نیویارک: آلودہ پانی اب بھی دنیا کے غریب ممالک میں امراض کی سب سے بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ افریقہ اور ایشیا کے غریب ممالک کےلیے اب ایک ایسا کاغذی ٹیسٹ بنایا گیا ہے جو فوری طور پر پانی میں موجود مضرِ صحت اجزا سے خبردار کرسکتا ہے۔ کاغذ کے چھوٹے سے ٹکڑے سے بنا یہ ٹیسٹ یونیورسٹی آف باتھ کے سائنس دانوں نے تیار کیا ہے جو پانی پینے سے قبل اس کے صاف یا آلودہ ہونے کی بروقت خبر دیتا ہے جس سے صرف غریب ہی نہیں بلکہ سیاحت اور کیمپنگ کرنے والے مہم جو بھی استفادہ کرسکیں گے۔ یہ سنسر بالکل لٹمس پیپر کی طرح کام کرتا ہے جو اسکول اور کالج وغیرہ کی تجربہ گاہوں میں عام استعمال کیا جاتا ہے۔ لٹمس پیپر ہی کی مانند، جب اس کاغذی سنسر کو زیادہ تیزابیت والے پانی میں ڈالا جائے تو اس کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس کاغذ کا وزن صرف ایک گرام ہے اس پر کاربن الیکٹروڈز اور برق زدہ ’الیکٹرک بیکٹیریا‘ کی ایک پتلی تہہ چڑھائی گئی ہے۔