Riyazur Rahman Akrami Article
"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"
سلطانی محلہ کے گھروں میں امباری ہاؤس ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس گھر میں تقریباً بارہ خاندان (کوڑیو) ایک ساتھ رہتے تھے،اس گھر سے کئی معزز شخصیات وابستہ رہیں، ان میں جناب عبدالمجید شاہ بندری، جناب عبدالرحیم شاہ بندری اور جناب ابوالحسن نائیطے،(عبدالرؤف نائیطے کے والد جناب ناشط نائیطے دادا) شامل ہیں۔ اسی طرح جناب سید خلیل الرحمٰن (سی اے) کی والدہ محترمہ، جناب شیکرے زین العابدین کی والدہ محترمہ اور جناب جعفر ماسٹر کے خسر محترم (مامولے) سید محی الدین ایس۔ ایم۔ پوڈ بھی اسی تاریخی گھر کے مکینوں میں شامل تھے۔
یہ محض ایک قدیم مکان نہیں بلکہ قوم کے ایک مخلص، مدبر، مرحوم جناب سید محی الدین صاحب، المعروف "وڑاپا بھاؤ امباری" کی یادگار ہے، جنھوں نے اپنی زندگی ملت، سماج اور وطن کی بے لوث خدمت میں وقف کر دی۔ ان کے فرزندوں میں سید محمد باشاہ، سید عثمان، سید عمر فاروق، ڈاکٹر سید سلیم، سید عبدالعظیم ایس ایم ہیں جنھوں نے اپنے بچپن کے قیمتی ایام سلطانی محلے کے امباری ہاؤس میں گزارے۔ مرحوم کے والد گرامی سید محمد سید محی الدین تھے۔ آپ کی پیدائش 1905ء میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم انجمن اسکول میں حاصل کی، جب کہ میٹرک کی تعلیم مینگلور سے مکمل کی، جو اس دور میں اعلیٰ تعلیم شمار کی جاتی تھی۔ آپ غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے۔ مطالعۂ کتب کا بے حد شوق رکھتے تھے، اردو، انگریزی، کنڑا کے اخبار پڑھا کرتے تھے اور علم و تحقیق سے گہری وابستگی نے آپ کی شخصیت کو علمی، فکری اور عملی اعتبار سے ممتاز بنا دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ علمی میدان کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی اور ملی سرگرمیوں میں بھی آپ ہمیشہ پیش پیش رہے۔
سیاسی میدان میں آپ کو نمایاں مقام حاصل تھا۔ آپ بھٹکل کے پہلے مسلم کانگریسی رہنما تھے۔ ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ، کاروار کے صدر کی حیثیت سے ایک میعاد تک خدمات انجام دیں، جس کے باعث حکومتی سطح پر بھی آپ کا اثر و رسوخ قائم ہوا۔ اسی دور میں آپ کے زیرِ صدارت بھٹکل کی جالی پنچایت کا قیام عمل میں آیا، جو مقامی نظم و نسق کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ مزید برآں، آپ نے تقریباً بیالیس (42) برس تک بھٹکل میونسپلٹی کے کونسلر کی حیثیت سے عوامی خدمت انجام دی، جو آپ کی عوامی مقبولیت اور اعتماد کا روشن ثبوت ہے۔
سماجی خدمات کے میدان میں بھی آپ کا کردار نہایت نمایاں رہا۔ آپ مجلس اصلاح و تنظیم، بھٹکل کے کلیدی عہدوں پر فائز رہے اور مختلف ادوار میں جنرل سکریٹری اور نائب صدر کی حیثیت سے قوم و ملت کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اسی طرح قوم کے قدیم اور معتبر ادارے انجمن حامی مسلمین کے آپ متعدد مرتبہ صدر منتخب ہوئے، جب کہ آخری ایام میں نائب صدر کے منصب پر فائز تھے۔ 1978ء میں انجمن آرٹس اینڈ سائنس کالج کے قیام میں بھی آپ نے بھرپور کردار ادا کیا، جو آپ کی تعلیمی بصیرت اور مستقبل بینی کا مظہر ہے۔
اس کے علاوہ آپ اربن بینک کے ڈائریکٹر، بھٹکل جنرل ہسپتال بیٹر منٹ کمپنی کے رکن، اور ضلع کاروار وقف بورڈ کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔ ان تمام ذمہ داریوں کو آپ نے نہایت دیانت، خلوص اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ نبھایا اور اپنی عملی زندگی سے خدمتِ خلق کی ایک روشن مثال قائم کی۔
ملی اور دینی خدمات میں بھی آپ ہمیشہ صفِ اول میں رہے۔ اخلاص، دیانت اور قائدانہ صلاحیتوں کے باعث پورے ضلع کاروار میں آپ کا شمار صفِ اول کے باوقار مسلم رہنماؤں میں ہوتا تھا۔
