Aimmah Mudarrsin aur tijarat

Abdul Mateen Muniri

Published in - Bat Say Bat

11:15AM Tue 21 Apr, 2026

 دو روز قبل ایک گروپ پر علماء و اہل علم کی تجارت سے وابستگی اور ان کی خوشحالی سے متعلق ایک بحث چلی تھی، جس میں مولانا نور الحسن کاندھلوی دامت برکاتھم جیسے بزرگوں نے بھی اظہار خیال کیا تھا، اور ہمارے کئی ایک اکابر کے اسوہ پر روشنی ڈالی تھی۔ برسبیل تذکرہ اس تعلق سے چند باتیں ہمارے ذہن میں یاد آرہی ہیں۔

۱۹۷۹ء میں جب اس ناچیز کا تلاش معاش میں دبی جانا ہوا تھا، تو ابتدا ہی میں جن بزرگوں کی شفقت نصیب ہوئی تھی ،ان میں ایک مصری بزرگ تھے شیخ عبد البدیع صقر رحمۃ اللہ علیہ ، جنہیں(12) سال تک مکتب الارشاد میں شیخ حسن البناء شہید کی رفاقت حاصل ہوئی تھی۔

شیخ صقر ایک بات ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ عہد شاہی میں مصر کے عیسائی وزیر اعظم بطرس غالی(مقتول 1910ء)  نے اپنے ہم مذہب لوگوں کو وصیت کی تھی کہ مصر میں آپ کی تعداد بہت کم ہے،لہذا سیاست میں اپنی توانیاں صرف کرنے کے بجائے تعلیم اور تجارت پر توجہ مرکوز کریں،  آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا،  تعداد میں کم ہونے کے باوجود آپ کا دبدبہ باقی رہے گا۔ اور مصری قبطی ایک صدی سے زیادہ عرصے سے اپنے رہنما کی وصیت دانتوں سے دبائے ہوئے ہیں،  اس طرح قبطی  مصر میں تعداد میں کم ہونے کے باوجود طاقت ور  رہیں ہیں۔

ہم اڑوس پڑوس میں اگر نظر دوڑائیں تو نظر آئے گا، کہ داؤدی بوہرہ، سلیمانی بوہرہ، پارسی، اسماعیلی خوجے، قادیانی،بہائی، اپنی تعلیم اور تجارت کے بل بوتے پر  اپنی تعداد کے مقابلے میں کئی گنا طاقت ور ہیں۔

اس طرح ہم نے بعض خلیجی ممالک میں دیکھا ہے کہ بوہری، اسماعیلی، عیسائی، سندھی وغیرہ لینے کے بجائے دینے کی پوزیشن میں ہیں، جس نے انہیں  حکومت میں بہت رسوخ اور عزت دیا ہے،  کبھی کبھار  تو ہم مسلمان ان کے مقابلے میں خود کو بے وقعت محسوس کرنے لگتے ہیں۔

چند روز قبل خان بہادر مولوی محمد حسین یم اے سی آئی ای ریٹائرڈ ششن جج کا آج سے ایک صدی پیشتر ۱۹۱۳ء میں  شائع کردہ سفرنامہ ابن بطوطہ نظر سے گذرا۔ اس میں مترجم نے ابن بطوطہ کے دور کا تجزیہ کرتے ہوئے  جو نتیجہ نکالا ہے وہ حیران کن ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

"یہ ہجری کی آٹھویں صدی اور تاریخ مسیحی کی چودہویں صدی تھی۔ یہ صدی دنیا کی تاریخ میں ایک نہایت اہم عصر ہے کیونکہ جیسا کہ اس صدی کو اسلامی تہذیب کے تنزل کا شروع کہہ سکتے ہیں، اسی طرح یہ صدی یورپ کی تہذیب کی ترقی کا آغاز سمجھی جاتی ہے اور اگر غور کیا جائے تو یہ دونوں باتیں لازم و ملزوم تھیں ۔۔۔ اس زمانہ میں تہذیب کی کنجی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلی جاتی تھی اور تماشا یہ تھا کہ ان کو نہ یہ پتہ لگا کہ کنجی ہاتھ سے نکلی جاتی ہے اور نہ یہ پتا لگا کہ وہ کنجی کیا چیز ہے۔۔۔۔

