Abdul Haleem Mansoor Article

Abdul Haleem Mansoor

Published in - Other

09:15PM Sat 25 Jul, 2026

ہندوستان کی خلائی کامیابیوں کا ذکر ہوتے ہی ذہن میں چندریان، منگلیان، آدتیہ-ایل ون اور آئندہ انسانی خلائی مشن "گگنیان" کی تصویریں ابھرتی ہیں۔ لیکن ان تمام کامیابیوں کی اصل بنیاد نہ راکٹ ہیں، نہ لانچ پیڈ اور نہ جدید تجربہ گاہیں، بلکہ وہ ہزاروں سائنس دان، انجینئر اور تکنیکی ماہرین ہیں جنہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصے میں محدود وسائل کے باوجود ہندوستان کو دنیا کی ممتاز خلائی طاقتوں میں شامل کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اِسرو (ISRO) سے تجربہ کار سائنس دانوں کے مسلسل استعفوں اور حکومت کی جانب سے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں کے قواعد سخت کیے جانے کی خبریں سامنے آئیں تو اس نے محض ایک انتظامی فیصلے سے بڑھ کر قومی پالیسی، سائنسی ماحول اور مستقبل کے خلائی پروگرام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔

 

جولائی 2026 میں محکمۂ خلاء کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات کے مطابق گگنیان اور دیگر قومی اہمیت کے حامل منصوبوں سے وابستہ سائنس دانوں اور تکنیکی ماہرین کے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ یا استعفوں کو معمول کے مطابق فوری طور پر منظور نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سرکاری مؤقف یہ ہے کہ ایسے ماہرین کی اچانک رخصتی سے قومی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ ایک بنیادی سوال بھی اٹھاتا ہے کہ اگر کسی ادارے کو اپنے بہترین دماغوں کو برقرار رکھنے کے لیے قواعد مزید سخت کرنے پڑیں تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسئلہ محض افراد کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی ماحول کا بھی ہے؟

 

گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ اِسرو کے مختلف مراکز سے سو سے زائد سائنس دان اور تکنیکی ماہرین مستعفی ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان اعداد و شمار پر سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم حکومت کی جانب سے قواعد میں اچانک سختی اس امر کی نشاندہی ضرور کرتی ہے کہ اعلیٰ تربیت یافتہ انسانی وسائل کا انخلا ایک حقیقی تشویش بن چکا ہے۔ قومی اداروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنی کامیابیوں بلکہ اپنے چیلنجوں کے بارے میں بھی شفاف انداز میں بات کریں، کیونکہ اعتماد کی بنیاد صرف کامیابی نہیں بلکہ جواب دہی بھی ہوتی ہے۔

 

یہ مسئلہ صرف اِسرو تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں سائنسی ادارے بہترین ذہنوں کو برقرار رکھنے کے چیلنج سے دوچار ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے اس چیلنج کو پابندیوں سے نہیں بلکہ بہتر تحقیقی ماحول، مسابقتی تنخواہوں، تیز رفتار ترقی، عالمی اشتراک اور پیشہ ورانہ آزادی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سائنس دان کسی ادارے سے وابستگی کو محض ملازمت نہیں بلکہ ایک علمی سفر سمجھتے ہیں۔ہندوستان میں صورتِ حال اس وقت مزید تبدیل ہوئی جب 2020 میں خلائی شعبے کو نجی سرمایہ کاری کے لیے کھول دیا گیا۔ بعد ازاں ہندوستانی خلائی پالیسی 2023، IN-SPACe کی فعالیت اور نجی خلائی کمپنیوں کی تیز رفتار ترقی نے اس شعبے میں ایک نئی مسابقت پیدا کر دی۔ آج اسکائی روٹ ایرو اسپیس، اگنی کُل کاسموس، پکسل، دِگنترا اور دیگر کمپنیاں عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں نہ صرف جدید ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں بلکہ تجربہ کار سائنس دانوں کو بہتر معاوضہ، جدید سہولتیں، تیز تر ترقی اور نسبتاً زیادہ تحقیقی آزادی بھی فراہم کر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر اِسرو کے تربیت یافتہ ماہرین نجی شعبے کا رخ کرتے ہیں تو اسے محض ذاتی مفاد یا ادارے سے بے وفائی قرار دینا حقیقت سے چشم پوشی ہوگی۔

 

