Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

09:04PM Wed 20 May, 2026

کچھ شخصیات اجداد کے ورثے سے ملی شہرت کے بجائے اپنے کام کے جنون سے پہچانی جاتی ہیں۔ جناب فاروق سید صاحب بھی ایسی ہی ایک باوقار اور باعمل شخصیت تھی جن کے انتقال کی خبر نے دنیائے ادب کو غم زدہ کر دیا۔ وہ بظاہر خاموش مزاج تھے، مگر ان کی زندگی کا ہر لمحہ بچوں کے ادب اور اردو زبان کی خدمت کی ایک روشن مثال تھا۔

انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس مقصد کے لیے وقف کر دیا کہ نئی نسل کو ایسا ادب فراہم کیا جائے جو ان کے دل و دماغ کو سنوارے۔ ماہنامہ “گل بوٹے” اسی فکر اور جذبے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ رسالہ محض صفحات کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی فکری تحریک تھی جس کے ذریعے بچوں میں مطالعے کا ذوق، زبان سے محبت اور اچھی قدروں کا شعور پیدا کیا گیا۔

تقریباً تین دہائیوں تک انھوں نے مستقل مزاجی کے ساتھ اس میدان میں کام کیا۔ نہ وسائل کی کمی ان کے عزم کو کمزور کر سکی اور نہ ہی حالات کی سختی انھیں اپنے راستے سے ہٹا سکی۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ وہ بغیر کسی شور و غوغا کے اپنا کام کرتے رہے اور اپنے مقصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔

ادارہ ادبِ اطفال بھٹکل کے ایک پروگرام میں ان کے خیالات ان کی شخصیت کی مکمل عکاسی کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا: "بچوں کے لیے رسالہ جاری رکھنا آسان نہیں، اس کے لیے شوق کے ساتھ ایک جنون بھی درکار ہوتا ہے۔"

یہ محض الفاظ نہیں تھے، بلکہ ان کی پوری زندگی کا نچوڑ تھے۔ انھوں نے جس طرح اس جنون کے ساتھ اپنے مشن کو نبھایا، وہ آج کے دور میں ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔

ماہنامہ بچوں کا “پھول” بھٹکل کے فروغ میں بھی ان کی سنجیدہ کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ممبئی میں منعقد ہونے والی “ایک شام پھول کے نام ” ایک یادگار تقریب تھی، جہاں ادبی حلقوں کی بھرپور شرکت نے اس رسالے کو نئی پہچان دی۔ یہ کامیابی دراصل انہی لوگوں کی محنت کا ثمر تھی جو ادب کو موجودہ دور کی اہم ضرورت سمجھتے ہیں۔

 

ادارہ ادبِ اطفال بھٹکل کے زیرِ اہتمام منعقدہ کتاب میلے میں بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت  نہایت اعزاز اور مسرت کا باعث رہی۔ اس بامقصد اور علمی تقریب میں بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے جو کاوشیں دیکھنے کو ملیں، وہ لائقِ تحسین ہیں۔

 فاروق سید صاحب نے اس خوبصورت ادبی محفل میں نہ صرف اپنی شرکت کو یادگار بنایا بلکہ اس کی تشہیر اور پیغام کو عام کرنے کے لیے اپنے قلم کو بھی متحرک کیا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس علم دوست اور مثبت سرگرمی سے مستفید ہو سکیں۔

 

آج وہ ہم میں موجود نہیں، مگر ان کا کام، ان کی سوچ ہمیشہ زندہ رہے گی۔

ان کی یاد دلوں میں باقی رہے گی، ان کا مقصد اہلِ قلم کے لیے مشعلِ راہ بنا رہے گا، اور ان کی کمی ایک طویل عرصے تک شدت سے محسوس کی جاتی رہے گی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو غریقِ رحمت فرمائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین

 

 

(مضمون نگار شعبہ کتب خانہ ادارہ ادب اطفال بھٹکل کے ناظم ہیں)