Abdul Haleem Mansoor Article
کرناٹک کی سیاست میں سدارامیا سے منسوب ہنی ٹریپ ویڈیوز نے ایک ایسا تنازعہ کھڑا کردیا ہے جس میں الزامات کی گونج تو بلند ہے، لیکن بنیادی سوالات کے واضح جواب اب بھی سامنے نہیں آئے۔ کیا یہ کسی سیاسی رہنما کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش ہے؟ کیا متنازع مواد کے پیچھے کوئی سیاسی یا مالی مفاد کارفرما ہے؟ یا اس معاملے کو سیاسی حریفوں کے خلاف ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے؟ ان سوالات کا جواب کسی پریس کانفرنس، سیاسی بیان یا سوشل میڈیا کے شور سے نہیں، بلکہ شواہد پر مبنی غیر جانب دارانہ تحقیقات سے ہی مل سکتا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ویڈیوز سے تعلق کی تردید کرتے ہوئے انہیں کردار کشی کی کوشش قرار دیا ہے۔ دوسری جانب مرکزی وزیر ایچ ڈی کمارسوامی اور بی جے پی رہنماؤں نے مبینہ سازش، مالی وسائل اور سیاسی سرپرستی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یوں معاملہ کسی ایک ویڈیو یا ایک رہنما تک محدود نہیں رہا؛ یہ کرناٹک کی سیاست میں جواب دہی، سیاسی اخلاقیات اور قانون کی غیر جانب داری کا امتحان بن گیا ہے۔
اس تنازعے میں 13 اکتوبر کو بنگلورو کی سٹی سول اینڈ سیشنز عدالت نے سدارامیا کی درخواست پر ان سے منسوب دو ویڈیوز اور متعلقہ مواد کی اشاعت، نشریات اور تشہیر کے خلاف عبوری حکم جاری کیا۔ اطلاعات کے مطابق 42 میڈیا اداروں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور دیگر فریقوں کو متعلقہ مواد پھیلانے سے روکا گیا۔ عدالت سے رجوع کرتے ہوئے سدارامیا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان ویڈیوز کی پیش کش ان کی ساکھ اور وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ تاہم اس حکم کی قانونی اہمیت کو درست طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ عدالت نے عبوری طور پر مواد کی تشہیر روکی ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ویڈیوز جعلی ثابت ہوچکی ہیں یا کسی مخصوص شخص کی سازش قانونی طور پر ثابت ہوگئی ہے۔ نہ ویڈیو کا وجود اس میں موجود دعووں کو سچ ثابت کرتا ہے، نہ عبوری عدالتی حکم اس کے جعلی ہونے کا حتمی فیصلہ ہے۔ حقیقت تک پہنچنے کے لیے اصل مواد، اس کے ماخذ اور متعلقہ شواہد کی جانچ ناگزیر ہے۔
سدارامیا نے پولیس کمشنر سے رجوع کرکے غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، جبکہ ان کے بیٹے اور ریاستی وزیر یتیندرا سدارامیا نے بھی ویڈیوز کو جعلی قرار دیا۔ یہ ان کا مؤقف ہے، جس کی توثیق یا تردید تحقیقاتی نتائج سے ہی ہوسکتی ہے۔ اس دوران بنگلورو پولیس کی سینٹرل کرائم برانچ کے سائبر کرائم شعبے نے ویڈیوز کی تشہیر کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا اور متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی۔ بعض رپورٹوں میں دو کم عمر افراد سمیت پانچ افراد سے پوچھ گچھ کا ذکر ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک بنیادی اصول فراموش نہیں ہونا چاہیے: پوچھ گچھ جرم کا ثبوت نہیں، اور حراست میں لیا جانا کسی شخص کو مجرم قرار دینے کے مترادف نہیں۔ پولیس کی ذمہ داری صرف یہ معلوم کرنا نہیں کہ ویڈیو کس نے پھیلائی، بلکہ جہاں شواہد اس جانب اشارہ کریں وہاں اس کی تیاری، ترمیم، مالی معاونت اور ممکنہ سرپرستی کے پہلوؤں کی جانچ کرنا بھی ہے۔
