جمعیتہ علما ہند کی بڑی کامیابی: ٹفن بم دھماکہ معاملہ میں چار مسلم نوجوان 14سال بعد سپریم کورٹ سے بری

02:55PM Thu 2 Feb, 2017

نئی دہلی ۔  سپریم کورٹ نے گجرات میں دہشت گردی کے الزام میں برسوں سے جیل کی سزا کاٹ رہے ان چار مسلم نوجوانوں کوبری کرنے کے احکامات جاری کر دئے جنہیں 2002میں احمد آباد کی لوکل بسوں میں بم دھماکے کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ میں اس معاملے کی پیروی کرنے والی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے سچائی اور انصاف کی جیت قرار دیا ہے۔ اطلاع کے مطابق 2002میں گجرات میں بھیانک مسلم کش فسادات کے دنوں میں احمد آباد میں میونسپل کارپوریشن کی بسوں میں ’ٹفن بم دھماکہ‘ ہوئے تھے ۔ اے ایم ٹی ایس کی پانچ بسوں میں بم رکھے گئے تھے ، جن میں سے تین بسوں میں دھماکہ ہوا تھا اور اس کے نتیجہ میں 13 افراد معمولی طور پر زخمی ہوئے تھے ۔ باقی دو بموں کوبرآمد کر لیا گیا تھا اور ان میں سے ایک بم اس وقت پھٹ گیا تھا جب اسے ناکارہ کیا جا رہا تھا ۔ ا س حادثہ میں ایک اہلکار زخمی ہوا تھا۔ اس معاملے میں اپریل 2003میں کل 21افراد کو گرفتار کیا گیا تھا ، جن کے خلاف 19جولائی 2003کوپوٹا نافذ کیا گیا تھا۔