آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ خواتین اکائی کے زیراہتمام دیوبند میں منعقد ’تحفظ شریعت کانفرنس ‘ میں علماء ودانشورخواتین کااظہار خیال
04:30AM Fri 3 Feb, 2017
مسلم خواتین اپنے تمام مسائل کاحل قرآن و حدیث کی روشنی میں کریں،صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے تعلیم نسواں بنیادی عمل ہے
بھٹکلیس نیوز/ 3 فروری،2017
دیوبند/ (یو این اے نیوز)آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ خواتین اکائی کے زیراہتمام علمی و تاریخی شہر دیوبند کے عیدگاہ روڈ پر واقع ہیرا گاڈرن میں ’تحفظ شریعت کانفرنس‘ کاانعقاد کیا گیا۔جس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی خواتین اکائی کی چیف ہیڈ ڈاکٹر اسماء زہرہ سمیت دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ نے حاضرین کو شریعت محمدی میں خواتین کی اہمیت اور ان کے حقوق سے روشناس کراتے ہوئے مسلم خواتین کو اپنے تمام مسائل اپنے گھر یا دارالقضاء میں حل کرنے کی تلقین کی۔ کانفرنس کے پہلے سیشن میںمہمان خصوصی پروفیسر شکیل احمدقاسمی صاحب،صدر شعبہ اردوپٹنہ بہار، نے عورتوں کی آزادی کے معاملے پرمخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں عورت کو آزادی 14 سو سال قبل ہی عطاکردی گئی تھی۔ آج جو freedom کی بات کہی جاتی ہے۔ خلفاء راشدین و امیر المؤمنین کے دور میں مسلم خواتین آزاد تھیں۔ امیرالمؤمنین خواتین کا مشورہ قبول فرماتے تھے۔انھوں نے کہا کہ شریعت اسلامی نے عورت کو نکاح میں رضامندی کا حق دیا، مہر کا حق عطا کیا، نفقہ کی ذمہ داری مرد پرڈالی گئی، خلع کا حق اوروراثت میں بیٹیو ں اور بہنوں کو حق عطا کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک ہندوستا ن میں مختلف رسم و رواج اور تہذیبیں پائی جاتی ہیں، زبانیں الگ الگ ہیں،شادی بیاہ کے معاملے میں ہندوطبقہ میں نارتھ انڈیا اور ساؤتھ انڈیا میں الگ الگ رواج ہیں۔ اس کثیر اللسانی اور مختلف تہذیبوںوالے ملک میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ ممکن نہیں۔مہمان خصوصی مولانا فرید الدین صاحب استاذحدیث دارا لعلوم وقف دیوبند نے کانفرنس میں خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اہل ایمان اور اہل شریعت کو ،شریعت اسلامی کا پابند ہونا ہوگاتب ہی شریعت کا تحفظ ممکن ہوگا۔ قرآن کریم میں خطاب اہل ایمان سے ہے کہ وہ شریعت اسلامی کی پوری پابندی کریں۔ آخر میں انھوں نے اجلاس میں شریک ماؤں ،بہنوں سے اپیل کی کہ اولاد کی تربیت انکی اولین ذمہ داری ہے جس کو وہ پورا کریں۔بعد ازیں نشست ثانی میں حیدر آباد سے تشریف لائی مہمان خصوصی ڈاکٹر اسماء زہرہ نے اپنے صدارتی خطاب کے دوران مسلم پرسنل لاء کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ تحفظ شریعت اور اصلاح معاشرہ کی تحریک پورے ملک میں چلائی جارہی ہے اور آج تاریخی سرزمین دیوبند میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس بورڈ کی تاریخ میں سنہرے باب کا اضافہ ہے۔ محترمہ نے تعلیم کو معاشرہ کی ترقی کابنیادی جز قرار دیتے ہوئے کہاکہ صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے تعلیم نسواں بنیادی عمل ہے اسلئے اپنی بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہمارا فرض اولین ہونا چاہئے۔ انہوں نے بورڈ کی سرگرمیوں سے روشناس کراتے ہوئے کہاکہ اس وقت مسلم خواتین کو اپنی مکمل ملی بیداری کا ثبوت دینا ہوگا تاکہ ملک کے گوشہ گوشہ میں شریعت کے تئیں بیدار مہم کو تقویت دی جاسکے ۔آخر میں اجلاس کی کنوینر محترمہ خورشیدہ خاتون نے کہاکہ اجلاس کا مقصد خواتین کو شریعت و اصلاح معاشرہ کے تئیں بیدار کرناہے۔انہوںنے کہاکہ آج حکومت منظم سازش کے تحت مسلم خواتین کے نام پر شریعت میں مداخلت کی کوشش کررہی ہیں جسے کسی بھی صورت برداشت نہیںکیا جائے گا ۔انہوںنے تمام مہمانوں اور شرکاء کاشکریہ ادا کیا۔اسکے علاوہ مہمانان خصوصی میںخاتون ارکان بورڈمحترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈاورمحترمہ زینت مہتاب صاحبہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، محترمہ عطیہ صدیقہ صاحبہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نئی دہلی اوردیگر مقررات میں اہلیہ جناب مولانا سید محموداسعد مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، محترمہ صفیہ صاحبہ،اہلیہ مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب ،محترمہ حسینہ صاحبہ،اہلیہ محترمہ مفتی احمد سعد صاحب، محترمہ شائستہ صدیقی صاحبہ، اہلیہ جناب حسین احمد مدنی صاحب،محترمہ حنا صاحبہ اور کنوینر محترمہ خورشیدہ خاتون صاحبہ نے مخاطب کیا۔ صدارت ڈاکٹر اسماء زہرہ نے کی جبکہ نظامت کے فرائض زینت عرشی نے انجام دیئے۔ سینکڑوں خواتین و طالبات نے اس کانفرنس میں شرکت کیں۔ دعاء پر اس کانفرنس کا کامیاب اختتام عمل میں آیا۔