اسمارٹ راشن کارڈ کا منصوبہ رکاوٹوں کی نذر

03:40PM Tue 26 Aug, 2014

بھٹکلیس نیوز / 25 اگست،2014 بینگلور / (نامہ نگار) محکمہ فوڈ اینڈ سیول سپلائز نے موجودہ راشن کارڈوں کو بائیو میٹرک لگے ہوئے اسمارٹ کارڈ بنانے کی جو تجویز پیش کی ہے اسے رکاوٹوں کا سامنا ہے ۔ محمکمہ کامن اسمارٹ کارڈ جاری کرنے مرکزی وزارت محنت کے ساتھ اشتراک کرنے کا خواہشمند تھا ۔ جو فئیر پرائس دکانوں سے راشن حاصل کرنے والے اور راشٹریہ سورستھا بھیما یوجنا (آر ایس بی وائی) کے تحت ہیلتھ انشورنس حاصل کرنے استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔ تاہم محکمے میں ذرائع کے مطابق تجویز کے لئے مرکزی وزارت محنت کی جانب سے کوئی مثبت توجہ نہیں ہے ۔ فی الحال عرضی گزاروں کو اس کے خاندان کے اراکین کے ناموں اور ایک انوکھے نمبر کے ساتھ لیامینیٹیڈ راشن کارڈ جاری کرنے کا طرز جاری رہے گا ۔ عرضی گزاروں کی جانب سے فراہم کردہ دیگرتفصیلات اور پتے کی جانچ کے بعد بائیو میٹرک تفصیلات کے ساتھ محکمہ فوڈ اینڈ سول سپلائز کی جانب سے کارڈ جو اے ٹی ایم جیسا نظر آتا ہے ۔اس پر عرضی گزار اور اس کے خاندان کی تفصیلات بائیو میٹرک میں جڑی ہونگی ۔ وزیر مملکت برائے غذا اور عوامی سہولت دنیش گنڈو راؤ نے کہا "اسمارٹ کارڈ بوگس راشن کارڈوں کو ختم کرنے میں مدد کرے گا اس لئے اس کی نقل بنانا مشکل ہے ۔ مزید برآں فئیر پرائز دکانوں کے مالک اسے ایک مشین میں داخل کر کے اس کی صداقت کی جانچ کرسکتے ہیں ۔ چونکہ آر ایس بی وائی کی کارڈ جو پی ایل خاندانوں کو فراہم کئے جاتے ہیں جو محکمہ فوڈ اینڈ سیول سپلائز سے دیکھ بھال کردہ ڈیٹا استعمال کیا جاتا ہے ہم نے ایک کامن اسمارٹ کارڈ کی تجویز کی تھی ۔ تاہم حال میں تیکنیکی وجوہات کی بنیاد پر ہماری تجویز واپس کردی گئی ۔