطلاع آئی کہ حافظ محمد اشفاق محمد حسینا صاحب نے داعی اجل کو لبیک کہا،اللہ تعالی نے انہیں رحم مادر ہی سے بینائی سے محروم اس دنیا میں بھیجا تھا، لیکن انہوں نے بینائی سے آنکھ کی محرومی کو دل کے بصیرت سے بدل دیا۔ یہ جناب الحاج محی الدین منیری کا دور نظامت تھا، ان کے والد ماجد نے اپنے نونہال کو جو بینائی سے مکمل  محروم تھا، اور کسی شخص کے سہارے کے بغیرایک قدم  چلنا بھی مشکل تھا، جامعہ آباد لے آئے تھے، انہ

Suhail Anjum Article

Suhail Anjum Other

رام مندر میں چندہ چوری یا چڑھاوے میں بڑے پیمانے پر خردبرد کی خبر سے پوری دنیا کا میڈیا بھرا پڑا ہے۔ اس سنسنی خیز انکشاف کے نتیجے میں کئی پہلو سامنے آئے ہیں جن پر گفتگو ہو رہی ہے۔ ایودھیا میں جو بات بہت واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے اور جس پر مقامی باشندوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے وہ ہے شردھالوؤں کی آمد میں کمی اور مقامی روزگار کا ٹھپ پڑ جانا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رام مندر کے افتتاح کے بعد یہاں کاروبار میں بہت تیز اچھال آیا تھا۔ بالکل صبح سے ہی شردھالو درشن کرنے کے لیے قطار اندر قطار جمع ہ

Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

  "دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"   صحنِ سلطانی کے قریب عوامی سہولیات کے پیشِ نظر شہر کی میونسپلٹی کی جانب سے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک ٹنکی قائم کی گئی تھی۔ محلے اور اطراف کی آبادی کے لوگ اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے۔ بعد ازاں وقت کے ساتھ ساتھ گھروں کے اندر الگ الگ پانی کی فراہمی کا نظام قائم ہوگیا، جس کے نتیجے میں اس عوامی ٹنکی کی ضرورت کم ہوتی گئی۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر میونسپلٹی نے عوامی سہولیات کے لیے اس مقام کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ ک

Suhail Anjum Article

Suhail Anjum Other

’’بیشتر مغربی عوام جو کہ عالمی خبروں سے باخبر رہتے ہیں، سات ماہ کے فلسطینی بچے سیم فہد ابو ہیکل کے بارے میں شاید ہی کچھ جانتے ہوں جسے اسی ماہ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی علاقے میں چہرے پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ ان کو اس علاقے میں اسرائیلی افواج کی مسلسل بربریت کے بارے میں بھی شاید کچھ نہیں معلوم۔ مغربی عوام سنجیل جیسے فلسطینی مواضعات کے بارے میں شاید ہی کچھ جانتے ہوں جہاں خاردار تاروں کی باڑ لگی ہوئی ہے۔ لوگوں کو اپنی ہی زمینوں پر جانے سے روک دیا گیا ہے۔ خبروں میں ان

Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

 "دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"     سلطانی محلے میں واقع معروف لیپڑی ہاؤس جناب سید محمد صاحب کی یاد گار ہے جو مقامی طور پر "وڑلے سیدا گھرے" کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ آپ اپنے خاندان کی ایک معزز اور باوقار شخصیت تھے اور علاقے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ جناب سید محمد صاحب کے چھوٹے بھائی جناب عبدالصمد بن سید عبدالقادر بن سید عبدالصمد سید محی الدینا (لیپڑی) تھے۔ ان کا رہائشی مکان  کار اسٹریٹ میں واقع "صمد منزل" میں تھا، ج

Riyazur Rahman Nadwi Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"     جناب حاجی احمد باپو بن حسن صاحب کوبٹے، بھٹکل کے نامور تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نہایت دین دار، با اخلاق اور اجتماعی خدمات کا جذبہ رکھنے والے انسان تھے۔ ان سے منسوب "کوبٹے ہاؤس" جو سلطانی مسجد کے سامنے واقع ایک تاریخی اور یادگار مکان تھا ؛ نہ صرف ان کی شخصیت کی عظمت کا آئینہ دار تھا، بلکہ بھٹکل کی قدیم تہذیبی وراثت کی بھی ایک خوبصورت جھلک پیش کرتا تھا۔ مرحوم عبدالحمید ابن حاجی احمد ابن حسن صاحب کوبٹے (مولانا مقبول احمد

Abdul Haleem Mansoor Article

Abdul Haleem Mansoor Other

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے   سیاست میں بعض شخصیات محض حکومتیں نہیں چلاتی بلکہ امیدوں، توقعات اور نظریاتی دعوؤں کی علامت بن جاتی ہیں۔ ان کے فیصلوں کے اثرات صرف انتظامی ڈھانچے تک محدود نہیں رہتے بلکہ مختلف طبقات کے سیاسی اعتماد، سماجی احساسات اور مستقبل کی توقعات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ کرناٹک کی سیاست میں سدارامیا ایسی ہی ایک اہم اور بااثر شخصیت رہے ہیں۔ ایک ایسے رہنما جنہوں نے خود کو پسماندہ طبقات، کمزور طبقات اور اقلیتوں کے حقوق

