شریعت کی حفاظت تو صڑف اعمال کے ذریعہ ہی کی جاسکتی ہے، میسور میں مولانا محمد رفیع الدین قاسمی کا بیان

03:04PM Sat 13 May, 2017

میسور (بھٹکلیس نیوز)میسور میں تحفظ شریعت کے ضمن میں مسلمانوں کی ذمی داری کے عنوان پر جماعت اسلامی ہند حلقہ میسور کے زیر اہتمام مسلم پرسنل لاء بیداری مہم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد رفیع الدین صاحب قاسمی نے کہا کہ شریعت کوئی مجسمہ نہیں جس کی حفاظت کی جائے، شریعت کی حفاظت تو صرف اعمال کے ذریعہ ہی کی جاسکتی ہے۔ مولانا موصوف نے فرمایا کہ شریعت کو خدانے محفوظ رکھا ہے وو تو محفوظ رہے گی اور جو اس پر عمل کرے گا وہ محفوظ ہوجائیگا۔ مرد اور خواتین کے لئے اجلاس ادیگری میں واقع فاروقیہ ٹیچرس ٹریننگ انسیٹیوٹ کے وسیع میدان میں منعقد کیا گیا تھا۔ افتتاحی کلمات میں امیر مقامی منور پاشاہ نے کہا کہ اللہ کے قانون کو ظالمانہ ٹہرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مست اسلامیہ ان کوششوں کو ناکام بنادے کیونکہ جو حکومت مظفر نگر کے فساد زدہ خواتین کو آج تک انصاف نہیں دلاکی وہ بھلا مسلم خواتین کے حقوق کا کیا لحاظ کرے گی۔ در اصل شر پسندون کی یہ شرارت ہے جو ایک مذہب کو مذہب ماننے کے بجائے ایک نظریہ بناکر اس میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔ مولانا حافظ سید زبیر صاحب کی تلاوت کلام پاس سے اس اجلاس کا آغاز ہوا۔ محمد فاروق نشتر نے آیات کلام اللہ کی ترجمانی پیش کی اور نظامت کے فرائض انجام دئے۔ حضرت مولانا مفتی سلمان احمد صاحب رشادی نے" طلاق ثلاثہ کتاب و سنت کی روشنی میں " پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میدیا یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ مسلمان نکاح سے زیادہ طلاق دیا کرتے ہیں۔ حالانکہ دیگر مذاہب کے ماننے والے کے تناسب میں اسلام میں طلاق کا تناسب سب سے کم ہے ۔ طلاق تو ایک آخری مجبوری ہے اور اسکی اجازت ہے نہ کے یہ کوئی کھیل کی چیز ہے، مفتی صاحب نے بتایا کہ شر پسنداس مسئلہ کے ذریعہ یکساں سیلو کوڈ کے نفاذ کے لئے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس ملک کے مسلمان اس کو تسلیم نہیں کرینگے۔ خوشگوار ازدواجی زندگی کے عنوان پر مولانا شاہ ولی اللہ صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک عورت یا کرد کسی وجہ کے بغیر طلاو دے دیں تو جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکیں گے۔ آپ نے اس بات کو ناگزیر بتایا ک نکاح کے پہلے عورت اور مرد کو ان فرائض سے آگاہ کیا جائے۔ ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ بخوبی جان لے کہ مسلم پرسنل لاء کیا ہے ، مفتی نظام الدین قاسمی نے "اسلامی دارالقضاء و ادارہ شرعیہ کی اہمیت " پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دارالقضاء سے رجوع ہونے والے صبر سے کام لیں اور یہاں کئے جانے والے فیصلوں کے بعد دوسری عدالتون سے رجوع ہوتے ہیں وہ اسلام سے خارج ہیں۔ اختتامی خطاب میں مولانا اظہر اللہ خان صاح ب قاسمی ، ناظم علاقہ ، جماعت اسلامی ہند میسور نے فرمایا کہ ہم صڑف اسلامی قوانین کے پاسدار ہیں۔ اور دیگر قوانین ہمارے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ آپ نے شریعت کے تحفظ کو اس پر عمل پیرا ہونے کو بتایا اور اس بات پر ذور دیا ہے کہ مسلمان اپنے معاشرے کو اسلامی معاشرہ بنائیں۔ محمد فاروق نشتر کی دعاء اور شکریہ پر یہ اجلاس اختتام پزیر ہوا،۔