Abdul Haleem Mansoor Article

Abdul Haleem Mansoor

Published in - Other

08:11PM Sat 31 Oct, 2026

کرناٹک میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد جاری ہونے والی حتمی ووٹر فہرست نے انتخابی شفافیت اور شہریوں کے حقِ رائے دہی سے متعلق کئی اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ 27 اکتوبر 2026 کو چیف الیکٹورل افسر وی انبوکمار کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق ریاست میں ووٹروں کی تعداد 5,54,32,314 سے گھٹ کر 4,55,00,011 رہ گئی۔ اس طرح 99,32,303 نام خارج ہوئے، یعنی سابقہ تعداد میں تقریباً 17.92 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اتنے بڑے پیمانے پر تبدیلی کو محض انتخابی فہرستوں کی معمول کی صفائی قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کتنے نام درست وجوہات کی بنا پر خارج ہوئے اور کتنے اہل شہری انتظامی عمل کی زد میں آکر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہوئے؟

 

24 اگست کو جاری مسودۂ فہرست میں 1,07,96,339 نام کم کیے گئے تھے۔ سرکاری درجہ بندی کے مطابق 65,45,679 افراد مستقل طور پر منتقل شدہ، 19,00,926 غیر حاضر، 16,39,864 فوت شدہ اور 7,09,870 دہری رجسٹریشن کے زمرے میں تھے۔ ان میں فوت شدہ اور دہری رجسٹریشن کے معاملات کی دستاویزی تصدیق ممکن ہے، لیکن تقریباً 84 لاکھ افراد کو منتقلی یا غیر حاضری کی بنیاد پر خارج کرنے کے معاملے میں زیادہ احتیاط درکار تھی۔ کسی گھر پر تصدیق کے وقت فرد کی عدم موجودگی اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ وہ مستقل طور پر منتقل ہوچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان افراد کے نئے پتے کی تصدیق کی گئی؟ کیا ان کے نام نئے حلقوں میں منتقل ہوئے یا صرف پرانی فہرست سے خارج کردیے گئے؟

 

دعووں اور اعتراضات کے مرحلے میں 10,08,038 نئے ووٹر شامل کیے گئے، جبکہ 1,88,324 نام مزید خارج ہوئے۔ حکام کے مطابق 43,82,824 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے۔ لیکن نوٹس جاری کرنا اور متعلقہ شہری تک اس کی اطلاع پہنچنا دو الگ باتیں ہیں۔ کتنے افراد نے سماعت میں شرکت کی؟ کتنے اپنے کاغذات پیش نہ کرسکے؟ اور کتنے ایسے شہری ہیں جنہیں اپنی اہلیت ثابت کرنے کا مناسب موقع ہی نہیں ملا؟ ان سوالات کے جواب کے بغیر نظرثانی کے پورے عمل کو شفاف قرار دینا مشکل ہے۔

 

بنگلورو میں صورتِ حال مزید تشویش پیدا کرتی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق شہر میں ووٹروں کی تعداد تقریباً 1.03 کروڑ سے گھٹ کر 59.6 لاکھ رہ گئی۔ بنگلورو کے کئی شہری حلقوں میں بھی غیر معمولی کمی درج ہوئی۔ شہر میں روزگار اور تعلیم کے لیے آنے والے مہاجر مزدور، کرایے کے مکانوں میں رہنے والے خاندان اور آئی ٹی شعبے سے وابستہ افراد بار بار اپنے پتے تبدیل کرتے ہیں۔ ان کی نقل مکانی ایک حقیقت ہے، لیکن اس کا حل ووٹر فہرست سے نام خارج کرنا نہیں، بلکہ نئے پتے پر اندراج کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اگر کسی شہری کا نام پرانے حلقے سے ہٹایا گیا تو کیا نئے حلقے میں اس کی شمولیت یقینی بنائی گئی؟ بنگلورو کے اعدادوشمار اس سوال کا واضح جواب طلب کرتے ہیں۔

 

ایس آئی آر کے حق میں غیر ملکی شہریوں اور مبینہ دراندازی کا معاملہ بھی پیش کیا گیا۔ سیاسی حلقوں میں کرناٹک، بالخصوص بنگلورو میں 20 لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی دراندازوں کے دعوے کیے جاتے رہے، لیکن چیف الیکٹورل افسر نے نظرثانی کے دوران شناخت کیے گئے غیر ملکی شہریوں کی تعداد 1,000 سے کم بتائی۔ اس فرق کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر غیر ملکی شہریوں کی موجودگی نظرثانی کا اہم جواز تھی تو اس کی سرکاری تفصیلات، شناخت کا طریقہ اور اخراج کی تعداد عوام کے سامنے کیوں نہ رکھی جائے؟ غیر ملکی شہریوں کی شناخت اور اہل ہندوستانی ووٹروں کے حقِ رائے دہی کا تحفظ دو الگ ذمہ داریاں ہیں؛ ایک کے نام پر دوسری کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

