Moulana Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

08:54PM Sat 30 May, 2026

 

 "دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نماز کے لیے عیدگاہ میں مناسب انتظام اور آپس میں مشورہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عیدگاہ کمیٹی کی نشستیں باقاعدہ منعقد کی جاتی ہیں، اور یہ اعزاز سلطانی مسجد کو حاصل ہے یہ سلسلہ کافی عرصے سے منظم انداز سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

اسی طرح عید کے دنوں میں بچوں کا جوش و خروش بھی دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ جیسے ہی مسجد کے میناروں سے عیدین کی تکبیر کی آواز بلند ہوتی ہے، بچے خوشی خوشی مسجد کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور مل کر خوبصورت آواز  میں تکبیر پڑھتے ہیں۔  سلطانی مسجد میں عید کے موقع پر یہ روح پرور منظر آج بھی دل کو خوشی اور سکون سے بھر دیتا ہے۔

 

سلطانی محلہ اور اس کے آس پاس سے تعلق رکھنے والی ماضی قریب میں دو معروف شخصیات تھیں۔ ایک بکروں کے کاروباری مرحوم عبدالغفور ایس۔ایم صاحب( عرف عدن عبدالغفور) جن پر اعتماد کیا جاتا تھا، جبکہ بڑے جانوروں کے لیے لوگ مرحوم حوّا محمد حسین صاحب کا رخ کرتے تھے اور دونوں حضرات خوش اسلوبی کے ساتھ گوشت کا کاروبار کامیابی سے انجام دیا کرتے تھے۔

 

   عیدالاضحیٰ کے مبارک دنوں میں سلطانی محلہ کا صحن ایک منفرد اور دلکش منظر پیش کرتا ہے۔ اس کے اطراف بکروں کی منڈی سج جاتی ہے جہاں ہر طرف چہل پہل،  بچوں کا شور اور لوگوں کا ہجوم ایک زندہ اور متحرک فضا قائم کر دیتا ہے۔ خرید و فروخت میں مصروف افراد، جانوروں کی بولیاں لگاتے لوگ اور مختلف نسلوں کے جانور اس منظر کو اور بھی دلنشین بنا دیتے ہیں۔

 

سلطانی محلہ کے آس پاس گھروں کے پیچھے جسے لوگ “مٹی” کہا کرتے ہیں۔ یہی جگہ بچوں کے کھیل کود کا مرکز تھی، جہاں بڑے بڑے کھیل اور مقابلے  بھی منعقد ہوتے تھے۔

عیدالاضحی کے دنوں میں جب یہاں جانوروں کی منڈی سجتی، تو اس کا منظر نہایت دلکش اور یادگار ہوتا تھا۔ ہر طرف رونق ہی رونق ہوتی، جانوروں کے مالک کی طرح بچوں کے ہاتھوں میں کولڈو (ایک موسمی کھلونا) نظر آتا، جو اس وقت کے بچوں کا خاص کھیل ہوا کرتا تھا۔

یہ منڈی صرف خرید و فروخت تک محدود نہیں تھی، بلکہ پورے بھٹکل کے لوگوں کے لیے ایک خاص کشش رکھتی تھی۔ لوگ دور دور سے نہ صرف قربانی کے جانور خریدنے آتے، بلکہ اس خوبصورت اور زندہ دل ماحول کو دیکھنے بھی آتے تھے۔ بچوں، بڑوں اور خاندانوں کا ایک ساتھ جمع ہونا اس جگہ کو مزید پُررونق بنا دیتا تھا۔

اس زمانے میں سلطانی محلہ کی بقر عید منڈی بھٹکل کی تہذیبی، سماجی اور تجارتی روایت کی ایک خوبصورت علامت تھی۔ آج بھی پرانے لوگوں کے دلوں میں اس کی یادیں تازہ ہیں، جو ماضی کی ایک حسین تصویر پیش کرتی ہیں۔

 

اسی طرح بقر عید کے دوران قصابوں کی بڑی تعداد بھی یہاں آپہنچتی ہے۔ صحن سلطانی کے اردگرد وہ اپنے اپنے ٹھکانے بنا لیتے ہیں تاکہ قربانی کے خواہشمند افراد کو سہولت فراہم کر سکیں۔ جب گھروں میں قربانی کا وقت آتا ہے تو لوگ قصاب کی تلاش میں اسی صحن کا رخ کرتے ہیں، جہاں بہ آسانی ان کے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔

یوں عیدالاضحیٰ کے یہ ایام سلطانی محلہ کے صحن کو نہ صرف ایک منڈی بلکہ ایک ایسے مرکز میں تبدیل کر دیتے ہیں جہاں مذہبی جذبہ، سماجی میل جول اور باہمی تعاون کی خوبصورت جھلک ایک ساتھ دیکھنے کو ملتی ہے۔

 

سلطانی محلہ کی دینی اور اجتماعی روایات ہمیشہ نمایاں رہی ہیں۔ سنہ 1986ء میں چامنڈی محمد زاہد (جاپانا گھرے)کی جانب سے ایک بہت بڑے جانور کی قربانی نے لوگوں کی خاص توجہ حاصل کی جس کو پانچ یا چھ ہزار روپے میں خریدا گیا تھا۔ اسی طرح مصباح ہاؤس میں ہر سال بڑی تعداد میں بکروں کی قربانی ایک مستقل روایت رہی ہے۔

چند سال قبل دھبلی ہاؤس میں بیک وقت تقریباً 15 سے 16 بڑے جانوروں کی قربانی بھی ایک یادگار منظر ثابت ہوئی۔ یہ تمام واقعات سلطانی محلہ کے دینی جذبے اور اجتماعی اتحاد کی خوبصورت مثال پیش کرتے ہیں۔

 

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کی ذاتی تحقیات پر مبنی ہیں، اس سے ادارہ بھٹکلیس کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)