Riyazur Rahman Akrami Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

09:26PM Fri 19 Jun, 2026

 "دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

 

 

سلطانی محلے میں واقع معروف لیپڑی ہاؤس جناب سید محمد صاحب کی یاد گار ہے جو مقامی طور پر "وڑلے سیدا گھرے" کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ آپ اپنے خاندان کی ایک معزز اور باوقار شخصیت تھے اور علاقے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

جناب سید محمد صاحب کے چھوٹے بھائی جناب عبدالصمد بن سید عبدالقادر بن سید عبدالصمد سید محی الدینا (لیپڑی) تھے۔ ان کا رہائشی مکان  کار اسٹریٹ میں واقع "صمد منزل" میں تھا، جو مقامی طور پر "دھگلے سیدا گھرے" کے نام سے معروف تھا۔

یہ دونوں برادران اپنے خاندان کے نمایاں افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی شرافت، دیانت اور سماجی مقام کی وجہ سے انہیں نہ صرف خاندان بلکہ پورے علاقے میں قدر و منزلت حاصل تھی۔ ان کے نام اور خدمات آج بھی مقامی تاریخ اور خاندانی روایات کا ایک اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

اس دور میں کاریں چند ہی افراد کے پاس تھیں۔ ان میں سید محمد صاحب کی "پیوپ" کار خاص طور پر مشہور تھی، جو اُس زمانے کی مہنگی ترین کاروں میں شمار ہوتی تھی۔

 

یہ مکان سلطانی محلہ کا ایک منفرد اور تاریخی گھر تھا، کیونکہ یہ محلہ کا اولین آزاد (Detached) گھر شمار کیا جاتا تھا۔ اُس زمانے میں سلطانی محلہ کے بیشتر مکانات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے تھے اور ان کی دیواریں مشترک ہوتی تھیں۔ ایسے گھروں کو مقامی زبان میں "مابین ونت" گھر کہا جاتا تھا۔

لپڑی ہاؤس اپنی الگ شناخت، مضبوط تعمیر اور تاریخی اہمیت کی بنا پر نہ صرف اپنے زمانے کی خوشحالی اور وقار کی علامت تھا بلکہ سلطانی محلہ کی قدیم تہذیبی  تاریخ کا بھی ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

 

سید میراں یس ایم (شیبڑی) ، سید محسن یس ایم (شیبڑی) سید عبدالرحیم یس ایم

(شیبڑی) سید ابراہیم یس ایم (شیبڑی) اسی خانوادے کے معزز فرد سید ظہیر بن سید عبدالرحیم ارشاد یس ایم، سید عبدالرحیم‌ ارشاد بھی اپنی علمی، سماجی اور خاندانی خدمات کے باعث نمایاں مقام رکھتے تھے اور ساتھ ہی کوٹیکل محمد غوث سعدا بھی اپنی زندگی کے قیمتی لمحات گزاریں ہیں۔ ان کے فرزندوں میں جناب عبدالعظیم، جناب عبدالمتین، جناب فہیم سعدا وغیرہ دیگر اہلِ خاندان شامل ہیں۔

یہ تمام شخصیات اس تاریخی گھرانے کی زینت تھیں اور اپنے کردار، خدمات اور روایات کے ذریعے خاندان کے وقار اور عظمت میں اضافہ کرتی رہیں۔

 

اسی گھرانے کی ایک نہایت قابل، باصلاحیت  شخصیت محترم جناب سید عبدالرحیم ارشاد صاحب تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی لسانی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ انگریزی، سنسکرت، مراٹھی، کوکنی اور دیگر متعدد زبانوں پر آپ کو گہری دسترس حاصل تھی۔ ادب اور شعر و شاعری سے آپ کو فطری لگاؤ تھا، چنانچہ نوائطی زبان میں آپ نے نہایت عمدہ اور معیاری شاعری کی، جسے عوام و خواص میں بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔

صحافت کے میدان میں بھی آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ 1976ء میں مولانا عبدالعلیم قاسمی صاحب اور محترم محمد علی قمر آرمار صاحب کے تعاون سے آپ نے ’’نقشِ نوائط‘‘ کے نام سے ایک اخبار جاری کیا۔ الحمد للہ، یہ اخبار تقریباً نصف صدی سے مسلسل اپنی اشاعت کا سفر طے کر رہا ہے اور آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ محترم سید عبدالرحیم ارشاد صاحب اپنی وفات تک اس کے مدیر رہے اور نہایت خلوص، محنت، دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ اس کی خدمت انجام دیتے رہے۔ ان کی ادارت نے ’’نقشِ نوائط‘‘ کو نوائط برادری کی ترجمانی کا ایک معتبر اور مؤثر ذریعہ بنا دیا۔

زندگی کے آخری ایام میں جب آپ مستقل طور پر بھٹکل میں مقیم ہوگئے تو سلطانی محلہ کے معروف لپیڑی ہاؤس میں سکونت اختیار کی۔ یہ مکان صرف آپ کی رہائش گاہ ہی نہیں تھا بلکہ ’’نقشِ نوائط‘‘ کے انتظام و انصرام اور ترتیب و تدوین کا مرکز بھی تھا۔ آپ اسی جگہ بیٹھ کر اخبار کی ادارتی ذمہ داریاں نبھاتے، مضامین کی نگرانی کرتے اور پوری دلجمعی کے ساتھ اس علمی و صحافتی خدمت کو جاری رکھتے تھے۔ یوں لپیڑی ہاؤس آپ کی علمی، ادبی اور صحافتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بن گیا تھا۔

 

اہلِ محلہ کے نوجوان سال کے مختلف موقعوں پر اس گھر کے سامنے واقع دالان میں ساکر منجی (مٹھائی) تیار کیا کرتے تھے۔ جب بھی صحنِ سلطانی میں کوئی دینی، سماجی یا عوامی پروگرام منعقد ہوتا، اس کے انتظامات، بالخصوص مہمانوں کی تواضع اور دیگر ضروری امور، اسی گھر کے صحن میں انجام دیے جاتے تھے۔

بعض مواقع پر جلسوں میں خواتین کی شرکت کے پیشِ نظر ان کے لیے بھی مناسب انتظامات کیے جاتے تھے۔ مزید برآں، بعض اوقات گھر کے سامنے موجود کھلی جگہ نماز کے اجتماعات کے دوران گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

اس طرح یہ گھر اور اس کا صحن محلے کی سماجی، دینی اور اجتماعی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز رہا ہے، جہاں مختلف مواقع پر اہلِ محلہ کی خدمت اور تعاون کا جذبہ نمایاں طور پر نظر آتا تھا۔

 

چند سال قبل یہ مکان لیپٹری ہاؤس کے حق داران سے جناب ایم۔ جے۔ خالد صاحب نے خرید لیا تھا۔ بعد ازاں اسے شادی ہال میں تبدیل کر دیا گیا، جہاں متعدد شادیوں اور دیگر تقریبات کا انعقاد ہوتا رہا۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس عمارت کو منہدم (زمین بوس) کر دیا گیا، اور اب اس کی سابقہ حیثیت باقی نہیں رہی۔

 

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کی ذاتی تحقیق پر مبنی ہیں۔ اس سے ادارہ بھٹکلیس کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)