Search results
Search results for ''
Translation missing en.article.articleCategories
Translation missing en.article.articleAuthors
Abdul Haleem Mansoor
Abdul Majid Daryabadi
Abdul Mateen Muniri
Abdur Raqeeb M.J Nadwi
Ahmed Hatib Siddiqui
Asif Jilani
Athar Hashmi
Bhatkallys
Dr Badrul Hasan Qasmi
Dr Haneef Shabab
Dr. F Abdur Rahim
Dr. Tahir Masud
Hafiz Naumani
Kaldip Nayar
Masoom Muradabadi
Masud Ahmed Barkati
Mohammed Mateen Khalid
Muhammed Furqan
Nizamuddin Nadwi
Riyazur Rahman Akrami Nadwi
Suhail Anjum
Riyazur Rahman Akrami Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" سلطانی محلے میں واقع محمد باپو ہاؤس (رکن الدین محمد صاحب محمد باپو)صدیوں سے علم و دین کا چراغ روشن کرتا آیا ہے۔ یہ گھر بھٹکل کی متعدد اہم شخصیات، اہلِ علم اور بزرگانِ دین کا مسکن رہا۔ ایک طویل عرصے تک قرآنِ مجید کی تعلیم اور دینی نصاب کی تدریس اسی گھر میں جاری رہی۔ اسی خاندان کی بزرگ خاتون بی بی عائشہ بنت احمد کبیر محمد باپو (عرف مامداپو خلفین) نہایت وجیہہ شخصیت کی مالک تھیں اور اپنے تقویٰ، وقار اور خاندانی عظمت کی وجہ سے پورے علاقے میں معروف
Riyazur Rahman Akrami Article
کچھ شخصیات اجداد کے ورثے سے ملی شہرت کے بجائے اپنے کام کے جنون سے پہچانی جاتی ہیں۔ جناب فاروق سید صاحب بھی ایسی ہی ایک باوقار اور باعمل شخصیت تھی جن کے انتقال کی خبر نے دنیائے ادب کو غم زدہ کر دیا۔ وہ بظاہر خاموش مزاج تھے، مگر ان کی زندگی کا ہر لمحہ بچوں کے ادب اور اردو زبان کی خدمت کی ایک روشن مثال تھا۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس مقصد کے لیے وقف کر دیا کہ نئی نسل کو ایسا ادب فراہم کیا جائے جو ان کے دل و دماغ کو سنوارے۔ ماہنامہ “گل بوٹے” اسی فکر اور جذبے کی نمائندگی کرتا ہے
Riyazur Rahman Akrami Nadwi Article - Part 15
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" سلطانی محلہ کی تاریخ میں حاجی محی الدین بن علی رکن الدین ایک نہایت ممتاز اور باوقار شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ اپنے عہد کے بڑے اور نامور تاجروں میں شمار ہوتے تھے اور کالیکٹ میں آپ کی تجارت نہایت وسیع اور مستحکم تھی۔ اس کے ساتھ آپ ایک سرکاری عہدے پر بھی فائز رہے، جس سے آپ کی دیانت، اہلیت اور سماجی وقار کا اندازہ ہوتا ہے۔ روحانی اعتبار سے آپ شیخِ وقت حضرت شیخ محمد جعفری حضرمی سے قریبی مراسم رک
Shaikh Faisal Malvi ( Death 08-05-2011)
*شیخ فیصل مولوی (وفات آج مورخہ ۸/ مئی شیخ فیصل مولوی کی یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات سنہ ۲۰۱۱ء بیروت لبنان میں ہوئی تھی۔ فیصل مولوی ایک فقیہ ، قاضی اور مفکر تھے، آپ کی زندگی تحریک اور دعوت میں گذری. لبنان دور عثمانی تک بنیادی طور پر ملک شام ہی کا حصہ تھا، لیکن اس پر فرانسیسی سامراج نے قبضہ کرکے جاتے جاتے اس پر عیسائی مارونی فرقہ کو حاوی کردیا، اور اختیارات مذہب اور فرقوں کی بنیاد پر بانٹ دئے، اس وقت سے یہاں دستوری طور پر صدر مارونی، وزیر اعظم سنی اور اسپیکر
