Abdul Haleem Mansoor Article

Abdul Haleem Mansoor

Published in - Other

08:58PM Sat 30 May, 2026

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

 

سیاست میں بعض شخصیات محض حکومتیں نہیں چلاتی بلکہ امیدوں، توقعات اور نظریاتی دعوؤں کی علامت بن جاتی ہیں۔ ان کے فیصلوں کے اثرات صرف انتظامی ڈھانچے تک محدود نہیں رہتے بلکہ مختلف طبقات کے سیاسی اعتماد، سماجی احساسات اور مستقبل کی توقعات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ کرناٹک کی سیاست میں سدارامیا ایسی ہی ایک اہم اور بااثر شخصیت رہے ہیں۔ ایک ایسے رہنما جنہوں نے خود کو پسماندہ طبقات، کمزور طبقات اور اقلیتوں کے حقوق کے علمبردار کے طور پر منوایا، جن کی سیاست کا مرکز سماجی انصاف اور فلاحی ریاست کا تصور قرار پایا، اور جن سے بالخصوص مسلمانوں نے ہمیشہ غیر معمولی توقعات وابستہ رکھیں۔ان کے استعفیٰ کے ساتھ نہ صرف ایک حکومت کا اختتام ہوا بلکہ کرناٹک کی سیاست کا ایک اہم باب بھی بند ہوگیا، جس کے گرد سماجی انصاف، سیکولرازم، فلاحی سیاست، اقلیتی توقعات اور سیاسی تنازعات کی طویل بحثیں برسوں تک گردش کرتی رہیں۔ مگر اقتدار کے ہر دور کا ایک لمحۂ احتساب بھی ہوتا ہے۔ آج جب سدارامیا وزارتِ اعلیٰ سے رخصت ہورہے ہیں تو ان کی سیاسی زندگی کا جائزہ صرف فلاحی اسکیموں، انتظامی کامیابیوں اور انتخابی فتوحات تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ اُن سوالات کو بھی زیرِ بحث لانا ضروری ہے جو برسوں سے مسلم حلقوں، سماجی کارکنوں، دانشوروں اور اقلیتی قیادت کے درمیان گردش کرتے رہے ہیں۔

یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ جو توقعات ایک ایسے رہنما سے وابستہ تھیں جو خود کو سماجی انصاف کا سب سے بڑا ترجمان قرار دیتا تھا، کیا وہ توقعات پوری ہوئیں یا اقتدار کے آخری دن تک ادھوری ہی رہ گئیں؟ 

سدارامیا کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی سیاسی ثابت قدمی، انتظامی تجربہ اور زمینی سیاست پر مضبوط گرفت رہی ہے۔ وہ کرناٹک کے اُن چند سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے وزارتِ خزانہ جیسے اہم قلمدان کو مؤثر انداز میں سنبھالا اور بطور وزیراعلیٰ کئی فلاحی اسکیموں کو عملی شکل دی۔ انا بھاگیہ، شکتی، گرہا جیوتی، گرہا لکشمی اور دیگر عوامی منصوبوں نے ریاستی سیاست میں ان کی ایک الگ شناخت قائم کی۔ ان کے حامی انہیں غریبوں، پسماندہ طبقات اور دیہی عوام کی سیاست کا مضبوط چہرہ قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین ان پر انتخابی فلاحی سیاست کو فروغ دینے کا الزام بھی عائد کرتے رہے۔تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سدارامیا نے کرناٹک میں فلاحی سیاست کو ایک نئی جہت دی اور عوامی بہبود کے منصوبوں کو سیاسی بیانیے کا مرکزی حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

 

مسلمانوں کی امیدیں اور سیاسی قربت: مسلمانوں کے ساتھ سدارامیا کے تعلقات کرناٹک کی سیاست میں ہمیشہ ایک اہم موضوع رہے۔ ایک طویل عرصے تک ریاست کے مسلمانوں کی بڑی تعداد یہ محسوس کرتی رہی کہ سدارامیا اُن چند سیکولر رہنماؤں میں شامل ہیں جو اقلیتوں کے مسائل کو سمجھتے ہیں اور فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف واضح موقف رکھتے ہیں۔بی جے پی دورِ حکومت میں جب حجاب تنازعہ، اذان، حلال، سماجی بائیکاٹ مہمات، انسدادِ تبدیلیٔ مذہب قانون اور انسدادِ ذبیحہ قانون جیسے مسائل نے مسلمانوں میں شدید بے چینی پیدا کی، اُس وقت کانگریس اور خاص طور پر سدارامیا سے بڑی امیدیں وابستہ کی گئیں۔ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے انہیں فرقہ وارانہ سیاست کے مقابلے میں ایک سیاسی ڈھارس اور تحفظ کی علامت کے طور پر دیکھا۔