 

اس نظرثانی کے اثرات صرف 2028 کے اسمبلی انتخابات تک محدود نہیں رہیں گے۔ مجوزہ گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے تحت 5 سٹی کارپوریشنوں کے انتخابات اور آئندہ ضلع و تعلقہ پنچایت انتخابات بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ خصوصاً بنگلورو کے شہری وارڈوں میں ووٹروں کی بڑی تعداد کے اخراج کے بعد یہ سوال اہم ہے کہ مقامی انتخابات کے لیے کون سی ووٹر فہرست استعمال ہوگی اور اس کی تازہ کاری کس طرح کی جائے گی۔ اگر کسی وارڈ میں اہل ووٹروں کے نام خارج رہ گئے تو مقامی نمائندگی اور انتخابی مقابلے پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہی صورتِ حال پنچایت انتخابات میں بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ کیا ریاستی الیکشن کمیشن ان انتخابات سے پہلے خارج شدہ ناموں کی دوبارہ جانچ اور اہل ووٹروں کی بحالی یقینی بنائے گا؟ اسمبلی فہرست میں ہونے والی کسی غلطی کی سزا شہری کو بلدیاتی یا پنچایتی انتخابات میں بھی کیوں بھگتنا پڑے؟

 

آئین کا آرٹیکل 326 بالغ شہریوں کے حقِ رائے دہی کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 324 الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل کی نگرانی کا اختیار دیتا ہے۔ عوامی نمائندگی قانون 1950 کی دفعہ 21(3) خصوصی نظرثانی کی اجازت دیتی ہے۔ 27 مئی 2026 کو سپریم کورٹ نے ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز بنام الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مقدمے میں خصوصی نظرثانی کے قانونی اختیار کو برقرار رکھا تھا۔ لیکن کسی عمل کا قانونی ہونا اس کے ہر انفرادی فیصلے کو درست ثابت نہیں کرتا۔ نوٹس، سماعت اور قابلِ رسائی دستاویزات کا انتظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ غریب شہری، بے گھر افراد، مہاجر مزدور اور شادی کے بعد رہائش تبدیل کرنے والی خواتین اگر مطلوبہ دستاویزات پیش نہ کرسکیں تو کیا ان کا حقِ رائے دہی ختم ہوجانا چاہیے؟

 

الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ فہرستوں سے فوت شدہ، منتقل شدہ اور دہری رجسٹریشن رکھنے والے افراد کے نام خارج کرنا ضروری تھا، نظرثانی مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہوئی اور فارم 6 کے ذریعے نئے اندراج کا راستہ کھلا ہے۔ 29 اکتوبر کو زیادہ اخراج والے علاقوں میں دوبارہ جانچ اور اہل ووٹروں کے اندراج کے لیے خصوصی مہم کی ہدایت بھی دی گئی۔ یہ اقدام خوش آئند ہے، لیکن اس کی کامیابی کا معیار محض کیمپوں کا انعقاد نہیں ہونا چاہیے۔ کمیشن کو بتانا ہوگا کہ کتنے نام دوبارہ جانچے گئے، کتنے اہل ووٹر بحال ہوئے اور کتنے اخراج درست ثابت ہوئے۔

 

ہمارا موقف واضح ہے , انتخابی فہرستوں کی صفائی ضروری ہے، لیکن اس عمل میں کسی اہل شہری کا ووٹ چھننا ناقابلِ قبول ہے۔ الیکشن کمیشن کو بوتھ وار اخراج کی وجوہات شائع کرنی چاہییں، زیادہ کمی والے علاقوں کا آزادانہ آڈٹ کرانا چاہیے اور متاثرہ شہریوں کے لیے نام کی بحالی کا آسان اور مدت بند طریقہ فراہم کرنا چاہیے۔ شہریوں کو بھی اپنی ووٹر تفصیلات کی تصدیق کرنی چاہیے، لیکن بنیادی ذمہ داری ایک شفاف اور قابلِ اعتماد انتخابی نظام کی ہے۔

 

اقبال نے جمہوریت کا اصول یوں بیان کیا تھا:

جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے

 

کرناٹک میں آج اصل سوال یہی ہے کہ کہیں اس گنتی میں لاکھوں اہل شہری پیچھے تو نہیں رہ گئے؟ تقریباً ایک کروڑ ناموں کی کمی کو نہ بغیر ثبوت دھاندلی کہا جاسکتا ہے اور نہ مکمل وضاحت کے بغیر معمول کی کارروائی۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ ہر غیر مستحق اندراج خارج ہو، مگر ہر اہل شہری کا ووٹ محفوظ رہے۔ انتخابی فہرست کی کامیاب اصلاح وہی ہے جو ووٹروں کی تعداد کم کرنے کے بجائے جمہوری حق کو زیادہ محفوظ بنائے۔

 

haleemmansoor@gmail.com

 

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہیں۔ ان میں سے کسی خیال سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ بھٹکلیس)