Moulana Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

   "دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نماز کے لیے عیدگاہ میں مناسب انتظام اور آپس میں مشورہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عیدگاہ کمیٹی کی نشستیں باقاعدہ منعقد کی جاتی ہیں، اور یہ اعزاز سلطانی مسجد کو حاصل ہے یہ سلسلہ کافی عرصے سے منظم انداز سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ اسی طرح عید کے دنوں میں بچوں کا جوش و خروش بھی دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ جیسے ہی مسجد کے میناروں سے عیدین کی تکبیر کی آواز بلند ہوتی ہے، بچے خوشی خوشی مسجد کی طرف دوڑ پڑتے ہیں او

Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

 "دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" سلطانی محلے میں واقع محمد باپو ہاؤس (رکن الدین محمد صاحب محمد باپو)صدیوں سے علم و دین کا چراغ روشن کرتا آیا ہے۔ یہ گھر بھٹکل کی متعدد اہم شخصیات، اہلِ علم اور بزرگانِ دین کا مسکن رہا۔ ایک طویل عرصے تک قرآنِ مجید کی تعلیم اور دینی نصاب کی تدریس اسی گھر میں جاری رہی۔ اسی خاندان کی بزرگ خاتون بی بی عائشہ بنت احمد کبیر محمد باپو (عرف مامداپو خلفین) نہایت وجیہہ شخصیت کی مالک تھیں اور اپنے تقویٰ، وقار اور خاندانی عظمت کی وجہ سے پورے علاقے میں معروف

Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

کچھ شخصیات اجداد کے ورثے سے ملی شہرت کے بجائے اپنے کام کے جنون سے پہچانی جاتی ہیں۔ جناب فاروق سید صاحب بھی ایسی ہی ایک باوقار اور باعمل شخصیت تھی جن کے انتقال کی خبر نے دنیائے ادب کو غم زدہ کر دیا۔ وہ بظاہر خاموش مزاج تھے، مگر ان کی زندگی کا ہر لمحہ بچوں کے ادب اور اردو زبان کی خدمت کی ایک روشن مثال تھا۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس مقصد کے لیے وقف کر دیا کہ نئی نسل کو ایسا ادب فراہم کیا جائے جو ان کے دل و دماغ کو سنوارے۔ ماہنامہ “گل بوٹے” اسی فکر اور جذبے کی نمائندگی کرتا ہے

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Article - Part 15

Riyazur Rahman Akrami Nadwi Other

   "دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"     سلطانی محلہ کی تاریخ میں حاجی محی الدین بن علی رکن الدین ایک نہایت ممتاز اور باوقار شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ اپنے عہد کے بڑے اور نامور تاجروں میں شمار ہوتے تھے اور کالیکٹ میں آپ کی تجارت نہایت وسیع اور مستحکم تھی۔ اس کے ساتھ  آپ ایک سرکاری عہدے پر بھی فائز رہے، جس سے آپ کی دیانت، اہلیت اور سماجی وقار کا اندازہ ہوتا ہے۔   روحانی اعتبار سے آپ شیخِ وقت حضرت شیخ محمد جعفری حضرمی سے قریبی مراسم رک

Shaikh Faisal Malvi ( Death 08-05-2011)

Abdul Mateen Muniri Yadaun Kay Chiragh

*شیخ فیصل مولوی (وفات  آج مورخہ ۸/ مئی شیخ فیصل مولوی کی یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات سنہ ۲۰۱۱ء بیروت لبنان میں ہوئی تھی۔ فیصل مولوی ایک فقیہ ، قاضی اور مفکر تھے، آپ کی زندگی تحریک اور دعوت میں گذری.  لبنان  دور عثمانی تک  بنیادی طور پر ملک شام ہی کا حصہ تھا، لیکن اس پر فرانسیسی سامراج نے قبضہ کرکے جاتے جاتے اس پر عیسائی مارونی فرقہ کو حاوی کردیا، اور اختیارات مذہب اور فرقوں کی بنیاد پر بانٹ دئے، اس وقت سے یہاں دستوری طور پر صدر مارونی، وزیر اعظم  سنی اور اسپیکر

Qurani Qanun Ka Nifaz By Abdul Majid Daryabadi

Abdul Majid Daryabadi Sachchi Batain

فلا تُطع الکافرین وجاھدھم بہ جھادًا کبیرًا۔ (فرقان، آیت 44) ایسا نہ ہو کہ کافروں کے کہنے میں آجاؤ، اُن کی بات مان لو، اُن کے آگے جھک جاؤ، بلکہ ان سے تو پُرزور مقابلہ کرو، ان کے مقابلہ میں اس قرآن کے ذریعہ سے جہاد اختیار کرو، اُنھیں اسی قرآن کی راہ پر قوت وراہِ ثبات کے ساتھ لاؤ، اور بُلاؤ۔ جاہدہم بہ میں ضمیر ہ قرآن کی جانب ہے، یعنی قرآن کے ذریعہ سے جہاد کرو، مقصود اورمطمح نظر قرآن ہی کے قانون کو رکھو۔ قرآن ہی کو ہاتھ میں لے کر اُٹھو، قرآن ہی کی راہ کا سب کو بُلاوادو، اور قرآن