بحیثیت اردو صحافی مجھے سدارامیا کے سیاسی سفر کے مختلف مراحل کو قریب سے دیکھنے اور متعدد مواقع پر ان سے ملاقات کا موقع ملا۔ ان کی پہلی میعادِ حکومت (2013 تا 2018)  میں اردو صحافیوں، علماء، دانشوروں اور مسلم تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ رابطے اور مکالمے کا ایک مستقل سلسلہ موجود تھا۔ مختلف مسائل پر تبادلۂ خیال ہوتا تھا اور یہ احساس نمایاں تھا کہ حکومت کم از کم مسلم حلقوں کی بات سننے میں سنجیدہ دلچسپی رکھتی ہے۔تاہم موجودہ میعاد میں یہ فاصلہ بتدریج بڑھتا محسوس ہوا۔ ملاقاتوں اور مکالمے کی وہ روایت تقریباً ختم ہوگئی جو کبھی سدارامیا کی سیاسی شناخت کا حصہ سمجھی جاتی تھی۔ مسلم مسائل پر براہِ راست تبادلۂ خیال کا ماحول کمزور پڑتا گیا اور رفتہ رفتہ یہ احساس شدت اختیار کرتا گیا کہ حکومت اب مسلمانوں کو ایک حساس سماجی و سیاسی طبقے کے بجائے محض ایک روایتی ووٹ بینک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔یہ تاثر صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف اضلاع میں سرگرم مسلم سماجی کارکنوں، مذہبی شخصیات، طلبہ تنظیموں اور اردو صحافیوں کے درمیان بھی بار بار سنائی دیتا رہا۔

 

ریزرویشن اور ادھورے وعدے: سب سے زیادہ بحث مسلمانوں کے چار فیصد ریزرویشن کی بحالی کے مسئلے پر ہوتی رہی۔ انتخابی جلسوں، سیاسی وعدوں اور بیانات کے باوجود اس معاملے پر فیصلہ کن پیش رفت نہ ہونے سے مسلم نوجوانوں میں شدید مایوسی پائی گئی۔ ہزاروں طلبہ اور امیدوار ایسے رہے جنہیں تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں اُن مواقع سے محرومی کا احساس رہا جو کبھی ان کے لیے دستیاب تھے۔یہ سوال مسلسل اٹھایا جاتا رہا کہ اگر سدارامیا واقعی سماجی انصاف کے سب سے بڑے داعی تھے تو پھر مسلمانوں کے ریزرویشن جیسے بنیادی مسئلے پر ٹھوس اور فیصلہ کن پیش رفت کیوں نہ ہوسکی؟

حکومت کی جانب سے عدالتی پیچیدگیوں اور آئینی رکاوٹوں کا حوالہ ضرور دیا جاتا رہا، مگر مسلم حلقوں کے ایک بڑے طبقے نے اسے غیر ضروری تاخیر اور سیاسی مصلحت سے تعبیر کیا۔ اسی طرح اقلیتی بہبود کیلئے دس ہزار کروڑ روپے کے بجٹ کا وعدہ بھی سیاسی مباحث کا مستقل حصہ بنا رہا۔ بجٹ میں اعلانات ضرور سامنے آئے، مگر زمینی سطح پر اس کے اثرات، نفاذ اور شفاف عمل درآمد کے حوالے سے سوالات برقرار رہے۔اردو اسکولوں کی خستہ حالی، اقلیتی تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل، بے روزگار مسلم نوجوانوں کی بڑھتی بے چینی، وقف املاک کے تحفظ کا مسئلہ اور اقلیتی فلاحی کارپوریشنوں کی محدود فعالیت جیسے موضوعات مسلسل تشویش کا باعث بنتے رہے۔مسلم حلقوں کے ایک بڑے طبقے کا احساس تھا کہ سرکاری اعلانات اور زمینی حقیقت کے درمیان ایک واضح خلا موجود ہے۔مسلمانوں کے درمیان سب سے زیادہ ناراضگی جس مسئلے پر محسوس کی گئی، وہ سیاسی نمائندگی کا سوال تھا۔ کانگریس ہمیشہ خود کو اقلیت نواز جماعت کے طور پر پیش کرتی رہی، مگر موجودہ دور میں مسلم سیاسی نمائندگی کے حوالے سے یہ احساس شدت اختیار کرتا گیا کہ بااثر اور مؤثر مسلم قیادت کو بتدریج کمزور کیا جارہا ہے۔ ریاستی سطح پر کئی ایسے مسلم رہنما، جو کبھی پارٹی کے اندر مضبوط آواز سمجھے جاتے تھے، یا تو حاشیے پر چلے گئے یا اندرونی اختلافات کا شکار ہوگئے۔ سیاسی مبصرین کا ایک طبقہ یہ بھی محسوس کرتا رہا کہ مسلم قیادت کو متحد اور مؤثر بنانے کے بجائے مختلف دھڑوں میں تقسیم رہنے دینا بعض سیاسی حلقوں کیلئے زیادہ سودمند سمجھا گیا۔ 