ویڈیو کے مبینہ پس منظر میں بھی کئی سوالات موجود ہیں۔ بعض اطلاعات میں جس واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے، اسے 2011 کے آس پاس کا بتایا گیا، جبکہ ریکارڈنگ 2023 سے متعلق بتائی گئی۔ اگر یہ تفصیلات درست ہیں تو اس زمانی فرق کی وضاحت ضروری ہے۔ ریکارڈنگ کس نے کی؟ کیا اصل مواد محفوظ ہے؟ کیا اس میں کسی قسم کی ترمیم ہوئی؟ اسے منظرعام پر لانے کے لیے اتنے عرصے کا انتظار کیوں کیا گیا؟ اور کیا اس کی تشہیر سے پہلے متعلقہ دعووں کی آزادانہ تصدیق کی گئی؟ یہ محض تکنیکی سوالات نہیں، بلکہ پورے تنازعے کی ساکھ سے جڑے معاملات ہیں۔ ان کے جواب ڈیجیٹل مواد کی فارنسک جانچ، میٹا ڈیٹا اور متعلقہ افراد کے بیانات سے تلاش کیے جانے چاہییں، نہ کہ سیاسی قیاس آرائیوں سے۔
ایچ ڈی کمارسوامی نے اس معاملے کو سیاسی سازش کے زاویے سے اٹھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے ممکنہ کردار پر سوالات کیے اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے شیوکمار کو ’’اسٹنگ سمراٹ‘‘ بھی کہا۔ دوسری طرف بی جے پی کے قائد حزب اختلاف آر اشوک نے 16 اکتوبر کو دعویٰ کیا کہ مبینہ اسٹنگ آپریشن پر دس سے پندرہ کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہوں گے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ معلوم کیا جائے کہ یہ کارروائی کس نے کروائی اور اس کے لیے رقم کہاں سے آئی۔ یہ الزامات سنجیدہ ہیں، مگر ابھی ثابت شدہ حقائق نہیں۔ اگر واقعی اتنی بڑی رقم خرچ ہوئی تو اس کے مالیاتی ریکارڈ، ادائیگیوں اور ممکنہ مستفیدین کی جانچ ہونی چاہیے۔ لیکن صرف رقم کا بڑا ہندسہ بیان کردینے سے نہ مالی سازش ثابت ہوتی ہے اور نہ کسی شخص کا جرم۔ الزام لگانے والوں کو بھی اپنے دعووں کے حق میں قابلِ جانچ شواہد پیش کرنے چاہییں۔
اس معاملے نے کانگریس کی داخلی سیاست کے بارے میں بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایچ ڈی کمارسوامی کے الزامات اور سابق وزیر کے این راجنا کے اظہار کردہ شبہات کے بعد یہ قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں کہ کہیں پرانے مواد کو منظرعام پر لانے کے پیچھے کانگریس کی داخلی کشمکش یا قیادت سے متعلق سیاسی مفادات تو نہیں۔ تاہم، محض پارٹی کے اندر اختلافات کی موجودگی کسی سازش کا ثبوت نہیں ہوسکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان امکانات کو بھی تحقیقات کی روشنی میں پرکھا جائے، نہ کہ قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کسی نتیجے پر پہنچا جائے۔ سدارامیا کے دفاع میں پیش کیے جانے والے دلائل کی بھی جانچ ہونی چاہیے اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو بھی شواہد کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔ غیر جانب دارانہ تحقیقات کا تقاضا ہے کہ نہ کسی کو سیاسی وابستگی کی بنا پر تحفظ ملے اور نہ کسی کو محض الزام کی بنیاد پر قصوروار ٹھہرایا جائے۔
15 اکتوبر کو کرناٹک کی کابینہ نے اس تنازعے پر ایک گھنٹے سے زیادہ غور کیا، تاہم فوری طور پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کے بجائے جاری پولیس تحقیقات کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے یقین دلایا کہ تحقیقات شفاف ہوں گی اور ضرورت پڑنے پر معاملہ کسی دوسرے تحقیقاتی ادارے کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، جب الزامات کی زد میں خود وزیر اعلیٰ ہوں تو صرف حکومتی یقین دہانی سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکتا۔ ضروری ہے کہ تحقیقات میں ویڈیوز کے ماخذ، ان کی صداقت، مبینہ مالی معاونت اور ممکنہ سیاسی مقاصد سمیت تمام اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔ اس کے لیے لازمی نہیں کہ معاملہ فوراً سی بی آئی یا کسی خصوصی ٹیم کے حوالے کردیا جائے، لیکن تحقیق کا طریقۂ کار ایسا ضرور ہو جو جانبداری کے شبہات سے بالاتر ہو اور جس کے نتائج پر عوام اعتماد کرسکیں۔ اصل اہمیت اس بات کی نہیں کہ تحقیقات کون سا ادارہ کرتا ہے، بلکہ اس بات کی ہے کہ تحقیقات کتنی آزادانہ، منصفانہ اور شواہد پر مبنی ہوتی ہیں۔
اس پورے تنازعے میں میڈیا کا کردار بھی کڑی جانچ کا متقاضی ہے۔ صحافت کا کام اقتدار سے سوال کرنا، عوامی مفاد کے معاملات سامنے لانا اور حقائق کی روشنی میں جواب دہی یقینی بنانا ہے۔ لیکن غیر مصدقہ مواد کو سنسنی خیز عنوانات کے ساتھ پھیلانا تحقیقاتی صحافت نہیں۔ اگر کسی خاتون کی نجی زندگی یا مبینہ استحصال کا پہلو اس معاملے سے متعلق ہے تو اس کے بیان کی سنجیدہ جانچ کے ساتھ اس کی شناخت اور وقار کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ کسی الزام کی حقیقت معلوم کرنا اور کسی کی نجی زندگی کو عوامی تماشا بنانا دو مختلف امور ہیں۔ عدالت کے حکم کا احترام کرتے ہوئے بھی صحافی ویڈیوز کو دوبارہ پھیلائے بغیر مقدمے، تحقیقات اور متعلقہ فریقوں کے مصدقہ بیانات پر رپورٹنگ کرسکتے ہیں۔
اظہارِ رائے کی آزادی جمہوریت کی بنیاد ہے، لیکن اس آزادی کے ساتھ سچائی اور جواب دہی کی ذمہ داری بھی آتی ہے۔ کسی سیاسی رہنما سے سخت سوال کرنا صحافت کا حق ہے، مگر الزام کو حقیقت اور قیاس آرائی کو خبر بنا دینا اس حق کا غلط استعمال ہے۔ اسی طرح کسی رہنما کی تردید کو بھی تحقیقات کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا۔ حقائق کی تصدیق، متعلقہ فریق کا مؤقف اور شواہد کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کرنا ہی ذمہ دار صحافت کی پہچان ہے۔
اب اصل امتحان یہ ہے کہ تحقیقات ویڈیوز کی تشہیر کرنے والوں تک محدود رہتی ہیں یا ان کی تیاری، اصل ماخذ، ممکنہ ترمیم، مالی معاونت اور سیاسی محرکات کا بھی جائزہ لیتی ہیں۔ اگر کسی نے جعلی مواد کے ذریعے کردار کشی کی یا اسے بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر کسی حقیقی جرم کے شواہد موجود ہیں تو انہیں بھی سیاسی مصلحت کے تحت دبایا نہیں جانا چاہیے۔ اور اگر الزامات ثابت نہیں ہوتے تو کسی شخص کو محض ویڈیو یا افواہ کی بنیاد پر مجرم قرار دینا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔
کرناٹک کو اس وقت سیاسی نعروں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سے زیادہ قابلِ اعتماد حقائق کی ضرورت ہے۔ سدارامیا کی تردید، کمارسوامی کے الزامات، آر اشوک کا مالیاتی دعویٰ اور حکومت کا تحقیقات پر اعتماد—یہ سب فریقوں کے مؤقف ہیں، حتمی نتائج نہیں۔ اسٹنگ آپریشن احتساب کا ذریعہ تب بنتا ہے جب اس کا مقصد عوامی مفاد ہو اور اس کے شواہد قابلِ تصدیق ہوں؛ ورنہ یہی طریقہ کردار کشی اور سیاسی بلیک میلنگ کا ہتھیار بن سکتا ہے۔ اس تنازعے میں کسی سیاسی فریق کو پہلے سے فاتح یا مجرم قرار دینے کے بجائے سچائی تک پہنچنا، قانون کی غیر جانب داری برقرار رکھنا اور عوام کے اعتماد کا تحفظ کرنا ہی اصل جمہوری تقاضا ہے۔
(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج کسی بھی خیال سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادارہ بھٹکلیس)