Riyazur Rahman Nadwi Article - Part 25

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

08:57PM Fri 18 Sep, 2026

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

 

بھٹکل کے قدیم خاندانوں میں مصباح خاندان کا بھی ایک نمایاں مقام ہے۔ سلطانی محلہ میں واقع خوبصورت اور تاریخی مصباح ہاؤس اسی خاندان کی یادگار ہے۔ اس علاقے کو پرانے لوگ رازگان کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

مصباح ہاؤس کی پچھلی جانب مشہور جٹپا نائیکانہ چندرانتھیشورا جین بسادی واقع ہے، جو مقامی طور پر موہنی بستی کے نام سے معروف ہے۔ مصباح ہاؤس سے متصل راستہ آج بھی مصباح گلی کے نام سے پہچانا جاتا ہے، جہاں مصباح کے نام سے جناب عبدالرشید مصباح اور ان کے فرزندوں کی دکانیں بھی ہیں۔ اور اسی طرح مصباح خاندان کا شہر سے دور جالی گرام کے حدود میں سمندر کے کنارے ایک خوبصورت مکان تھا، جہاں ناریل کے درختوں کے درمیان بحیرۂ عرب کی لہراتی موجیں ایک دلکش منظر پیش کرتی تھیں۔

ستر اور اسی کی دہائی میں یہ جگہ خاندانوں اور دوستوں کی سیر و تفریح (پکنک) کا محبوب مرکز تھی۔ مصباح جالی اسکولوں کے لیے بھی ایک پسندیدہ پکنک اسپاٹ تھا، جہاں گزرا وقت آج بھی حسین یادوں کی صورت دل میں زندہ ہے، آج کل وہاں کے مکانات زمین بوس ہوچکے ہیں۔

مصباح لنگی بھی اس خاندان کی ایک نمایاں پہچان ہے۔ اسی طرح مین روڈ، نزد عائشہ پلازہ، جہاں بورڈ اسکول تھا، وہاں مصباح بولوگ بھی موجود تھا، جسے آج مسمار کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی مصباح خاندان کی ایک تاریخی یادگار اور پہچان تھی۔

اسی کے ساتھ مصباح خاندان کا خوب صورت مصباح گارڈن( نزد نور مسجد) بھی واقع ہے، جو ناریل کے گھنے درختوں، رنگا رنگ پھولوں اور پھل دار درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔

اسی سلطانی محلہ کا تاریخی مصباح ہاؤس ایک حویلی نما عمارت ہے، جس کی بنیاد 1928ء میں رکھی گئی اور تقریباً 60 ہزار روپے کی لاگت سے 1932ء میں مکمل ہوئی۔ اس کا منفرد فنِ تعمیر اور منصوبہ بندی سری لنکا کے شہر کینڈی کی روایتی حویلیوں سے مشابہت رکھتی ہے۔

مرحوم مصباح حسن اسماعیل صاحب (عرف مصباح وڑاپا بھاؤ) قومِ نوائط کے ممتاز تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ منگلور، مدراس اور بمبئی کے علاوہ کولمبو، سری لنکا میں بھی ان کا کامیاب کاروبار تھا۔ سری لنکا سے ان کی گہری وابستگی کا عکس ان کے گھر کے فنِ تعمیر میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔

مرحوم مصباح وڑاپا صاحب سماجی و اجتماعی امور میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے اور انجمن کے ابتدائی انتظامی اراکین اور سرپرستوں میں شامل تھے۔ ان کے فرزند محسن مصباح نے سری لنکا سے واپسی کے بعد بھٹکل میں انجمن اور روٹری کلب کے انتظامیہ ممبر کی حیثیت سے فعال خدمات انجام دیں، مگر افسوس کہ وہ بہت جلد انتقال کر گئے۔ ان کے دوسرے فرزند اقبال مصباح اس وقت منگلور میں مقیم ہیں۔

ان کے بھائی مرحوم مصباح عبدالغفور صاحب نے ابتدائی تعلیم حضرت محمد سکری خلفوکے مکتب میں حاصل کی پھر مدرسہ اسلامیہ میں حضرت مولانا شمس الدین جو کاکو کے پاس تعلیم حاصل کی، مدراس کولمبو وغیرہ میں رہ کر اپنی تجارت کو خوب چمکایا۔

آپ بھٹکل کے معزز اور صاحبِ حیثیت زمینداروں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ایک طویل عرصے تک بھٹکل کے مختلف قومی و سماجی اداروں سے وابستہ رہے اور جنرل سکریٹری انجمن حامی مسلمین ، وخازن مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل، جنرل سکریٹری جماعت المسلمین‌ کے طور پر ہر ادارے میں انہوں نے اہم اور کلیدی ذمہ داریاں نبھائیں، 15/ اکتوبر 2003ء کو آپ کا انتقال ہوا ۔

ان کے زیرِ نگرانی تعمیر کیا گیا یہ مربع نما گھر اپنے وسیع و کشادہ کمپاؤنڈ کے باعث آج بھی اپنی منفرد شان برقرار رکھے ہوئے ہے۔ گھر کے احاطے میں مختلف اقسام کے پھل دار اور پھول دار درختوں کے علاوہ خوب صورت جھاڑیاں بھی نظر آتی ہیں، جو اس کے ماحول کو مزید دلکش اور پُرسکون بناتی ہیں۔

تقریباً 90 سال قدیم اس گھر کی چھت روز وُڈ (Rosewood) سے تیار کی گئی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بجلی کا تصور بھی عام نہیں ہوا تھا، مگر گھر کی تعمیر اس انداز سے کی گئی تھی کہ اندرونی حصے میں ہوا کا گزر نہایت عمدہ رہتا اور گھر قدرتی طور پر ٹھنڈا اور خوش گوار محسوس ہوتا تھا۔

جوکاکو شمس الدین صاحب کے انتخاب کے دوران اسی گھر میں میٹنگیں ہوئیں اور حکمت عملی بنائی گئی۔

 مجلس اصلاح وتنظیم کے کئی اہم اجلاس بھی یہاں مستقل بنیادوں پر ہوتے رہے۔  یہ سلسلہ 1972 میں ایس ایم یحییٰ کے اسمبلی الیکشن تک جاری رہا۔ شہر کی خواتین کو یہاں حق رائے دہی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔

جناب مصباح عبدالغفور کا یہ گھر بھٹکل کے معروف اور فعال گھروں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے بڑے صاحبزادے مرحوم زبیر مصباح صاحب سماجی میدان میں نہایت سرگرم تھے؛ وہ مجلسِ اصلاح و تنظیم بھٹکل کے نائب صدر، بھٹکل مسلم جماعت بنگلور کے صدر اور طویل عرصے تک انجمن کے انتظامیہ ممبر رہے۔ جناب انصار مصباح بھی انجمن اور دیگر اداروں کے فعال رکن رہے اور بھٹکلی جماعت المسلمین منگلور کی صدارت کی ذمہ داری نبھائی۔ جناب ڈاکٹر نورالامین مصباح نے بھی ایک عرصے تک اسی گھر میں اپنا کلینک چلایا۔ بھٹکل کے روایتی گھروں کی طرح یہاں بھی طویل عرصے تک مشترکہ خاندانی نظام رائج رہا۔ سماجی خدمات اور خاندانی روایت کے اعتبار سے یہ گھر اپنی ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔

آج کل اس گھر میں محترم جناب عبدالرشید مصباح صاحب اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

 

(ضروری وضاحت: اس مضمون درج تمام خیالات مضمون نگار کی ذاتی تحقیق کا نتیجہ ہیں۔ اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ بھٹکلیس)