Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

08:57PM Sat 2 May, 2026

 "دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

سلطانی محلہ میں ایک پرانا تاریخی گھر تھا جسے سوداگر ہاؤس کہا جاتا ہے۔ یہ گھر ایک نیک دل اور محنتی شخص (سوداگر محمد صاحب محمد صدیقہ۔ 1830ء) کی یادگار تھا اور یہ مثل مشہور ہے ان کے گھر میں سفید ہاتھی بھی تھا ،اب یہ گھر زمین بوس کردیا گیا ہے (نزد دعوت سنیٹر)

 

جوانی میں محمد صاحب کالی کٹ کے تاجر حاجی رکن الدین محی الدین کا مال لے کر آس پاس کے قصبوں اور بستیوں میں فروخت کرتے تھے۔ وہ بازار، لوگ اور تجارت کو اچھی طرح جانتے تھے۔ ہر دن ایک نئی منڈی ہوتی اور محمد صاحب وہاں پہنچ جاتے۔ واپسی پر اپنے مالک کے لیے کچھ نہ کچھ لے آتے۔

ایک دن وہ کچھ کچے ناریل لے کر واپس آرہے تھے کہ راستے میں ایک انگریز کلکٹر ملا۔ وہ سخت پیاسا تھا اور بار بار "Water! Water!" کہہ رہا تھا۔ محمد صاحب نے فوراً ناریل کاٹ کر اسے دیا۔ پھر ایک اور ناریل دیا، اور جب کلکٹر نے اپنے گھوڑے کے لیے پانی مانگا تو محمد صاحب اسے ندی تک لے گئے اور گھوڑے کو بھی پانی پلایا۔

خالص انسانی ہمدردی سے کی گئ اس خدمت نے انگریز کلکٹر کو اس قدر متاثرکیا  کہ  اس نے حکم دیا:

جو کچھ تمہارے پاس ہے، میرے دفترکالی کٹ  لے آؤ۔

محمد صاحب اگلے دن دفتر گئے، مگر عملے نے روکنے کی کوشش کی۔ جب کلکٹر کو پتا چلا تو اس نے فوراً حکم دیا کہ محمد صاحب کو جتنی زمین چاہیے دی جائے۔ اس کے بعد جنگلات کے بڑے بڑے علاقے ان کے نام ہوگئے۔

محمد صاحب نے وہاں لکڑی اور بامبو کا کاروبار شروع کیا۔ ان جنگلات میں بہت سے ہاتھی تھے، جن میں ایک سفید ہاتھی ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ ان کا خاص ساتھی تھا۔ ایران سے کچھ تاجر جب ان سے ملے تو تعجب سے بولے:

"سوداگر! سوداگر!"

اس دن سے سب انہیں “سوداگر محمد صاحب” کہنے لگے۔

وقت کے ساتھ وہ بہت مالدار اور عزت والے انسان بن گئے۔ مگر ایک دن انہوں نے اپنے سفید ہاتھی کو زبردستی کام پر لگایا۔ ہاتھی نے پہلے نہ مانا،مگرآخرکار مالک کی ناراضی سے بچنے کے لیے اس کے قدموں میں آکر جان دے دی ۔ اس واقعے کے بعد محمد صاحب بہت پریشان ہوگئے اور آہستہ آہستہ ان کی دولت بھی کم ہونے لگی۔

آج بھٹکل میں سوداگر ہاؤس کی چند جائیدادیں باقی ہیں، مگر کالی کٹ اور اس کے اطراف کے بیشتر جنگلات، زمینیں اور دکانیں حکومتی تحویل میں جاچکی ہیں۔ وقت گزر گیا، مگر سوداگر محمد صاحب کا نام، ان کا کردار، ان کی سخاوت اور ان کا اندازِ زندگی آج بھی لوگوں کی گفتگو میں زندہ ہے۔(خلاصہ آئینہ بھٹکل)

یہ صرف ایک تاجر کی کہانی نہیں، بلکہ انسانیت، خدمت، عروج اور انجام کی ایک مکمل تاریخ ہے جو بتاتی ہے کہ عزت خدمت سے ملتی ہے، اور زوال تکبر کی راہوں سے جنم لیتا ہے۔

 

اسی طرح  2/ ربیع الاول 1382ھ مطابق 3 /اگست 1962ء میں انجمن حامیٔ مسلمین بھٹکل کی درخواست پر اس معزز سوداگر گھرانے کے ایک فردِ عظیم،  برہان الدین باشاہ  ابن ابراہیم صاحب سوداگر نے اپنی ذات اور اپنی بہنوں کی جانب سے مسجد کی تعمیر کے لیے دس گنٹہ زمین انجمن حامی مسلمین کے نام وقف فرمائی۔ اس وقف شدہ زمین پر صدیقہ بہاؤ الدین نے ایک مسجد تعمیر کروائی، جو بعد ازاں مسجد صدیقی کے نام سے موسوم ہوئی اور آج بھی اہلِ علاقہ کے لیے عبادت و دین کا مرکز ہے۔

 

اسی خانوادے کے دو باوقار سپوت، محمد عمر فاروق اور محمد زبیر سوداگر( مولوی زورارہ اور محمد انفال رکن الدین کے نانا ) بھی تھے، جو بھٹکل کے قریب سرپن کٹہ کے علاقے میں ایک المناک سڑک حادثے میں شہید ہوگئے۔ یہ واقعہ تقریباً 1980کے آس پاس پیش آیاتھا ۔

کہا جاتا ہے کہ سلطانی محلہ بھٹکل کی تاریخ میں یہ ایک منفرد اور دل سوز لمحہ تھا، جب ایک ہی گھر سے بیک وقت دو جنازے اٹھے۔ یہ منظر نہ صرف اہلِ محلہ بلکہ پورے علاقے کے لیے انتہائی رنج و الم کا باعث بنا ۔ 

 

بھٹکل میں جب بھی کسی خوشی کے موقع اہم تقریب یا بڑے اجتماع کا اہتمام ہوتا تو مہمان نوازی اور تواضع کے بہترین انتظامات کی ذمہ داری اکثر اسی معزز گھرانے کے افراد سنبھالتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بھٹکل میں ہونے والے بڑے مواقع پر ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور لوگ ان کے حسنِ انتظام کے معترف نظر آتے تھے۔

 

ماضی قریب میں  اس گھرمیں سلطان یوتھ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ممبران مولوی زرارہ ابن محمد زکریا رکن الدین اور محمد انفال ابن زکریا رکن الدین ، ابراہیم سوداگراور محمد زکریا رکن الدین بھی رہتے تھے اور ساتھ ہی نچھلے حصے میں بی بی صفورہ جوباپو زوجہ عبدالقادر باشاہ نائیطے کا رہائشی مکان تھا۔

(جاری)

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج خیالات   مضمون نگار کی ذاتی تحقیق کا نتیجہ ہیں ۔اس سے ادارے کا متفق ہونا  ضروری نہیں۔ادارہ  بھٹکلیس)