 یورپ میں دین مسیحی کے عروج اور دخول میں اور تہذیب کے آغاز میں چودہ سو سال کا وقفہ ہے۔ کوئی احمق سے احمق منطقی ان دونوں واقعات کو علت اور معلول قرار نہیں دے سکتا۔ اس کے برخلاف اسلامی تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ تھوڑے دن کے اندر اس نے عرب کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر ان کے گھروں اور درباروں اور مجلسوں میں اس تہذیب اور تعلیم کو جگہ دی جس کو مسیحی دین کے تعصب اور تنگرانی نے یونان اور اطالیہ سے چوٹی پکڑ کر نکال دیا تھا۔ باوجو دیکہ پہلی صدی میں چالیس سال تک بد قسمت خانہ جنگی نے ان کو فرصت نہ لینے دی اور پانچویں اور چھٹی اور ساتویں صدی میں یورپ کے جاہل جہادیوں نے ایک طرف اور چینی تاتار کے اجہل مغلوں اور ترکوں کے جہان سوز حملوں نے دوسری طرف سے ان کو اچھی طرح سے سانس نہ لینے دیا اور تہذیب کی ترقی کو روکے رکھا، لیکن ان دونوں مصیبتوں کو وہ جھیل گئے، اگرچہ ان میں سے طاقت کچھ عرصہ کے لیے جاتی رہی مگر چونکہ تہذیب پھر بھی باتی تھی اور اس لیے طاقت کے پھر واپس آ جانے کی قوی امید تھی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آٹھویں نویں اور دسویں صدی میں طاقت تو پہلے سے بھی زیادہ عود کر آئی لیکن تہذیب اور علوم کی تحصیل کا شوق گھٹتا گیا۔۔۔اسلامی ممالک کی تہذیب کی ترقی اور تنزل کا اصلی باعث کیا تھا اور اس تہذیب کی کنجی کیا تھی۔ اس کا جواب ایک بہت چھوٹا لفظ ہے یعنی تجارت۔۔۔ہ تجارت سے بڑھ کر تہذیب کے پھیلانے کا ذریعہ کوئی اور پیشہ دنیا میں نہیں ہو سکتا۔۔۔

تجارت کی ترقی غیر ملکیوں سے ارتباط خیالات کا مبادلہ اور خیالات کی توسیع علوم کی ترقی ترقی کا شوق شوق میں ایک کا دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کرنا اور اس غرض کے حاصل کرنے کے لیے نئے نئے ایجاد اور دریافت میں سعی کرنا ایسے مسلسل واقعات ہیں کہ ایک سے دوسرا بطور علت و معلول کے خود بخود پیدا ہوتا چلا جاتا ہے اور اسی لیے میں نے تجارت کو تہذیب کی کنجی کہا ہے۔۔۔اس زمانہ میں اسلامی قافلے اور جہاز قرطبہ سے لے کر چین کے مشرقی ساحل تک تمام سمندر اور خشکی کو اپنا جولان گاہ سمجھتے تھے اور کوئی اور قوم ان کا مقابلہ کرنے والی نہ تھی۔۔۔جس قدر مسلمان مصنف جغرافیہ پر لکھنے والے اور بڑے بڑے سیاح گزرے ہیں، وہ سب آٹھویں صدی تک ختم ہو جاتے ہیں"۔

ہم نے سفرنامہ کے مقدمے کی طویل عبارتوں سے چند اقتباسات پیش کئے ہیں، جو یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ جب تک خلافت اسلامیہ عربوں کے ہاتھوں میں رہی ، دور عباسی تک سلطنت اور تجارت  قدم سے قدم ملا کر چلتے رہے، لیکن جب خلافت اور سلطنت ترکوں اور مغلوں کے پاس آئی تو پھر مسلمانوں نے تجارت کو چھوڑدیا، ان کے یہاں اب ملک گیری اور فتوحات کا غلبہ ہوا۔عثمانیوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی فتح اور سقوط اندلس کے بعد سنہ  ۱۴۹۸ء کے تلاش ہند کے مشن کی کامیابی کے بعد یورپ نے عالمی تجارت  پر قبضہ کا جو سلسلہ شروع کیاپانچ سو سال بعد بھی وہ تھمتا ہوا نظر نہیں آتا، سامراجی نظام سے آزاد ہونے کے باوجود تجارتی مصالح اور مفادات نے عالم اسلام  کو دو ر غلامی سے زیادہ پابند کردیاہے۔ اور تجارتی مفادات کی بیڑیاں دور غلامی  کے طوق سلاسل سے زیادہ مضبوط لگتی ہیں۔

