گولن کی ترکی کو حوالگی،فیصلہ قانون کے مطابق کریں گے:اوباما

12:55PM Sat 23 Jul, 2016

امریکا ترکی میں جمہوریت کا ساتھ دیا ہے واشنگٹن ۔۔۔ ایجنسیاں امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ ترک حکومت کی جانب سے جلاوطن مذہبی لیڈر فتح اللہ گولن کی حوالگی کے بارے میں دی گئی کسی بھی درخواست پر فیصلہ امریکی قانون کے مطابق ہی کریں گے۔ امریکی صدر نے میکسیکو کے اپنی ہم منصب انریکی بینیا نییٹو سے کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی میں بغاوت کی ناکام سازش میں ملوث قرار دیے گئے فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جو بھی فیصلہ کیا وہ امریکی قانون کے تابع ہوگا۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ ثابت کرنا ہے کہ امریکا قانون کی پاسداری کرنے والا ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ترکی کی درخواست پر فتح اللہ گولن کی حوالگی کے بارے میں جو بھی فیصلہ کیا وہ قانون کے مطابق ہوگا‘۔ انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ امریکا کو ترکی میں 15 جولائی کی فوجی بغاوت کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات تھیں۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ترکی میں فوجی بغاوت کے بارے میں ہمارے پاس کسی قسم کی پیشگی معلومات نہیں تھیں۔ اس نوعیت کی الزام تراشی کا مقصد امریکا کو ترکی کے موجودہ بحران میں ملوث قرار دینے کی کوشش ہے۔ ہم نے جمہوری راستہ اختیار کیا اور واضح کیا ہے کہ ترکی کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت غلط تھی اور امریکا ترکی میں جمہوریت کے ساتھ ہے۔ خیال رہے کہ سنہ 1999ء سے امریکا میں جلا وطن کے طور پرسکونت اختیار کرنے والے ترکی کے مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن پر موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ تاہم فتح اللہ گولن نے حکومت کے خلاف سازش کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے امریکا سے کہا ہے کہ وہ انہیں ترکی کے حوالے نہ کرے۔ منگل کو امریکی صدر باراک اوباما نے صدر طیب ایردوآن سے ٹیلیفون پر بات چیت میں فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی کے بارے میں بھی صلاح مشورہ کیا تھا۔ امریکی صدر نے یقین دلایا کہ وہ فوجی بغاوت کے بارے میں تحقیقات کے لیے ترکی کی حکومت ہرممکن مدد کریں گے۔