اصل سوال یہ نہیں کہ سائنس دان کیوں جا رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں رکنے کی وجہ کیوں نہیں مل رہی؟ ایک تجربہ کار خلائی سائنس دان کی تیاری میں برسوں لگتے ہیں۔ وہ صرف نصابی تعلیم کا حاصل نہیں ہوتا بلکہ درجنوں تجربات، ناکامیوں، کامیاب لانچوں، حساس منصوبوں اور عملی تربیت کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس لیے جب ایک سینئر سائنس دان ادارہ چھوڑتا ہے تو اس کے ساتھ صرف ایک فرد نہیں جاتا بلکہ برسوں کا تجربہ، ادارہ جاتی حافظہ اور نئی نسل کی رہنمائی کا ایک اہم ذریعہ بھی کمزور ہو جاتا ہے۔یہاں حکومت کی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی اِسرو کی۔ اگر حکومت نجی خلائی صنعت کو فروغ دینا چاہتی ہے، جو یقیناً وقت کی ضرورت ہے، تو اسی کے ساتھ قومی تحقیقی اداروں کو بھی اتنا مضبوط بنانا ہوگا کہ وہ عالمی مسابقت میں اپنی کشش برقرار رکھ سکیں۔ ایک طرف نجی صنعت کے لیے مواقع پیدا کرنا اور دوسری طرف سرکاری اداروں کو روایتی ڈھانچے میں چھوڑ دینا مستقبل میں مزید مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

 

اس پورے معاملے میں ایک پہلو اور بھی قابلِ غور ہے۔ اِسرو کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اس ادارے کی سب سے بڑی طاقت اس کی خودمختاری، سادہ انتظامی ڈھانچہ اور تحقیق پر مرکوز ثقافت رہی ہے۔ ڈاکٹر وکرم سارابھائی نے جس ادارے کی بنیاد رکھی، پروفیسر ستیش دھون نے اسے استحکام دیا اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سمیت متعدد سائنس دانوں نے اسے عالمی وقار عطا کیا۔ ان تمام شخصیات کی کامیابی کا راز صرف سائنسی قابلیت نہیں بلکہ ایسا ادارہ جاتی ماحول تھا جہاں صلاحیت کو پروان چڑھنے کا موقع ملا۔ یہی روایت آئندہ بھی برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

 

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا — علامہ محمد اقبال

 

یہ شعر اِسرو کے موجودہ حالات پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ ایک قابل سائنس دان برسوں کی محنت سے تیار ہوتا ہے، لیکن اگر وہ ادارہ چھوڑ دے تو اس کی جگہ پر صرف نئی بھرتی کر دینا کافی نہیں ہوتا۔ انسانی سرمایہ کسی بھی تحقیقی ادارے کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے، اور اس کا نعم البدل فوری طور پر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا صرف قواعد سخت کر دینے سے ذہین افراد کو روکا جا سکتا ہے؟ دنیا کا تجربہ اس سوال کا جواب نفی میں دیتا ہے۔ امریکہ کے ناسا، یورپی خلائی ایجنسی (ESA)، جاپان کی جاکسا (JAXA) اور دیگر سائنسی اداروں نے نجی صنعت کو اپنا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بنایا۔ ان اداروں نے یہ حقیقت تسلیم کی کہ سائنس دانوں کو قید نہیں کیا جا سکتا، البتہ انہیں ایسا تحقیقی ماحول ضرور فراہم کیا جا سکتا ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا بہترین اظہار کر سکیں۔ اسی لیے وہاں تحقیق کی آزادی، شفاف ترقی، بین الاقوامی تعاون، جدید تجربہ گاہیں اور کارکردگی کے مطابق مراعات کو ادارہ جاتی پالیسی کا حصہ بنایا گیا۔ہندوستان کے لیے بھی یہی راستہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ خلائی شعبے کی نجکاری کو مسئلے کی جڑ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ نجی سرمایہ کاری نے نئی ٹیکنالوجی، روزگار، اختراع اور عالمی سرمایہ کو بھی متوجہ کیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس نئی خلائی معیشت کے ساتھ سرکاری اداروں کی ازسرِ نو تنظیم بھی کی گئی؟ اگر نجی کمپنیاں عالمی معیار کے مطابق مواقع فراہم کر رہی ہیں تو اِسرو کو بھی اپنے انسانی وسائل کی پالیسی، ترقی کے نظام، تحقیقی آزادی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔