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی، ہماری ناقص رائے میں علماء دین کو معاشرے میں وقار حاصل کرکے دین کو سربلند کرنا ہے تو ان میں عزت نفس پیدا کرنا ضروری ہے، یہ عزت نفس اس وقت تک انہیں نہیں مل سکتی جب تک کہ یہ اہل ز ر کے عطیات، ہدایا، زکات و صدقات  اور احسان مندیوں سے آزاد نہ ہوں۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ یہ اپنی محنت سے اپنی و اہل وعیال کو دوسروں کا دست نگر بنائے بغیر خود سے ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہ بن جائیں۔ اس کے لئے ایک منصوبہ بند طریقہ کار کی ضرورت ہوگی۔ جو فی الحال دور دور تک نظر نہیں آتا۔مدارس  اور دینی مراکز سے یہ امید رکھنا کہ وہ اتنی تنخواہیں دیں گے جن سے مدرسین کی  ضروریات زندگی پوری ہوں، تو یہ کھیلنے کے لئے مانگے چاند والی بات ہوگی ۔

یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے ہر ایک کو یکساں صلاحیتیں نہیں دی ہیں، اوراگر  سب کی یکساں صلاحیتیں ہو ں تو دنیا کا کام کیسے چلے، کیونکہ دنیا چلانے کےلئے حافظ، عالم، سائنس داں، جغرافیہ داں، صنعت کار ، تاجر اور ملازم و محاسب سبھوں کی ضرورت ہے، دنیا کا کاروبار اس وقت صحیح چلتا ہے جب کہ دھنک کے ساتوں رنگ موجود ہوں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے ان میں باہمی ربط وتعاون ہو۔ لہذا علماء و فارغین میں جو تجارت اور صنعت کاری کی صلاحیت رکھتے ہوں ، اور جو صرف ملازمت کرسکتے ہوں، ان میں تال میل ہو، اور آپس میں افہام وتفہیم سے چھوٹی موٹی تجارت ہو، لیکن یہاں سوال امانت داری کا آتا ہے، اس کی ضمانت کہاں سے لائی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اچھے سے اچھے پروجکٹ اور منصوبے تھوڑی  ہی مدت بعد دم توڑدیتے ہیں۔ اور ناکامیابی اور مایوسی ڈیرہ کرنے لگتی ہے۔ اس سلسلے میں مسلسل ٹھنڈے دل سے سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم خود اپنی برادری کی باہمی خیر خواہی اور تعاون کی بنیاد پر  ترقی وبہبود کے لئے سوچنے اور مختلف صلاحیتوں کو یکجا کرکے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ مدارس  کی روز بروز گرتی صورت حال سے چھٹکارا مشکل ہوگا۔

یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ برصغیر میں جب فاتحین کے گھوڑوں کی  ٹاپوں کے ساتھ  اسلام در خیبر کے راستے داخل ہوا، تو ان کے مزاج میں جہانگیری اور حکمرانی تھی، زمین داری ان کے مزاج کو بھاتی تھی،ملک زراعتی تھا، تجارت ان میں پنپ نہ سکی، لہذا بر صغیر کی جب آزادی ہوئی تو زمینداری کے ہاتھوں سے نکلنے کی وجہ سے مسلمانوں کا بڑا طبقہ مختصر عرصہ میں قلاش ہوگیا، لیکن بد قسمتی سے زمینیں ہاتھوں سے نکلنے کے باجود زمیندارنہ مزاج کی جو سماجی و معاشرتی خرابیاں تھی ان کے خوں سے نہ نکل سکیں۔ اس کا نتیجہ سامنے ہے، ہمارے مدارس اور تعلیمی ادارے زمیندارانہ انداز ہی سے چلتے ہیں، اقرباء پروری، اور خاندانی قبضوں کی جو شکایتیں  روز  بروز ہمارے کانوں میں پڑتی ہیں آخر یہ کیا ہیں؟۔ اداروں پر باپ کے بعد بیٹے کے قبضے  کے تذکرے تو روز سننے میں آتے ہیں، لیکن قوم کی اکثریت کا مزاج باپ کی جگہ بیٹے اور پوتے کو قبول کرنے کا  ہوگیاہے۔ لہذا جو لو گ اداروں میں موسساتی نظام، دستور وغیرہ کی بات کرتے ہیں ان کی آواز صدا بہ صحراء ثابت ہوتی ہے۔ انہیں سپورٹ کرنے والے نہیں ملتے۔

ہمیں ان مسائل کے کسی ایک پہلو کودیکھنے کے بجائے، ایک وحدت کے طور پر تمام امور پر جامعیت کے ساتھ سوچنے اور ان کے لئے لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے، اور سب سے پہلے اپنے بگڑے ہوئے قومی مزاج کو سدھارنے کی فکر کرنی چاہئے، واللہ ولی التوفیق۔

2026-04-21

WhatsApp: +919008175269