Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

09:03PM Wed 1 Jul, 2026

 

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

 

صحنِ سلطانی کے قریب عوامی سہولیات کے پیشِ نظر شہر کی میونسپلٹی کی جانب سے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک ٹنکی قائم کی گئی تھی۔ محلے اور اطراف کی آبادی کے لوگ اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے۔ بعد ازاں وقت کے ساتھ ساتھ گھروں کے اندر الگ الگ پانی کی فراہمی کا نظام قائم ہوگیا، جس کے نتیجے میں اس عوامی ٹنکی کی ضرورت کم ہوتی گئی۔

اس صورتِ حال کے پیشِ نظر میونسپلٹی نے عوامی سہولیات کے لیے اس مقام کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور وہاں ایس ٹی ڈی/فون کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا، جہاں پہلے پانی کی ٹانکی موجود تھی۔

اسی مقصد کے تحت بستی روڈ کے رہائشی جناب محمد مقبول ابن محمد طلحہ رکن الدین، جو پیروں سے معذور تھے،  17/ جنوری 1993ء کو اس مقام پر  انہوں نے ایک چھوٹی سی دکان تعمیر کی شروع میں دوکان کی تشہیر وترقی میں محمد اسلم بھالی صاحب کابہت ساتھ رہا ۔ میونسپلٹی نے یہ جگہ معمولی کرایہ پر ان کے سپرد کی، تاکہ عوام بھی سہولت سے مستفید ہوں اور ان کے لیے روزگار کا ایک ذریعہ بھی پیدا ہو سکے۔

 

ابتدائی دور میں ایس ٹی ڈی کلیکشن کا نظام اس انداز سے چلتا تھا کہ ایک ہفتہ پہلا نمبر اور ایک ہفتہ دوسرا نمبر ہوتا تھا۔ اس کے چند سال بعد موبائل سم، ریچارج اور متعلقہ خرید و فروخت کے کاروبار کا آغاز ہوا۔ پھر رفتہ رفتہ پورے بھٹکل میں ایم ٹی ایس کی   distributor   ( تقسیم) کا کام بھی شروع کیا گیا۔ اس کے بعد وڈافون سم کی  distributor (تقسیم )دیگر خدمات بھی اس کاروبار میں شامل ہوتی گئیں۔

جناب مقبول صاحب رکن الدین نے نہایت محنت، لگن اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی دکان کی ترقی اور کامیابی کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھیں اور اپنی ان تھک محنت کے ذریعے اس کاروبار کو وسعت بخشی۔

 

سلطانی محلہ کی یہ دکان کئی سالوں سے "ایس ٹی ڈی مقبول صاحب" کے نام سے اپنی منفرد شناخت اور بہترین خدمات کی وجہ سے لوگوں کے درمیان مشہور و معروف ہے۔ ابتدا سے ہی یہاں ایمانداری، خوش اخلاقی اور بہترین انداز میں صارفین کی خدمت کو ترجیح دی گئی، جس کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ اس کا اعتماد اور شہرت مسلسل بڑھتی گئی۔

بعد ازاں وقت کی ضرورت اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں مختلف جدید خدمات کا اضافہ کیا گیا، جن میں پرنٹنگ، بچوں کے اسکولی پروجیکٹس کی تیاری، مختلف اداروں، تنظیموں اور تقریبات کے دعوت ناموں کی پرنٹنگ، زیرکس اور دیگر ضروری سہولیات شامل ہیں۔ ان خدمات نے نہ صرف لوگوں کی ضروریات کو پورا کیا بلکہ انہیں ایک ہی جگہ متعدد سہولتیں بھی فراہم کیں۔

آپ کی محنت، لگن، حسنِ اخلاق اور عوامی خدمت کے جذبے نے لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام پیدا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے نام کی طرح حقیقتاً "اسم بامسمی" ثابت ہوئے اور دن بہ دن عوام میں بے حد مقبولیت حاصل کرتے گئے۔ آج یہ دکان صرف ایک کاروباری مقام نہیں بلکہ لوگوں کے اعتماد، سہولت اور اطمینان کی ایک خوبصورت مثال بن چکی ہے۔

 

پیروں سے معذور ہونے کے باوجود اُن کے حوصلے اور عزم میں کبھی کمی نہیں آئی۔ ابتدا میں وہ سائیکل پر اپنی دکان آیا کرتے تھے، پھر کچھ عرصے تک سَنّی استعمال کی، اور اب اسکوٹی اور دو پہیوں والی گاڑی کے ذریعے اپنی دکان تک پہنچتے ہیں۔ اُن کی یہ جدوجہد ثابت کرتی ہے کہ مضبوط ارادوں کے سامنے معذوری بھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

 

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کی ذاتی تحقیقات پر مبنی ہیں۔ ان سے ادارے کا متفق ہوما ضروری نہیں۔ ادارہ بھٹکلیس)

