Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

06:40PM Sat 23 May, 2026

 "دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

سلطانی محلے میں واقع محمد باپو ہاؤس (رکن الدین محمد صاحب محمد باپو)صدیوں سے علم و دین کا چراغ روشن کرتا آیا ہے۔ یہ گھر بھٹکل کی متعدد اہم شخصیات، اہلِ علم اور بزرگانِ دین کا مسکن رہا۔ ایک طویل عرصے تک قرآنِ مجید کی تعلیم اور دینی نصاب کی تدریس اسی گھر میں جاری رہی۔

اسی خاندان کی بزرگ خاتون بی بی عائشہ بنت احمد کبیر محمد باپو (عرف مامداپو خلفین) نہایت وجیہہ شخصیت کی مالک تھیں اور اپنے تقویٰ، وقار اور خاندانی عظمت کی وجہ سے پورے علاقے میں معروف تھیں۔

 

ایک ہی گھر میں دو جلیل القدر علمی و دینی شخصیات کا قیام، یقیناً ایک عظیم سعادت تھی۔ رکن الدین محمد باپو خاندان کے داماد ہونے کے ساتھ ساتھ، جماعت المسلمین بھٹکل اور خلیفہ جماعت المسلمین کے قاضیان بھی اسی گھر میں مقیم رہے۔

ان میں حضرت الحاج قاضی ابوبکر بن حسن( عرف اوپا خلفو ) جو خطیب جامع مسجد بھٹکل اور قاضی جماعت المسلمین بھٹکل تھے، اور حضرت مفتی محمد اسمعیل بن ابوبکر اکرمی(عرف  دھکلو بھاؤ خلفو) جو خطیب خلیفہ جامع مسجد بھٹکل اور قاضی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل تھے۔

 

یہ گھر ان جلیل القدر ہستیوں کے ساتھ ساتھ دیگر معزز شخصیات کی موجودگی سے بھی مزین رہا، جن میں

ابوبکر ابن محمد اسماعیل اکرمیؒ (سائباپا خلفو)،حضرت مفتی محمد شبیر بن محمد اسماعیل اکرمیؒ (شبیر باپا خلفو)،

اور عبدالرزاق ابن شیخ جفری بن عبدالقادر باشاہ رکن الدین محمد باپوؒ (خجندی مالیکا)شامل ہیں۔ ان کے ساتھ دیگر بزرگوں اور معزز افراد نے بھی اپنی نیکی، اخلاص اور حسنِ کردار سے اس گھر کی عظمت میں اضافہ کیا۔

 

بھٹکل کی شادیوں میں نکاح اسٹیج کی روایت اور امین سائب خلفو کی خدمات

بھٹکل میں نکاح کے مواقع پر دلہا و دلہن کے لیے فنِ ترتیب و تزئین کے ساتھ اسٹیج تیار کرنے کی روایت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس روایت کو باوقار اور فنّی انداز دینے میں جن شخصیات نے نمایاں کردار ادا کیا، اُن میں سرِ فہرست مولانا محمد امین ابن احمد اکرمی (عرف امین سائب خلفو) ہیں۔

مولانا نے 1972ء میں پہلی مرتبہ اسٹیج کا نظم و اہتمام کیا، اور یہ سعادت جیلانی کولاصاحب کے نکاح میں حاصل ہوئی، جس کا انعقاد 20 نومبر 1972ء کو علوا میں ایک کرائے کے مکان میں ہوا تھا۔

انہی دنوں سے ان کا یہ فن باقاعدہ ایک خدماتی شعبے کی شکل اختیار کر گیا۔ بھٹکل اور اطراف کے علاقوں میں نکاح کے اسٹیج ان کے مخصوص، منظم اور منفرد انداز کی وجہ سے پہچانے جانے لگے، یہاں تک کہ اس فن میں ان کی مہارت ایک شناخت بن گئی۔

ان کی خطاطی اور فنِ تحریر کا سلیقہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ بھٹکل کے معروف مقام شمس الدین سرکل پر "پیور گولڈ" کے نقش کی تحریر انہی کے قلم کا کمال تھا ۔ اسی طرح جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے پچاس سالہ کنونشن کے موقع پر سلطانی محلہ کا جو تھری ڈائمینشنل نمونہ پیش کیا گیا تھا، وہ ان کی تخلیقی ذہانت اور فنی مہارت کا درخشاں ثبوت تھا۔

آج اسی روایت اور فن کو مولانا کے صاحبزادے محمد ارشد ابن امین صاحب نہایت خوبی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔

 

مولانا امین صاحب (امین سائب خلفو) نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں حضرت مولانا طبیب الدین اشرفی استاد جامعہ اشرفیہ ویلو  مدرسے میں خطاطی کی  تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے اس فن کو محض تحریر تک محدود نہ رکھا، بلکہ مختلف انداز کے مخطوطات تیار کر کے انہیں فریم کی صورت میں گھروں کی زینت بنایا۔ متعدد افراد کو یہ فن پارے بطور انعام پیش کیے جاتے تھے۔ گھروں کے ناموں کے بورڈ اور دیگر عنوانات وہ اپنے منفرد اسلوب اور ذوق کے ساتھ تیار کرتے تھے، جن میں سادگی اور دلکشی کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔

 

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کی ذاتی تحقیق پر مبنی ہیں۔ اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ بھٹکلیس)