Riyazur Rahman Akrami Article - Part 23

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

09:23PM Tue 1 Sep, 2026

 

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

 

سلطانی محلہ کا تمنڈے ہاؤس قاضیا خاندان کے تاریخی اور یادگار گھروں میں شمار ہوتا ہے۔ کہاجاتاہے کہ سلطانی محلہ میں اس نام سے کئی گھر آباد تھے۔ یہ گھر عبدالرزاق بن فقی باپو بن شمس الدین بن اسمعیل قاضیا سے منسوب ہے۔

بی بی میمونہ زوجہ عبدالرزاق قاضیا کی اولاد نے اسی تاریخی گھر میں پرورش پائی، جن میں قاضیا محمد مولی، محمد حسن باپا (عرف باپا بھاؤ)، محمد حسین قاضیا، فاطمہ کوسائبین ماؤشی زوجہ عبدالقادر باشاہ قاضیا اور بی بی زبیدہ قاضیا زوجہ عبدالقادر باشاہ ائیکری شامل ہیں۔

یہ گھر قاضیا خاندان کی تاریخ اور خاندانی یادوں کا ایک اہم اور قابلِ قدر نشان ہے۔

عزیز رشتے دار اس گھرکو پرانا (پورنے) گھر کہتے ہیں اور فرحت منزل کو‌ نیا(نوے) گھر کہتے ہیں ۔

قاضیاعبدالقادرباشاہ کی زوجہ شمس النسا شاہ بندری(‌عرف شمسون ماؤشى) گھر کے اوپری منزل پر رہتی تھی جب جناب عدن عبدالغفور ایس ایم صاحب نے خرید لیا تو انھوں نے گھر کا نام نفیسہ منزل رکھا۔

 

جناب عدن عبدالغفور ایس۔ایم۔ صاحب بھٹکل کے معروف اور قابلِ احترام، بکروں کے کاروباری حضرات میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ بکروں کی تجارت سے وابستہ افراد میں آپ کا شمار ایک تجربہ کار اور معتبر تاجر کی حیثیت سے کیا جاتا تھااور محترمہ بی بی نفیسہ قاضیا زوجہ عبدالغفور ایس ایم ایک باکمال اور خوش ذوق خاتون تھیں۔ انھیں بہ یک وقت نوائط زبان اور اردو زبان کے کئی خوبصورت کلام زبانی یاد تھے اور متعدد کتابوں کا قیمتی ذخیرہ بھی ان کے پاس محفوظ تھا۔ محفلِ جلوہ کے موقع پر وہ اپنے منفرد اور دلنشین انداز میں دلہن کے سامنے بیٹھ کر کلام پڑھتیں، جن کے ساتھ بی بی رابعہ زوجہ سید ہاشم ایس ایم (صائبین ماؤشی) اور بی بی عائشہ زوجہ محمد صاحب جوباپو (شابولی کوچی ماں) بھی شریک ہوتیں، جس سے محفل کا سماں مزید پرنور ہوجاتا۔

حجِ بیت اللہ کے مبارک سفر پر روانہ ہونے والے عزیز و اقارب کے لیے بھی وہ نہایت خوبصورت انداز میں کلام سنا کر اس موقع کو یادگار بنا دیتیں۔ اسی طرح دور دور سے لوگ دلہن کو پھولوں کی مالا پہنانے کے لیے انھیں اپنے ساتھ لے جاتے، جہاں وہ مالا پہناتے وقت منظوم انداز میں ازدواجی زندگی کی اہمیت، میاں بیوی کے حقوق اور گھریلو معاملات کے حوالے سے نہایت خوبصورت اور مؤثر رہنمائی کرتیں۔ یہی منفرد انداز انھیں سب کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔

 

عدن سید عبدالغفور ایس ایم صاحب کے فرزندوں میں جناب عبدالمجید ، جناب عثمان ، جناب ظفر ،جناب فہیم ،جناب افضل ، جناب ابراہیم ایس ایم اور تین دختران سلمہ‌ ایس ایم ، نسیمہ ایس ایم ، شبانہ پروین ایس ایم وغیرہم ہیں۔

 

جناب عبدالمجید ابن عبدالغفور ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان تھے۔ کئی اسپورٹس کے چمپئن تھے، انھیں اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ذوقِ ادب بھی رکھتے تھے اور چند خوب صورت نظمیں بھی ان کے قلم سے نکلی تھیں۔ شاعری میں ان کا تخلص ’’ساعی‘‘ تھا۔ 

  انجمن آرٹس‌وسائنس کالج میں اکیلے مسلم ایجوکیشن جنرل سیکریٹری بننے کا شرف حاصل ہے  جب انجمن حامی مسلمین کالج پرانے بس اسٹیشن کے پاس موجود تھا۔ 1983ء کےبعد  یہ نظام ختم ہوگیا۔

گزشتہ چند عرصے سےوہ گھر ہی میں رہتے ہیں ۔

جناب عثمان صاحب ایس ایم  چند سال دمام اور جبیل میں ذریعۂ معاش کے سلسلے میں مقیم رہے۔ بعد ازاں سلطانی محلہ میں 1992ء سے سلیمان اسٹور کے نام سے دکان قائم کی اور تقریباً 22 سال تک کامیابی سے کاروبار کرتے رہے۔

جناب ظفر صاحب ایس ایم چند سال دبئی میں ملازمت کرتے رہے۔ وطن واپسی کے بعد اپنے خاندانی برادران کے ساتھ مل کر 13/ نومبر 2014 ء ”نیو دربار“ کے نام سے آئس کریم کی دوکان محنت اور باہمی تعاون سے کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں۔

جناب فہیم صاحب ایس ایم بہترین والی بال کھلاڑی رہے ہیں۔ انھوں نے انجمن سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ آج کل دبئی میں اپنی فیملی کے ہمراہ مقیم ہیں اور وہیں ذریعۂ معاش سے وابستہ ہیں۔

جناب افضل صاحب ایس ایم سلطان اسپورٹس کے کھلاڑی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ سلطانی مسجد کی انتظامیہ کے رکن اور سلطان یوتھ ویلفیئر ایسوسی ایشن کی انتظامیہ کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مزید برآں، آپ دیگر قومی و ملی اداروں سے وابستہ رہ کر اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں اور جناب ابراہیم صاحب ایس ایم سلطان یوتھ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے کھلاڑی رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پیور گولڈ، عائشہ پلازہ میں دکان پر ملازمت بھی انجام دی،

فی الوقت جناب افضل صاحب اور ابراہیم صاحب ذریعۂ معاش کے سلسلہ میں دبئ میں مقیم ہیں۔

 

جناب عبدالغفور کی ایک دختر محترمہ شبانہ پروین ایس ایم (زوجہ محمد اشفاق کولا ، اشعث کولا کی والدہ محترمہ) 9 /نومبر 2009ء بروز جمعہ مینگلور سے واپسی پر بیندور کے قریب سڑک حادثے کا شکار ہوئیں۔

      اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہیں۔ اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ بھٹکلیس)