Riyazur Rahman Nadwi Article

Riyazur Rahman Akrami Nadwi

Published in - Other

07:45PM Sat 6 Jun, 2026

"دوبارہ جئیں گے یہ دیوار ودر"

 

 

جناب حاجی احمد باپو بن حسن صاحب کوبٹے، بھٹکل کے نامور تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نہایت دین دار، با اخلاق اور اجتماعی خدمات کا جذبہ رکھنے والے انسان تھے۔ ان سے منسوب "کوبٹے ہاؤس" جو سلطانی مسجد کے سامنے واقع ایک تاریخی اور یادگار مکان تھا ؛ نہ صرف ان کی شخصیت کی عظمت کا آئینہ دار تھا، بلکہ بھٹکل کی قدیم تہذیبی وراثت کی بھی ایک خوبصورت جھلک پیش کرتا تھا۔

مرحوم عبدالحمید ابن حاجی احمد ابن حسن صاحب کوبٹے (مولانا مقبول احمد صاحب کوبٹے کے والد صاحب) جو سعودی عرب کے شہر جدہ میں تجارت کرتے تھے وہ نہایت دین دار اور دینی فکر رکھنے والے انسان تھے۔ ان کی زندگی دین سے وابستگی اور نیک خیالات کی روشن مثال تھی۔

اسی طرح مرحوم زکی صاحب ابن احمد حاجی ابن حسن کوبٹے بھی ایک باوقار اور با اخلاق شخصیت کے مالک تھے اور اسی کے ساتھ مرحوم محمد حسن کوبٹے (عرف صاحب مالیکا) جو مدراس میں "نوبل ٹریڈرس" کے نام سے لنگی کے کامیاب کاروبار سے وابستہ تھے۔ اسی طرح محمد علی کوبٹے (عرف ایم اے بھٹکلی) بھی ایک معروف شخصیت تھی جنھوں نے حیدرآباد میں میڈیکل فیلڈ میں خدمات انجام دی۔ شادی اور خوشیوں وغیرہ کے موقعوں پر  بھٹکل آتے تھے۔ ایک ہی گھر میں بے حد محبت، اخوت اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارتے تھے، جو خاندانی اتحاد اور مثالی تعلقات کی خوبصورت تصویر پیش کرتا تھا۔

سلطانی محلے کے "کوبٹے ہاؤس"  سے کئی اہم دینی و سماجی کاموں کی شروعات ہوئی، جو آج بھی ان کی خدمت اور اخلاص کی روشن مثال ہیں۔ “کوبٹے ہاؤس” محض ایک رہائشی مکان نہیں تھا، بلکہ ایک زندہ دینی روایت اور خواتین کی اصلاح و تربیت کا ایک روشن مرکز بن چکا تھا۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں یہاں خواتین کے لیے تراویح کا باقاعدہ نظام‌ قائم کیا جاتا تھا جو لگ بھگ چالیس سال تک تسلسل کے ساتھ جاری رہا،  بی بی سارہ محمد باپو (مولانا مقبول احمد صاحب کوبٹے کی والدہ محترمہ) تراویح پڑھاتی تھیں، محترمہ مولانا الیاس، ریاض، نور الامین ، افضل فقیہ احمدا عرف جاکٹی کی مُمانی(مالیکا مھیلی) مرحوم برہان الدین باشاہ کی سالی اور مولانا اسامہ صدیقی کی خالہ تھیں۔ 

بی بی سارہ ایک نہایت دین دار اور نیک سیرت خاتون تھیں۔ انھوں نے سلطانی محلہ میں اپنے گھر پر خواتین کےلیے جمعہ کے دن ہفتہ واری دینی اجتماعات کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا، جس میں اطراف واکناف سے خواتین بڑی رغبت کے ساتھ شریک ہوتیں، سن ١٩٩٢ء میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ گئیں، جہاں آپ کا انتقال ہوا اور آپ کو جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔

اسی تاریخی گھر کو یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق ہردوئیؒ (١٩٢٠ء–٢٠٠٥ء) نے یہاں خواتین سے خطاب فرمایا، جو علم و حکمت سے بھرپور اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوا۔

یہ تمام کاوشیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سلطانی محلہ کی فضا دینی حمیت اور شعور سے سرشار تھی۔ بعد کے زمانے میں بھٹکل کے دیگر محلوں نے بھی اس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس روایت کو اپنایا اور یوں یہ خوبصورت روایت ایک وسیع دائرے میں پھیلتی چلی گئی۔

 

کوبٹے ہاؤس کو ایک خاص سماجی اور خاندانی اہمیت حاصل تھی۔ چوں کہ یہ سلطانی مسجد کے بالکل سامنے واقع تھا، اس لیے یہاں ہمیشہ لوگوں کی آمدورفت رہتی تھی۔

یہ صرف ایک گھر نہیں تھا بلکہ محلے کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا۔ یہاں دینی اور سماجی مشورے ہوتے، خاندانی تقریبات منعقد کی جاتیں اور معززین و رشتہ داروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔

 لوگ اکثر یہاں جمع ہوتے، ایک دوسرے کے حالات جانتے، مہمانوں کی خاطر مدارت کی جاتی اور آپس کے تعلقات مضبوط کیے جاتے تھے۔ اسی وجہ سے لوگ اسے صرف “کوبٹے ہاؤس” نہیں بلکہ بھٹکل کی سماجی پہچان کی علامت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

 

بھٹکل کا دینی تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ کے مہتمم حضرت مولانا مقبول ابن عبدالحمید کوبٹے صاحب‌ اسی  خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ نے اپنے بچپن اور طالب علمی کے قیمتی ایام بلکہ دار العلوم ندوہ العلماء لکھنو سے فراغت تک اسی تاریخی اور روحانی فضا سے لبریز سلطانی محلہ میں قیام کرتے ہوئے گزارے، جہاں سے آپ کی علمی و دینی تربیت کی مضبوط بنیاد پڑی۔

 

رمضان المبارک کے اختتام پر صدقۂ فطر کے جمع کرنے کا ایک خوبصورت اور منظم سلسلہ چلتا آ رہا ہے۔ ابتدا میں صدقہ فطر جمع کرنے کا عمل سلطانی محلہ میں واقع کوبٹے ہاؤس میں انجام دیا جاتا تھا، جہاں اہلِ محلہ باقاعدگی سے صدقہ فطر جمع کرتے۔ بعد ازاں وقت کے ساتھ اس انتظام میں تبدیلی آئی اور صدقۂ فطر کی وصولی "بالڈی ہاؤس" میں منتقل کر دی گئی جہاں یہ سلسلہ مزید وسعت اور نظم و ضبط کے ساتھ جاری رہا۔

 

چند سال پہلے یہ مکان کوبٹے خاندان سے مرحوم جناب صدیقہ جنید صاحب ( عرف گھاٹی جنید بھاؤ) نے خریدا پھر اس کے چند سال بعد سید عبدالرحمن ابن سید عبدالرحیم یس جے نے خریدا۔ اس کے بعد اس کی ظاہری شکل میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں، اور اب یہ گھر جدید انداز میں دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے لیکن اس کی روایات اور اثرات آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج تمام خیالات مضمون نگار کی ذاتی تحقیق کا نتیجہ ہیں۔ ان میں درج کسی بھی بات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ بھٹکلیس)