Riyazur Rahman Akrami Nadwi Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

10:01PM Sat 5 Sep, 2026

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

سلطانی محلہ کا فرحت منزل خوبصورت اور منفرد گھر تمنڈے برادران قاضیامحمد مولی، قاضیا محمد حسن باپا اور قاضیا محمد حسین صاحب نے 1954ء میں تعمیر کروایا تھا۔ اپنے خاص طرزِ تعمیر کی وجہ سے لوگ اسے ’’ہوائی جہاز‘‘ کہا کرتے تھے۔ ابتدا میں اس گھر میں تینوں برادران ایک ساتھ  (کوڑیو کی شکل میں) رہائش پذیر تھے۔

جب حضرت مولانا حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ (مہتمم دارالعلوم دیوبند) 1952ء میں بھٹکل تشریف لائے تو آپ نے تین دن اسی گھر میں قیام فرمایا اور اسے ’’فرحت منزل‘‘ کا نام تجویز کیا۔

 

جناب محمد مولیٰ بن عبدالرزاق قاضیا اپنے برادران کے ساتھ کالیکٹ میں تجارت کرتے تھے اور دینی و قومی امور میں بھی فعال کردار ادا کرتے تھے۔ 1969ء میں جماعت المسلمین کے صدر منتخب ہوئے، انجمن حامی مسلمین بھٹکل کی مجلسِ انتظامیہ کے رکن، نیز جامعہ اسلامیہ کے ٹرسٹی اور نائب صدر بھی رہے، کالیکٹ جماعت کے بھی مستقل رکن تھے۔ انجمن تعلیم القران  کالی کٹ کے بانی ممبر وصدر تھے۔

1967 میں بھٹکل میں بڑا سیلاب ایا تھا تب جناب مولی صاحب نے بحیثیت رلییف کمیٹی کے چیرمین اپنی بے لوث خدمات انجام دی تھیں۔

 1989ء میں ان کا انتقال ہوا۔ مولانا آزاد روڈ پر انھوں نے چمن آرا کے نام سے خوبصورت مکان تعمیر کروایا، جو آج ان کے نواسے مبشر ابن عبدالرشید قاضیا کی ملکیت ہے۔

 

جناب محمد حسین بن عبدالرزاق قاضیا بھی اپنے بھائیوں

 محمد مولیٰ اور محمد حسن کے ساتھ تجارت کرتے تھے اور قومی امور میں دلچسپی رکھتے تھے۔ جماعت المسلمین کے نائب صدر رہے۔ انھوں نے مولانا آزاد روڈ پر گلشن آرا کے نام سے مکان تعمیر کیا، بعد ازاں 1987ء میں فاران کے نام سے مکان بنا کر وہاں منتقل ہوگئے، جو حمید کمپاؤنڈ، مین روڈ کے قریب واقع ہے۔

 

محمد حسن باپا صاحب ابن عبدالرزاق قاضیا (عرف تمنڈے باپابھاؤ)بھٹکل کی ایک باوقار اور فعال شخصیت تھے۔ کالی کٹ میں کاروبار کے باوجود وہ بھٹکل کی سماجی، تعلیمی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے تھے۔ فرحت منزل میں اہم اداروں کی میٹنگیں اور فیصلے ہوا کرتے تھے۔ عثمان ماسٹر، دامدا حسن شبّر اور ایس۔ ایم۔ یحییٰ کو سیاسی و تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے میں بھی ان کا اہم کردار رہا۔

1970ء کی دہائی میں جب وہ انجمن حامی مسلمین کے نائب صدر تھے، انجمن گرلز اسکول کے لیے فرحت منزل کی بالائی منزل فراہم کی گئی۔ یوں فرحت منزل بھٹکل کی سماجی، تعلیمی اور تاریخی یادوں کا ایک اہم مرکز بن گئی۔

 

ان کے انتقال کے بعد ان کی اولاد نے بھی اپنے والدِ محترم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قوم  وملت کی خدمت کی روشن روایت کو جاری رکھا۔ ان کے بڑے فرزند جناب جمیل قاضیا جماعت المسلمین بھٹکل، کالی کٹ جماعت اور منطقۂ شرقیہ جماعت میں صدر، سکریٹری اور دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے۔

