Riyazur Rahman Akrami Nadwi Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

06:54PM Wed 22 Jul, 2026

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

صحنِ سلطانی کے قریب  جہاں ہر صبح دور دور سے لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات خریدنے آتے ہیں۔ یہاں تازہ ترکاریاں، پھل اور دوسری کھانے پینے کی چیزیں مناسب قیمت پر ملتی ہیں۔

اسی صحن کے قریب ایک پرانی گوشت مارکیٹ بھی ہے، جو میونسپلٹی کی عمارت میں کرایہ پرچلتی ہے۔ یہاں بکرے اور بڑے کا تازہ گوشت مناسب داموں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا جب اس مارکیٹ میں گوشت کی بہت سی دکانیں تھیں، لیکن اب صرف چند دکانیں ہی رہ گئی ہیں۔

اس مارکیٹ کے مشہور گوشت فروشوں میں بڑے کے گوشت کے لیے محی الدین صاحب محتشم (عرف کنٹو صاحب بھاؤ) اور حوا محمد حسین صاحب کے نام نمایاں تھے، جبکہ بکرے کے گوشت میں عدن عبدالغفورایس ایم۔، عبدالہادی سوداگر ، عبدالرزاق نائیطے (عرف اباؤ) محمد سکری کھروری (عرف ایو دھاکلّو اب ان کے فرزند محمد ارشد کھروری) اور دوسرے تاجر اپنی دیانت داری اور اچھے معیار کی وجہ سے لوگوں میں بہت مشہور تھے۔

 

اس مارکیٹ کے قریب "مامون چکن" کے نام سے مرغی کی ایک مشہور دکان بھی تھی، جہاں سے لوگ بڑی تعداد میں مرغی خریدنے آتے تھے۔

آج بھی یہ بازار شہر کی پرانی تجارتی روایت کی ایک خوبصورت یادگار ہے اور پرانے لوگوں کی اس سے بہت سی خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔

 

محمد فاروق ابن عبدالقادر اٹل گزشتہ 35 سال سے زائد عرصے سے صحنِ سلطانی کے قریب اپنی چھوٹی سی کینٹین چلا رہے ہیں۔ ہر صبح وہ چائے، پٹو، فوگیے، سموسے اور دیگر ناشتے کی تازہ اشیاء مناسب قیمتوں پر پیش کرتے ہیں۔ ان کی محنت، خوش اخلاقی اور خلوص نے انہیں عوام میں ایک خاص مقام عطا کیا ہے، اسی لیے برسوں سے لوگ شوق سے ان کے پاس آتے رہے ہیں۔

 

ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب ان کی کینٹین پر چائے کا ایک گلاس صرف 25 پیسے میں ملتا تھا، جبکہ چار سموسے ایک روپے میں فروخت ہوتے تھے۔ یہ بات آج بھی پرانے گاہک محبت سے یاد کرتے ہیں۔

 

محمد فاروق صاحب اٹل  اس سے پہلے نیلور، آندھرا پردیش میں ‌اسی طرح کے ایک پیشے سے لگے ہوئے تھے ۔ اپنی محنت، لگن اور دیانت داری کے بل پر انہوں نے صحنِ سلطانی کے قریب اپنی ایک منفرد پہچان بنائی، اور آج بھی اسی جذبۂ خدمت کے ساتھ لوگوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔

 

یہ کینٹین پہلے پوکرے باشاہ نامی شخص چلاتے تھے، لیکن ایک افسوسناک حادثے میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد محمد فاروق صاحب اٹل نے اس ذمہ داری کو سنبھالا اور گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ اس روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