Shaikh Faisal Malvi ( Death 08-05-2011)
*شیخ فیصل مولوی (وفات
آج مورخہ ۸/ مئی شیخ فیصل مولوی کی یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات سنہ ۲۰۱۱ء بیروت لبنان میں ہوئی تھی۔
فیصل مولوی ایک فقیہ ، قاضی اور مفکر تھے، آپ کی زندگی تحریک اور دعوت میں گذری.
لبنان دور عثمانی تک بنیادی طور پر ملک شام ہی کا حصہ تھا، لیکن اس پر فرانسیسی سامراج نے قبضہ کرکے جاتے جاتے اس پر عیسائی مارونی فرقہ کو حاوی کردیا، اور اختیارات مذہب اور فرقوں کی بنیاد پر بانٹ دئے، اس وقت سے یہاں دستوری طور پر صدر مارونی، وزیر اعظم سنی اور اسپیکر اثنا عشری شیعہ پر تقسیم طے ہے، ان کے علاوہ یہاں اسماعیلی درزی اور علوی فرقوں کے گڑھ بھی پائے جاتے ہیں، طرابلس سنی اکثریتی علاقہ ہے، اندازا لبنان میں سنی مسلمانوں کا تناسب پینتیس فیصد کے قریب ہے، ایران کے خمینی انقلاب کے بعد مارونی عیسائیوں کے ساتھ ساتھ ایران کی پشت پناہ حزب اللہ نے دینی اور معاشرتی طور سنی مسلمانوں کو ر بہت کمزور کردیا ہے۔حافظ الاسد اور بشار الاسد کے دور میں بھی ان کی پوزیشن اور زیادہ کمزور ہوگئی، اور ان کے ہاتھوں چوٹی کے سنی قائدین کو شہید کرکے انہیں سیاسی اور معاشرتی طورپر یتیم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ مارونی اور شیعہ ملیشیا کا غلبہ تھا، سنی مسلمانوں کے پاس جانی مالی دفاع کے لئے کچھ نہیں تھا۔
ان پر آشوب حالات میں جن شخصیات نے لبنان کے مسلمانوں کی رہنمائی میں اپنی زندگیاں صرف کیں ان میں ایک اہم نام شیخ فیصل مولوی کا ہے۔
آپ کی ولادت سنہ ۱۹۴۱ء طرابلس ۔ لبنان میں ہوئی تھی، سنہ ۱۹۶۷ء میں آپ نے الجامعۃ اللبنانیۃ کے کلیۃ الحقوق سے بی اے مکمل کیا، اور دوسرے ہی سال جامعۃ دمشق کے بڑے ہی معتبر کلٰیۃ الشریعۃ سے بھی تکمیل کی۔ جس کے بعد آپ نے فرانس کی سوربون یونیورسٹی سے ڈپلوما حاصل کیا۔
۱۹۶۸ء میں آپ شرعی قاضی مقرر ہوئے۔ پھر بیروت کی اعلی شرعی عدالت میں ایڈوئیزر مقرر ہوئے، جس عہدے پر آپ ۱۹۹۶ء تک فائز رہے۔۱۹۸۰ تا ۱۹۸۵ء آپ کا قیام یورپ میں رہا ۔
مارچ ۱۹۹۷ء میں آپ نے برطانیہ میں المجلس الاوربی للافتاء والبحوث کے قیام میں حصہ لیا۔
۱۹۹۰ء میں چاتیوں چینون (فرانس ) فرانس میں مسلم بچوں کی شرعی تعلیم کے لئے الکلیۃ الاوربیۃ للدراسات الاسلامیہ قائم کیا۔
۱۹۵۵ء سے آپ کی تحریک اسلامی سے وابستگی تھی، استاد فتحی یکن کی ۱۹۹۲ء میں وفات کے بعد آپ کو الجماعۃ الاسلامیہ کا سربراہ منتخب کیا۔
آپ نے (۱) المفاہیم الاساسیۃ للدعوۃ الاسلامیۃ فی بلاد الغرب (۲) الاسس الشرعیۃ للعلاقات بین المسلمین وغیر المسلمین جیسے اہم دعوتی موضوعات پر کتابین، اور فقہی موضوعات پر مضامین یادگار چھوڑے۔
بنیادی طور پر آپ ایک داعی اور مفکر تھے، آپ کی تقریریں بڑی فکر انگیز ہوا کرتی تھیں۔
فرانس منتقل ہونے سے قبل ۱۹۸۰ء میں آپ کی تقریر سننے اور ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔ ہمارے ساتھ کئی ایک عرب ممالک کی اہم علمی دعوتی اور شخصیات آفس میں کام کرتی تھیں، لبنان کی شخصیات میں شیخ محمد عمر الداعوق رحمۃ اللہ علیہ ، اور شیخ مالک الشعار تھے۔ اول الذکر لبنان کی پہلی دعوتی جماعۃ عباد الرحمن کے بانی تھے، اور لبنان کے دعوتی اور علمی حلقوں میں ایک باپ کی طرح احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔۱۹۵۶ء میں جب مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے لبنان کا دور ہ کیا تھا، تو آپ شیخ محمد عمر الداعوق ؒ ہی کے مہمان تھے، جس کا تذکرہ مذکرات السائح فی الشرق الاوسط میں موجود ہے۔
اسی طرح شیخ الشعار بعد میں اپنے وطن منتقل ہوئے اور طرابلس کے قاضی ہوکر ابھی چند ماہ قبل اپنے منصب جلیلہ سے کبر سنی کی وجہ سے سبکدوش ہوئے ہیں ۔ ہماری دعوت پر بھٹکل بھی تشریف لائے تھے، اور جامع مسجد میں خطبہ بھی دیا تھا۔ لبنانی اہل علم اور دانشور ان سے ملنے ضرور آتے تھے۔
فیصل مولوی کو کئی بار سننے کا موقعہ ملا، آپ کی باتیں منطقی اور دل کو چھو لینے والی ہوتی تھیں، اللہ تعالی نے وجاہت خوبصورتی اور علم اور طلاقت لسانی سے بھر پور نوازا تھا، آج سے چھیالیس سال قبل کہی ہوئی ان کی بات اب تک ذہن سے محو نہیں ہوئی ہے کہ ہم عالم اسلام کے اتحاد کی بات کرتے ہیں، لیکن یاد رہے کہ "عالم اسلام کا صرف اتحاد مقصود نہیں ہے، اتحاد کا حق کو بلند کرنے کے لئے اور صحیح اصولوں پر ہونا بھی ضروری ، اگر یہ اپنےہی باشندوں پر ظلم اور ان کی حق تلافی کے لئے متحد ہوجائیں، تو یہ ناقابل قبول ہے"
اللہ مرحوم کی مغفرت کرے، اور ان کے اعمال حسنہ کو قبول کرے۔
2026-05-09