Qurani Qanun Ka Nifaz By Abdul Majid Daryabadi
فلا تُطع الکافرین وجاھدھم بہ جھادًا کبیرًا۔ (فرقان، آیت 44) ایسا نہ ہو کہ کافروں کے کہنے میں آجاؤ، اُن کی بات مان لو، اُن کے آگے جھک جاؤ، بلکہ ان سے تو پُرزور مقابلہ کرو، ان کے مقابلہ میں اس قرآن کے ذریعہ سے جہاد اختیار کرو، اُنھیں اسی قرآن کی راہ پر قوت وراہِ ثبات کے ساتھ لاؤ، اور بُلاؤ۔ جاہدہم بہ میں ضمیر ہ قرآن کی جانب ہے، یعنی قرآن کے ذریعہ سے جہاد کرو، مقصود اورمطمح نظر قرآن ہی کے قانون کو رکھو۔ قرآن ہی کو ہاتھ میں لے کر اُٹھو، قرآن ہی کی راہ کا سب کو بُلاوادو، اور قرآن
Riyazur Rahman Akrami Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" سلطانی محلہ میں ایک پرانا تاریخی گھر تھا جسے سوداگر ہاؤس کہا جاتا ہے۔ یہ گھر ایک نیک دل اور محنتی شخص (سوداگر محمد صاحب محمد صدیقہ۔ 1830ء) کی یادگار تھا اور یہ مثل مشہور ہے ان کے گھر میں سفید ہاتھی بھی تھا ،اب یہ گھر زمین بوس کردیا گیا ہے (نزد دعوت سنیٹر) جوانی میں محمد صاحب کالی کٹ کے تاجر حاجی رکن الدین محی الدین کا مال لے کر آس پاس کے قصبوں اور بستیوں میں فروخت کرتے تھے۔ وہ بازار، لوگ اور تجارت کو اچھی طرح جانتے تھے۔ ہر دن ایک نئی
Ilm Basjari Ki Babasi
امریکی اور یورپی، بیسیوں فضلائے عصر اور ماہرین فن کی لکھی ہوئی ، اور سرجان ہیمرٹن کی مرتب کی ہوئی ، ضخیم ’یونیورسل ہسٹری آف دی ورلڈ‘‘ علوم وفنون پر گویا تحقیق جدید کا آخر ی لفظ ہے۔ آخری جلد میں ختم کلام کے قریب ایک مستقل باب ہے ’’جدید فلسفۂ سائنس‘‘ (نیو فلاسفی آف سائنس) ، ایک مادّیت نواز کے قلم سے۔ اول سے آخرتک پڑھنے کے قابل۔ سوچنے سمجھنے کے قابل۔ اس کے آخر میں ارشاد ہوتاہے:- ’’موجودہ علوم فلسفیہ نے اگرچہ بہت سے قدیم مابعد الطبیعاتی م
Moulana Qazi Shabbir Manki
آج مورخۃ ۲۱ / اپریل علی الصبح بھٹکل کے مضافاتی قصبے منکی سے مولانا قاضی محمد شبیر صاحب کے انتقال کی خبر نے دل کو ملول کردیا۔ گزشتہ کافی عرصے سے پیرانہ سالی کے امراض نے انہیں صاحب فراش کردیا تھا، گذشتہ ۱۸ رمضان المبارک کو آپ کی عیادت کے لئے احباب کے ساتھ جانا ہوا تھا، جسم میں اٹھنے بیٹھنے کی سکت نہیں تھی، جسم ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن گیا تھا، لیکن ہوش وحواس ابھی باقی تھے، ایک طویل عرصہ بعد انہوں نے ہمیں دیکھا تھا، پر بھی محسوس نہیں ہوا کہ ہمیں پہچاننے میں انہیں کوئی دشواری ہوئی ہو۔ آواز دھ
Aimmah Mudarrsin aur tijarat
دو روز قبل ایک گروپ پر علماء و اہل علم کی تجارت سے وابستگی اور ان کی خوشحالی سے متعلق ایک بحث چلی تھی، جس میں مولانا نور الحسن کاندھلوی دامت برکاتھم جیسے بزرگوں نے بھی اظہار خیال کیا تھا، اور ہمارے کئی ایک اکابر کے اسوہ پر روشنی ڈالی تھی۔ برسبیل تذکرہ اس تعلق سے چند باتیں ہمارے ذہن میں یاد آرہی ہیں۔ ۱۹۷۹ء میں جب اس ناچیز کا تلاش معاش میں دبی جانا ہوا تھا، تو ابتدا ہی میں جن بزرگوں کی شفقت نصیب ہوئی تھی ،ان میں ایک مصری بزرگ تھے شیخ عبد البدیع صقر رحمۃ اللہ علیہ ، جنہیں(12) سال تک مکتب
