ناراض کانگریس قائد و کانگریس کے سابق رکن پارلیمان اے ہچ شواناتھ کا الزام

04:49PM Tue 6 Jun, 2017

میسور (بھٹکلی نیوز)میسور میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ناراض قائد و پارلیمانی حلقہ کورگ و میسور کے سابق رکن پارلیمان شری اے ہچ وشواناتھ نے ریاستی وزیر اعلی ٰ شری سدرامیا پر جھوت بولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ مورخہ3جون کو میسور کے مہاراجہ کالج میدان میں وزیر علی ٰ سدرامیا کی قیادت والی کانگریس حکومت کے چار سال مکمل ہونے کی خوشی میں منعقدہ عوام میں سہولیات کی تقسیم کے جشن میں وزیر اعلی ٰ شری سدرامیا نے بتایا ہے کہ اسمبلی انتخابات میں کئے گئے 165وعدوں میں سے 155وعدے پورے کردئے گئے ہیں، میرا دعوی ٰ ہے کہ سدرامیا نے25فیصد سچ اور 75فیصد عوام کو جھوٹ بتایا ہے۔ مگر میں یہ نہیں کہتا کہ حکومت سے بہتر اور فائدہ مند منصوبے نہیں کئے گئے ہیں۔ چند اچھے منصوبوں کو انجام دینے کے لئے ہم سراہاتے ہیں۔ مگر اس جانب بھی توجہ دینا چاہئے کہ ان اچھے اور سہولیات کے منصوبوں کا فائدہ مستحق عوام تک پہنچایاگیا ہے۔ یا نہیں؟ یہ میری صلاح ہے کہ حکومت کے ذمہ داروں کو اس سماویشا میں سدرامیا نے بتایا ہے کہ ابھی تک وزیر اعلی ٰ انتخابات کے دوران جو بھی وعدے کئے تھے۔ وہ تمام کوڑا کرکٹ کے ڈبے میں ڈالنے کے واقعات ہی زیادہ ہیں۔ مگر میں نے اپنے 165وعدوں میں 155وعدے پورے کردئے ہیں۔ اور بقایا 10وعدے اگلے ایک سال میں پورے کئے جائینگے۔ مگر عوام کو حقیقت کا پتہ چلنا چاہئے کہ کونسے کونسے وعدے پورے کئے گئے ہیں؟ عوام کو بتانے کا مطالبہ کرتا ہوں، کیونکہ گزشتہ دو ماہ قبل ودھان سودھا جاکر کئی محکموں کے سکریٹریز سے رابطہ کرکے سوال کرکے کون کون سے وزیر اعلی ٰ کے وعدے پورے کئے گئے ہیں۔ انکی فہرست کامطالبہ کیا تھا۔ مگر کوئی بھی ذمہ دار اعلی ٰ افسر ان نے بتایا کہ ہمکو ایسے کوئی بھی وعدے پورے کئے جانے سے متعلق علم ہی نہیں ہے۔ تو پھر کیسے مجھکو فہرست دیتے ؟ اے ہچ وشواناتھ نے بتایا کہ لوک آیوکتہ ادارے کو برباد کردیا گیا ہے۔ چوری ، رشوت خوری ، بدعنوانی کرنے والے اراکین اسمبلی، وزراء اور وزیر اعلی ٰ کے خلاف قانونی کا روائی کے لئے تقرر کیا گیا تھا۔ مگر اسکے اختیارات کو حکومت نے ختم ہی کردیا ہے۔ اسک متبادل آنٹی کرپشن بیورؤ کو تشکیل دی گئی ہے۔ جس کے لئے سالانہ ایک ہزار کروڑ کا خرچ لگ رہا ہے۔ بدعنوانیوں کے خلاف چھاپہ مارنے کے لئے لوک آیوکتہ کو اے سی بی سے اجازت و منظوری لینا پڑتا ہے۔ کانگریس کے ناراض قائدوشواناتھ نے سدرمیا پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری اس ریاست میں کانگریس کی حکومت نہیں ہے بلکہ سدرمیا کی حکومت ہے۔حکوکت کے اس جشن میں شریمتی سونیا گاندھی ، راہل گاندھی کی تصویریں کو شائع نہ کرکے صڑف وزیر اعلی ٰ سدرامیا ، میسور ضلع کے انچارج وزیر ڈاکٹر ہچ سی مہادیوپا اور ریاستی وزیر ہچ آنجنیا کی تصویریں اشتہاروں میں دی گئی ہیں۔ اور وقت آنے پر اس کی شکایت کانگریسی کارکن کانگریسی ہائی کمان کو ضرور کرینگے۔ ؓ مذہب اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے فرقہ پرست تنظیمیں خوف زدہ ہیں کہ کہیں ہندوستان کے غیر مسلم بھی مشرف بہ اسلام نہ ہو جائیں.