چھ برسوں کے دوران ریاست جموں و کشمیر میں کینسر کی مہلک بیماروں کی تعداد 33733

03:42PM Wed 15 Mar, 2017

سرکاری اسپتالوں میں اس بیماروں کو قابو کرنے کیلئے خاطر خواہ انتظامات نہیں سرینگر ۔(بھٹکلیس نیوز)6برسوں کے دوران ریاست جموں و کشمیر میں کینسر جیسی مہلک بیماری میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور سرکاری اسپتالوں میں اس بیماری کو قابو کرنے کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھا ئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں میں فکر و تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پچھلے چھ برسوں کے دوران ریاست جموں و کشمیر کو کئی طرح کی بیماریوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جن میں کیسر جیسی مہلک بیماری میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور پچھلے چھ برسوں کے دوران جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ان کے مطابق سرینگر ضلع میں 2011میں کینسر بیماروں کی تعداد 733،2012میں 706،2013میں 748،2014میں 765،2015میں 898اور 2016میں 1005،گاندربل ضلع میں ایسے بیماروں کی تعداد 2011میں 164،2012میں 154,،2013میں 157،2014میں 177،2015میں 283اور 2016میں 325،بڈگام ضلع میں 2011میں 303،2012میں 338،2013میں 316،2014میں 367،2015میں 452اور 2016میں 467،پلوامہ میں 2011میں 314،2012میں 317،2013میں 309،2014میں 361،2015میں 451اور 2016میں 467،بارہمولہ ضلع میں 2011میں 380،2012میں 417،2013میں 389،2014میں 506،2015میں 573اور 2016میں 580،کولگام ضلع میں 2011میں 200،2012میں 185،2013میں 220،2014میں 214،2015میں 263اور 2016میں 273،اننت ناگ ضلع میں 2011میں 421،2012میں 428،2013میں 448،2014میں 468،2015میں 489اور 2016501،شوپیاں ضلع میں 2011میں 116،2012میں 146،2013میں 126،2014میں 150،2015میں 169اور 2016میں 201،بانڈی پورہ ضلع میں 2011میں 147،2012میں 139،2013میں 133،2014میں 151،2015میں 168اور 2016میں 175،کپوارہ ضلع میں 2011میں 160،2012میں 212،2013میں 201،2014میں 220،2015میں 273اور 2016میں 280،کرگل ضلع میں 2011میں 47،2012میں 47،2013میں 22،2014میں 56،2015میں 62اور 2016میں 71،جموں ضلع میں 2011میں 597،2012میں 674،2013میں 805،2014میں 829،2015میں 853اور 2016میں 865،راجوری ضلع میں 2011میں 118،2012میں 185،2013میں 188،2014میں 192،2015میں 205اور2016میں 211،ڈوڑہ ضلع میں 2011میں 112،2012میں 106،2013میں 55،2014میں 125،2015میں 139اور 2016میں 245،رام بن ضلع میں 2011میں 69،2012میں 69،2013میں 98،2014میں 130،2015میں 172اور2016میں 180،ادھمپور ضلع میں 2011میں 87،2012میں 99،2013میں 126،2014میں 129،2015میں 118اور2016میں 125،کٹھوعہ ضلع میں 2011میں 162،2012میں 186،2013میں 183،2014میں 223،2015میں 265اور 2016میں 270،سامبہ ضلع میں 2011میں 135،2012میں 139،2013میں 166،2014میں 181،2015میں 169اور2016میں 175،کشتواڑ ضلع میں 2011میں 96،2012میں 96،2013میں 96،2014میں 116،2015میں 113اور 2016 میں 120،ریاسی ضلع میں 2011میں 89،2012میں 89،2013میں 119،2014میں 89،2015میں 117اور 2016میں 124پونچھ ضلع میں 2011میں 106،2012میں 106،2013میں 163،2014میں 119،2015میں 126اور2016میں 143بتائی جا رہی ہیں ۔اعداد سے شمار سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں ہر سال کینسر کی بیمار ی میں 4%سے5%کا اضافہ ہو رہا ہے اور اس بیماری کو قابو کرنے کیلئے حکومتوں کی جانب سے دعوے اور وعدے کئے گئے ہیں جبکہ سرکاری اسپتالوں میں اس مہلک بیماری میں مبتلا بیماروں کے علاج کیلئے موثر اقدامات نہیں اٹھا ئے گئے ہیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے 6برسوں کے دوران ریاست جموں و کشمیر میں کینسر جیسی مہلک بیماری میں 33733افراد جن میں 3ہزار سے زیادہ خواتین بھی شامل ہیں اس بیماری کی لپیٹ میں آگئی ہیں ۔ ماہر امراض طب کے مطابق ریاست جموں و کشمیر میں کینسر بیماری پھوٹ پڑنے کے کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے اور ریاست میں جموں و کشمیر میں ہر سال تمباکو نوشی میں 12%سے13%کا اضافہ ہو تا جا رہا ہے اور 14سے 35سال تک کے 8%نوجوان تمباکو نوشی کی طرف مائل ہو رہے ہیں ۔ ماہر طب کے مطابق غیر معیاری اور ملاوٹ دار اشیاء استعمال کرنے کے باعث بھی بیماری پھوٹ پڑ سکتی ہیں تاہم اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے جس حساسیت کی ضرورت ہے اسے پورا کرنے کیلئے سرکار کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہیں ۔