Nay Daur Ka Hasteria
بھوت ، پریت، خبیث، آسیب، چڑیل، کے آپ قائل ہوں یا نہ ہوں، واقف توبہرحال ان کے ناموں سے اور کارناموں سے ہوں گے۔ فلاں پر ’’شیخ سدّو‘‘ آگئے، اور وہ کھیلنے لگا۔ فلاں پر ’’لونا چماری‘‘ کا اثر ہوگیا۔ فلاں کو’’ کلوا بیر‘‘ نے دبالیا۔ فلاں کو آسیبی خلل ہوگیا۔ فلاں پر جنّات آگئے، فلاں پر پریوں کا سایہ ہوگیا۔ یہ چیزیں کس کے علم میں نہیں؟کون ان سے باخبر نہیں؟ اس کے بعد وہ انسان اپنے آپ میں کہاں۔ اب وہ چیزہی کوئی اور۔ اچھا خاصہ، بھل
Suhail Anjum Article
ایران پر امریکہ و اسرائیل کے بلا جواز حملوں نے پوری دنیا کو جس طرح مصائب میں گرفتار کیا ہے اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ امریکہ اور اسرائیل کا الزام ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے اور وہ ایٹم بنا رہا ہے۔ لہٰذا وہ امریکہ اور اسرائیل سمیت پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ امریکہ نے برسوں قبل ایران پر اقتصادی پابندیاں عاید کیں جس کے نتیجے میں اس کی معیشت تباہ و برباد ہو گئی۔ امریکہ نے دنیا بھر کے بینکوں میں جمع شدہ ایران کے مالی اثاثے کو بھی منجمد کر دیا۔ لہٰذا ملک میں بے روزگاری عام ہو گئی۔ حالانکہ ا
Suhail ANjum Article
سوا ماہ کی جنگ کے تناظر میں اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جو بیانیہ تیار کرنے کی کوشش کی تھی اسے ایران نے پنکچر کر دیاتو شاید غلط نہیں ہوگا۔ آج امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں اس جنگ کے خلاف اور ایران کے حق میں عوامی رائے عامہ مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ میں تو تقریباً 90 لاکھ افراد نے احتجاجی مظاہرہ کرکے اس جنگ کی مخالفت کی ہے۔ انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے اور ان کا استعفیٰ تک مانگ لیا ہے۔ انھوں نے جس طرح آمرانہ انداز میں یہ فیصلہ کیا و
Riyazur Rahman Nadwi Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" ۔ سلطانی محلہ بھٹکل کی جن شخصیات نے اپنے کاروباری ذوق، محنت اور جدت پسندی سے ایک منفرد مقام حاصل کیا، اُن میں محمد میراں بن حسن باپا صاحب شاہ بندری (عرف بھٹی میراں بھاؤ ) کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ بھٹی ہاؤس، سلطان محلہ کے اس باوقار گھرانے سے تعلق رکھنے والے مرحوم نے ٹھنڈے مشروبات اور آئس کریم کی صنعت میں وہ بنیادیں رکھیں جنہوں نے پورے علاقے میں ایک نئی روایت قائم کی۔ آپ کے فرزندوں میں جناب عبدالرحمن صاحب شابندری قوم
Syed Hasan Barmawer (02) By Abdul Mateen Muniri
