Qurani Qanun Ka Nifaz By Abdul Majid Daryabadi
فلا تُطع الکافرین وجاھدھم بہ جھادًا کبیرًا۔ (فرقان، آیت 44)
ایسا نہ ہو کہ کافروں کے کہنے میں آجاؤ، اُن کی بات مان لو، اُن کے آگے جھک جاؤ، بلکہ ان سے تو پُرزور مقابلہ کرو، ان کے مقابلہ میں اس قرآن کے ذریعہ سے جہاد اختیار کرو، اُنھیں اسی قرآن کی راہ پر قوت وراہِ ثبات کے ساتھ لاؤ، اور بُلاؤ۔
جاہدہم بہ میں ضمیر ہ قرآن کی جانب ہے، یعنی قرآن کے ذریعہ سے جہاد کرو، مقصود اورمطمح نظر قرآن ہی کے قانون کو رکھو۔ قرآن ہی کو ہاتھ میں لے کر اُٹھو، قرآن ہی کی راہ کا سب کو بُلاوادو، اور قرآن ہی کی منزل کی طرف سب کو بلاؤ۔ اس راہ پر لانے اور اس طرف بُلانے میں جدوجہد یقینا بہت سخت کرنی پڑے گی، جان کھپانی پڑے گی، لیکن راہ ہے یہی۔ حکم ہے اسی کا۔ اور تاکید ہے اسی سختی کے ساتھ منکرین قرآن کی راہ پر نہ چلنے کی۔ اُن کے رنگ کے اتباع نہ کرنے کی۔ اُن کی بات میں نہ آجانے کی، اُن کے طورطریقے، اُن کی روش ومسلک اختیار نہ کرنے کی……آیت ایک بہ طور نمونہ نقل کردی گئی۔ ورنہ اسی مضمون کو مختلف پیرایوں میں، اورمختلف عنوانات سے ادا کرنے والی آیتیں دو چار نہیں، پچاسوں ، بلکہ سیکڑوں ہیں۔
یہ حکم اگر عارضی اور پہلی صدی ہجری یا چھٹی صدی عیسوی کے ساتھ مخصوص تھا، جب تو خیر۔ لیکن اگر آپ کے عقیدہ میں ہر ملک، ہر قوم، ہر زمانہ کے لئے ہے، تو آج آپ کیوں قرآنی حکومت کی توسیع وترویج کے لئے مضطرب نظر نہیں آتے؟ آپ کو یہ کیا ہوگیا ہے، جو آج آپ کے دل میں تڑپ قرآنی حکومت کی عالمگیری کی نہیں؟ قرآنی نظریات، قرآنی اصول، قرآنی قوانین کے پھیل جانے ، چھاجانے، فضا میں بس جانے، کی نہیں، غیرقرآنی معاشرت، سیاست، اخلاق سے بغاوت کی نہیں؟ یہ کیا ہے کہ آپ زندگی کے ہرشعبہ میں، ہرشعبہ کے ایک ایک جزئیہ میں اپنے ایمان، اور اپنے قرآن کو حاکم بنانے کے بجائے، اُلٹے اُنھیں تابع ومحکوم بنائے ہوئے ہیں؟ تابع ومحکوم کہیں یونان، کہیں ہندوستان ، کہیں فرنگستان کے مشرکوں کے فلسفہ کے، ایران کے مزدک اور روس کے لینن کے اوہام وخیالات پریشاں کے!……اپنی عقل آپ نے سپرد کررکھی ہے اُن بے عقلوں کے جن میں اتنا فہم نہیں، کہ توحید کے قائل ہوسکیں، خداکو ایک اور یکتا مان لیں! اپنے اخلاق کی باگ دے رکھی ہے آپ نے اُن بے غیرتوں کے ہاتھ میں، جن کے نزدیک نکاح وسفاح میں کوئی فرق ہی نہیں، اور جن کی نظر میں مردوعورت کے رشتۂ ازدواج کے کوئی معنی ہی نہیں بجز نرومادہ کے حیوانی وشہوانی، وقتی تعلق کے!اور نقشِ قدم پر فخر ومباہات کے ساتھ آپ چلنے لگے ہیں اُن قوموں کے، جن کے ضابطۂ عمل میں نہ شراب پینے سے فتور عقل لازم آتاہے، نہ جنھیں اپنے ہم جنسوں کاخون چوس چوس کرسود لینے سے کوئی گھِن آتی ہے، نہ جنھیں جُوے کی بڑی بڑی بازیاں لگانے میںکوئی باک رہتاہے!……محض اس لئے کہ نام اور اصطلاحیں شاندار ہیں محض اس لئے کہ عفریتوں اور دیوؤں اور راکششوں نے اپنے چہروں پر نقاب پریوں کے ڈال رکھے ہیں!
ایک طرف سے صدا آتی ہے کہ فلاں لیڈر نے سود کو جائز قرار دے دیاہے، اور سودی کاروبار کو ترقی دینے کے لئے بینک کھُلوادئیے ہیں۔ دوسرے ملک سے خبرآتی ہے ، کہ عورتوں کا پردے میں رہنا، حجاب کے ساتھ باہر نکلنا قانونًا جرم قرار دیاگیاہے۔ تیسری طرف سے آواز اٹھتی ہے کہ فلاں مُلک میں شراب خوری کی عام اجازت ہوگئی ہے، شراب کی دُکانیں علانیہ کھُل گئی ہیں۔ ایک اور سمت سے اطلاع ملتی ہے ، کہ اُس مُلک میں قرآن کے سارے قوانین دیوانی وفوجداری منسوخ کرکے رکھ دئیے گئے ہیں…آپ ان سب چیزوں پر ناخوش ہونے کے بجائے دل میں چبھن اور کڑھن محسوس کرنے کے بجائے، انھیں ارتداد کا پیش خیمہ، بلکہ عین ارتداد سمجھنے کے بجائے اُلٹا ان پر خوش ہوتے ہیں، ذکراور چرچا اس طرح کرتے ہیں کہ گویا کوئی بڑی نعمت مل گئی ہے، اور سارا زورِ قلم اور زور زباں، ان غدّارانِ اسلام کی حمایت ونصرت میں صَرف فرماتے لگتے ہیں! اور دلیل لے دے کے یہ پیش کرتے ہیں، کہ فلاں دنیوی کامیابی تو حاصل ہوگئی! للہ غورفرمائیے، کہ یہ کس قسم کا تدیّن، کس طرح کی اسلام دوستی ہے! اسلامیت اگر اسی کا نام ہے، تو آخر ’حمیت جاہلیت‘ کس کو کہاجائے گا؟