متعدد مواقع پر مسلم قائدین کے درمیان کھلے اختلافات سامنے آئے، مگر ان اختلافات کو ختم کرنے یا ایک مشترکہ سیاسی سمت دینے کی کوئی سنجیدہ کوشش دکھائی نہیں دی۔ اس صورتحال نے مسلم سماج کے اندر یہ احساس مزید مضبوط کیا کہ چونکہ مسلمانوں کے پاس کوئی مؤثر سیاسی متبادل موجود نہیں، اس لیے ان کی ناراضگی کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی۔

بعض مذہبی و سماجی شخصیات کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً یہ الزامات سامنے آتے رہے کہ سیکولر سیاست کے دعووں کے باوجود مسلمانوں کے بنیادی مسائل کو محض انتخابی تقاریر تک محدود رکھا گیا۔ اگرچہ کانگریس اور اس کے حامی ان الزامات کو سیاسی تنقید قرار دیتے ہیں، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ مسلم حلقوں میں بے اطمینانی کا دائرہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسیع دکھائی دیا۔

فرقہ وارانہ کشیدگی کے معاملات میں بھی حکومت کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھتے رہے۔ ساحلی کرناٹک اور دیگر حساس علاقوں میں نفرت انگیز تقاریر، سماجی بائیکاٹ مہمات اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے متعدد واقعات کے باوجود حکومت کا ردعمل اُس شدت اور سنجیدگی کے ساتھ سامنے نہیں آیا جس کی توقع کی جارہی تھی۔اسی لیے سدارامیا کی سیکولر شبیہ اور زمینی حقیقتوں کے درمیان فرق پر سیاسی اور صحافتی حلقوں میں مسلسل بحث ہوتی رہی۔

اس کے باوجود سدارامیا کی سیاسی خدمات اور انتظامی تجربے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ کرناٹک کے اُن چند رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ریاستی سیاست میں فلاحی منصوبوں، انتظامی استحکام اور سیاسی مہارت کے ذریعے ایک مضبوط مقام حاصل کیا۔ ان کی سیاسی بصیرت، زمینی سیاست پر گرفت اور مخالف حالات میں بھی خود کو برقرار رکھنے کی صلاحیت قابلِ ذکر رہی۔ وہ ایک تجربہ کار منتظم، طاقتور مقرر اور پیچیدہ سیاسی حالات میں حکمتِ عملی اختیار کرنے والے رہنما کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ مگر سیاست صرف فلاحی اسکیموں اور انتخابی کامیابیوں کا نام نہیں ہوتی۔ سیاسی تاریخ اکثر اُن سوالات کو بھی محفوظ رکھتی ہے جو اقتدار کے اختتام کے بعد عوام کے ذہنوں میں باقی رہ جاتے ہیں۔ سدارامیا کے سیاسی سفر کے ساتھ بھی شاید یہی صورتحال جڑی رہے گی۔انہیں سماجی انصاف کے داعی کے طور پر یاد کیا جائے گا، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی ہمیشہ موجود رہے گا کہ کیا ان کے دورِ حکومت میں مسلمان واقعی خود کو محفوظ، بااختیار اور نمائندگی یافتہ محسوس کرپائے؟

سدارامیا کی سیاسی زندگی کا منصفانہ جائزہ لیا جائے تو ان کی خدمات، تجربہ، فلاحی اقدامات اور سماجی انصاف کے بیانیے سے انکار ممکن نہیں۔ مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود رہے گی کہ ان سے وابستہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ اگر کوئی رہنما واقعی ان کا سب سے بڑا سیاسی حلیف تھا تو پھر وہ ان کے کئی بنیادی مطالبات اور وعدوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے بغیر کیوں رخصت ہوگیا؟

شاید یہی وہ سوال ہے جو ان کی سیاسی میراث کے ساتھ طویل عرصے تک جڑا رہے گا۔ان کے استعفیٰ کے ساتھ کرناٹک کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ آنے والا وقت شاید اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ سدارامیا کو صرف ایک کامیاب سیاست دان کے طور پر یاد رکھا جائے گا یا ایک ایسے رہنما کے طور پر بھی، جس سے مسلمانوں نے بے شمار امیدیں وابستہ کیں مگر جن میں سے کئی امیدیں آخری وقت تک ادھوری رہ گئیں۔

 

haleemmansoor@gmail.com

 

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات  مضمون نگار کے ذاتی ہیں۔ ان میں سے کسی بھی خیال یا رائے سے ادارے کا متفق رہنا ضروری نہیں۔ ادارہ بھٹکلیس)