۱۹۷۰ ء دہائی میں تلاش معاش کے لئے خلیجی ممالک کے دروازے اہل وطن پر جب کھل گئے، تو سنہ ۱۹۷۷ ء میں آپ نے سعودی عرب کا رخ کیا، جس میں آپ کو اپنے ماموں زاد بھائی محمد اسماعیل اکرمی کا تعاون رہا، پہلے آپ نے مقامی عرب سلیمان دلالی کے ریسٹورنٹ میں کچھ عرصہ کام کیا، پھر الخوبر میں مرحوم محمد اسماعیل کیپا سائب کے اسٹور سے تجارتی اشیاء کپڑے وغیرہ لے کر الجبیل میں چھوٹا موٹا کاروبار شروع کیا، کچھ عرصہ بعد ایک مقامی عرب محمد الحمری کی شراکت میں یہیں پ
Syed Hasan Barmawer (01) By Abdul Mateen Muniri
آج مورخہ ۲۵ مارچ بعد نماز عشاء تنظیم ملیہ مسجد میں جناب سید حسن برماور کی نماز جنازہ ادا ہوئی،اور آپ کا جسد خاکی قریب ہی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ کاروار ضلع کی یہ وسیع ترین مسجد مصلیان سے ایسے کھچا کچھ بھری ہوئی تھی کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، اور جو مرحوم کی بندگان خدا میں مقبولیت کی نشاندہی کررہی تھی ، کیا بعید کہ اس بارگاہ عالی میں مرحوم کی مقبولیت اس سے کہیں زیادہ ہو، جہاں ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے، اور جہاں کی مقبولیت اس دنیا
Insani ilm Ki bay basi
امریکی اور یورپی، بیسیوں فضلائے عصر اور ماہرین فن کی لکھی ہوئی ، اور سرجان ہیمرٹن کی مرتب کی ہوئی ، ضخیم ’یونیورسل ہسٹری آف دی ورلڈ‘‘ علوم وفنون پر گویا تحقیق جدید کا آخر ی لفظ ہے۔ آخری جلد میں ختم کلام کے قریب ایک مستقل باب ہے ’’جدید فلسفۂ سائنس‘‘ (نیو فلاسفی آف سائنس) ، ایک مادّیت نواز کے قلم سے۔ اول سے آخرتک پڑھنے کے قابل۔ سوچنے سمجھنے کے قابل۔ اس کے آخر میں ارشاد ہوتاہے:- ’’موجودہ علوم فلسفیہ نے اگرچہ بہت سے قدیم مابعد الط
Sachchi Batatain. Insan ki Ba Basi
اگرآپ کی گھڑی چلتے چلتے بند ہوجائے ،یا وقت غلط دینے لگے، تو کوئی صورت بجز گھڑی ساز کی مدد کے، اُس کی اصلاح کی ہے؟ سائیکل اگر تھوڑی بہت کبھی ٹوٹ ٹاٹ جائے، تو جب تک سائیکل ساز ہی مرمت نہ کرے، آپ مجبور محض رہیں گے یا نہیں؟ موٹر کار کا کوئی پُرزہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے، نکل جائے، گھِس جائے، تو جب تک موٹر ساز ہی کا ہاتھ نہ لگے، آپ کی ساری عقل وذہانت بیکار رہے گی یا نہیں؟ ……یہ سب معمولی مشینیں ہیں، انسان ہی کی ایجاد کی ہوئی، آپ ہی کے بھائی بندوں کی بنائی ہوئی، لیکن ان کی ترتیب میں، ترکی
Riyazur Rahman Akrami Nadwi Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر" بھٹکل کے وسط میں تاریخی چوک بازار میں سینڈو حلوہ دوکان کے پچھلے حصے میں سلطانی محلہ کا وہ گھرانہ آباد تھا جس نے نہ صرف اپنی دینداری، شرافت اور وضع داری سے شہر میں ایک نمایاں مقام پیدا کیا، بلکہ اپنے ذوقِ ہنر اور فنِ تجارت سے بھی ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔ یہ گھرانہ " خوبوسا گھرے" کے نام سے جانا جاتا ہے اور اہلِ بھٹکل کی اجتماعی یادداشت میں آج بھی ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ 1909ء میں اس خاندان کے معزز بزرگ محترم جناب محی