بابری مسجد کے مسئلے میں باہمی مصالحت سے حل کا مشورہ ناقابل عمل و ناقابل قبول: مولاناخالد سیف اللہ رحمانی، سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

11:59AM Thu 30 Mar, 2017

بابری مسجد کا مسئلہ حقیقت اور حق ملکیت کا مسئلہ ہے اس لئے اس بارے میں کوئی بھی ایسی مصالحتی پیش رفت قابل عمل نہیں ہو سکتی جس میں ایک طبقہ اپنے خود ساختہ عقیدہ کی بنیاد پر مسئلہ کے حل کا دعویدار ہو۔ماضی میں بھی اس طرح کی کئی کوششیں لاحاصل ہو چکی ہیں یہ باتیں عالمی شہرت یافتہ عالم دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آج جالے میں بصیرت میڈیا گروپ کے ایڈیٹر مولانا مظفر احسن رحمانی ۔پیام۔انسانیت کے صدر مولانا محمد ارشد فیضی فاروقی تنظیم نمائندہ مفتی عامر مظہری اور روزنامہ سہارا کے جالے نمائندہ محمد رفیع ساگر سمیت متعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہیں انہوں نے یہ وضاحت کی کہ بابری مسجد کے مسئلے کو باہمی گفت وشنید اور مصالحت کے ذریعہ حل کرنے کی بات جو سپریم کورٹ نے کہی ہے وہ بھلے ہی اچھے جذبے سے کہی گئی ہو مگرکورٹ کا یہ مشورہ نہ تو قابل عمل ہے اور نہ ہی قابل قبول۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 25 سال کے طویل عرصہ میں سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ اور اس کے بعد متعدد وزرائے اعظم نے اس طرح کی کوشش کی ہے اور کئی بار اکثریتی فرقہ کے مذہبی وسیاسی قائدین سے اس حساس مسئلے کو لے کر بات چیت کی جاچکی ہے لیکن اس سلسلے میں آج تک نہ تو کوئی قابل اطمینان پیش رفت ہوئی اور نہ ہی اس کا کوئی حل سامنے آیا انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا مسئلہ حقیقت وملکیت کا مقدمہ ہے اور اسی بنا پر اس کا فیصلہ بھی ہونا چاہئے تاکہ قانون کے تقاضوں پر عمل ہو سکے اور ملک کے ہر طبقے کا عدالت پر اعتماد قائم رہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ رام جنم بھومی کا دعوی کرنے والا فرقہ پرست ٹولہ قانون کی بجائے خود ساختہ عقیدہ اور زور زبردستی سے کام لینا چاہتا ہے اور اپنے نامنصفانہ موقف پر ڈٹا ہوا ہے اس لئے اس کا فیصلہ عدالت پر چھوڑ دینا چاہئے انہوں نے کہا کہ اگر بابری مسجد کے مقدمے میں مصالحت کے موقف کو تسلیم۔کر لیا جائے تو یہ تجربہ ایک ناکام تجربہ کو دہرانے کے مترادف ہو گا جس کا کوئی حاصل نہیں اور یہی نہیں بلکہ اس سے اس مسئلہ کو حل کرنے میں مزید تاخیر ہوگی اور مصالحت کے پردے میں مسلمانوں کے سر ایک ایسے نامنصفانہ فیصلے کو تھوپنے کی کوشش کی جائے گی جسے مسلمان کسی بھی صورت قبول کرنے کےلئے تیار نہیں ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ان ہی نزاکتوں کو دیکھتے ہوئے بہت عرصہ پہلے مکمل غور وخوض کے بعد یہ موقف اختیار کیاتھا کہ اب اس سلسلے میں مزید ایسی کوششوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ بھلا اس مصالحت کا راستہ کیسے نکل۔سکتا ہے جبکہ بعض ہندو مذہبی قائدین نیز آر ایس ایس اور بی جے پی کے سربراہان بار بار اعلان کر چکے ہیں کہ ان کو مسجد کی جگہ رام جنم بھومی کی تعمیر کے سوا کوئی اور بات قبول نہیں ہے ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال میں مسلم رہنماوں کو بہت ہی دانشمندی کے ساتھ کوئی فیصلہ لینا ہوگا اور ان کو اس بات کی کوشش کرنی ہوگی کہ وہ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے فیصلہ سے پہلے کوئی بھی ایسا بیان نہ دیں جس سے الجھا و پیدا ہو ۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ مسلم قائدین ملت کو انتشار اور بکھراو سے بچائیں اور مسلمانوں کو تلقین کریں کہ وہ بے برداشت ہونے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے بہر صورت بچیں کیونکہ فرقہ پرست قائدین کی طرف سے مسلسل اشتعال انگیز بیانات دئیے جارہے ہیں اور نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ مسلم قائدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں قیام امن کی راہ کو آسان بنائے رکھنے میں اپنی ذمہ داریوں کا ثبوت دیں تا کہ امت میں بہتر پیغام جا سکے ۔