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

 

صحنِ سلطانی کے قریب عوامی سہولیات کے پیشِ نظر شہر کی میونسپلٹی کی جانب سے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک ٹنکی قائم کی گئی تھی۔ محلے اور اطراف کی آبادی کے لوگ اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے۔ بعد ازاں وقت کے ساتھ ساتھ گھروں کے اندر الگ الگ پانی کی فراہمی کا نظام قائم ہوگیا، جس کے نتیجے میں اس عوامی ٹنکی کی ضرورت کم ہوتی گئی۔

اس صورتِ حال کے پیشِ نظر میونسپلٹی نے عوامی سہولیات کے لیے اس مقام کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور وہاں ایس ٹی ڈی/فون کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا، جہاں پہلے پانی کی ٹانکی موجود تھی۔

اسی مقصد کے تحت بستی روڈ کے رہائشی جناب محمد مقبول ابن محمد طلحہ رکن الدین، جو پیروں سے معذور تھے،  17/ جنوری 1993ء کو اس مقام پر  انہوں نے ایک چھوٹی سی دکان تعمیر کی شروع میں دوکان کی تشہیر وترقی میں محمد اسلم بھالی صاحب کابہت ساتھ رہا ۔ میونسپلٹی نے یہ جگہ معمولی کرایہ پر ان کے سپرد کی، تاکہ عوام بھی سہولت سے مستفید ہوں اور ان کے لیے روزگار کا ایک ذریعہ بھی پیدا ہو سکے۔

 

ابتدائی دور میں ایس ٹی ڈی کلیکشن کا نظام اس انداز سے چلتا تھا کہ ایک ہفتہ پہلا نمبر اور ایک ہفتہ دوسرا نمبر ہوتا تھا۔ اس کے چند سال بعد موبائل سم، ریچارج اور متعلقہ خرید و فروخت کے کاروبار کا آغاز ہوا۔ پھر رفتہ رفتہ پورے بھٹکل میں ایم ٹی ایس کی   distributor   ( تقسیم) کا کام بھی شروع کیا گیا۔ اس کے بعد وڈافون سم کی  distributor (تقسیم )دیگر خدمات بھی اس کاروبار میں شامل ہوتی گئیں۔

جناب مقبول صاحب رکن الدین نے نہایت محنت، لگن اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی دکان کی ترقی اور کامیابی کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھیں اور اپنی ان تھک محنت کے ذریعے اس کاروبار کو وسعت بخشی۔

 

سلطانی محلہ کی یہ دکان کئی سالوں سے "ایس ٹی ڈی مقبول صاحب" کے نام سے اپنی منفرد شناخت اور بہترین خدمات کی وجہ سے لوگوں کے درمیان مشہور و معروف ہے۔ ابتدا سے ہی یہاں ایمانداری، خوش اخلاقی اور بہترین انداز میں صارفین کی خدمت کو ترجیح دی گئی، جس کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ اس کا اعتماد اور شہرت مسلسل بڑھتی گئی۔

بعد ازاں وقت کی ضرورت اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں مختلف جدید خدمات کا اضافہ کیا گیا، جن میں پرنٹنگ، بچوں کے اسکولی پروجیکٹس کی تیاری، مختلف اداروں، تنظیموں اور تقریبات کے دعوت ناموں کی پرنٹنگ، زیرکس اور دیگر ضروری سہولیات شامل ہیں۔ ان خدمات نے نہ صرف لوگوں کی ضروریات کو پورا کیا بلکہ انہیں ایک ہی جگہ متعدد سہولتیں بھی فراہم کیں۔

آپ کی محنت، لگن، حسنِ اخلاق اور عوامی خدمت کے جذبے نے لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام پیدا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے نام کی طرح حقیقتاً "اسم بامسمی" ثابت ہوئے اور دن بہ دن عوام میں بے حد مقبولیت حاصل کرتے گئے۔ آج یہ دکان صرف ایک کاروباری مقام نہیں بلکہ لوگوں کے اعتماد، سہولت اور اطمینان کی ایک خوبصورت مثال بن چکی ہے۔

 

پیروں سے معذور ہونے کے باوجود اُن کے حوصلے اور عزم میں کبھی کمی نہیں آئی۔ ابتدا میں وہ سائیکل پر اپنی دکان آیا کرتے تھے، پھر کچھ عرصے تک سَنّی استعمال کی، اور اب اسکوٹی اور دو پہیوں والی گاڑی کے ذریعے اپنی دکان تک پہنچتے ہیں۔ اُن کی یہ جدوجہد ثابت کرتی ہے کہ مضبوط ارادوں کے سامنے معذوری بھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

 

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کی ذاتی تحقیقات پر مبنی ہیں۔ ان سے ادارے کا متفق ہوما ضروری نہیں۔ ادارہ بھٹکلیس)