جالی پنچایت عوام نے دی گرام پنچایت کو ہی منظوری
03:49PM Mon 28 Oct, 2013
جالی پنچایت عوام نے دی گرام پنچایت کو ہی منظوری
عوامی میٹنگ میں پٹن پنچایت کی پشکش نامنطور
بھٹکلیس نیوز / 26 اکتوبر،2013
بھٹکل / (رضوان گنگاولی) ڈسٹرکٹ اربن ڈیولپمینٹ کی طرف سے کاروار کے تین تعلقہ بھٹکل ، کمٹہ اور ہوناور کی پنچایتوں کو ترقی دے کر پٹن پنچایت بنانے کی پیشکش کی گئی تھی ۔ جس کو کہ آج جالی پنچایت کی طرف سے منعقد گرام سبھا میں جالی پنچایت کی عوام نے نامنظور کر دیا اور گرام پنچایت ہی میں رہنے پر اپنی رضامندی ظاہر کی ۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اربن ڈیولپمینٹ کی طرف سے جاری سرکیولر کے مطابق کمٹہ میں گوکرن تعلقہ ، ہوناور میں ہلدی پور اور منکی کو ، بھٹکل تعقلہ میں ماولی ، بینگرے ، شرالی ، ہیبلے اور جالی پنچایت کو اس قسم کی پیشکش دی گئی تھی اور علاقوں کی ترقی کے لئے گرام پنچایت کو پٹن پنچایت بنانے کی بات کہی گئی تھی ۔ اس تعلق سے جالی گرام پنچایت کی انتظامیہ نے 24/اکتوبر،2013 کو پنچایت ممبران کے ساتھ ایک نشست کا انعقاد کیا اور ممبران کی رائے پوچھی تھی لیکن وہاں پر اکثر ممبران نے عوام کی رائے سے اس فیصلہ کو حل کرنے کی بات کہی ۔ اس کو دیکھتے ہوئے آج عوامی میٹنگ منعقد کی گئی تھی جس میں عوام کی اکثریت نے گرام پنچایت ہی پر اپنی رضامندی طاہر کی ۔ اس موقع پر پنچایت ڈیولپمینٹ آفیسر (پی ڈی او) نے پٹن پنچایت بننے پر ملنے والی تمام سہولیات کو تفصیل سے آگاہ کیا ۔
خیال رہے کہ پٹن پنچایت بنانے کے لئے سرکار چار چیزوں کو دیکھتی ہے اس میں پہلی چیز آبادی کا دس ہزار سے پندرہ ہزار تک پہنچنا ہے اور اس لحاظ سے جالی پنچایت علاقوں کی آبادی اس تعداد سے تجاوز کرکے 19360/ کو پہنچ چکی ہے ۔ سرکار کی طرف سے دیکھا جاتا ہے کہ آبادی میں مزدور طبقہ ، صنعت کار طبقہ اور کاشتکار طبقہ کو دیکھا جاتا ہے اور اس کے تناسب پر بھی اس کا فیصلہ ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ تیسری چیز ایک کلو میٹر میں 400/ لوگوں کا رہنا ہے اور اب اس علاقہ میں قریب 1200 لوگ رہ رہے ہیں ۔ آخری چیز پنچایت کے حدود میں آنے والے لوگوں کی رضامندی ہوتی ہے ۔
واضح رہے کہ جالی پنچایت میں 8/وارڈ ہیں اور اس میں چالیس ممبران ہیں جس میں تین گرام تگر کوڈ ، جالی اور وینکٹاپور گرام آتے ہیں ، پنچایت کے لئے فنڈ کی کمی کی بناء پر ان علاقوں میں ترقی کی رفتار کافی سست رہتی ہے اگر گرام پنچایت کو پٹن پنچایت کا درجہ دیا جاتا ہے تو ان علاقوں میں ترقی کی امید کی جاسکتی ہے ۔