مسجد اقصی کی حصولیابی کی جد و جہد ہر مسلمان کا دینی اسلا می اور ملی فریضہ ہے 

02:15PM Sun 30 Jul, 2017

نماز جمعہ سے قبل جامع مسجد سٹی میں مولانا محمد مقصود عمران کا خطاب  بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) بیت المقدس کا سقوط صرف ایک تاریخی حادثہ نہیں ہے بلکہ عہد حاضر کے مسلمانوں کی ایمانی غیرت کو بہت بڑا چیلنج ہے مسلمان رہنما ؤں کا فرض ہے کہ وہ نئی نسل کو اس واقعہ کی اہمیت سے بھر پور طریقہ سے آگاہ کریں تا کہ اسلامی شہر کی حفاظت کے لئے جو جذبہ صلاح الدین ایوبی کی زیر قیادت مسلمانوں کے اندر پیدا ہوا تھا ہ ایمانی جذبہ پیدا ہو تاریخ عالم قوموں کے عروج و زوال کی داستان ہے بلندی اور پستی کا یہ چکر امت مسلمہ کے ساتھ بھی چلتا رہتا ہے لیکن جب ہم اس کے عروج و زوال کے اسباب کی جستجو کر تے ہیں تو یہ سبب نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ اس امت کی تخلیق و تشکیل جس غایت کے لئے ہو ئی وہ جب تک اسے اپنا نصیب العین بنا ئے رکھتی ہے اور میدان عمل میں رہتی ہے اسے عروج حاصل رہتا ہے لیکن جہاں یہ اپنے نصب العین سے ہٹ جاتی ہے اور اپنے آقا و مولا سر ور کا ئنات کی راہ سے گریز کا رو یہ اپنا لیتی ہے وہیں سے اس کے زوال کی سر حد شروع ہو جاتی ہے پھر کو ئی مادی سہارا خواہ وہ کتنا ہی مضبوط کیووں نہ ہو اسے ذلت و رسوا ئی تک لیجانے کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا مذکورہ خیا لات کا اظہار بروز جمعہ28 جو لائی جامع مسجد سٹی کے امام و خطیب مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے نماز جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں فر مایا نیز آپ نے بتایا کہ بہت المقدس جہاں عہد حاضر کا یہ خوفناک خونی ڈرا مہ نچایا جا رہا ہے جس میں اللہ کے حبیب ﷺ کی امت کے اَن گنت قر بانیوں کے باوجود بھی سرخرو نہ ہو سکی ان شہروں میں سے ایک ہے جنہیں نوع بنی انسانی عزت و تکریم کی نگاہوں سے دیکھتی ہے جس کا ذرہ ذرہ مقدس ہے انبیاء اس شہر میں مبعوث ہو ئے اور اس شہر کے ارد گرد پھیلی ہو ئی یہ شہر مسلمانوں اور عیسا ئیوں اور یہودیوں کے لئے یکساں متبرک ہے اہل اسلام کا قبلہ اول ہے حرم کعبہ کے بعد حرم نبوی ﷺکے بعد تیسرا حرم ہے ہجرت نبوی ﷺ کے بعد بھی سولہ یا سترہ ماہ تک اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے سفر معراج میں یہی شہر ان کی پہلی منزل تھی یہی نبی پاک ﷺ نے انبیاء سابق کی امامت فر ما ئی اسی جگہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ؑ کا مدفن ہے اور حضرت عیسی کی مہد اور لحد ہے تاریخ عالم کا بہت بڑا المیہ ہے کہ فلسطین کے اصل مکینوں کو ان کے حق سے بے دخل کیا جا رہا ہے اور حاصب صیہو نیوں کو فلسطین کی ملکیت سو نپی جا رہی ہے اس حق تلفی پر پو ری دنیا خصوصاً عالم اسلام تما شا ئی بنا ہوا ہے یہودی اصلاً غاصب ہیں اور فلسطین پر غاصبانہ قبضہ جمائے ہو ئے ہیں ۔ یہود و نصاریٰ نے یہ مسئلہ پیدا کر کے عالم اسلام کے دل میں خنجر گھو نپ رکھا ہے ۔ جبکہ فلسطین کے کسی تنکہ پر بھی نہ اخلاقاً ان کا حق بنتا ہے نہ قانوناً موقع موقع سے نہتے اور بے قصور مصلیوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھا ئے جا تے ہیں اور بسا اوقات ان پر گو لیوں کی برسائی جا تی ہیں اور معصوم مسلمانوں کو شہید کر دیا جا تا ہے آج کے دور میں مسلمانوں کا خون اس قدر ارزاں ہو چکا ہے کہ سوا ئے خدا کے ان کا کوئی محافظ نہیں لہذا اس موقع پر مسلمان اپنے رب سے رشتہ مضبوط کریں اور بے دینی اور بد عملی سے تائب ہو کر اعمال صالحہ کو اپنا ئیں یہودیوں اور عیسا ئیوں میں مسلمانوں کے خلاف گٹھ جوڑ ہو گیا ہے اس شرمناک دھاندلیوں میں لاکھوں فلسطینی مسلمان شہید یابے گھر یا زخمی ہو چکے ہیں لاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس ملکوں میں کیمپوں کے اندر قابل رحم حالت میں زندگی گذار رہے ہیں اقوام متحدہ اور اس کے کر تا دھرتا یہودیوں کے سرپرست بنے ہو ئے ہیں قبلۂ اول مسجد اقصی میں دشمنان اسرا ئیلی فو جیں نمازوں پر پابندی اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک اس مقدس سر زمین کی بے حرمتی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی یہو دیوں فو جیوں نے ان پر گو لیاں چلائی جا رہی ہیں جس سے متعدد فلسطینی جام شہا دت نوش کر رہے ہیں اور بیسوں زخمی ہو رہے ہیں اس موقع پر مولانا نے اپنے خطبۂ جمعہ میں عالم عرب کے مسلمانوں کو آواز دی کہ اس سلسلہ میں پیش رفت کریں اور قبلۂ اول کی آزادی کے لئے جد و جہدس کریں اور مسلمان اجتماعی انفرا دی دعاؤں میں اللہ سے اس کی کامیابی کی دعا ئیں کریں