عبدالعلیم قاضیا انجمن کے سرپرست اور ریاض جماعت کے بانی رکن، سابق صدر وسرپرست رہے۔ جناب عبدالستار قاضیا انجمن، تنظیم اور کالی کٹ جماعت کے سرگرم رکن، سابق صدر وسکریٹری رہے۔

جناب ابراہیم قاضیا فاروق کالج کالی کٹ کے ٹرسٹی، انجمن تعلیم القرآن کے سرپرست اور دبئی جماعت کے فعال رکن رہے، جبکہ جناب ڈاکٹر اسماعیل قاضیا قوم نوائط کے اولین MD، انجمن کے سرپرست اور دبئی میں ان کی کئی کلینک اور فارمیسی موجود ہیں۔

 قومِ نوائط کے ایک کامیاب ڈاکٹر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

 

جناب یونس قاضیا اس وقت انجمنِ حامیِ مسلمین کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ منطقۂ شرقیہ، دمام کے اولین صدر ہونے کا اعزاز بھی آپ کو حاصل ہے۔ اس کے علاوہ آپ کنڑا کونسل کے صدر اور بنگلور MES کالج کی اسٹوڈنٹ کونسل کے صدر کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔

ان تمام ذمہ داریوں کے دوران آپ نے اپنی تنظیمی صلاحیت، بصیرت اور خدمت کے جذبے سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

 

فرحت منزل صرف قومی خدمات ہی نہیں بلکہ مہمان نوازی اور خیرات کے حوالے سے بھی مشہور تھی۔ رمضان المبارک کے بعد زکوٰۃ کی تقسیم کے لیے فقراء اور مستحقین کی بڑی تعداد وہاں جمع ہوتی۔ ایک دن خواتین اور ایک دن مردوں کے لیے مخصوص ہوتا جس کی تقسیم کی  ذمہ داری عثمان بن عبدالغفور ایس ایم انجام دیتے تھے۔ راہ گیر ہجوم دیکھ کر پوچھتے:

’’کازالے وا وڑلو ہجوم جمع زالاہا؟‘‘

جواب ملتا: ’’آج زکوٰۃ کی تقسیم کا دن ہے۔‘‘

 

کہا جاتا ہے کہ اس گھر میں تقریباً پچاس شادیاں ہوئیں۔ تمنڈے باپا صاحب کی زوجہ محترمہ خیرالنساء عرف بی بی ماں اپنے نام کی طرح سراپا خیر و برکت تھیں۔ مثل مشہور تھی کہ جو شخص اپنی ضرورت کے لیے اس گھر آتا، کبھی خالی ہاتھ واپس نہ جاتا۔

بی بی ماں نے تقریباً 102 سال کی عمر پائی۔ اس گھر کے بزرگ اپنی بے لوث خدمت، سخاوت اور محبت کی روشن مثالیں چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر تقریباً ستر برس گزرنے کے باوجود آج بھی اس گھر کی شان باقی ہے۔

 

یہ بھی ایک دلچسپ اور قابلِ ذکر بات مشہور ہے کہ جب بھٹکل میں ٹیلی فون کی سہولت کا آغاز ہوا، تو یہ گھر اُن چند اولین گھروں میں شامل تھا جہاں ابتدائی زمانے ہی میں فون نصب ہوا۔ اسی طرح جب بھٹکل میں بجلی کا نظام متعارف ہوا، تو بجلی کی سہولت حاصل کرنے والے ابتدائی گھروں میں بھی اس گھر کا شمار ہوتا تھا۔

اس اعتبار سے یہ گھر بھٹکل کی جدید تاریخ کے اُس دور کی یاد دلاتا ہے، جب شہر میں ٹیلی فون اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات پہلی بار لوگوں کی زندگی کا حصہ بن رہی تھیں۔

 

اس گھرانے کے چشم و چراغ، مرحومہ محترمہ ساجدہ قاضیا زوجۂ ممتاز حسین مصباح کے فرزندِ ارجمند مبین مصباح کی ملکیت میں آج یہ تاریخی گھر ہے۔

 

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہیں۔ اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ادارہ بھٹکلیس)