مرحوم ایس۔ ایم۔ سید محی الدین صاحب نے اپنی پوری زندگی ملت، سماج اور وطن کی خدمت، اتحادِ امت کے فروغ، تعلیمی ترقی اور رفاہِ عامہ کے لیے وقف رکھی۔ ان کی بے مثال خدمات، اعلیٰ کردار، وسیع المطالعہ شخصیت اور دور اندیش قیادت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
16 مارچ 1986ء کو قوم کا یہ مخلص خادم اس دارِ فانی سے رخصت ہو کر اپنے ربِ حقیقی سے جا ملا، لیکن ان کی خدمات، ان کی یادیں اور ان کی قائم کردہ روایات آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
ان کے ایک فرزند، سید محمد باشاہ (عرف امباری باشاہ) ہیں، جو عرصۂ دراز تک کیرالہ کے شہر کالی کٹ میں تجارت سے وابستہ رہے۔ آپ کالی کٹ جماعت کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، نیز انجمنِ حامیِ مسلمین کے نائب صدر کے منصب پر بھی فائز رہے۔ اس وقت آپ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ دبئی میں مقیم ہیں۔
ان کے ہونہار فرزندوں میں ڈاکٹر سید سلیم ایس ایم کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ آپ نے اپنی ابتدائی سے (PUC) تک تعلیم انجمن کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی، جس کے بعد ایم آر میڈیکل کالج، گلبرگہ سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرکے طب کے شعبے میں قدم رکھا۔
ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف ایک مخلص معالج کی حیثیت سے عوام کی خدمت انجام دی بلکہ سماجی اور عوامی زندگی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوئے قومی اداروں سے منسلک رہے۔ آپ کئی برس تک میونسپل کونسلر منتخب رہے اور اس دوران میں عوامی فلاح و بہبود کے متعدد کام انجام دیے۔ مزید برآں، آپ 1990ءسے 1995ء تک میونسپل کونسل کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے اور اپنی دیانت اور خدمتِ خلق کے جذبے سے عوام میں عزت و احترام حاصل کیا۔
سن 1981ء میں آپ نے سلطانی محلہ میں اپنا دواخانہ قائم کیا، جہاں کئی برسوں تک نہایت اخلاص، ہمدردی اور دیانت داری کے ساتھ مریضوں کا علاج کرتے رہے اور اب کار اسٹریٹ میں دواخانہ ہے۔ بھٹکل کے قدیم محلوں کے رہائشی علاج و معالجہ کے لیے بڑی تعداد میں آپ کے دواخانے کا رخ کرتے تھے اور آپ کی طبی مہارت پر بھرپور اعتماد رکھتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی تھی کہ ہنگامی حالات میں وہ مریضوں کے گھروں تک جاکر معائنہ اور علاج کیا کرتے تھے۔ ان کی یہ بے لوث خدمت، نرم خوئی اور انسان دوستی انھیں محلے کے ہر فرد کے دل کے قریب لے آئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف ایک کامیاب ڈاکٹر بلکہ ایک شفیق، مخلص اور ہر دلعزیز سماجی شخصیت کے طور پر آج بھی لوگوں کی یادوں میں زندہ ہیں۔
اسی خاندان کے چشم وچراغ اور سلطانی محلہ کے ایک مضبوط سپوت جناب سید عبدالعظیم صاحب کے اندر بچپن ہی سے خدمتِ خلق کا بے حد جذبہ رہا۔ کم عمری ہی میں انھوں نے مختلف قومی و سماجی اداروں، جیسے انجمن حامیِ مسلمین بھٹکل، جماعت المسلمین بھٹکل اور مجلسِ اصلاح و تنظیم بھٹکل سے وابستہ مختلف عہدوں پر رہ کر محنت لگن کے ساتھ گراں قدر خدمات انجام دیں۔
سماجی خدمت کے ساتھ ساتھ انھیں سیاسی میدان سے بھی دلچسپی رہی، اور اسی جذبۂ خدمت کے تحت وہ کانگریس پارٹی کے رکن بھی ہیں۔
گزشتہ چند برسوں سے وہ علیل ہیں اور زیادہ تر اپنے گھر ہی پر مقیم ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ انھیں کامل صحتِ عاجلہ عطا فرمائے۔
ایک طویل عرصے تک سید عبدالعظیم ایس ایم اپنے اہلِ خانہ( ان فرزندان جناب معظم یس یم اور جناب معاذ یس یم ) کے ساتھ اسی گھر میں سکونت پذیر رہے۔یہ مکان تاریخی اور روحانی اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل تھا، افسوس کہ چند سال قبل اسے منہدم (زمین بوس) کر دیا گیا، جس کے باعث اس تاریخی یادگار کا وجود باقی نہ رہ سکا۔
(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہیں۔ اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ادارہ بھٹکلیس)