 

اس موقع پر ایک اور حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان اس وقت مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم کمپیوٹنگ، دفاعی ٹیکنالوجی اور خلائی معیشت میں عالمی کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ان تمام شعبوں کی مشترکہ بنیاد اعلیٰ انسانی سرمایہ ہے۔ اگر بہترین سائنس دان اور انجینئر سرکاری تحقیقی اداروں سے بتدریج دور ہوتے گئے تو اس کے اثرات صرف خلائی پروگرام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ قومی تحقیق، دفاعی خود انحصاری، صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی کی عالمی مسابقت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔اسی لیے حکومت کی حالیہ ہدایات کو ایک وقتی انتظامی قدم تو قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اسے مستقل حل نہیں کہا جا سکتا۔ مستقل حل ایک ایسی جامع قومی پالیسی میں پوشیدہ ہے جو تحقیق اور اختراع کو مرکزِ نگاہ بنائے۔ اِسرو جیسے اداروں میں عالمی معیار کے مطابق تنخواہیں، شفاف اور بروقت ترقی، نوجوان سائنس دانوں کی سرپرستی، بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے ساتھ تبادلہ پروگرام، جدید تجربہ گاہوں کی توسیع، انتظامی پیچیدگیوں میں کمی اور میرٹ پر مبنی فیصلہ سازی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ادارے کو اپنے افرادی وسائل سے متعلق درست اور بروقت معلومات عوام کے سامنے رکھنے کی روایت بھی مضبوط کرنی چاہیے تاکہ غیر یقینی اور افواہوں کی گنجائش کم ہو۔

 

یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اِسرو کی کامیابیاں کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک شخصیت کا کارنامہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی مسلسل قومی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہیں۔ وکرم سارابھائی سے لے کر ستیش دھون، یو آر راؤ، اے پی جے عبدالکلام اور ہزاروں گمنام سائنس دانوں نے اس ادارے کو عالمی وقار بخشا۔ اسی لیے اس ادارے کے مستقبل کو بھی سیاسی بحث کا موضوع بنانے کے بجائے قومی ترجیح کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اختلافِ رائے ہو سکتا ہے، لیکن اس پر اتفاق ہونا چاہیے کہ ہندوستان کی سائنسی طاقت کو مضبوط بنانا ہر حکومت اور ہر نسل کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

 

 ادارے عمارتوں سے نہیں، انسانوں سے بنتے ہیں۔ راکٹ، سیٹلائٹ اور مشینیں خریدی جا سکتی ہیں، مگر تجربہ، بصیرت اور تخلیقی صلاحیت بازار میں دستیاب نہیں ہوتیں۔ ایک باصلاحیت سائنس دان کی تیاری میں برسوں لگتے ہیں، لیکن اس کے ادارہ چھوڑنے کا خلا چند مہینوں میں پُر نہیں کیا جا سکتا۔آخرکار اصل سوال استعفوں کی تعداد کا نہیں بلکہ اس سوچ کا ہے جس کے ذریعے انہیں دیکھا جا رہا ہے۔ اگر مقصد صرف سائنس دانوں کو روکنا ہے تو پابندیاں شاید کچھ وقت کے لیے مؤثر ثابت ہوں، لیکن اگر مقصد ہندوستان کو ایک حقیقی علمی اور سائنسی طاقت بنانا ہے تو پھر پالیسی کا مرکز "کنٹرول" نہیں بلکہ "اعتماد" ہونا چاہیے۔ قومی ادارے اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب ان کے اہلکار خود کو بااختیار، باوقار اور بااعتماد محسوس کریں۔

 

اِسرو آج بھی ہندوستان کی سب سے معتبر سائنسی شناختوں میں سے ایک ہے۔ اس کی کامیابیاں قوم کے اعتماد کا سرمایہ ہیں، لیکن یہی اعتماد اس وقت مزید مستحکم ہوگا جب حکومت، ادارہ اور سائنسی برادری مل کر اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی دوڑ راکٹوں کی نہیں، بلکہ ذہانت، تحقیق اور انسانی صلاحیتوں کی ہے۔ جو قوم اپنے بہترین دماغوں کو سنبھالنا جانتی ہے، مستقبل بھی اسی کا ہوتا ہے۔

 

haleemmansoor@gmail.com