شہریت ترمیمی بل: امریکی کمیشن نے کہا۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ سے پاس ہوتا ہے تو امت شاہ پر پابندی لگائی جانی چاہئے

12:10PM Tue 10 Dec, 2019

واشنگٹن: شہریت ترمیمی بل 2019 پیر کے روز ایک طویل بحث کے بعد بالآخر لوک سبھا سے پاس ہو گیا ہے۔ اس بل کے خلاف جہاں ہندوستانی اسکالروں اور کئی سیاسی پارٹیوں نے مورچہ کھول دیا ہے، وہیں امریکی کمیشن ( یو ایس سی آئی آ ر ایف) نے بھی اس پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بین اقوامی مذہبی آزادی کے معاملوں کو دیکھنے والا یونائٹیڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم نے شہریت ترمیمی بل کو مودی حکومت کے ذریعہ ایک غلط راستے پر لیا گیا خطرناک موڑ قرار دیا ہے۔ امریکی کمیشن نے کہا کہ شہریت ترمیمی بل ’ غلط سمت میں بڑھایا گیا ایک خطرناک قدم‘ ہے اور اگر یہ ہندوستان کی پارلیمنٹ میں پاس ہوتا ہے تو ہندوستان کے وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف پابندی لگائی جانی چاہئے۔ کمیشن نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ بل کے لوک سبھا میں پاس ہونے سے وہ بیحد فکرمند ہے۔ لوک سبھا نے پیر کے روز شہریت ترمیمی بل( کیب) کو منظوری دے دی جس میں افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے مذہبی اذیت رسانی کے سبب 31 دسمبر 2014 تک ہندوستان آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی برادریوں کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت کے لئے درخواست دینے کا اہل بنانے کا التزام ہے۔
 لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے امت شاہ
کمیشن نے کہا ’’ اگر کیب دونوں ایوانوں میں پاس ہو جاتا ہے تو امریکی حکومت کو وزیر داخلہ امت شاہ اور اعلیٰ قیادت کے خلاف پابندی لگانے پر غور کرنا چاہئے۔ امت شاہ کے ذریعہ پیش کئے گئے مذہبی بھید بھاؤ والے اس بل کے لوک سبھا میں پاس ہونے سے یو ایس سی آئی آر ایف بیحد فکرمند ہے‘‘۔خیال رہے کہ پیر کے روز  لوک سبھا میں تقریباً 7 گھنٹے کی طویل بحث کے بعد متنازعہ شہریت ترمیمی بل منظورہوگیا ہے۔ اس بل کی حمایت میں 311 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں 80 ووٹ پڑے۔ اب اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ بل کی منظوری سے قبل وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ دراندازوں اورپناہ گزینوں کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ یہ بل پناہ گزینوں کے لئے ہے۔